Sunan At-Tirmidhi 1476

شکار کا بیان

1476Sunan At-Tirmidhi

(جنین) جانور کے پیٹ کے بچے کو ذبح کرنا

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ مُجَالِدٍ. ح قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ وَكِيعٍ، حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ، عَنْ مُجَالِدٍ، عَنْ أَبِي الْوَدَّاكِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ذَكَاةُ الْجَنِينِ ذَكَاةُ أُمِّهِ ، قَالَ: وَفِي الْبَاب، عَنْ جَابِرٍ، وَأَبِي أُمَامَةَ، وَأَبِي الدَّرْدَاءِ، وَأَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَقَدْ رُوِيَ مِنْ غَيْرِ هَذَا الْوَجْهِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ، مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَغَيْرِهِمْ، وَهُوَ قَوْلُ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ، وَابْنِ الْمُبَارَكِ، وَالشَّافِعِيِّ، وَأَحْمَدَ، وَإِسْحَاق، وَأَبُو الْوَدَّاكِ اسْمُهُ: جَبْرُ بْنُ نَوْفٍ.

ابو سعید خدری ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جنین ١ ؎ کی ماں کا ذبح ہی جنین کے ذبح کے لیے کافی ہے ٢ ؎۔

Sayyidina Abu Sa’eed (RA) reported that the Prophet ﷺ said, ‘Slaughter of an unborn (in its mother’s womb) is included in its mother’s slaughter.’ [Abu Dawud 2828. Ibn e Majah 3199, Ahmed 12260]

صحيح، ابن ماجة (3199)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1476
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - اور یہ اس سند کے علاوہ سے بھی ابو سعید خدری سے ہے، ٣ - اس باب میں جابر، ابوامامہ، ابو الدرداء، اور ابوہریرہ ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں، ٤ - صحابہ کرام اور ان کے علاوہ لوگوں میں سے اہل علم کا اسی پر عمل ہے، اور یہی سفیان ثوری، ابن مبارک، شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا بھی قول ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: بچہ جب تک ماں کی پیٹ میں رہے اسے جنین کہا جاتا ہے۔ ٢ ؎: یعنی جب کسی جانور کو ذبح کیا جائے پھر اس کے پیٹ سے بچہ (مردہ) نکلے تو اس بچے کو ذبح کرنے کی ضرورت نہیں، کیونکہ بچہ مادہ جانور کے جسم کا ایک حصہ ہے، لہٰذا اسے ذبح نہیں کیا جائے گا، البتہ زندہ نکلنے کی صورت میں وہ بچہ ذبح کے بعد ہی حلال ہوگا۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/ الضحایا ١٨ (٢٨٢٧)، سنن ابن ماجہ/الذبائح ١٥ (٣١٩٩)، و مسند احمد (٣/٣١، ٥٣)، (تحفة الأشراف: ٣٩٨٦) (صحیح) (متابعات وشواہد کی بنا پر یہ حدیث صحیح ہے، ورنہ اس کے راوی ” مجالد “ ضعیف ہیں، دیکھئے: الارواء رقم ٢٥٣٩ )