Sunan At-Tirmidhi 2939

قرأت کا بیان

2939Sunan At-Tirmidhi

قرائت کے متعلق رسول اللہ ﷺ سے منقول احادیث کے ابواب

حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، قَالَ: قَدِمْنَا الشَّامَ فَأَتَانَا أَبُو الدَّرْدَاءِ، فَقَالَ: أَفِيكُمْ أَحَدٌ يَقْرَأُ عَلَيَّ قِرَاءَةَ عَبْدِ اللَّهِ ؟ قَالَ: فَأَشَارُوا إِلَيَّ، فَقُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: كَيْفَ سَمِعْتَ عَبْدَ اللَّهِ يَقْرَأُ هَذِهِ الْآيَةَ وَاللَّيْلِ إِذَا يَغْشَى سورة الليل آية 1 ؟ قَالَ: قُلْتُ: سَمِعْتُهُ يَقْرَؤُهَا وَاللَّيْلِ إِذَا يَغْشَى وَالذَّكَرِ وَالْأُنْثَى، فَقَالأَبُو الدَّرْدَاءِ: وَأَنَا وَاللَّهِ هَكَذَا سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَؤُهَا، وَهَؤُلَاءِ يُرِيدُونَنِي أَنْ أَقْرَأَهَا وَمَا خَلَقَ سورة الليل آية 3 فَلَا أُتَابِعُهُمْ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَهَكَذَا قِرَاءَةُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ 0 وَاللَّيْلِ إِذَا يَغْشَى وَالنَّهَارِ إِذَا تَجَلَّى وَالذَّكَرِ وَالْأُنْثَى 0.

علقمہ کہتے ہیں کہ ہم شام پہنچے تو ابوالدرواء ؓ ہمارے پاس آئے اور کہا: کیا تم میں کوئی شخص ایسا ہے جو عبداللہ بن مسعود کی قرأت کی طرح پر قرأت کرتا ہو؟ تو لوگوں نے میری طرف اشارہ کیا، میں نے کہا: ہاں، انہوں نے کہا: تم نے یہ آیت «والليل إذا يغشی» عبداللہ بن مسعود کو کیسے پڑھتے ہوئے سنا ہے؟ میں نے کہا: میں نے انہیں «والليل إذا يغشی والذکر والأنثی» ١ ؎ پڑھتے ہوئے سنا ہے۔ ابو الدرداء نے کہا: اور میں، قسم اللہ کی، میں نے بھی رسول اللہ ﷺ کو ایسا ہی پڑھتے ہوئے سنا ہے، اور یہ لوگ چاہتے ہیں کہ میں اسے «وما خلق» پڑھوں (یعنی «وما خلق والذکر والأنثی» ) تو میں ان کی بات نہ مانوں گا۔

Alqamah narrated : We went to Syria. Abu Darda visited us and asked, “Is there anyone among you wo recites as per the recital of Abdullah (Ibn Mas’ud (RA). The others pointed me out and I said, ‘Yes. So, he asked, “ How did you hear Abdullah recite this verse; ‘wal layli iza yaghsha’ ?, I said, “I heard him recite:

صحيحصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2939
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - عبداللہ بن مسعود کی قرأت بھی اسی طرح ہے: «والليل إذا يغشی والنهار إذا تجلی والذکر والأنثی »
Notes · وضاحت
١ ؎: مشہور قراءت ہے «والليل إذا يغشی والنهار إذا تجلی وما خلق الذکر والأنثی» حدیث میں مذکور قراءت اس میں مذکور اشخاص ہی کی ہے، ان کے علاوہ اور کسی بھی قاری سے یہ منقول نہیں ہے، عثمان ؓ کے قراءت شاید اس کے منسوخ ہوجانے کی خبر پہنچی ہو جو ان مذکورہ اشخاص تک نہیں پہنچی ہو۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/تفسیر سورة اللیل ١ (٤٩٤٤)، صحیح مسلم/المسافرین ٥٠ (٨٢٤) (تحفة الأشراف: ١٠٩٥٥) (صحیح )