Sunan At-Tirmidhi 2941

قرأت کا بیان

2941Sunan At-Tirmidhi

قرائت کے متعلق رسول اللہ ﷺ سے منقول احادیث کے ابواب

حَدَّثَنَا أَبُو زُرْعَةَ، وَالْفَضْلُ بْنُ أَبِي طَالِبٍ، وَغَيْرُ وَاحِدٍ، قَالُوا: حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ بِشْرٍ، عَنِ الْحَكَمِ بْنِ عَبْدِ الْمَلِكِ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: قَرَأَ وَتَرَى النَّاسَ سُكَارَى وَمَا هُمْ بِسُكَارَى سورة الحج آية 2 ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ، وَلَا نَعْرِفُ لِقَتَادَةَ سَمَاعًا مِنْ أَحَدٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَّا مِنْ أَنَسٍ، وَأَبِي الطُّفَيْلِ، وَهَذَا عِنْدِي حَدِيثٌ مُخْتَصَرٌ، إِنَّمَا يُرْوَى عَنْ قَتَادَةَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، قَالَ: كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي السَّفَرٍ فَقَرَأَ يَأَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوا رَبَّكُمْ سورة الحج آية 1 ، الْحَدِيثَ بِطُولِهِ، وَحَدِيثُ الْحَكَمِ بْنِ عَبْدِ الْمَلِكِ عِنْدِي مُخْتَصَرٌ مِنْ هَذَا الْحَدِيثِ.

عمران بن حصین ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے پڑھا: «وتری الناس سکاری وما هم بسکاری» ١ ؎۔

Sayyidina Imran ibn Husayn (RA) reported that the Prophet ﷺ recited the verse 22:2 (of surah al-Hajj) thus: { وَتَرَى النَّاسَ سُكَارَى وَمَا هُمْ بِسُكَارَى } [Bukhari 4741]

صحيحصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2941
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن ہے، ٢ - قتادہ صحابہ میں سے انس ابوطفیل کے علاوہ کسی اور صحابی سے ہم سماع نہیں جانتے، ٣ - یہ روایت میرے نزدیک مختصر ہے۔ پوری روایت اس طرح ہے: روایت کی گئی قتادہ سے، قتادہ نے روایت کی حسن بصری سے، اور حسن بصری نے روایت کی عمران بن حصین سے، ہم نبی ﷺ کے ساتھ سفر میں تھے تو آپ نے آیت «يا أيها الناس اتقوا ربکم» ٢ ؎ پڑھی، (آگے) پوری حدیث بیان کی، ٤ - حکم بن عبدالملک کی حدیث میرے نزدیک اس حدیث سے مختصر ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: یہی مشہور قراءت ہے، جس کے معنی ہیں: اور تو دیکھے گا کہ لوگ مدہوش اور بدمست دکھائی دیں گے، حالانکہ درحقیقت وہ متوالے نہ ہوں گے، لیکن اللہ کا عذاب بڑا ہی سخت ہے، بعض اور قاریوں نے اسے «سَکْرَی» پڑھا ہے۔ ٢ ؎: الحج: ١ ۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: ١٠٨٣٧) (صحیح )