١ - یہ حدیث اس سند سے حسن صحیح غریب ہے، ٢ - اس باب میں جابر ؓ سے بھی روایت ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی میری امت کے جو اہل کبائر ہوں گے اور جو اپنے گناہوں کی سزا جہنم میں بھگت رہے ہوں گے، ایسے لوگوں کی بخشش کے لیے میری مخصوص شفاعت ہوگی، باقی رفع درجات کے لیے انبیاء، اولیاء، اور دیگر متقی و پرہیزگار لوگوں کی شفاعت بھی ہوگی جو سنی جائے گی۔
جابر بن عبداللہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: میری شفاعت میری امت کے کبیرہ گناہ والوں کے لیے ہوگی ۔ محمد بن علی الباقر کہتے ہیں: مجھ سے جابر ؓ نے کہا: محمد! جو اہل کبائر میں سے نہ ہوں گے انہیں شفاعت سے کیا تعلق؟
Sayyidina Jabir ibn Abdullah (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “My intercession is for the perpetrators of the major sins form my ummah.” Muhammad ibn Ali said that Jabir said to him, ““ O Muhammad ﷺ as for those who are not perpetrators of grave sins , how are they concerned with intercession?” [Ibn e Majah 4310]
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث جعفر الصادق بن محمد الباقر کی روایت سے حسن غریب ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/الزہد ٣٧ (٤٣١٠) (تحفة الأشراف: ٢٦٠٨)، و مسند احمد (٣/٢١٣) (صحیح )
ابوامامہ ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: میرے رب نے مجھ سے وعدہ فرمایا ہے کہ وہ میری امت میں سے ستر ہزار لوگوں کو جنت میں داخل کرے گا، نہ ان کا حساب ہوگا اور نہ ان پر کوئی عذاب، (پھر) ہر ہزار کے ساتھ ستر ہزار ہوں گے، اور ان کے سوا میرے رب کی مٹھیوں میں سے تین مٹھیوں کے برابر بھی ہوں گے ۔
Sayyidina Abu Umamah i reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “My Lord promised me that He would admit seventy thousand of my ummah to Paradise without reckoning or punishment, again, with every thousand he will admit seventy thousand and three handfuls of my Lord.” [Ahmed 2281, Ibn e Majah 4286]
صحيح، ابن ماجة (4286)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2437
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن غریب ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/الزہد ٣٤ (٤٢٨٦) (تحفة الأشراف: ٤٩٢٤)، و مسند احمد (٥/٢٥٠، ٢٦٨) (صحیح )
عبداللہ بن شقیق کہتے ہیں کہ میں ایلیاء میں ایک جماعت کے ساتھ تھا، ان میں سے ایک آدمی نے کہا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ہے: میری امت کے ایک فرد کی شفاعت سے قبیلہ بنی تمیم کی تعداد سے بھی زیادہ لوگ جنت میں داخل ہوں گے ، کسی نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا وہ شخص آپ کے علاوہ ہوگا؟ آپ نے فرمایا: ہاں، میرے علاوہ ہوگا ، پھر جب وہ (راوی حدیث) کھڑے ہوئے تو میں نے پوچھا: یہ کون ہیں؟ لوگوں نے کہا یہ ابن ابی جذعاء ؓ ہیں۔
Abdullah ibn Shaqiq (RA) narrated: I was among a group of people at Eeliya. A man of them said that he had heard Allah’s Messenger say, “More people than the numbers of Banu Tarnim will be admitted to Paradise on the intercession of a man of my ummah.” It was asked, “O Messenger of Allah, (a man) other than you?” He confirmed, “Someone other than me.” When the man (who had narrated the hadith stood up) , Abdullah asked, “Who is he?” The people said, “He is Ibn Abu Jaz’a.” [Ahmed 15857, Ibn e Majah 4316]
صحيح، ابن ماجة (4316)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2438
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے، ٢ - ابن ابی جذعاء ؓ کا نام عبداللہ ہے، ان سے صرف یہی ایک حدیث مشہور ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/الزہد ٣٧ (٤٣١٦) (تحفة الأشراف: ٥٢١٢) (صحیح )
ابو سعید خدری ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: میری امت کا کوئی شخص کئی جماعت کے لیے شفاعت کرے گا، کوئی ایک قبیلہ کے لیے شفاعت کرے گا، کوئی ایک گروہ کے لیے شفاعت کرے گا، اور کوئی ایک آدمی کے لیے شفاعت کرے گا، یہاں تک کہ سب جنت میں داخل ہوں جائیں گے ۔
Sayyidina Abu Sa’eed reported that Allah’s Messenger said, “There will be from my ummah such as will intercede for many groups of people, such of them as will intercede for a tribe, such of them as will intercede for a clan (between ten and forty members) such of them as will intercede for just one man till they enter Paradise.”
