جنت کے پھلوں کے متعلق
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاق، عَنْ يَحْيَى بْنِ عَبَّادِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ، قَالَتْ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: وَذُكِرَ لَهُ سِدْرَةُ الْمُنْتَهَى، قَالَ: يَسِيرُ الرَّاكِبُ فِي ظِلِّ الْفَنَنِ مِنْهَا مِائَةَ سَنَةٍ أَوْ يَسْتَظِلُّ بِظِلِّهَا مِائَةُ رَاكِبٍ شَكَّ يَحْيَى فِيهَا فِرَاشُ الذَّهَبِ كَأَنَّ ثَمَرَهَا الْقِلَالُ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ.
اسماء بنت ابوبکر ؓ کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا، اس وقت آپ کے سامنے سدرۃ المنتہیٰ کا ذکر آیا تھا۔ آپ نے فرمایا: اس کی شاخوں کے سائے میں سوار سو سال تک چلے گا، یا اس کے سائے میں سو سوار رہیں گے، (یہ شک حدیث کے راوی یحییٰ کی طرف سے ہے۔ ) اس پر سونے کے بسترے ہیں اور اس کے پھل مٹکے جیسے (بڑے) ہیں ۔
Sayyidah Asma bint Abu Bakr (RA) narrated: I heard Allahs Messenger ﷺ mention Sidrat ul-Muntaha. He said, “A rider will ride in the shade of its branches for a hundred years.” Or he said, “A hundred riders will take to its shade and ride. Yahya was in doubt. “Its leaves will he of gold, and its fruit like earth- enware jars."