قیامت کا بیان

Sunan At-Tirmidhi · Chapter 34 · 112 hadiths · Page 3 of 6

2455Sunan At-Tirmidhi

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَهْرَمُ ابْنُ آدَمَ وَيَشِبُّ مِنْهُ اثْنَانِ الْحِرْصُ عَلَى الْمَالِ، وَالْحِرْصُ عَلَى الْعُمُرِ ، هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.

انس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: آدمی بوڑھا ہوجاتا ہے لیکن اس کی دو خواہشیں جوان رہتی ہیں: ایک مال کی ہوس دوسری لمبی عمر کی تمنا ۔

Sayyidina Anas (RA) reported that Allah’s Messenger said, “The son of Adam becomes decrepit but two things in him grow young----greed for wealth and a craving for long life”.

صحيح، ابن ماجة (4234)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2455
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم ٢٣٣٩ (صحیح )
2456Sunan At-Tirmidhi

حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ مُحَمَّدُ بْنُ فِرَاسٍ الْبَصْرِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو قُتَيْبَةَ سَلْمُ بْنُ قُتَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو الْعَوَّامِ وَهُوَ عِمْرَانُ الْقَطَّانُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ مُطَرِّفِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الشِّخِّيرِ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مُثِّلَ ابْنُ آدَمَ وَإِلَى جَنْبِهِ تِسْعَةٌ وَتِسْعُونَ مَنِيَّةً، إِنْ أَخْطَأَتْهُ الْمَنَايَا وَقَعَ فِي الْهَرَمِ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ.

عبداللہ بن شخیر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: آدمی کی مثال ایسی ہے کہ اس کے پہلو میں ننانوے آفتیں ہیں، اگر وہ ان آفتوں سے بچ گیا تو بڑھاپے میں گرفتار ہوجائے گا ۔

Sayyidina Abdullah ibn Shikhkhir (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “The son of Adam was created with ninety-nine trials by his side. If the trials bypass him then he (nevertheless) falls into decrepitude.” --------------------------------------------------------------------------------

حسن ومضی (2151) // هذا رقم الدع اس، وهو عندنا برقم (1747 - 2255 ) //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2456
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے۔
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم ٢١٥٠ (حسن )
2457Sunan At-Tirmidhi

حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا قَبِيصَةُ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ، عَنِ الطُّفَيْلِ بْنِ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا ذَهَبَ ثُلُثَا اللَّيْلِ قَامَ، فَقَالَ: يَا أَيُّهَا النَّاسُ اذْكُرُوا اللَّهَ، اذْكُرُوا اللَّهَ جَاءَتِ الرَّاجِفَةُ تَتْبَعُهَا الرَّادِفَةُ جَاءَ الْمَوْتُ بِمَا فِيهِ جَاءَ الْمَوْتُ بِمَا فِيهِ ، قَالَ أُبَيٌّ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي أُكْثِرُ الصَّلَاةَ عَلَيْكَ فَكَمْ أَجْعَلُ لَكَ مِنْ صَلَاتِي ؟ فَقَالَ: مَا شِئْتَ ، قَالَ: قُلْتُ: الرُّبُعَ ؟ قَالَ: مَا شِئْتَ فَإِنْ زِدْتَ فَهُوَ خَيْرٌ لَكَ ، قُلْتُ: النِّصْفَ ؟ قَالَ: مَا شِئْتَ فَإِنْ زِدْتَ فَهُوَ خَيْرٌ لَكَ ، قَالَ: قُلْتُ: فَالثُّلُثَيْنِ ؟ قَالَ: مَا شِئْتَ فَإِنْ زِدْتَ فَهُوَ خَيْرٌ لَكَ ، قُلْتُ: أَجْعَلُ لَكَ صَلَاتِي كُلَّهَا، قَالَ: إِذًا تُكْفَى هَمَّكَ وَيُغْفَرُ لَكَ ذَنْبُكَ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.