ضعيف، المشکاة (5602) // ضعيف الجامع الصغير (2002) //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2440
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: ٤١٩٧) (ضعیف) (سند میں ” عطیہ عوفی “ ضعیف ہیں )
عوف بن مالک اشجعی ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: میرے رب کی طرف سے ایک آنے والا (جبرائیل علیہ السلام) میرے پاس آیا اور مجھے اختیار دیا کہ میری آدھی امت جنت میں داخل ہو یا یہ کہ مجھے شفاعت کا حق حاصل ہو، چناچہ میں نے شفاعت کو اختیار کیا، یہ شفاعت ہر اس شخص کے لیے ہے جس کا خاتمہ شرک کی حالت پر نہیں ہوگا ۔
Sayyidina Awf ibn Maalik Ashja’i (RA) narrated: Allah’s Messenger ﷺ said, “There came to me one sent by my Lord. He gave me a choice between admittance of half of my ummah to Paradise and intercession. So I chose to make intercession and that will be for those die without having associated with Allah anything.” [Ahmed 24057]
صحيح، ابن ماجة (4317)
صحيح، ابن ماجة (4317)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2441
اس سند سے بھی عوف بن مالک ؓ سے اسی جیسی حدیث مروی ہے (اسی میں قصہ ہے) ۔
صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2441
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث ابوملیح نے ایک اور صحابی سے روایت کی ہے اور انہوں نے نبی اکرم ﷺ سے روایت کی ہے، (لیکن) اس میں عوف بن مالک کا ذکر نہیں کیا، اس حدیث میں ایک طویل قصہ مذکور ہے۔
انس بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: بیشک میرے حوض پر آسمان کے تاروں کی تعداد کے برابر پیالے ہیں ۔
Anas ibn Maalik (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “In my pond there with be pitchers numerous as the stars in heaven.” [Ahmed 13352, Bukhari 5680, Muslim 2303]
صحيح، ابن ماجة (4304)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2442
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث اس سند سے حسن صحیح غریب ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الرقاق ٥٣ (٦٥٨٠)، صحیح مسلم/الفضائل ٩ (٢٣٠٣)، سنن ابن ماجہ/الزہد ٣٦ (٤٣٠٥) (تحفة الأشراف: ١٥٠٣)، و مسند احمد (٣/٢٢٥، ٢٣٨) (صحیح )
سمرہ بن جندب ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: قیامت کے روز ہر نبی کے لیے ایک حوض ہوگا، اور وہ آپس میں ایک دوسرے پر فخر کریں گے کہ کس کے حوض پر پانی پینے والے زیادہ جمع ہوتے ہیں، اور مجھے امید ہے کہ میرے حوض پر (اللہ کے فضل سے) سب سے زیادہ لوگ جمع ہوں گے ۔
Sayyidina Samurah (RA) reported that Allah’s Messenger said, “There is for every prophet pond and they will vie with each other on who has the most people coming to it. I will have the largest number of those who come (to my pond) .” --------------------------------------------------------------------------------
صحيح تخريج الطحاية (197)، المشکاة (5594)، الصحيحة (1589)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2443
