بریدہ ؓ روایت کرتے ہیں کہ ایک آدمی نے نبی اکرم ﷺ سے پوچھتے ہوئے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا جنت میں گھوڑے ہیں؟ آپ نے فرمایا: اگر اللہ نے تم کو جنت میں داخل کیا تو تمہاری خواہش کے مطابق تمہیں سرخ یاقوت کے گھوڑے پر سوار کیا جائے گا، تم جہاں چاہو گے وہ تمہیں جنت میں لے کر اڑے گا ، آپ سے ایک شخص نے پوچھا: اللہ کے رسول! کیا جنت میں اونٹ ہیں؟ بریدہ کہتے ہیں: آپ نے اس کو پہلے آدمی کی طرح جواب نہیں دیا۔ آپ نے فرمایا: اگر اللہ نے تمہیں جنت میں داخل کیا تو اس میں تمہارے لیے ہر وہ چیز موجود ہوگی جس کی تم چاہت کرو گے اور جس سے تمہاری آنکھیں لطف اٹھائیں گی ۔
Sayyidina Buraidah (RA) narrated: A man asked the Prophet ﷺ ,"O Messenger of Allah ﷺ are there horses in Paradise?" He said, “If Allah admits you to paradise then whenever you wish to mount a horse in it, of pearls red in colour, it will fly with you in Paradise wherever you wish." Another man asked,"O Messenger of Allah, are there camels in Paradise?" He said, not what he had said to the first man, but, “If Allah admits you to Paradise then there will be for you everthing you desire and your eyes enjoy.” [Ahmed 23043]
ابوایوب ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ کے پاس ایک اعرابی نے آ کر عرض کیا: اللہ کے رسول! مجھے گھوڑا پسند ہے، کیا جنت میں گھوڑے ہیں؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اگر تم جنت میں داخل کئے گئے تو تمہیں یاقوت کا گھوڑا دیا جائے گا، اس کے دو پر ہوں گے تم اس پر سوار کئے جاؤ گے پھر جہاں چاہو گے وہ تمہیں لے کر اڑے گا ۔
Sayyidina Abu Ayyub (RA) narrated : A villager came to the Prophet ﷺ asked, “I love horses. Are there horses in paradise?” He said, “If you are admitted to Paradise, you will be given a horse of pearl with two wings. You will mount it and it will fly with you wherever you like.”
ضعيف، المشکاة (5643)، الضعيفة أيضا // ضعيف الجامع الصغير (1287) //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2544
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - اس حدیث کی سند زیادہ قوی نہیں ہے۔ ہم اسے ابوایوب کی روایت سے صرف اسی سند سے جانتے ہیں، ٢ - ابوسورۃ، ابوایوب کے بھتیجے ہیں۔ یہ حدیث بیان کرنے میں ضعیف ہیں۔ انہیں یحییٰ بن معین نے بہت زیادہ ضعیف قرار دیا ہے، ٣ - میں نے محمد بن اسماعیل بخاری کو کہتے ہوئے سنا: ابوسورۃ منکر حدیث ہیں، یہ ابوایوب ؓ سے ایسی کئی منکر احادیث روایت کرتے ہیں، جن کی متابعت نہیں کی گئی ہے۔
معاذ بن جبل ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جنتی جنت میں اس حال میں داخل ہوں گے کہ ان کے جسم پر بال نہیں ہوں گے، وہ امرد ہوں گے، سرمگیں آنکھوں والے ہوں گے اور تیس یا تینتیس سال کے ہوں گے ۔
Sayyidina Mu’az ibn Jabal (RA) reported that the Prophet ﷺ said, "The deserving will enter Paradise hairless and beardless, their eyes as though collyrium was applied to them, (and their ages) thirty or thirty-three years.” [Ahmed 22167]
حسن انظر الحديث (2675)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2545
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن غریب ہے، ٢ - قتادہ کے بعض شاگردوں نے اسے قتادہ سے مرسلا روایت کیا ہے۔ اور اسے مسند نہیں کیا ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: ١١٣٣٦)، و مسند احمد (٥/٢٣٢، ٢٤٠، ٢٤٣)، وانظر أیضا حدیث رقم ٢٥٣٩ (حسن) (سند میں کئی علتیں ہیں، لیکن شواہد کی بنا پر یہ حدیث حسن ہے )
بریدہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جنتیوں کی ایک سو بیس صفیں ہوں گی جس میں سے اسّی صفیں اس امت کی اور چالیس دوسری امتوں کی ہوگی ۔
Sayyidina Buraidah (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, "There will be a hundred and twenty rows of the people of Paradise, eighty of them belonging to this ummah and forty to the rest of the ummahs." [Ibn e Majah 4289]
صحيح، ابن ماجة (4289)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2546
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن ہے، ٢ - یہ حدیث «عن علقمة بن مرثد عن سليمان بن بريدة عن النبي صلی اللہ عليه وسلم» کی سند سے مرسلاً مروی ہے، ٣ - بعض لوگوں نے سند یوں بیان کی ہے: «عن سليمان بن بريدة عن أبيه»، ٤ - ابوسنان کی حدیث جو محارب بن دثار کے واسطہ سے مروی ہے، حسن ہے، ٥ - ابوسنان کا نام ضرار بن مرۃ ہے اور ابوسنان شیبانی کا نام سعید بن سنان ہے، یہ بصریٰ ہیں، ٦ - اور ابوسنان شامی کا نام عیسیٰ بن سنان ہے، اور یہ قسم لی ہیں۔
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/الزہد ٣٤ (٤٢٨٩) (تحفة الأشراف: ١٩٣٨) (صحیح )