ابی بن کعب ؓ کہتے ہیں کہ جب دو تہائی رات گزر جاتی تو رسول اللہ ﷺ اٹھتے اور فرماتے: لوگو! اللہ کو یاد کرو، اللہ کو یاد کرو، کھڑکھڑانے والی آ گئی ہے اور اس کے ساتھ ایک دوسری آ لگی ہے، موت اپنی فوج لے کر آ گئی ہے۔ موت اپنی فوج لے کر آ گئی ہے ، میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں آپ پر بہت صلاۃ (درود) پڑھا کرتا ہوں سو اپنے وظیفے میں آپ پر درود پڑھنے کے لیے کتنا وقت مقرر کرلوں؟ آپ نے فرمایا: جتنا تم چاہو ، میں نے عرض کیا چوتھائی؟ آپ نے فرمایا: جتنا تم چاہو اور اگر اس سے زیادہ کرلو تو تمہارے حق میں بہتر ہے ، میں نے عرض کیا: آدھا؟ آپ نے فرمایا: جتنا تم چاہو اور اگر اس سے زیادہ کرلو تو تمہارے حق میں بہتر ہے، میں نے عرض کیا دو تہائی؟ آپ نے فرمایا: جتنا تم چاہو اور اگر اس سے زیادہ کرلو تو تمہارے حق میں بہتر ہے، میں نے عرض کیا: وظیفے میں پوری رات آپ پر درود پڑھا کروں؟۔ آپ نے فرمایا: اب یہ درود تمہارے سب غموں کے لیے کافی ہوگا اور اس سے تمہارے گناہ بخش دیئے جائیں گے ۔

Sayyidina ibn Ka’b reported that when two-thirds of the night had passed Allah’s stood up and said, “O you people, remember Allah. Remember Allah! Here comes the rajifah and on its heels is the radifah. Here comes death with what is (painful) in it.” Ubayy said, “O Messenger of Allah, I make plenty of invocation of blessings on you. How much time shall I set aside for it?” He said, “As much as you like.” He asked, “One-fourth?” He said, “As much as you will. If you increase then that is better for you.” So, he asked, “One third?” He said, As much as you will and if you add to it, that is better (for you) .” Ubayy said, “I will set aside for invocating blessing on you all my time.” He said, “Then that will take care worries, and your sins will be forgiven.” --------------------------------------------------------------------------------

حسن، الصحيحة (954)، فضل الصلاة علی النبی صلی اللہ عليه وسلم رقم (13 و 14)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2457
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: ٣٠)، وانظر مسند احمد (٥/١٣٥) (حسن )
2458Sunan At-Tirmidhi

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مُوسَى، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ، عَنْ أَبَانَ بْنِ إِسْحَاق، عَنِ الصَّبَّاحِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ مُرَّةَ الْهَمْدَانِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اسْتَحْيُوا مِنَ اللَّهِ حَقَّ الْحَيَاءِ قَالَ: قُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّا لَنَسْتَحْيِي وَالْحَمْدُ لِلَّهِ، قَالَ: لَيْسَ ذَاكَ وَلَكِنَّ الِاسْتِحْيَاءَ مِنَ اللَّهِ حَقَّ الْحَيَاءِ أَنْ تَحْفَظَ الرَّأْسَ وَمَا وَعَى، وَتَحْفَظَ الْبَطْنَ وَمَا حَوَى، وَتَتَذَكَّرَ الْمَوْتَ وَالْبِلَى، وَمَنْ أَرَادَ الْآخِرَةَ تَرَكَ زِينَةَ الدُّنْيَا، فَمَنْ فَعَلَ ذَلِكَ فَقَدِ اسْتَحْيَا مِنَ اللَّهِ حَقَّ الْحَيَاءِ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ إِنَّمَا نَعْرِفُهُ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ مِنْ حَدِيثِ أَبَانَ بْنِ إِسْحَاق، عَنِ الصَّبَّاحِ بْنِ مُحَمَّدٍ.

