بندھے ہوئے جانور پر تیر چلا کر ہلاک کرنے کے بعد اسے کھانا منع ہے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنْ الثَّوْرِيِّ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُتَّخَذَ شَيْءٌ فِيهِ الرُّوحُ غَرَضًا ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَالْعَمَلُ عَلَيْهِ عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ.
عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے کسی جاندار کو نشانہ بنانے سے منع فرمایا ہے۔
Sayyidina Ibn Abbas (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ forbade taking of a living animal as target (shooting). [Ibn e Majah 3187, Ahmed 1863]
صحيح، ابن ماجة (3187)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1475
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - اہل علم کا اسی پر عمل ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الصید ٢ (١٩٥٧)، سنن النسائی/الضحایا ٤١ (٤٤٤٨)، سنن ابن ماجہ/الذبائح ١٠ (٣١٨٧)، (تحفة الأشراف: ٦١١٢)، و مسند احمد (١/٢١٦، ٢٧٣، ٢٨٠، ٢٨٥، ٣٤٠، ٣٤٥) (صحیح) (مؤلف اور ابن ماجہ کی سند میں سماک و عکرمہ کی وجہ سے کلام ہے، دیگر کی سندیں صحیح ہیں )