Sunan At-Tirmidhi 1469

شکار کا بیان

1469Sunan At-Tirmidhi

جو شخص تیر لگنے کے بعد شکار کو پانی میں پائے۔

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، أَخْبَرَنِي عَاصِمٌ الْأَحْوَلُ، عَنْ الشَّعْبِيِّ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ، قَالَ: سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الصَّيْدِ، فَقَالَ: إِذَا رَمَيْتَ بِسَهْمِكَ فَاذْكُرِ اسْمَ اللَّهِ، فَإِنْ وَجَدْتَهُ قَدْ قُتِلَ فَكُلْ، إِلَّا أَنْ تَجِدَهُ قَدْ وَقَعَ فِي مَاءٍ، فَلَا تَأْكُلْ، فَإِنَّكَ لَا تَدْرِي الْمَاءُ قَتَلَهُ أَوْ سَهْمُكَ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.

عدی بن حاتم ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے شکار کے متعلق پوچھا تو آپ نے فرمایا: تم اپنا تیر پھینکتے وقت اس پر اللہ کا نام (یعنی بسم اللہ) پڑھو، پھر اگر اسے مرا ہوا پاؤ تو بھی کھالو، سوائے اس کے کہ اسے پانی میں گرا ہوا پاؤ تو نہ کھاؤ اس لیے کہ تمہیں نہیں معلوم کہ پانی نے اسے مارا ہے یا تمہارے تیر نے ١ ؎۔

Sayyidina Adi Ibn Hatim reported that he asked Allah’s Messenger ﷺ about game. He said, “When you throw the arrow, mention the name of Allah. If you find it killed, eat it unless you find it dead in water, for you cannot say if the water brought its death or your arrow.’ [Bukhari 5414, Muslim 1929]

صحيح، صحيح أبي داود (2540)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1469
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: اگر تیر کی مار کھانے کے بعد یہ شکار تیر کے سبب پانی میں گرا ہو پھر شکاری نے اسے پکڑ لیا ہو تو یہ حلال ہے، کیونکہ اب اس کا شبہ نہیں رہا کہ وہ پانی میں ڈوب کر مرا ہے۔
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم ١٤٦٥ (تحفة الأشراف: ٩٨٦٢) (صحیح )