عبداللہ بن عمرو ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے ان سے فرمایا: چالیس دن میں قرآن پورا پڑھ لیا کرو ۔
Sayyidina Abdullah ibn Amr (RA) reported that the Prophet ﷺ commanded him, “Recite the Qur’an in forty days.” [Abu Dawud 1395]
صحيح، صحيح أبي داود (1261)، الصحيحة (1512)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2947
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن غریب ہے، ٢ - بعضوں نے معمر سے، اور معمر نے سماک بن فضل کے واسطہ سے وہب بن منہہ سے روایت کی ہے، کہ نبی اکرم ﷺ نے عبداللہ بن عمرو ؓ کو حکم دیا کہ وہ قرآن چالیس دن میں پڑھا کریں۔
عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کون سا عمل اللہ کو زیادہ پسند ہے؟ آپ نے فرمایا: «الحال» اور «المرتحل» (اترنے اور کوچ کرنے والا) عمل۔ اس نے کہا: «الحال» اور «المرتحل» (اترنے اور کوچ کرنے والا) سے کیا مراد ہے؟ آپ نے فرمایا: جو قرآن شروع سے لے کر آخر تک پڑھتا ہے، جب بھی وہ اترتا ہے کوچ کردیتا ہے ١ ؎۔
Sayyidina Ibn Abbas (RA) reported that a man asked, “O Messenger of Allah ﷺ which deed is dearest to Allah.” He said, “That as you complete one reading, you begin the next.”
ضعيف الإسناد
ضعيف الإسنادصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2948
مجھ سے بیان کیا محمد بن بشار نے، وہ کہتے ہیں: بیان کیا مجھ سے مسلم بن ابراہیم نے، وہ کہتے ہیں: بیان کیا مجھ سے صالح مری نے قتادہ کے واسطہ سے اور قتادہ نے زرارہ بن اوفی کے واسطہ سے نبی ﷺ اسی جیسی اسی معنی کی حدیث روایت کی، لیکن اس میں ابن عباس سے روایت کا ذکر نہیں کیا۔
صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2948
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث غریب ہے، ٢ - ہم اسے صرف ابن عباس ؓ کی اس روایت سے جانتے ہیں جو اس سند سے آئی ہے اور اس کی سند زیادہ قوی نہیں ہے۔
یہ روایت میرے نزدیک نضر بن علی کی اس روایت سے جسے وہ ہیثم بن ربیع سے روایت کرتے ہیں (یعنی: پہلی سند سے) زیادہ صحیح ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: مفہوم یہ ہے جو قاری مسافر کے مثل اپنی منزل تک پہنچ کر پھر نئے سرے سے سفر کا آغاز کردیتا ہے۔ یعنی ایک بار قرآن ختم کرے دوبارہ شروع کردیتا ہے اس کا عمل اللہ کو زیادہ پسند ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: ٥٤٢٩) (ضعیف الإسناد) (سند میں صالح المری ضعیف راوی ہیں)
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: ١٨٦٥٣) (ضعیف) (سند ارسال کی وجہ سے ضعیف ہے، اس لیے کہ زرارہ تابعی ہیں، اور انہوں نے روایت میں واسطہ نہیں ذکر کیا ہے )
عبداللہ بن عمرو ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: اس نے قرآن سمجھا ہی نہیں جس نے تین دن سے کم مدت میں قرآن ختم کر ڈالا ۔
Sayyidina Abdullah ibn Amr (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “He has not understood it who recites the Qur’an in less than three (days)” [Abu Dawud 394]
صحيح، صحيح أبي داود (1260)، المشکاة (2201)، الصحيحة (1513)
صحيح، صحيح أبي داود (1260)، المشکاة (2201)، الصحيحة (1513)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2949
بیان کیا مجھ سے محمد بن بشار نے، وہ کہتے ہیں: بیان کیا مجھ سے محمد بن جعفر نے، وہ کہتے ہیں: مجھ سے شعبہ نے اس سند سے اسی جیسی حدیث بیان کی۔
صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2949
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/ الصلاة ٣٢٦ (١٣٩٤)، سنن ابن ماجہ/الإقامة ١٧٨ (١٣٤٧) (تحفة الأشراف: ٨٩٥٠)، و مسند احمد (٢/١٤٦، ١٨٩) (صحیح)
انظر ما قبلہ (صحیح )