عبداللہ بن مسعود ؓ کہتے ہیں کہ ایک خیمہ میں ہم تقریباً چالیس آدمی نبی اکرم ﷺ کے ساتھ تھے، آپ نے ہم سے فرمایا: کیا تم اس بات سے خوش ہو کہ تم جنتیوں کی چوتھائی رہو؟ لوگوں نے کہا: جی ہاں، آپ نے فرمایا: کیا تم اس بات سے خوش ہو کہ تم جنتیوں کی تہائی رہو؟ لوگوں نے کہا: جی ہاں، آپ نے فرمایا: کیا تم اس بات سے خوش ہو کہ تم جنتیوں کے آدھا رہو؟ جنت میں صرف مسلمان ہی جائے گا اور مشرکین کے مقابلے میں تمہاری مثال ایسی ہے جیسے کالے بیل کے چمڑے پر سفید بال یا سرخ بیل کے چمڑے پر کالا بال ۔
Sayyidina Abdullah ibn Masud (RA) reported that they were about forty people in a tent with the Prophet ﷺ . He asked them, “Would you love to become one-fourth of the people of Paradise?” They said, “Yes.” He asked, “Would you like to become half of those who inhabit Paradise? No one but a Muslim soul will enter paradise and you are not among the polytheists but as a white strand of hair on the skin of a black ox or a black strand of hair on the hide of a red ox.” [Ahmed 3661, Bukhari 6528, Muslim 221,Ibn e Majah 4283]
صحيح، ابن ماجة (4283)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2547
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - اس باب میں عمران بن حصین اور ابو سعید خدری ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں۔
عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: وہ دروازہ جس سے میری امت جنت میں داخل ہوگی اس کی چوڑائی تیز رفتار گھوڑ سوار کے تین دن کی مسافت کے برابر ہوگی، پھر بھی دروازے پر ایسی بھیڑ بھاڑ ہوگی کہ ان کے کندھے اترنے کے قریب ہوں گے ۔
Saalim ibn Abdullah reported on the authority of his father that Allah’s Messenger ﷺ said, "The breadth of the gate through which my ummah will enter Paradise is such that a swift rider will ride across it for three (nights or years), yet while entering they will nearly dislocate their shoulders."
١ - یہ حدیث غریب ہے، ٢ - میں نے محمد بن اسماعیل بخاری سے اس حدیث کے بارے میں پوچھا تو وہ اسے نہیں جان سکے اور کہا: سالم بن عبداللہ کے واسطہ سے خالد بن ابی بکر کی کئی منکر احادیث آئی ہیں۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: ٦٧٦٠) (ضعیف) (سند میں خالد بن ابی بکر ضعیف راوی ہیں )
سعید بن مسیب سے روایت ہے وہ ابوہریرہ ؓ سے ملے تو ابوہریرہ ؓ نے کہا: میں اللہ سے دعا کرتا ہوں کہ وہ مجھے اور تم کو جنت کے بازار میں اکٹھا کرے۔ سعید بن مسیب نے کہا: کیا اس میں بازار بھی ہے؟ ابوہریرہ ؓ نے کہا: ہاں، مجھے رسول اللہ ﷺ نے خبر دی کہ جب جنتی جنت میں داخل ہوں گے تو وہ اس میں اپنے اعمال کے مطابق اتریں گے، پھر دنیا کے دنوں میں سے جمعہ کے دن کے برابر انہیں اجازت دی جائے گی تو وہ اپنے رب کی زیارت کریں گے، ان کے لیے عرش ظاہر ہوگا اور جنت کے ایک باغ میں نظر آئے گا، پھر ان کے لیے نور کے منبر، موتی کے منبر، یاقوت کے منبر، زمرد کے منبر، سونے کے منبر، اور چاندی کے منبر رکھے جائیں گے، ان کے ادنیٰ درجہ والے حالانکہ ان میں کوئی بھی ادنیٰ نہیں ہوگا مشک اور کافور کے ٹیلے پر بیٹھیں گے اور دوسرے منبر والوں کے بارے میں یہ نہیں خیال کریں گے کہ وہ ان سے اچھی جگہ بیٹھے ہیں۔ ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں: میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا ہم اپنے رب کو دیکھیں گے؟ آپ نے فرمایا: ہاں، کیا تم سورج اور چودہویں رات کے چاند دیکھنے میں دھکم پیل کیے جاتے ہو؟ ہم نے کہا: نہیں، آپ نے فرمایا: اسی طرح تم اپنے رب کا دیدار کرنے میں دھکم پیل نہیں کرو گے، اور اس مجلس میں کوئی ایسا آدمی نہیں ہوگا جس کے روبرو اللہ تعالیٰ گفتگو نہ کرے، حتیٰ کہ ان میں سے ایک آدمی سے کہے گا: اے فلاں بن فلاں! کیا تمہیں وہ دن یاد ہے جب تم نے ایسا ایسا کیا تھا؟ پھر اسے اس کے بعض گناہ یاد دلائے گا جو دنیا میں اس نے کیے تھے تو وہ آدمی کہے گا: اے میرے رب! کیا تو نے مجھے معاف نہیں کردیا؟ اللہ تعالیٰ کہے گا: کیوں نہیں؟ میری مغفرت کے سبب ہی تم اس مقام پر ہو۔ وہ سب اسی حال میں ہوں گے کہ اوپر سے انہیں ایک بدلی ڈھانپ لے گی اور ان پر ایسی خوشبو برسائے گی کہ اس طرح کی خوشبو انہیں کبھی نہیں ملی ہوگی اور ہمارا رب تبارک و تعالیٰ کہے گا: اس کرامت اور انعام کی طرف جاؤ جو ہم نے تمہارے لیے تیار کر رکھی ہے، اور اس میں سے جو چاہو لو، چناچہ ہم ایک ایسے بازار میں آئیں گے جسے فرشتے گھیرے ہوں گے اس میں ایسی چیزیں ہوں گی کہ اس طرح نہ کبھی آنکھوں نے دیکھی ہوگی نہ کانوں نے سنا ہوگا اور نہ کبھی دلوں میں اس کا خیال آیا ہوگا، ہم جو چاہیں گے ہمارے پاس لایا جائے گا، اس میں خرید و فروخت نہیں ہوگی اور اسی بازار میں جنتی ایک دوسرے سے ملاقات کریں گے ، آپ نے فرمایا: ایک بلند مرتبہ والا آدمی اپنے سے کم رتبہ والے کی طرف متوجہ ہوگا اور اس سے ملاقات کرے گا (حالانکہ حقیقت میں اس میں سے کوئی بھی کم مرتبے والا نہیں ہوگا) تو اسے (ادنیٰ مرتبے والے کو) اس کا لباس دیکھ کر عجیب سا لگے گا پھر اس کی آخری گفتگو ختم بھی نہیں ہوگی کہ اسے محسوس ہوگا کہ اس کا لباس اس سے بھی اچھا ہے اور یہ اس وجہ سے ہوگا کہ جنت میں کسی کا مغموم ہونا مناسب نہیں ہے۔ پھر ہم (جنتی) اپنے گھروں کی طرف واپس جائیں گے اور اپنی بیویوں سے ملیں گے تو وہ کہیں گی: خوش آمدید! آپ ایسا حسن و جمال لے کر آئے ہیں جو اس سے کہیں بہتر ہے جب آپ ہم سے جدا ہوئے تھے، تو وہ آدمی کہے گا: آج ہم اپنے رب جبار کے ساتھ بیٹھے تھے اور ہمارا حق ہے کہ ہم اسی طرح لوٹیں جس طرح لوٹے ہیں ۔