عبداللہ بن مسعود ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ سے شرم و حیاء کرو جیسا کہ اس سے شرم و حیاء کرنے کا حق ہے ١ ؎، ہم نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ہم اللہ سے شرم و حیاء کرتے ہیں اور اس پر اللہ کا شکر ادا کرتے ہیں، آپ نے فرمایا: حیاء کا یہ حق نہیں جو تم نے سمجھا ہے، اللہ سے شرم و حیاء کرنے کا جو حق ہے وہ یہ ہے کہ تم اپنے سر اور اس کے ساتھ جتنی چیزیں ہیں ان سب کی حفاظت کرو ٢ ؎، اور اپنے پیٹ اور اس کے اندر جو چیزیں ہیں ان کی حفاظت کرو ٣ ؎، اور موت اور ہڈیوں کے گل سڑ جانے کو یاد کیا کرو، اور جسے آخرت کی چاہت ہو وہ دنیا کی زیب و زینت کو ترک کر دے پس جس نے یہ سب پورا کیا تو حقیقت میں اسی نے اللہ تعالیٰ سے حیاء کی جیسا کہ اس سے حیاء کرنے کا حق ہے ۔

Sayyidina Abdullah ibn Mas’ud reported that Allah’s Messenger said, “Observe modesty with Allah as is His right.” They (the sahabah) asked, “O Prophet ﷺ of Allah, we do observe modesty, praise belongs to Allah!” He said, “That is not so. But, to show modesty Allah as is to His right to it is that you protect your head and whatever is in it and you protect your belly and whatever is in it and you remember death and decomposition (thereafter) . And he, who looks forward to the hereafter, abandons the adornment of the world. So, he who observes these has indeed shown modesty (to Allah) as is His right to modesty.” --------------------------------------------------------------------------------

حسن، الروض النضير (601)، المشکاة (1608 / التحقيق الثانی)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2458
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث غریب ہے۔ ٢ - اس حدیث کو اس سند سے ہم صرف ابان بن اسحاق کی روایت سے جانتے ہیں، اور انہوں نے صباح بن محمد سے روایت کی ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی اللہ سے پورا پورا ڈرو، جیسا کہ اس سے ڈرنے کا حق ہے۔ ٢ ؎: یعنی اپنا سر غیر اللہ کے سامنے مت جھکانا، نہ ریاکاری کے ساتھ عبادت کرنا، اور نہ ہی اپنی زبان، آنکھ اور کان کا غلط استعمال کرنا۔ ٣ ؎: یعنی حرام کمائی سے اپنا پیٹ مت بھرو، اسی طرح شرمگاہ، ہاتھ، پاؤں اور دل کی اس طرح حفاظت کرو، کہ ان سے غلط کام نہ ہونے پائے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: ٩٥٥٣) (حسن) (صحیح الترغیب ٣٣٣٧، ١٦٣٨، ١٧٢٥، ١٧٢٤ )
2459Sunan At-Tirmidhi

حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ وَكِيعٍ، حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ، وَحَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ، أَخْبَرَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ، عَنْ ضَمْرَةَ بْنِ حَبِيبٍ، عَنْ شَدَّادِ بْنِ أَوْسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: الْكَيِّسُ مَنْ دَانَ نَفْسَهُ وَعَمِلَ لِمَا بَعْدَ الْمَوْتِ، وَالْعَاجِزُ مَنْ أَتْبَعَ نَفْسَهُ هَوَاهَا وَتَمَنَّى عَلَى اللَّهِ ، قَالَ: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ، قَالَ: وَمَعْنَى قَوْلِهِ مَنْ دَانَ نَفْسَهُ، يَقُولُ: حَاسَبَ نَفْسَهُ فِي الدُّنْيَا قَبْلَ أَنْ يُحَاسَبَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، وَيُرْوَى عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ قَالَ: حَاسِبُوا أَنْفُسَكُمْ قَبْلَ أَنْ تُحَاسَبُوا، وَتَزَيَّنُوا لِلْعَرْضِ الْأَكْبَرِ وَإِنَّمَا يَخِفُّ الْحِسَابُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَلَى مَنْ حَاسَبَ نَفْسَهُ فِي الدُّنْيَا، وَيُرْوَى عَنْ مَيْمُونِ بْنِ مِهْرَانَ قَالَ: لَا يَكُونُ الْعَبْدُ تَقِيًّا حَتَّى يُحَاسِبَ نَفْسَهُ كَمَا يُحَاسِبُ شَرِيكَهُ مِنْ أَيْنَ مَطْعَمُهُ وَمَلْبَسُهُ.