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث غریب ہے، ٢ - اشعث بن عبدالملک نے اس حدیث کو حسن بصری کے واسطے نبی اکرم ﷺ سے مرسلاً روایت کیا ہے اور اس میں سمرہ کا ذکر نہیں کیا ہے، یہ روایت زیادہ صحیح ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: ٤٦٠٣) (صحیح) (سند میں سعید بن بشیر ضعیف راوی ہیں، اور حسن بصری مدلس، لیکن متابعات و شواہد کی بنا پر یہ حدیث صحیح لغیرہ ہے، تفصیل کے لیے دیکھیے: الصحیحة رقم: ١٥٨٩ )
ابو سلام حبشی کہتے ہیں کہ عمر بن عبدالعزیز نے میرے پاس بلاوے کا پیغام بھیجا، چناچہ میں ڈاک سواری خچر پر سوار ہو کر آپ کے پاس پہنچا، میں نے کہا: اے امیر المؤمنین! ڈاک سواری خچر کی سواری مجھ پر شاق گزری تو انہوں نے کہا: ابو سلام! میں تمہیں تکلیف دینا نہیں چاہتا تھا، لیکن میں نے تمہارے بارے میں یہ سنا ہے کہ تم ثوبان ؓ کے واسطے سے نبی اکرم ﷺ سے حوض کوثر کے بارے میں ایک حدیث روایت کرتے ہو، چناچہ میری یہ خواہش ہوئی کہ وہ حدیث تم سے براہ راست سن لوں، ابو سلام نے کہا: ثوبان ؓ نے مجھ سے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: میرا حوض اتنا بڑا ہے جتنا عدن سے اردن والے عمان تک کا فاصلہ ہے، اس کا پانی دودھ سے زیادہ سفید اور شہد سے زیادہ میٹھا ہے، اس کے پیالے آسمان کے تاروں کی تعداد کے برابر ہیں، اس سے جو ایک مرتبہ پی لے گا کبھی پیاسا نہ ہوگا، سب سے پہلے اس پر فقراء مہاجرین پہنچیں گے، جن کے سر دھول سے اٹے ہوں گے اور ان کے کپڑے میلے کچیلے ہوں گے، جو ناز و نعم عورتوں سے نکاح نہیں کرسکتے اور نہ ان کے لیے جاہ و منزلت کے دروازے کھولے جاتے ۔ عمر بن عبدالعزیز نے کہا: لیکن میں نے تو ناز و نعم میں پلی عورتوں سے نکاح کیا اور میرے لیے جاہ و منزلت کے دروازے بھی کھولے گئے، میں نے فاطمہ بنت عبدالملک سے نکاح کیا، البتہ اتنی بات ضرور ہے کہ اپنے سر کو نہیں دھوتا یہاں تک کہ وہ غبار آلود نہ ہوجائے اور اپنے بدن کے کپڑے اس وقت تک نہیں دھوتا جب تک کہ میلے نہ ہوجائیں۔
Abu Sallam Hubshi narrated: Umar ibn Abdul Aziz sent for me and I mounted a mule (and went to him) . When I came to him, I said, “O Amir mu-Muminin, the ride was very tiring for me.” He said, ‘O Abu Sallam, I did not intend to tire you but, I have learnt of a hadith from you that you narrate on the authority of Thawban from the Prophet ﷺ about the pond. So, I would love that you enlighten me directly with it.’ So, I narrated to him: Thawban narrated to me that Allah’s Messenger said, “My pond is as the distance between Aden and Amman in Balqa. Its water is more white than milk and more sweet tham honey and its glasses (or cups) are as nunmerous as the stars in the heaven. He who drinks from it once will never again experience thirst. The first people to come to it will be the poor muhajirs with unkempt, disorderly head, dirty clothes, not married to delicate, sensitive women and for whom doors are not opened. Umar interjected, ‘But, I have married such a woman and doors are opened for me. I have married Fatimah bint Abdul Malik, and, of course, I do wash my head till it is ruffled and my clothes that are on my body till they are dirty.” [Ahmed 2289,M 23201]
صحيح المرفوع منه، ابن ماجة (4303) // صحيح سنن ابن ماجة برقم (3472)، ضعيف سنن ابن ماجة برقم (937)، الصحيحة (1082)، السنة لابن أبي عاصم (707 و 708) //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2444