Sa’eed ibn Musayyiab narrated I met Abu Hurairah (RA) and he said, “I pray to Allah to bring me and you together in the market of Paradise.’ I asked, “Is there a market there?" He said, "Yes, Allah’s Messenger informed me that when those deserving of Paradise enter it, they will settle according to the merit of their deeds. Then they will be summoned at intervals equal to every Friday in terms of days in the world. They will visit their Lord. The throne will be visible to them and a garden of the gardens of Paradise will be brought to light for them. Pulpits of light, pulpits of pearls, pulpits of rubies, pulpits of aquamarine, pulpits of gold, pulpits of silver will be put up for them. The humblest of them, and there are not worthless among them, will sit on mounds of musk and camphor without thinking that those seated on chairs are more excellent than they are in the assembly. I asked Allah’s Messenger ﷺ if we would see our Lord. He said that we would, just as we find no difficulty in seeing the sun and the full moon. There will not be in that assembly a man with whom Allah does not converse. He will say to him, “O so-and-so son of so-and-so, do you remember the day you said such-and-such.” He will remind the man some of the dishonest things he did in the world, so he will say, "O Lord, have You not forgiven me?" He will say, “Certainly, by the vastness of My forgiveness you have come to this, your station.” Meanwhile, a cloud will come over them and rain down on them perfume the like of whose fragrance they had never experienced.Their Lord will say. ‘Get up! I have prepared for you blessing. Take what you desire’. Then we will come to the market surrounded by angels. There will be in it the like of which eyes have not seen and ears enot heard and hearts have not thought of. To us will be delivered what we desire, there being no buying or selling in the market, where the inhabitants of Paradise will meet each other.A man of rank will meet another of lower rank there being none worthless among them. He will be delighted at the garments on him, but even before their conversation concludes he will imagine that he wears what is more beautiful than the other wears. That will be because it would not be proper for for anyone to grieve there. Then we will turn back to our dwellings and our wives will meet us and say, "Welcome. You have come while you wear a beauty more than when we had separated.We will say that we had met our Lord the Dominant, and it befits us that we should return from there as we have returned.” [Ibn e Majah 4336]
ضعيف، ابن ماجة (4336) // ضعيف ابن ماجة برقم (947)، المشکاة (5647) // ضعيف الجامع الصغير (1831) //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2549
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث غریب ہے، ہم اسے صرف اسی سند سے جانتے ہیں، ٢ - ـ سویدبنعمرونے بھیاوزاعی سے اسحدیثکابعضحصہروایتکیا ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/الزہد ٣٩ (٤٣٣٦) (تحفة الأشراف: ١٣٠٩١) (ضعیف) (سند میں عبدالحمید کبھی کبھی روایت میں غلطی کر جاتے تھے، اور ہشام بن عمار میں بھی کلام ہے، تفصیل کے لیے دیکھیے الضعیفة رقم: ١٧٢٢ )
علی ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جنت میں ایک ایسا بازار ہے جس میں خرید و فروخت نہیں ہوگی، البتہ اس میں مرد اور عورتوں کی صورتیں ہیں، جب آدمی کسی صورت کو پسند کرے گا تو وہ اس میں داخل ہوجائے گا ۔
Sayyidina Ali (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “There is a market in paradise where there is no buying or selling except forms of men and women. When anyone likes a shape, he enters into it.”
