ابو سعید خدری ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب مومن جنت میں لڑکے کی خواہش کرے گا تو حمل ٹھہرنا، ولادت ہونا اور اس کی عمر بڑھنا یہ سب کچھ اس کی خواہش کے مطابق ایک ساعت میں ہوگا ۔
Sayyidina Abu Sa’eed Khudri (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “When a believer wishes for a child in Paradise, its conception, delivery and growth will take place as he wishes in a moment.” [Ahmed 11063]
صحيح ظلال الجنة (528)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2563
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن غریب ہے، ٢ - اس بارے میں اہل علم کا اختلاف ہے، بعض لوگ کہتے ہیں: جنت میں جماع تو ہوگا مگر بچہ نہیں پیدا ہوگا۔ طاؤس، مجاہد اور ابراہیم نخعی سے اسی طرح مروی ہے، ٣ - محمد بن اسماعیل بخاری کہتے ہیں کہ اسحاق بن ابراہیم بن راہویہ نبی اکرم ﷺ کی اس حدیث کے بارے میں کہتے ہیں: جب جنت میں مومن بچے کی خواہش کرے گا تو یہ ایک ساعت میں ہوجائے گا، جیسے ہی وہ خواہش کرے گا لیکن وہ ایسی خواہش نہیں کرے گا، ٤ - محمد بن اسماعیل بخاری کہتے ہیں: ابورزین عقیلی ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جنتی کے لیے جنت میں کوئی بچہ نہیں ہوگا، ٥ - ابوصدیق ناجی کا نام بکر بن عمرو ہے، انہیں بکر بن قیس بھی کہا جاتا ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/الزہد ٣٩ (٤٣٣٨) (تحفة الأشراف: ٣٩٧٧) (صحیح )
علی ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جنت میں حورعین کے لیے ایک محفل ہوگی اس میں وہ اپنا نغمہ ایسا بلند کرے گا کہ مخلوق نے کبھی اس جیسی آواز نہیں سنی ہوگی ، آپ نے فرمایا: وہ کہیں گی: ہم ہمیشہ رہنے والی ہیں کبھی فنا نہیں ہوں گی، ہم ناز و نعمت والی ہیں کبھی محتاج نہیں ہوں گی، ہم خوش رہنے والی ہیں کبھی ناراض نہیں ہوں گی، اس کے لیے خوشخبری اور مبارک ہو اس کے لیے جو ہمارے لیے ہے اور ہم اس کے لیے ہیں ۔
Sayyidina Ali reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “There is a meeting- place in Paradise for its hour is (maidens) with large eyes. They will raise their voices such as the creatures have never heard saying, “We will live for ever and we will never die. We live in blessings and will never grieve. We are pleased (with our husbands) and will never be displeased. Happy are they who are for us and we for them.” [Ahmed 1342]
ضعيف، الضعيفة (1982) // ضعيف الجامع الصغير (1898) //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2564
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - علی ؓ کی حدیث غریب ہے، ٢ - اس باب میں ابوہریرہ، ابو سعید خدری اور انس ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: ١٠٢٩٨) (ضعیف) (سند میں عبد الرحمن بن اسحاق بن الحارث واسطی ضعیف راوی ہیں )
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ، عَنْ الْأَوْزَاعِيِّ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، فِي قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ: فَهُمْ فِي رَوْضَةٍ يُحْبَرُونَ سورة الروم آية 15، قَالَ السَّمَّاعُ: وَمَعْنَى السَّمَّاعِ: مثل ما ورد في الحديث أَنَّ الْحُورَ الْعِينَ يُرَفِّعْنَ بِأَصْوَاتِهِنَّ .
یحییٰ بن ابی کثیر آیت کریمہ: «فهم في روضة يحبرون» وہ جنت میں خوش کردیئے جائیں گے کے بارے میں کہتے ہیں: اس سے مراد سماع ہے اور سماع کا مفہوم وہی ہے جو حدیث میں آیا ہے کہ حورعین اپنے نغمے کی آواز بلند کریں گی۔
Muhammad ibn Bashshar reported from Rawh ibn Ubadahh from Awza’i from Yahya ibn Abu Kathir that Allah’s words,"They should be made happy my a garden"(Al-Quran 30:15) refer to which is like the saying in the above hadith, ‘the large-eyed houris will raise their voices.’