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث اس سند سے غریب ہے، ٢ - یہ حدیث معدان بن ابی طلحہ کے واسطے سے «عن ثوبان عن النبي صلی اللہ عليه وسلم» کی سند سے بھی مروی ہے، ٣ - ابو سلام حبشی کا نام ممطور ہے، یہ شامی ہیں اور ثقہ راوی ہیں۔
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/الزہد ٣٦ (٤٣٠٣) (تحفة الأشراف: ٢١٢٩) (صحیح) (سند میں انقطاع ہے، لیکن متابعات و شواہد کی بنا پر اس کا مرفوع حصہ صحیح ہے، تفصیل کے لیے دیکھیے: الصحیحہ رقم: ١٠٨٢ )
ابوذر ؓ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! حوض کوثر کے برتن کیسے ہیں؟ آپ نے فرمایا: قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! یقیناً اس کے برتن تاروں سے بھی زیادہ ہیں اس تاریک رات میں جس میں آسمان سے بادل چھٹ گیا ہو، اور اس کے پیالے جنت کے برتنوں میں سے ہوں گے، اس سے جو ایک مرتبہ پی لے گا وہ کبھی پیاسا نہ ہوگا، اس کی چوڑائی اس کی لمبائی کے برابر ہے، اس کا فاصلہ اتنا ہے جتنا عمان سے ایلہ تک کا فاصلہ ہے۔ اس کا پانی دودھ سے زیادہ سفید اور شہد سے زیادہ میٹھا ہے ۔
Sayyidina Abu Dharr (RA) reported that he submitted, ‘O Messenger of Allah, what are the vessels of the pond?” He said, “By Him who has my soul in His hand, its vessels outnumber the stars of a dark night when there are no clouds. The vessels are of Paradise. He who drinks from them never feels thirsty. The last thing about it is that its breadth is like its length, the distance between Amman and Aylah. Its water is whiter that milk and sweeter than Honey” [Muslim 2301]
صحيح الظلال (721)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2445
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے، ٢ - اس باب میں حذیفہ بن یمان، عبداللہ بن عمرو، ابوبرزہ اسلمی، ابن عمر، حارثہ بن وہب اور مستورد بن شداد ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں، ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: میرے حوض کا فاصلہ اتنا ہے جتنا کوفہ سے حجر اسود تک کا فاصلہ ہے ۔
عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ جب نبی اکرم ﷺ معراج کے لیے تشریف لے گئے تو وہاں آپ کا ایک نبی اور کئی نبیوں کے پاس سے گزر ہوا، ان میں سے کسی نبی کے ساتھ ان کی پوری امت تھی، کسی کے ساتھ ایک جماعت تھی، کسی کے ساتھ کوئی نہ تھا، یہاں تک کہ آپ کا گزر ایک بڑے گروہ سے ہوا، تو آپ نے پوچھا یہ کون ہیں؟ کہا گیا: یہ موسیٰ اور ان کی قوم ہے، آپ اپنے سر کو بلند کیجئے اور دیکھئیے: تو یکایک میں نے ایک بہت بڑا گروہ دیکھا جس نے آسمان کے کناروں کو اس جانب سے اس جانب تک گھیر رکھا تھا، مجھ سے کہا گیا کہ یہ آپ کی امت ہے اور اس کے سوا آپ کی امت میں ستر ہزار اور ہیں جو جنت میں بغیر حساب کے داخل ہوں گے، پھر آپ ﷺ گھر میں تشریف لے گئے اور لوگ آپ سے اس کی بابت نہیں پوچھ سکے اور نہ ہی آپ نے ان کے سامنے اس کی تفسیر بیان کی، چناچہ ان میں سے بعض صحابہ نے کہا: شاید وہ ہم ہی لوگ ہوں اور بعض نے کہا: شاید ہماری وہ اولاد ہیں جو فطرت اسلام پر پیدا ہوئیں۔ لوگ گفتگو کر ہی رہے تھے کہ نبی اکرم ﷺ باہر نکل آئے اور فرمایا: یہ وہ لوگ ہوں گے جو نہ بدن پر داغ لگواتے ہیں اور نہ جھاڑ پھونک اور منتر کرواتے ہیں اور نہ ہی بدفالی لیتے ہیں، وہ صرف اپنے رب پر توکل و اعتماد کرتے ہیں ، اسی اثناء میں عکاشہ بن محصن ؓ نے کھڑے ہو کر عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا میں بھی انہیں میں سے ہوں؟ آپ نے فرمایا: ہاں ، (تم بھی انہی میں سے ہو) پھر ایک دوسرے شخص نے کھڑے ہو کر عرض کیا: کیا میں بھی انہیں میں سے ہوں؟ تو آپ نے فرمایا: عکاشہ نے تم پر سبقت حاصل کرلی ١ ؎۔