ضعيف، المشکاة (5646)، الضعيفة (1982) // ضعيف الجامع الصغير (1896) //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2550
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث غریب ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ الموٌلف (ضعیف) (سند میں عبد الرحمن بن اسحاق بن الحارث واسطی ضعیف راوی ہیں )
جریر بن عبداللہ بجلی ؓ کہتے ہیں کہ ہم لوگ نبی اکرم ﷺ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ آپ نے چودہویں رات کے چاند کی طرف دیکھا اور فرمایا: تم لوگ اپنے رب کے سامنے پیش کئے جاؤ گے اور اسے اسی طرح دیکھو گے جیسے اس چاند کو دیکھ رہے ہو، اسے دیکھنے میں کوئی مزاحمت اور دھکم پیل نہیں ہوگی۔ اگر تم سے ہو سکے کہ سورج نکلنے سے پہلے اور اس کے ڈوبنے کے بعد کی نماز (فجر اور مغرب) میں مغلوب نہ ہو تو ایسا کرو، پھر آپ نے یہ آیت پڑھی: «سبح بحمد ربک قبل طلوع الشمس وقبل الغروب» سورج نکلنے سے پہلے اور سورج ڈوبنے سے پہلے اپنے رب کی تسبیح تعریف کے ساتھ بیان کرو ١ ؎۔
Sayyidina Jarir ibn Abdullah Bajali (RA) narrated : We were seated with the Prophet ﷺ .He looked at the moon;the full moon. He said, "You will be presented before your Lord and you will be able to see Him as you see this moon, without any difficulty. So, if you can, do not procrastinate over the Salah before sunrise and the Salah before sunset. Offer them." Then he recited; And glorify the praise of your Lord before the rising of the sun and before its setting. (50:39) [Bukhari 554, Muslim 633, Abu Dawud 4729,Ibn e Majah177, Ahmed 19211]
صحيح، ابن ماجة (177)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2551
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/المواقیت ١٦ (٥٥٤)، والتوحید ٢٤ (٧٤٣٥)، صحیح مسلم/المساجد ٣٧ (٦٣٣)، سنن ابی داود/ السنة ٢٠ (٤٧٢٩)، سنن ابن ماجہ/المقدمة ١٣ (١٧٧) (تحفة الأشراف: ٣٢٢٣)، و مسند احمد (٤/٣٦٠) (صحیح )
صہیب ؓ سے روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے آیت کریمہ: «للذين أحسنوا الحسنی وزيادة» (یونس: ٢٦ ) کے بارے میں فرمایا: جب جنتی جنت میں داخل ہوجائیں گے تو ایک پکارنے والا پکارے گا: اللہ سے تمہیں ایک اور چیز ملنے والی ہے، وہ کہیں گے: کیا اللہ نے ہمارے چہروں کو روشن نہیں کیا، ہمیں جہنم سے نجات نہیں دی، اور ہمیں جنت میں داخل نہیں کیا؟ وہ کہیں گے: کیوں نہیں، پھر حجاب اٹھ جائے گا ، آپ نے فرمایا: اللہ کی قسم! اللہ تعالیٰ نے انہیں کوئی ایسی چیز نہیں دی جو ان کے نزدیک اللہ کے دیدار سے زیادہ محبوب ہوگی ۔
Sayyidina Suhaib (RA) reported the saying of the Prophet ﷺ , about Allahs words: “For those who do good is the best reward and and an increase.” (10:26) He said, ‘When the people of Paradise will enter Paradise, a caller will call out, ‘There is for you with Allah, a promise (of another thing)’. They will exclaim, ‘Has He not made our faces shining, saved us (from Hell) and admitted us to Paradise? They will say, ‘Certainly!‘ Then the screen will be removed. By Allah they will not have been given anything dearer to them than looking at Him.’ [Ahmed 18957]
صحيح، ابن ماجة (187)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2552
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - اس حدیث کو صرف حماد بن سلمہ نے مسند اور مرفوع کیا ہے، ٢ - سلیمان بن مغیرہ اور حماد بن زید نے اس حدیث کو ثابت بنانی کے واسطہ سے عبدالرحمٰن بن ابی لیلیٰ سے ان کے اپنے قول کی حیثیت سے روایت کی ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الإیمان ٨٠ (١٨١)، سنن ابن ماجہ/المقدمة ١٣ (١٨٧)، (تحفة الأشراف: ٤٩٦٨)، و مسند احمد (٤/٣٣٢، ٣٣٣)، ویأتي برقم: ٣١٠٥ (صحیح )
عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: سب سے کم تر درجے کا جنتی وہ ہوگا جو اپنے باغات، بیویوں، نعمتوں، خادموں اور تختوں کی طرف دیکھے گا جو ایک ہزار سال کی مسافت پر مشتمل ہوں گے، اور اللہ کے پاس سب سے مکرم وہ ہوگا جو اللہ کے چہرے کی طرف صبح و شام دیکھے۔ پھر رسول اللہ ﷺ نے یہ آیت تلاوت فرمائی «وجوه يومئذ ناضرة إلى ربها ناظرة» اس دن بہت سے چہرے تروتازہ اور بارونق ہوں گے، اپنے رب کی طرف دیکھتے ہوں گے (القیامۃ: ٢٢ ، ٢٣ ) ۔
Sayyidina Ibn Umar (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “The humblest inhabitant of Paradise will be on the stage of one who looks at his gardens and wives and blessings and servants and couches stretching a distance of one thousand years. The most hounoured of them in Allah’s sight will look at His face morning and evening.” He then recited: That day faces shall be radiant, looking towards their Lord. (75:22-23) [Ahmed 5317]