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: لم یذکرہ المزي) (صحیح )
انس بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو اللہ تعالیٰ سے تین بار جنت مانگتا ہے تو جنت کہتی ہے: اے اللہ! اسے جنت میں داخل کر دے، اور جو تین مرتبہ جہنم سے پناہ مانگتا ہے تو جہنم کہتی ہے: اے اللہ اس کو جہنم سے نجات دے ۔
١ - یہ حدیث اسی طرح «يونس بن أبي إسحق عن أبي إسحق عن بريد بن أبي مريم عن أنس عن النبي صلی اللہ عليه وسلم» کی سند سے مروی ہے، ٢ - یہ حدیث «عن أبي إسحق عن بريد بن أبي مريم عن أنس بن مالک» کی سند سے موقوفاً بھی مروی ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن النسائی/الاستعاذة ٥٦ (٥٥٢٣)، سنن ابن ماجہ/الزہد ٣٩ (٤٣٤٠) (تحفة الأشراف: ٢٤٣)، و مسند احمد (٣/٢٠٨) (صحیح )
عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تین قسم کے لوگ مشک کے ٹیلے پر ہوں گے ، راوی کہتے ہیں: میرا خیال ہے آپ نے فرمایا: قیامت کے دن، ان پر اگلے اور پچھلے رشک کریں گے: ایک وہ آدمی جو رات دن میں پانچ وقت نماز کے لیے اذان دے، دوسرا وہ آدمی جو کسی قوم کی امامت کرتا ہو اور وہ اس سے راضی ہوں اور تیسرا وہ غلام جو اللہ تعالیٰ کا اور اپنے مالکوں کا حق ادا کرے ۔
Sayyidina Ibn Umar (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “Three will be seated on mounds of musk.” The narrator believes that he also said, “On the Day of Resurrection.”“The first and the last will envy them. (They are:) 1. A man who calls to prayer five times every day and night (that is, the mu’azzin). 2. A man who is the imam (leader) of a people and they are pleased with him, and 3. A man who gives the right of Allah and the right of his masters.’ [Ahmed 4799]
ضعيف، المشکاة (666)، نقد التاج (184)، التعليق الرغيب (1 / 110) // ضعيف الجامع الصغير (2579) وتقدم برقم (339 / 2069) //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2566
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن غریب ہے، ٢ - ہم اسے صرف سفیان ثوری کی روایت سے جانتے ہیں۔
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم ١٩٨٦ (ضعیف) (سند میں ابوالیقظان ضعیف مدلس اور مختلط راوی ہے، تشیع میں بھی غالی ہے )
عبداللہ بن مسعود ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: تین قسم کے لوگوں سے اللہ تعالیٰ محبت کرتا ہے: ایک وہ آدمی جو رات میں اٹھ کر اللہ کی کتاب کی تلاوت کرے، دوسرا وہ آدمی جو اپنے داہنے ہاتھ سے صدقہ کرے اور اسے چھپائے اور تیسرا وہ آدمی جو کسی سریہ میں ہو اور ہار جانے کے بعد پھر بھی دشمنوں کا مقابلہ کرے ۔
Sayyidina Abdullah ibn Mas’ud (RA) reported in a marfu form. He said, “There a three whom Allah, the Majestic, the Glorious, loves. 1. A man who stands up in the night reciting the Quran. 2. A man who gives sadaqah with his right hand keeping it a secret (the narrator thought that also said, “from his left hand), and, 3. A man who was in an expedition and his colleagues were routed but he continued to fight the enemy.”