Sayyidina Ibn Abbas (RA) narrated: When the Prophet ﷺ was taken to the (heavens for the) mi’raj, he passed by a Prophet ﷺ and Prophets with whom were a group of people, a Propher and Prophets with whom was a raht, a Prophet ﷺ and Prophets with whom was nobody till he passed by a great multitude. He asked. “Who is this?” He was told, “Musa and his people, but raise your head and see.” He said, “I saw a great multitude that had plugged the horizon from this side barricaded the horizon from that side.” He was told, “These are you ummah and apart from these there are seventy thousand of your ummah who will enter paradise without any accounting.” Then he came (home) and they did not ask him and he did not explain to them. They said (to one another), “We are among them.” And some said, “they are the children born on nature and on Islam.’ The Prophet ﷺ came out and said, “They are those who do not have themselves cauterised or treated with incantation (charms) , or believe in omens, but on their Lord do they rely. Ukashah ibn Mihsan got up and said, “Am I one of them,O Messenger of , “Yes.” Then another came and asked, “Am I one of them?” He said, “Ukashah overtook you in that.” [Bukhari 5752, Muslim 220, Ahmed 2448] --------------------------------------------------------------------------------
صحيحصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2446
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - اس باب میں ابوہریرہ اور ابن مسعود ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: اس حدیث سے ان لوگوں کی فضیلت ثابت ہوتی ہے جو اللہ پر اعتماد، بھروسہ اور توکل کرتے ہیں، جھاڑ پھونک اور بدشگونی وغیرہ سے بھی بچتے ہیں باوجود یکہ مسنون دعاؤں کے ساتھ دم کرنا اور علاج معالجہ کرنا جائز ہے یہ اللہ رب العالمین پر اعتماد و توکل کی اعلی مثال ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/أحادیث الأنبیاء ٣١ (٣٤١٠)، والطب ١٧ (٥٧٠٥)، و ٤٢ (٥٧٥٢)، والرقاق ٢١ (٦٤٧٢)، و ٥٠ (٦٥٤١)، صحیح مسلم/الإیمان ٩٤ (٢٢٠) (تحفة الأشراف: ٥٤٩٣)، و مسند احمد (١/٢٧١) (صحیح )
انس بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ میں وہ چیزیں نہیں دیکھتا جن پر ہم نبی اکرم ﷺ کے زمانے میں عمل کرتے تھے، راوی حدیث ابوعمران جونی نے کہا: کیا آپ نماز نہیں دیکھتے؟ انس ؓ نے کہا: کیا تم لوگوں نے نماز میں وہ سب نہیں کیا جو تم جانتے ہو؟ ١ ؎۔
Sayyidina Anas ibn Maalik said, (RA) do not recognise anything on which we conducted ourselves in the times of Allah’s Messenger.’ So, I (the narrator) said, ‘What about salah?” He said, “Have you not introduced in you salah that which you know well?’
صحيحصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2447
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث ابوعمران جونی کی روایت سے غریب حسن ہے، ٢ - یہ حدیث انس کے واسطے سے اس کے علاوہ اور کئی سندوں سے مروی ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی نماز کی پابندی اور اس کے اوقات میں اسے ادا کرنا اس سلسلہ میں تم لوگوں نے سستی اور کاہلی نہیں برتی؟۔
اسماء بنت عمیس خثعمیہ ؓ کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا: برا ہے وہ بندہ جو تکبر کرے اور اترائے اور اللہ بزرگ و برتر کو بھول جائے، اور برا ہے وہ بندہ جو مظلوموں پر قہر ڈھائے اور ظلم و زیادتی کرے اور اللہ جبار برتر کو بھول جائے، اور برا ہے وہ بندہ جو لہو و لعب میں مشغول ہو اور قبروں اور ہڈیوں کے سڑ گل جانے کو بھول جائے، اور برا ہے وہ بندہ جو حد سے آگے بڑھ جائے اور سرکشی کا راستہ اپنائے اور اپنی پیدائش اور موت کو بھول جائے، اور برا ہے وہ بندہ جو دین کے بدلے دنیا کو طلب کرے، اور برا ہے وہ بندہ جو اپنے دین کو شبہات سے ملائے، اور برا ہے وہ بندہ جسے لالچ اپنی طرف کھینچ لے، اور برا ہے وہ بندہ جسے اس کا ہوائے نفسانی گمراہ کر دے اور برا ہے وہ بندہ جسے حرص ذلیل و رسوا کر دے۔
Sayyidah Asma bint Umays Khath’amiyah (RA) reported that Allah’s Messenger said, ‘How bad is the slave who imagines and is arrogant but forgets The Most Great and the Elevated. How bad is the slave who is oppressive and transgresses but forgets the Dominant, The Most High. How bad is the slave who is playful and careless but forgets the graves and decay and decomposition. How bad is the slave who is corrupt and exceeds the limits but forgets the beginning and the end. How bad is the slave who seeks worldly gains with religion! How bad is the slave who injects doubts in religion! How bad is the slave who is driven by greed! How bad is the slave who lets base desires mislead him! How bad is the slave whose passion debases him!”
ضعيف، المشکاة (5115 / التحقيق الثاني)، الضعيفة (2026)، الظلال (9 و 10) // ضعيف الجامع الصغير (2350) //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2448
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث غریب ہے، اسے ہم صرف اسی سند سے جانتے ہیں اور اس کی سند قوی نہیں ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: ١٥٧٥٥) (ضعیف) (سند میں ہاشم بن سعید الکوفی ضعیف راوی ہیں )
ابو سعید خدری ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو مومن بندہ کسی بھوکے مومن کو کھانا کھلائے گا اسے اللہ تعالیٰ قیامت کے روز جنت کے پھل کھلائے گا، اور جو مومن بندہ کسی پیاسے مومن کو پانی پلائے گا، قیامت کے روز اللہ تعالیٰ اسے «الرحيق المختوم» (مہر بند شراب) پلائے گا، اور جو مومن بندہ کسی ننگے بدن والے مومن کو کپڑا پہنائے گا اللہ تعالیٰ اسے جنت کے سبز جوڑے پہنائے گا ۔
Sayyidina Abu Sa’eed Khudri (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “If a believer feeds (another) believer when he is hungry then Allah will feed him on the Day of Resurrection from the fruit of Paradise. And, if a believer gives water to a believer when he is thirsty then Allah will give him to drink on the Day of Resurrection from rahiq ul-makhatum (sealded wine) . And, if a believer clothes another believer when he is without (sufficient) clothes then Allah will clothe him with green (garments) of Paradise.” [Ahmed 11101]
ضعيف، المشکاة (1913)، ضعيف أبي داود (300) // (371 / 1682) //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2449
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث غریب ہے، ٢ - یہ حدیث عطیہ کے واسطے سے ابو سعید خدری سے موقوفا مروی ہے، اور ہمارے نزدیک یہی سند سب سے زیادہ اقرب اور صحیح ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/ الزکاة ٤١ (١٦٨٢) (تحفة الأشراف: ٤٢٠١)، و مسند احمد (٣/١٣) (ضعیف) (سند میں عطیہ عوفی ضعیف ہیں، نیز زیاد بن منذر بقول ابن معین: کذاب ہے، اور ابوداود کی سند میں نبی ح لین الحدیث اور ابو خالد دالانی مدلس کثیر الخطأ ہیں )
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو دشمن کے حملہ سے ڈرا اور شروع رات ہی میں سفر میں نکل پڑا وہ منزل کو پہنچ گیا ١ ؎، آگاہ رہو! اللہ تعالیٰ کا سامان بڑی قیمت والا ہے، آگاہ رہو! اللہ تعالیٰ کا سامان جنت ہے ۔
Sayyidina Abu Hurairah (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “He who fears, sets out at night and he who sets out at night, attains the destination. Know that the merchandise of Allah is invaluable. Know that the merchandise of Allah is Paradise!”