ضعيف، الضعيفة (1985) // ضعيف الجامع الصغير (1382) //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2553
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث کئی سندوں سے اسرائیل کے واسطہ سے جسے وہ ثویر سے، اور ثویر ابن عمر سے روایت کرتے ہیں مرفوعاً آئی ہے۔ جب کہ اسے عبدالملک بن جبر نے ثویر کے واسطہ سے ابن عمر سے موقوفاً روایت کیا ہے، اور عبیداللہ بن اشجعی نے سفیان سے، سفیان نے ثویر سے، ثویر نے مجاہد سے اور مجاہد نے ابن عمر سے ان کے اپنے قول کی حیثیت سے اسے غیر مرفوع روایت کیا ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف، وأعادہ في تفسیر القیامة (٣٣٣٠) (تحفة الأشراف: ٦٦٦٦)، وانظرحم (٢/١٣، ٦٤) (ضعیف) (سند میں ثویر ضعیف اور رافضی راوی ہے )
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: کیا تم چودہویں رات کا چاند دیکھنے میں مزاحمت اور دھکم پیل کرتے ہو؟ کیا تم سورج کو دیکھنے میں مزاحمت اور دھکم پیل کرتے ہو؟ لوگوں نے کہا: نہیں، آپ نے فرمایا: تم اپنے رب کو اسی طرح دیکھو گے جس طرح چودہویں رات کے چاند کو دیکھتے ہو، اس کو دیکھنے میں کوئی مزاحمت اور دھکم پیل نہیں کرو گے ۔
Sayyidina Abu Hurairah (RA) reported that Allah’s Messenger asked, "You find it difficult to look at the full moon? Do you find it difficult to look at the sun? They “No.” He said, “Then you will see your Lord as you see the full moon. You find no difficulty ring it.”
صحيح، ابن ماجة (178)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2554
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے، ٢ - یحییٰ بن عیسیٰ رملی اور کئی لوگوں نے اسے اسی طرح «عن الأعمش عن أبي صالح عن أبي هريرة عن النبي صلی اللہ عليه وسلم» کی سند سے روایت کی ہے، عبداللہ بن ادریس نے اسے «عن الأعمش عن أبي صالح عن أبي سعيد عن النبي صلی اللہ عليه وسلم» کی سند سے روایت کی ہے، ٣ - ابن ادریس کی حدیث جو اعمش کے واسطہ سے مروی ہے غیر محفوظ ہے، اور ابوصالح کی حدیث جو ابوہریرہ ؓ کے واسطہ سے نبی اکرم ﷺ سے مروی ہے زیادہ صحیح ہے، ٤ - سہیل بن ابی صالح نے اسے اسی طرح اپنے والد سے، انہوں نے ابوہریرہ ؓ سے اور ابوہریرہ ؓ نے نبی اکرم ﷺ سے روایت کی ہے۔ یہ حدیث ابو سعید خدری ؓ کے واسطہ سے نبی اکرم ﷺ سے دوسری سند سے اسی کے مثل مروی ہے، اور وہ صحیح حدیث ہے۔
ابو سعید خدری ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ جنت والوں سے کہے گا: اے جنت والو! وہ کہیں گے: لبیک اور سعدیک اے ہمارے رب! اللہ تعالیٰ پوچھے گا: کیا تم راضی ہوگئے؟ وہ کہیں گے: ہم کیوں نہیں راضی ہوں گے جب کہ تو نے ہمیں ان نعمتوں سے نوازا ہے جو تو نے اپنی کسی مخلوق کو نہیں دی ہیں، اللہ تعالیٰ کہے گا: میں تمہیں اس سے بھی زیادہ بہتر چیز دوں گا۔ وہ پوچھیں گے: اس سے بہتر کون سی چیز ہوسکتی ہے؟ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: تمہارے اوپر اپنی رضا مندی نازل کروں گا اور تم سے کبھی نہیں ناراض ہوں گا ۔
Sayyidina Abu Saeed Khudri (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said that Allah will say to the people of Paradise, “O people of Paradise !“ They wIl say, ‘Here weO Lord and at ‘Your service!” He will say “Are you pleased?” They will say, “Why should we not be pleased when You have given us which no one out of Your creatures has been given?” He will say, “I will give you better than that” And, He will say, “I make My pleasure lawful for you and will never be angry at you again.” [Bukhari 6549, Muslim 2829, Ahmed 11835]
صحيحصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2555
ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: فرق مراتب کے باوجود ایک دوسرے کو جنتی اسی طرح نظر آئیں گے جیسے مشرقی یا مغربی ستارہ نظر آتا ہے، جو افق میں نکلنے اور ڈوبنے والا ہے ۔ صحابہ نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا وہ انبیاء ہوں گے؟ آپ نے فرمایا: ہاں، قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، اور وہ لوگ بھی ہوں گے جو اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لائے اور جنہوں نے رسولوں کی تصدیق کی ۔
Sayyidina Abu Hurairah (RA) reported that the Prophet ﷺ said, "The people of Paradise will look at each other from the rooms as you look at the shining stars east or west, setting in the horizon or rising in the horizon according to the excellences of ranks." They asked, “O Messenger of Allah, are they Prophets?” He said, “Yes, By Him in Whose hand is my life, and the peoples who believed in Allah and His Messenger and confirmed the Messengers.” [Ahmed 8479]
ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ قیامت کے دن تمام لوگوں کو ایک وسیع اور ہموار زمین میں جمع کرے گا، پھر اللہ رب العالمین ان کے سامنے اچانک آئے گا اور کہے گا: کیوں نہیں ہر آدمی اس چیز کے پیچھے چلا جاتا ہے جس کی وہ عبادت کرتا تھا؟ چناچہ صلیب پوجنے والوں کے سامنے ان کی صلیب کی صورت بن جائے گی، بت پوجنے والوں کے سامنے بتوں کی صورت بن جائے گی اور آگ پوجنے والوں کے سامنے آگ کی صورت بن جائے گی، پھر وہ لوگ اپنے اپنے معبودوں کے پیچھے لگ جائیں گے اور مسلمان ٹھہرے رہیں گے، پھر رب العالمین ان کے پاس آئے گا اور کہے گا: تم بھی لوگوں کے ساتھ کیوں نہیں چلے جاتے؟ وہ کہیں گے: ہم تجھ سے اللہ کی پناہ مانگتے ہیں، ہم تجھ سے اللہ کی پناہ مانگتے ہیں، ہمارا رب اللہ تعالیٰ ہے، ہم یہیں رہیں گے یہاں تک کہ ہم اپنے رب کو دیکھ لیں۔ اللہ تعالیٰ انہیں حکم دے گا اور ان کو ثابت قدم رکھے گا اور چھپ جائے گا، پھر آئے گا اور کہے گا: تم بھی لوگوں کے ساتھ کیوں نہیں چلے جاتے؟ وہ کہیں گے: ہم تجھ سے اللہ کی پناہ مانگتے ہیں، ہم تجھ سے اللہ کی پناہ مانگتے ہیں، ہمارا رب اللہ ہے اور ہماری جگہ یہی ہے یہاں تک کہ ہم اپنے رب کو دیکھ لیں، اللہ تعالیٰ انہیں حکم دے گا اور انہیں ثابت قدم رکھے گا، صحابہ نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا ہم اللہ تعالیٰ کو دیکھیں گے؟ آپ نے فرمایا: کیا چودہویں رات کے چاند دیکھنے میں تمہیں کوئی مزاحمت اور دھکم پیل ہوتی ہے؟ صحابہ نے عرض کیا: نہیں، اے اللہ کے رسول! آپ نے فرمایا: تم اللہ تعالیٰ کے دیکھنے میں اس وقت کوئی مزاحمت اور دھکم پیل نہیں کرو گے۔ پھر اللہ تعالیٰ چھپ جائے گا پھر جھانکے گا اور ان سے اپنی شناخت کرائے گا، پھر کہے گا: میں تمہارا رب ہوں، میرے پیچھے آؤ، چناچہ مسلمان کھڑے ہوں گے اور پل صراط قائم کیا جائے گا، اس پر سے مسلمان تیز رفتار گھوڑے اور سوار کی طرح گزریں گے اور گزرتے ہوئے ان سے یہ کلمات ادا ہوں گے «سلم سلم» سلامت رکھ، سلامت رکھ ، صرف جہنمی باقی رہ جائیں گے تو ان میں سے ایک گروہ کو جہنم میں پھینک دیا جائے گا، پھر پوچھا جائے گا: کیا تو بھر گئی؟ جہنم کہے گی: «هل من مزيد» اور زیادہ، پھر اس میں دوسرا گروہ پھینکا جائے گا اور پوچھا جائے گا: کیا تو بھر گئی؟ وہ کہے گی: «هل من مزيد» اور زیادہ، یہاں تک کہ جب تمام لوگ پھینک دیے جائیں گے تو رحمن اس میں اپنا پیر ڈالے گا اور جہنم کا ایک حصہ دوسرے میں سمٹ جائے گا، پھر اللہ تعالیٰ کہے گا: بس۔ جہنم کہے گی: «قط قط» بس، بس۔ جب اللہ تعالیٰ جنتیوں کو جنت میں اور جہنمیوں کو جہنم میں داخل کر دے گا، تو موت کو کھینچتے ہوئے اس دیوار تک لایا جائے گا جو جنت اور جہنم کے درمیان ہے، پھر کہا جائے گا: اے جنتیو! تو وہ ڈرتے ہوئے جھانکیں گے، پھر کہا جائے گا: اے جہنمیو! تو وہ شفاعت کی امید میں خوش ہو کر جھانکیں گے، پھر جنتیوں اور جہنمیوں سے کہا جائے گا: کیا تم اسے جانتے ہو؟ تو یہ بھی کہیں گے اور وہ بھی کہیں گے: ہم نے اسے پہچان لیا، یہ وہی موت ہے جو ہمارے اوپر وکیل تھی، پھر وہ جنت اور جہنم کی بیچ والی دیوار پر لٹا کر یکبارگی ذبح کردی جائے گی، پھر کہا جائے گا: اے جنتیو! ہمیشہ (جنت میں) رہنا ہے موت نہیں آئے گی۔ اے جہنمیو! ہمیشہ (جہنم میں) رہنا ہے موت نہیں آئے گی ۔
Sayyidina Abu Hurairah (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said,"Allah will assemble all people on the Day of Resurrection on a plain. Then the Lord of the worlds will appear to them and say, Why does not every man follow what he used to worship?” Hence, a representation will be made of the cross for the worshippers of the cross, of pictures for worshippers of the pictures, of fire for fire-worshippers, and they will follow that which they used to worship. The Muslims would remain . The Lord of the worlds will appear to them and say, “Did you not follow the people?” They will say, “We seek refuge in Allah from You. We seek refuge in Allah from You. Allah is our Lord. This is our place till we see our Lord” He will command them to make them steadfast. Then he will disappear (from them) and then reappear and say, “Did you not follow the people?” They will say, “We seek refuge in Allah from You. We seek refuge in Allah from You. Allah is our Lord and this is our place till we see our Lord.” He will command them and make them steadfast."
