Sunan At-Tirmidhi 2944

قرأت کا بیان

2944Sunan At-Tirmidhi

اس بارے میں قرآن سات قراءتوں پر نازل ہوا

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُوسَى، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ، عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ، قَالَ: لَقِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جِبْرِيلَ فَقَالَ: يَا جِبْرِيلُ، إِنِّي بُعِثْتُ إِلَى أُمَّةٍ أُمِّيِّينَ، مِنْهُمُ الْعَجُوزُ وَالشَّيْخُ الْكَبِيرُ، وَالْغُلَامُ وَالْجَارِيَةُ وَالرَّجُلُ الَّذِي لَمْ يَقْرَأْ كِتَابًا قَطُّ، قَالَ: يَا مُحَمَّدُ، إِنَّ الْقُرْآنَ أُنْزِلَ عَلَى سَبْعَةِ أَحْرُفٍ وَفِي الْبَابِ، عَنْ عُمَرَ، وَحُذَيْفَةَ بْنِ الْيَمَانِ، وَأَبِي هُرَيْرَةَ، وَأُمِّ أَيُّوبَ وَهِيَ امْرَأَةُ أَبِي أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيِّ، وَسَمُرَةَ، وَابْنِ عَبَّاسٍ، وَأَبِي جُهَيْمِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ الصِّمَّةِ، وَعَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، وَأَبِي بَكْرَةَ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَقَدْ رُوِيَ عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ.

ابی بن کعب ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ جبرائیل (علیہ السلام) سے ملے۔ آپ نے فرمایا: جبرائیل! میں ایک امی (ان پڑھ) قوم کے پاس نبی بنا کر بھیجا گیا ہوں، ان میں بوڑھی عورتیں اور بوڑھے مرد ہیں، لڑکے اور لڑکیاں ہیں، ان میں ایسے لوگ بھی ہیں جنہوں نے کبھی کوئی کتاب پڑھی ہی نہیں ہے تو جبرائیل (علیہ السلام) نے کہا: محمد! قرآن سات حرفوں پر نازل ہوا ہے۔

Sayyidina Ubayy ibn Ka’b (RA) reported that when Allah’s Messenger ﷺ met Jibril he said, “O Jibril, I am sent to a ummah who are unlettered. They include old women, old men, young boys, young girls and men who have never read a book.” He said, “ O Muhammad ﷺ , the Quran is revealed in seven readings.” [Ahmed 23507]

حسن صحيح، صحيح أبي داود (1328)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2944
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - اس باب میں عمر، حذیفہ بن یمان، ابوہریرہ، اور ام ایوب ؓ ام ایوب (ابوایوب انصاری کی بیوی) ۔ اور سمرہ، ابن عباس، ابوجہیم بن حارث بن صمہ، عمرو بن العاص اور ابوبکرہ ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں، ٣ - ابی بن کعب سے یہ حدیث متعدد سندوں سے مروی ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: ٢٠)، وانظر: مسند احمد (٥/١١٤، ١٢٢، ١٢٥) (حسن صحیح )