شداد بن اوس ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: عقلمند وہ ہے جو اپنے نفس کو رام کرلے اور موت کے بعد کی زندگی کے لیے عمل کرے اور عاجز و بیوقوف وہ ہے جو اپنے نفس کو خواہشات پر لگا دے اور رحمت الٰہی کی آرزو رکھے ۔

Sayyidina Shaddad ibn Aws reported that the Prophet ﷺ said, “The intelligent man is he who turns himself to worship and performs deeds for that which comes after death, but the helpless is he who submits his self to its passion and puts his hope in Allah (for that) .” [Ibn e Majah 4259, Ahmed 17123]

ضعيف، ابن ماجة (4260) // ضعيف سنن ابن ماجة برقم (930)، المشکاة (5289)، ضعيف الجامع الصغير (4305) //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2459
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن ہے، ٢ - اور «من دان نفسه» کا مطلب یہ ہے کہ وہ دنیا ہی میں اپنے نفس کا محاسبہ کرلے اس سے پہلے کہ قیامت کے روز اس کا محاسبہ کیا جائے، ٣ - عمر بن خطاب ؓ کہتے ہیں: اپنے نفس کا محاسبہ کرو قبل اس کے کہ تمہارا محاسبہ کیا جائے، اور «عرض الأكبر» (آخرت کی پیشی) کے لیے تدبیر کرو، اور جو شخص دنیا ہی میں اپنے نفس کا محاسبہ کرتا ہے قیامت کے روز اس پر حساب و کتاب آسان ہوگا، ٤ - میمون بن مہران کہتے ہیں: بندہ متقی و پرہیزگار نہیں ہوتا یہاں تک کہ وہ اپنے نفس کا محاسبہ کرے جیسا کہ اپنے شریک سے محاسبہ کرتا ہے اور یہ خیال کرے کہ میرا کھانا اور لباس کہاں سے ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/الزہد ٣١ (٤٢٦٠) (تحفة الأشراف: ٤٨٢٠) (ضعیف) (سند میں ابوبکر بن ابی مریم ضعیف راوی ہیں )
2460Sunan At-Tirmidhi

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مَدُّوَيْهِ، حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ بْنُ الْحَكَمِ الْعُرَنِيُّ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ الْوَلِيدِ الْوَصَّافِيُّ، عَنْعَطِيَّةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، قَالَ: دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُصَلَّاهُ فَرَأَى نَاسًا كَأَنَّهُمْ يَكْتَشِرُونَ، قَالَ: أَمَا إِنَّكُمْ لَوْ أَكْثَرْتُمْ ذِكْرَ هَاذِمِ اللَّذَّاتِ لَشَغَلَكُمْ عَمَّا أَرَى، فَأَكْثِرُوا مِنْ ذِكْرِ هَاذِمِ اللَّذَّاتِ الْمَوْتِ فَإِنَّهُ لَمْ يَأْتِ عَلَى الْقَبْرِ يَوْمٌ إِلَّا تَكَلَّمَ فِيهِ، فَيَقُولُ: أَنَا بَيْتُ الْغُرْبَةِ وَأَنَا بَيْتُ الْوَحْدَةِ وَأَنَا بَيْتُ التُّرَابِ وَأَنَا بَيْتُ الدُّودِ، فَإِذَا دُفِنَ الْعَبْدُ الْمُؤْمِنُ قَالَ لَهُ الْقَبْرُ: مَرْحَبًا وَأَهْلًا، أَمَا إِنْ كُنْتَ لَأَحَبَّ مَنْ يَمْشِي عَلَى ظَهْرِي إِلَيَّ فَإِذْ وُلِّيتُكَ الْيَوْمَ وَصِرْتَ إِلَيَّ فَسَتَرَى صَنِيعِيَ بِكَ، قَالَ: فَيَتَّسِعُ لَهُ مَدَّ بَصَرِهِ وَيُفْتَحُ لَهُ بَابٌ إِلَى الْجَنَّةِ، وَإِذَا دُفِنَ الْعَبْدُ الْفَاجِرُ أَوِ الْكَافِرُ، قَالَ لَهُ الْقَبْرُ: لَا مَرْحَبًا وَلَا أَهْلًا، أَمَا إِنْ كُنْتَ لَأَبْغَضَ مَنْ يَمْشِي عَلَى ظَهْرِي إِلَيَّ فَإِذْ وُلِّيتُكَ الْيَوْمَ وَصِرْتَ إِلَيَّ فَسَتَرَى صَنِيعِيَ بِكَ، قَالَ: فَيَلْتَئِمُ عَلَيْهِ حَتَّى يَلْتَقِيَ عَلَيْهِ وَتَخْتَلِفَ أَضْلَاعُهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِأَصَابِعِهِ: فَأَدْخَلَ بَعْضَهَا فِي جَوْفِ بَعْضٍ، قَالَ: وَيُقَيِّضُ اللَّهُ لَهُ سَبْعِينَ تِنِّينًا لَوْ أَنْ وَاحِدًا مِنْهَا نَفَخَ فِي الْأَرْضِ مَا أَنْبَتَتْ شَيْئًا مَا بَقِيَتِ الدُّنْيَا فَيَنْهَشْنَهُ وَيَخْدِشْنَهُ حَتَّى يُفْضَى بِهِ إِلَى الْحِسَابِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّمَا الْقَبْرُ رَوْضَةٌ مِنْ رِيَاضِ الْجَنَّةِ أَوْ حُفْرَةٌ مِنْ حُفَرِ النَّارِ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ.