صحيح تخريج الطحاوية (576)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2557
ابو سعید خدری ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ( ﷺ ) نے فرمایا: قیامت کے دن موت کو چتکبرے مینڈھے کی طرح لایا جائے گا اور جنت و جہنم کے درمیان کھڑی کی جائے گی پھر وہ ذبح کی جائے گی، اور جنتی و جہنمی دیکھ رہے ہوں گے، سو اگر کوئی خوشی سے مرنے والا ہوتا تو جنتی مرجاتے اور اگر کوئی غم سے مرنے والا ہوتا تو جہنمی مرجاتے ۔
Sayyidina Abu Sa’eed (RA) reported marfu that on the Day of Resurrection, death will be brought in the form of a beautiful ram and slaughtered between Paradise and Hell. They will see that. Thus, if anyone could die of happiness, the people of Paradise would die and if any one could die of grief, the people of the Fire would die.”
صحيح - دون قوله: فلو أن أحدا ... - الضعيفة (2669) // ضعيف الجامع الصغير (659) //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2558
نبی اکرم ﷺ سے اسی جیسی بہت سی احادیث مروی ہیں جس میں دیدار الٰہی کا ذکر ہے کہ لوگ اپنے رب کو دیکھیں گے، قدم اور اسی طرح کی چیزوں کا بھی ذکر ہے، ٣ - اس سلسلے میں ائمہ اہل علم جیسے سفیان ثوری، مالک بن انس، ابن مبارک، ابن عیینہ اور وکیع وغیرہ کا مسلک یہ ہے کہ وہ ان چیزوں کی روایت کرتے ہیں اور کہتے ہیں: یہ حدیثیں آئی ہیں اور ہم اس پر ایمان لاتے ہیں، لیکن صفات باری تعالیٰ کی کیفیت کے بارے میں کچھ نہیں کہا جائے گا، محدثین کا مسلک یہ یہی کہ یہ چیزیں ویسی ہی روایت کی جائیں گی جیسی وارد ہوئی ہیں، ان کی نہ (باطل) تفسیر کی جائے گی نہ اس میں کوئی وہم پیدا کیا جائے گا، اور نہ ان کی کیفیت وکنہ کے بارے میں پوچھا جائے گا، اہل علم نے اسی مسلک کو اختیار کیا ہے اور لوگ اسی کی طرف گئے ہیں، ٤ - حدیث کے اندر «فيعرفهم نفسه» کا مفہوم یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کے لیے تجلی فرمائے گا۔
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: ٤٢٣٠) (صحیح) (” فلو أن أحدًا “ کا ٹکڑا صحیح نہیں ہے، کیوں کہ عطیہ عوفی ضعیف ہیں، اور اس ٹکڑے میں ان کا کوئی متابع نہیں، اور نہ اس کا کوئی شاہد ہے )
انس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جنت ناپسندیدہ اور تکلیف دہ چیزوں سے گھری ہوئی ہے اور جہنم شہوتوں سے گھری ہوئی ہے ١ ؎۔
Sayyidina Ans (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said,"Paradise is surrounded by hardships while Hell is surrounded by passions.”
صحيحصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2559
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث اس سند سے حسن غریب صحیح ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: جنت ناپسندیدہ اور تکلیف دہ چیزوں سے گھری ہوئی ہے جیسے ایک مثال: سخت سردیوں میں نماز فجر وہ بھی جماعت سے کتنی تکلیف دہ ہے، مگر جنت ایسے ہی لوگوں کو ملے گی، اور آنکھ یا شرمگاہ سے حرام لذت کوشی میں کتنی لذت ہے، مگر اس عمل پر اگر توبہ نہ ہو تو جہنم ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الجنة ١ (٢٨٢٢) (تحفة الأشراف: ٣٢٩، و ٦١٥)، و مسند احمد (٣/١٥٣، ٢٥٤، ٢٨٤) (صحیح )
ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب اللہ تعالیٰ جنت اور جہنم کو پیدا کرچکا تو جبرائیل کو جنت کی طرف بھیجا اور کہا: جنت اور اس میں جنتیوں کے لیے جو کچھ ہم نے تیار کر رکھا ہے، اسے جا کر دیکھو ، آپ نے فرمایا: وہ آئے اور جنت کو اور جنتیوں کے لیے اللہ تعالیٰ نے جو تیار کر رکھا ہے اسے دیکھا: آپ نے فرمایا: پھر اللہ کے پاس واپس گئے اور عرض کیا: تیری عزت کی قسم! جو بھی اس کے بارے میں سن لے اس میں ضرور داخل ہوگا، پھر اللہ نے حکم دیا تو وہ ناپسندیدہ اور تکلیف دہ چیزوں سے گھیر دی گئی، اور اللہ نے کہا: اس کی طرف دوبارہ جاؤ اور اس میں جنتیوں کے لیے ہم نے جو تیار کیا ہے اسے دیکھو ۔ آپ نے فرمایا: جبرائیل (علیہ السلام) جنت کی طرف دوبارہ گئے تو وہ ناپسندیدہ اور تکلیف دہ چیزوں سے گھری ہوئی تھی چناچہ وہ اللہ تعالیٰ کے پاس لوٹ کر آئے اور عرض کیا: مجھے اندیشہ ہے کہ اس میں کوئی داخل ہی نہیں ہوگا، اللہ نے کہا: جہنم کی طرف جاؤ اور جہنم کو اور جو کچھ جہنمیوں کے لیے میں نے تیار کیا ہے اسے جا کر دیکھو، (انہوں نے دیکھا کہ) اس کا ایک حصہ دوسرے پر چڑھ رہا ہے، وہ اللہ کے پاس آئے اور عرض کیا: تیری عزت کی قسم! اس کے بارے میں جو بھی سن لے اس میں داخل نہیں ہوگا۔ پھر اللہ نے حکم دیا تو وہ شہوات سے گھیر دی گئی۔ اللہ تعالیٰ نے کہا: اس کی طرف دوبارہ جاؤ، وہ اس کی طرف دوبارہ گئے اور (واپس آ کر) عرض کیا: تیری عزت کی قسم! مجھے ڈر ہے کہ اس سے کوئی نجات نہیں پائے گا بلکہ اس میں داخل ہوگا ۔