ضعيف، المشکاة (1921 / التحقيق الثاني) // ضعيف الجامع الصغير (2609) //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2567
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث اس سند سے غریب ہے، اور یہ محفوظ نہیں ہے۔ صحیح وہ روایت ہے جسے شعبہ وغیرہ نے «عن منصور عن ربعي بن حراش عن زيد بن ظبيان عن أبي ذر عن النبي صلی اللہ عليه وسلم» کی سند سے روایت کی ہے، ابوبکر بن عیاش بہت غلطیاں کرتے ہیں۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: ٩١٩٩) (ضعیف) (سند میں ابوبکر بن عیاش سے بہت غلطیاں ہوجایا کرتی تھیں، یہاں انہوں نے ابو ذر ؓ کی روایت کو ابن مسعود “ ؓ کی روایت بنا ڈالی ہے، جیسا کہ مؤلف نے صراحت کی ہے )
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: قریب ہے کہ دریائے فرات سونے کا خزانہ اگلے، لہٰذا (اس وقت) جو موجود ہو وہ اس میں سے کچھ بھی نہ لے ١ ؎۔
Sayyidina Abu Hurariah (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “The Furat (Euphrates) will soon uncover a treasure of gold. So, those who are present at it must not take anything from it.” [Ahmed 2139, Bukhari 7119, Muslim 2894, Abu Dawud 4313]
صحيح
صحيحصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2569
ابوہریرہ ؓ سے اس سند سے بھی نبی اکرم ﷺ سے اسی جیسی حدیث روایت کی ہے، مگر اس میں یہ فرق ہے کہ آپ نے فرمایا: سونے کا پہاڑ اگلے ۔
صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2570
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: اس لیے کہ یہ جھگڑا اور فتنہ و فساد کا ذریعہ بن جائے گا۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الفتن ٢٤ (٧١١٩)، صحیح مسلم/الفتن ٨ (٢٨٩٤)، سنن ابن ماجہ/الفتن ٢٥ (٤٠٤٥) (تحفة الأشراف: ١٢٢٦٣)، و مسند احمد (٢/٢٦١، ٣٣٢، ٣٦٠) (صحیح)
انظر ماقبلہ (تحفة الأشراف: ١٣٧٩٥) (صحیح )
ابوذر ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: تین قسم کے لوگوں سے اللہ تعالیٰ محبت کرتا ہے، اور تین قسم کے لوگوں سے نفرت، جن لوگوں سے اللہ تعالیٰ محبت کرتا ہے وہ یہ ہیں: ایک وہ آدمی جو کسی قوم کے پاس جائے اور ان سے اللہ کا واسطہ دے کر مانگے وہ اپنے اور اس قوم کے درمیان پائے جانے والے کسی رشتے کا واسطہ دے کر نہ مانگے اور وہ لوگ اسے کچھ نہ دیں، پھر ان میں سے ایک آدمی پیچھے پھرے اور اسے چپکے سے لا کر کچھ دے، اس کے عطیہ کو اللہ تعالیٰ اور جس کو دیا ہے اس کے سوا کوئی نہ جانے۔ دوسرے وہ لوگ جو رات کو چلیں یہاں تک کہ جب ان کو نیند ان چیزوں سے پیاری ہوجائے جو نیند کے برابر ہیں تو سواری سے اتریں اور سر رکھ کر سو جائیں اور ان میں کا ایک آدمی کھڑا ہو کر میری خوشامد کرنے اور میری آیتوں کی تلاوت کرنے لگے، تیسرا وہ آدمی جو کسی سریہ میں ہو اور دشمن سے مقابلہ ہو تو اس کے ساتھی ہار جائیں پھر بھی وہ سینہ سپر ہو کر آگے بڑھے یہاں تک کہ مارا جائے یا فتح حاصل ہوجائے۔ جن تین لوگوں سے اللہ تعالیٰ نفرت کرتا ہے وہ یہ ہیں: وہ بوڑھا جو زنا کار ہو، وہ فقیر جو تکبر کرنے والا ہو اور مالدار جو دوسروں پر ظلم ڈھائے ۔
Sayyidina Abu Zarr (RA) reported that the Prophet ﷺ said, “There are whom Allah loves and three whom He hates. As for those whom He loves, they are: 1.If a man comes to a people and asks them for something in the name of Allah and does not ask them in the name of relationship between them, but they do not give him, then a man of them meets him in private and gives him (something) unknown to anyone except Allah and whom he gives. (This giver is the one Allah loves). 2. A man who goes with a people at night till they go to sleep, loving sleep over everthing else, but he stands up beseeching Allah and reciting His verses. 3. A man who is in a Sariyah who meet their enemy who defeat them, but he pulls out his chest and fights them till he is killed or is given victory. The three whom Allah hates are 1.An old man who commits adultery. 2.An arrogant beggar, and 3. A rich tyrant.” [Ahmed 2143, Nisai 2566]