ابو سعید خدری ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ اپنے مصلی پر تشریف لائے اور دیکھا کہ لوگ ہنس رہے ہیں، آپ نے فرمایا: آگاہ رہو! اگر تم لوگ لذتوں کو ختم کردینے والی چیز کو یاد رکھتے تو تم اپنی ان حرکتوں سے باز رہتے، سو لذتوں کو ختم کردینے والی موت کا ذکر کثرت سے کرو، اس لیے کہ قبر روزانہ بولتی ہے اور کہتی ہے: میں غربت کا گھر ہوں، میں تنہائی کا گھر ہوں، میں مٹی کا گھر ہوں، اور میں کیڑے مکوڑوں کا گھر ہوں، پھر جب مومن بندے کو دفن کیا جاتا ہے تو قبر اسے مرحبا (خوش آمدید) کہتی ہے اور مبارک باد دیتی ہے اور کہتی ہے: بیشک تو میرے نزدیک ان میں سب سے زیادہ محبوب تھا جو میرے پیٹھ پر چلتے ہیں، پھر اب جب کہ میں تیرے کام کی نگراں ہوگئی اور تو میری طرف آگیا تو اب دیکھ لے گا کہ میں تیرے ساتھ کیسا حسن سلوک کروں گی، پھر اس کی نظر پہنچنے تک قبر کشادہ کردی جائے گی اور اس کے لیے جنت کا ایک دروازہ کھول دیا جائے گا، اور جب فاجر یا کافر دفن کیا جاتا ہے تو قبر اسے نہ ہی مرحبا کہتی ہے اور نہ ہی مبارک باد دیتی ہے بلکہ کہتی ہے: بیشک تو میرے نزدیک ان میں سب سے زیادہ قابل نفرت تھا جو میری پیٹھ پر چلتے ہیں، پھر اب جب کہ میں تیرے کام کی نگراں ہوں اور تو میری طرف آگیا سو آج تو اپنے ساتھ میری بدسلوکیاں دیکھ لے گا، پھر وہ اس کو دباتی ہے، اور ہر طرف سے اس پر زور ڈالتی ہے یہاں تک کہ اس کی پسلیاں ایک طرف سے دوسری طرف مل جاتی ہیں، رسول اللہ ﷺ نے اپنی انگلیوں سے اشارہ کیا اور ایک دوسرے کو آپس میں داخل کر کے فرمایا: اللہ اس پر ستر اژد ہے مقرر کر دے گا، اگر ان میں سے کوئی ایک بار بھی زمین پر پھونک مار دے تو اس پر رہتی دنیا تک کبھی گھاس نہ اگے، پھر وہ اژد ہے اسے حساب و کتاب لیے جانے تک دانتوں سے کاٹیں گے اور نوچیں گے ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: بیشک قبر جنت کے باغوں میں سے ایک باغ ہے یا جہنم کے گڑھوں میں سے ایک گڑھا ہے ۔