Sayyidina Abu Hurairah (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said; "When Allah created Paradise and Hell, He sent Jibril to paradise, saying, “Look at it and at what I have prepared in it for its inhabitants.” So, he went to it and looked at it and at what Allah had prepared in it for its dwellers. He returned to Him and said, “By Your Might, whosever hears of it will enter it.” He commanded that it should be encircled with hardhisps, and said to him, “Go back to it and look at what I have prepared for its inhabitants in it.” So, he returned to it and saw that it was encircled with difficulties and returned to Allah and said “By Your Might I fear that no one will enter it” He said “Go to hell and look at it and at what I have prepared in it for its dwellers.” He observed that part of it was over-riding other part of it. He returned to Allah and said, “By Your Might, anyone who hears of it will not enter it." Allah ordered that it should be encircled with passions and desires, and it was, and said (to Jibril), “Go back to it.” He went to it and said, “By Your Might, I fear that no one will be able to save himself from it, and will enter it.” [Ahmed 8406, Abu Dawud 4744, Nisai 3768]
حسن صحيح تخريج التنکيل (2 / 177)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2560
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/ السنة ٢٥ (٤٧٤٤)، سنن النسائی/الأیمان والنذور ٣ (٣٧٩٤) (تحفة الأشراف: ١٥٠٦٤)، و مسند احمد (٢/٣٣٣، ٣٥٤، ٢٧٣) (حسن صحیح )
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جنت اور جہنم کے درمیان بحث و تکرار ہوئی، جنت نے کہا: میرے اندر کمزور اور مسکین داخل ہوں گے، جہنم نے کہا: میرے اندر ظالم اور متکبر داخل ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ نے (فیصلہ کرتے ہوئے) جہنم سے کہا: تو میرا عذاب ہے اور میں تیرے ذریعہ جس سے چاہوں گا انتقام لوں گا اور جنت سے کہا: تو میری رحمت ہے میں تیرے ذریعہ جس پر چاہوں گا رحم کروں گا ۔
Abu Hurairah (RA) reported that Allah’s Messeger ﷺ said:"Paradise and Hell debated with one another. Paradise said, ‘The weak and the poor will enter me." Hell boasted, “The tyrants and the arrogant will come to me.” (Allah) said to Hell, “You are My punishment. I take revenge from whom I like through You.” And to Paradise, He said, ‘You are My mercy. Through you, I show mercy to whomsoever I like.” [Bukhari 4850, Muslim 2846]
حسن صحيح ظلال الجنة (528)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2561
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/تفسیر سورة ق ١ (٤٨٥٠)، صحیح مسلم/الجنة ١٣ (٢٨٤٦) (تحفة الأشراف: ١٥٠٦٣)، و مسند احمد (٢/٢٧٦، ٣١٤، ٣٥٠) (صحیح )
ابو سعید خدری ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: کم درجے کا جتنی وہ ہے جس کے لیے اسی ہزار خادم اور بہتر بیویاں ہوں گی۔ اس کے لیے موتی، زمرد اور یاقوت کا خیمہ نصب کیا جائے گا جو مقام جابیہ سے صنعاء (یمن) تک کے برابر ہوگا ۔
Sayyidina Abu Sa’eed Khudri (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said “The humblest inhabitant of Paradise will have eighty thousand servants and seventy-two wives and a large pavilion will be erected for him made of pearls, aquamarine, and rubies covering the distance between Jabiyah and San’a.”(Names of two cities far away from eachother). It is reported from the Prophet ﷺ through the same sanad. He said, “Those who are destined to enter Paradise and die young or old are returned to the age of thirty years in Paradise, never rising above that. And, it is like that for the people of Hell." Through the same sanad it is reported from the Prophet, He said, “They will wear crowns, smallest pearl of which will illuminate what is between the east and the west.” [Ahmed 11723]
ضعيف، المشکاة (5648) // ضعيف الجامع الصغير (266) //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2562
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: ٤٥٠٥٩) (ضعیف) (سند میں دراج ابو السمح اور رشدین ضعیف راوی ہیں )