ضعيف، المشکاة (1922) // ضعيف الجامع الصغير (2610) //
ضعيف، المشکاة (1922) // ضعيف الجامع الصغير (2610) //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2568
اس سند سے بھی ابوذر ؓ سے اسی جیسی حدیث مروی ہے۔
صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2568
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث صحیح ہے، ٢ - اسی طرح شیبان نے منصور کے واسطہ سے اسی جیسی حدیث روایت کی ہے، یہ ابوبکر بن عیاش کی حدیث سے زیادہ صحیح ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن النسائی/قیام اللیل ٧ (١٦١٦)، والزکاة ٧٥ (٢٥٧١) (تحفة الأشراف: ١٩١٣)، و مسند احمد (٥/١٥٣) (سند میں ” زید بن ظبیان “ لین الحدیث ہیں)
انظر ماقبلہ (ضعیف )
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: قریب ہے کہ دریائے فرات سونے کا خزانہ اگلے، لہٰذا (اس وقت) جو موجود ہو وہ اس میں سے کچھ بھی نہ لے ١ ؎۔
صحيح
صحيحصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2569
ابوہریرہ ؓ سے اس سند سے بھی نبی اکرم ﷺ سے اسی جیسی حدیث روایت کی ہے، مگر اس میں یہ فرق ہے کہ آپ نے فرمایا: سونے کا پہاڑ اگلے ۔
صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2570
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: اس لیے کہ یہ جھگڑا اور فتنہ و فساد کا ذریعہ بن جائے گا۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الفتن ٢٤ (٧١١٩)، صحیح مسلم/الفتن ٨ (٢٨٩٤)، سنن ابن ماجہ/الفتن ٢٥ (٤٠٤٥) (تحفة الأشراف: ١٢٢٦٣)، و مسند احمد (٢/٢٦١، ٣٣٢، ٣٦٠) (صحیح)
انظر ماقبلہ (تحفة الأشراف: ١٣٧٩٥) (صحیح )
معاویہ بن حیدہ قشیری ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جنت میں پانی کا سمندر ہے، شہد کا سمندر ہے، دودھ کا سمندر ہے اور شراب کا سمندر ہے، پھر اس کے بعد چھوٹی چھوٹی نہریں نکلتی ہیں ۔
انس بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو اللہ تعالیٰ سے تین بار جنت مانگتا ہے تو جنت کہتی ہے: اے اللہ! اسے جنت میں داخل کر دے، اور جو تین مرتبہ جہنم سے پناہ مانگتا ہے تو جہنم کہتی ہے: اے اللہ اس کو جہنم سے نجات دے ۔
١ - یہ حدیث اسی طرح «يونس بن أبي إسحق عن أبي إسحق عن بريد بن أبي مريم عن أنس عن النبي صلی اللہ عليه وسلم» کی سند سے مروی ہے، ٢ - یہ حدیث «عن أبي إسحق عن بريد بن أبي مريم عن أنس بن مالک» کی سند سے موقوفاً بھی مروی ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن النسائی/الاستعاذة ٥٦ (٥٥٢٣)، سنن ابن ماجہ/الزہد ٣٩ (٤٣٤٠) (تحفة الأشراف: ٢٤٣)، و مسند احمد (٣/٢٠٨) (صحیح )
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ سے اسی جیسی حدیث مروی ہے، اور اسے ( ابوالاحوص نے ) مرفوع نہیں کیا، یہ عبیدہ بن حمید کی روایت سے زیادہ صحیح ہے۔ اسی طرح جریر اور کئی لوگوں نے عطاء بن سائب سے اسے غیر مرفوع روایت کی ہے۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”قیامت کے دن جہنم اس طرح لائی جائے گی کہ اس کی ستر ہزار لگام ہوں گی اور ہر لگام کے ساتھ ستر ہزار فرشتے اسے کھینچ رہے ہوں گے“۔ عبداللہ بن عبدالرحمٰن دارمی کہتے ہیں: ثوری نے اسے مرفوع نہیں کیا ہے۔
Abdullah bin Mas'ud narrated that the Messenger of Allah (s.a.w) said: Hell will be brought forth on that Day (of Resurrection) having seventy thousand bridles, and with every handle will be seventy thousand angels dragging it' .