صحيح، الصحيحة (954 و 2335)، المشکاة (5348 / التحقيق الثانی)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2450
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن، غریب ہے، اسے ہم صرف ابونضر ہی کی روایت سے جانتے ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: یہ ایک مثل ہے جو ان لوگوں کے لیے بیان کی گئی ہے جنہوں نے آخرت کے راستہ کو اپنا رکھا ہے، اور اس پر گامزن ہیں، کیونکہ شیطان ایسے لوگوں کے بہکانے کے لیے اپنے تمام ہتھکنڈے استعمال کرتا ہے، اس لیے اس راہ پر چلنے والے اگر شروع ہی سے بیدار رہے اور پورے اخلاص کے ساتھ عمل پر قائم رہے تو ایسے لوگ شیطان کے مکر اور اس کی چال سے محفوظ رہیں گے۔
عطیہ سعدی ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: بندہ متقیوں کے مقام کو نہیں پہنچ سکتا جب تک کہ وہ اس بات کو جس میں کوئی حرج نہ ہو، اس چیز سے بچنے کے لیے نہ چھوڑ دے، جس میں برائی ہے ۔
Sayyidina Atiyah Sa’di (RA) a companion of the Prophet ﷺ reported that the prophet said, “A slave will not make it to one of the God-fearing people till he abandons that which is not harmful so that he may be on guard against what is harmful.” [Ibn e Majah 4215]
ضعيف، ابن ماجة (4215) // ضعيف سنن ابن ماجة برقم (924)، غاية المرام (178)، ضعيف الجامع الصغير (6320) //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2451
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن غریب ہے، اسے ہم صرف اسی سند سے جانتے ہیں۔
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/الزہد ٢٤ (٤٢١٥) (تحفة الأشراف: ٩٩٠٢) (ضعیف) (سند میں عبد اللہ بن یزید دمشقی ضعیف راوی ہیں )
حنظلہ اسیدی ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اگر تمہاری وہی کیفیت رہے، جیسی میرے سامنے ہوتی ہے تو فرشتے اپنے پروں سے تم پر سایہ کریں ١ ؎۔
Sayyidina Hanzalah Usayidi (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “If you are always as you are when with me then, surely, the angels would shade you with their wings.’ [Muslim 2750, Ibn e Majah 4215, Ahmed 19067] --------------------------------------------------------------------------------
حسن صحيح، الصحيحة (1976)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2452
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث اس سند سے حسن غریب ہے، ٢ - یہ حدیث حنظلہ اسیدی کے واسطہ سے نبی اکرم ﷺ سے اس سند کے علاوہ دیگر سندوں سے بھی مروی ہے، ٣ - اس باب میں ابوہریرہ ؓ سے بھی روایت آئی ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ نیک لوگوں کی مجلس میں رہنے سے دلوں میں اللہ کا خوف پیدا ہوتا ہے، آخرت یاد آتی ہے، اور دنیا کی چاہت کم ہوجاتی ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/التوبة ٤ (٢٧٥٠) (نحوہ في سیاق طویل وکذا)، سنن ابن ماجہ/الزہد ٢٨ (٤٢٣٩) (تحفة الأشراف: ٣٤٤٨)، و مسند احمد (٤/٣٤٦)، ویأتي برقم ٢٥١٤) (حسن صحیح )
ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: ہر چیز کی ایک حرص و نشاط ہوتی ہے، اور ہر حرص و نشاط کی ایک کمزوری ہوتی ہے، تو اگر اس کا اپنانے والا معتدل مناسب رفتار چلا اور حق کے قریب ہوتا رہا تو اس کی بہتری کی امید رکھو، اور اگر اس کی طرف انگلیوں سے اشارہ کیا جائے تو اسے کچھ شمار میں نہ لاؤ ١ ؎۔
Sayyidina Abu Hurairah (RA) reported from the Prophet, “Indeed there is with everything a zeal (and greed) and for every zeal there is a weakness. Thus, if the concerned person checks himself and draws near truth then entertain good hope from him, but if he is pointed at with fingers then do not take him into account.”
