Sunan At-Tirmidhi 1479

شکار کا بیان

1479Sunan At-Tirmidhi

ذی ناب (کچلی والا درندہ) اور ذی مخلب (پنجے سے شکار کرنے والا پرندہ) کی حرمت کے بارے میں۔

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: حَرَّمَ كُلَّ ذِي نَابٍ مِنَ السِّبَاعِ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ، وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَكْثَرِ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَغَيْرِهِمْ، وَهُوَ قَوْلُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُبَارَكِ، وَالشَّافِعِيِّ، وَأَحْمَدَ، وَإِسْحَاق.

ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ہر کچلی دانت والے درندے کو حرام قرار دیا۔

Sayyidina Abu Hurayrah reported that the Prophet ﷺ forbade every beast with a fang (which hunted with its teeth, like a lion or a dog). [Muslim 1933]

حسن صحيح، ابن ماجة (3233)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1479
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن ہے، ٢ - صحابہ کرام اور دیگر لوگوں میں سے اکثر اہل علم کا اسی پر عمل ہے، عبداللہ بن مبارک، شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا بھی یہی قول ہے ١ ؎۔
Notes · وضاحت
١ ؎: سورة الانعام کی آیت «قل لا أجد في ما أوحي إلي محرما علی طاعم يطعمه إلا أن يكون ميتة أو دما مسفوحا أو لحم خنزير فإنه رجس أو فسقا أهل لغير اللہ به» (الأنعام: ١٤٥ ) کے عام مفہوم سے یہ استدلال کرنا کہ ہر کچلی دانت والے درندے اور پنجہ والے پرندے حلال ہیں درست نہیں کیونکہ باب کی یہ حدیث اور سورة المائدہ کی آیت «وما أكل السبع إلا ما ذكيتم» (المائدة: ٣ ) سورة الانعام کی مذکورہ آیت کے لیے مخص ہے نیز سورة المائدہ کی آیت مدنی ہے جب کہ سورة الانعام کی آیت مکی ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف وانظر: سنن ابن ماجہ/الصید ١٣ (٣٢٣٣)، (تحفة الأشراف: ١٥٠٤٦)، و مسند احمد (٢/٣٣٦، ٣٦٦، ٤٤٨) (صحیح )