یہ حدیث اس سند سے حسن صحیح غریب ہے۔ انس بن مالک سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: آدمی کے بگاڑ کے لیے اتنا ہی کافی ہے کہ اس کے دین یا دنیا کے بارے میں اس کی طرف انگلیاں اٹھائی جائیں، مگر جسے اللہ تعالیٰ محفوظ رکھے ۔
Notes · وضاحت
١ ؎: مفہوم یہ ہے کہ ہر کام میں شروع میں جوش و خروش ہوتا ہے، اور عبادت و ریاضت کا بھی یہی حال ہے، لہٰذا عابد و زاہد اگر اپنے عمل میں معتدل رہا اور افراط و تفریط سے بچ کر حق سے قریب رہا تو اس کے لیے خیر کی امید ہے، اور اس کی عبادت کا چرچا ہوا تو شہرت کی وجہ سے اس کے فتنہ میں پڑنے کا خطرہ ہے، معلوم ہوا کہ اعتدال کی راہ سلامتی کی راہ ہے اور شہرت کا انجام حسرت و ندامت ہے۔
عبداللہ بن مسعود ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک مربع خط (یعنی چوکور) لکیر کھینچی اور ایک لکیر درمیان میں اس سے باہر نکلتا ہوا کھینچی، اور اس درمیانی لکیر کے بغل میں چند چھوٹی چھوٹی لکیریں اور کھینچی، پھر فرمایا: یہ ابن آدم ہے اور یہ لکیر اس کی موت کی ہے جو ہر طرف سے اسے گھیرے ہوئے ہے۔ اور یہ درمیان والی لکیر انسان ہے (یعنی اس کی آرزوئیں ہیں) اور یہ چھوٹی چھوٹی لکیریں انسان کو پیش آنے والے حوادث ہیں، اگر ایک حادثہ سے وہ بچ نکلا تو دوسرا اسے ڈس لے گا اور باہر نکلنے والا خط اس کی امید ہے ١ ؎۔
Sayyidina Abdullah ibn Masud narrated: Allah’s Messenger drew a line for us then he made it into a square and sketched a line within it and another outside it. Around the one within the square, he drew some lines. He said, “This is the son of Adam and this is his term (death) surrounding him. This in the centre is (again) mankind and these lines around are trials and calamities. If he saves himself from this, the other afflicts him. The line inside is his hopes.” [Bukhari 6417, Ibn e Majah 4231, Ahmed 3652]
صحيحصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2454
Notes · وضاحت
١ ؎: اس حدیث کا مطلب یہ ہے کہ انسان کی زندگی اگر ایک طرف آرزؤں سے بھری ہوئی ہے تو دوسری جانب اسے چاروں طرف سے حوادث گھیرے ہوئے ہیں، وہ اپنی آرزؤں کی تکمیل میں حوادث سے نبرد آزما ہوتا ہے، لیکن اس کے پاس امیدوں اور آرزؤں کا ایک وسیع اور نہ ختم ہونے والا سلسلہ ہے، اس کی آرزوئیں ابھی ناتمام ہی ہوتی ہیں کہ موت کا آہنی پنجہ اسے اپنے شکنجے میں کس لیتا ہے، گویا موت انسان سے سب سے زیادہ قریب ہے، اس لیے انسان کو اس سے غافل نہیں رہنا چاہیئے۔