ضعيف جدا، لکن جملة هاذم اللذات صحيحة، فانظر الحديث (2409)، الضعيفة (4990)، (2409) // ضعيف الجامع الصغير (1231) //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2460
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن غریب ہے، اسے ہم صرف اسی سند سے جانتے ہیں۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: ٤٢١٣) (ضعیف جداً ) (سند میں عبید اللہ وصافی اور عطیہ عوفی دونوں ضعیف راوی ہیں )
2461Sunan At-Tirmidhi

حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي ثَوْرٍ، قَال: سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ يَقُولُ: أَخْبَرَنِي عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ، قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: فَإِذَا هُوَ مُتَّكِئٌ عَلَى رَمْلِ حَصِيرٍ فَرَأَيْتُ أَثَرَهُ فِي جَنْبِهِ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ وَفِي الْحَدِيثِ قِصَّةٌ طَوِيلَةٌ.

عمر بن خطاب ؓ کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اس حال میں کہ آپ چٹائی پر ٹیک لگائے ہوئے تھے سو میں نے دیکھا کہ چٹائی کا نشان آپ کے پہلو پر اثر کر گیا ہے۔

Sayyidina Ibn Abbas (RA) reported that Sayyidina Umar ibn Khattatb narrated to him: I went to Allah’s Messenger ﷺ and found him reclining on a straw mat whose impressions were visible on his sides... There is a lengthy account in the hadith.

صحيحصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2461
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - اس حدیث میں ایک طویل قصہ ہے، (وہی آپ کا ازواج مطہرات سے ایلاء کرنے کا قصہ) ۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/المظالم ٢٥ (٢٤٦٨)، والنکاح ٨٣ (٥١٩١)، واللباس ٣١ (٥٨٤٣)، صحیح مسلم/الطلاق ٥ (١٤٧٩)، سنن ابن ماجہ/الزہد ١١ (٤١٥٣) (کلہم في سیاق طویل في سیاق إیلاء النبی ﷺ نسائہ) (ویأتي برقم ٢٣١٨) (تحفة الأشراف: ١٠٥٠٧)، و مسند احمد (١/٣٠١، ٣٩١) (صحیح )
2462Sunan At-Tirmidhi

حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ مَعْمَرٍ، وَيُونُسَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، أَنَّ عُرْوَةَ بْنَ الزُّبَيْرِ أَخْبَرَهُ، أَنَّ الْمِسْوَرَ بْنَ مَخْرَمَةَ أَخْبَرَهُ، أَنَّ عَمْرَو بْنَ عَوْفٍ وَهُوَ حَلِيفُ بَنِي عَامِرِ بْنِ لُؤَيٍّ وَكَانَ شَهِدَ بَدْرًا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخْبَرَهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ أَبَا عُبَيْدَةَ بْنَ الْجَرَّاحِ فَقَدِمَ بِمَالٍ مِنْ الْبَحْرَيْنِ، وَسَمِعَتِ الْأَنْصَارُ بِقُدُومِ أَبِي عُبَيْدَةَ فَوَافَوْا صَلَاةَ الْفَجْرِ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ انْصَرَفَ، فَتَعَرَّضُوا لَهُ، فَتَبَسَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ رَآهُمْ، ثُمَّ قَالَ: أَظُنُّكُمْ سَمِعْتُمْ أَنْ أَبَا عُبَيْدَةَ قَدِمَ بِشَيْءٍ ، قَالُوا: أَجَلْ يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: فَأَبْشِرُوا وَأَمِّلُوا مَا يَسُرُّكُمْ، فَوَاللَّهِ مَا الْفَقْرَ أَخْشَى عَلَيْكُمْ وَلَكِنِّي أَخْشَى أَنْ تُبْسَطَ الدُّنْيَا عَلَيْكُمْ كَمَا بُسِطَتْ عَلَى مَنْ قَبْلَكُمْ فَتَنَافَسُوهَا كَمَا تَنَافَسُوهَا فَتُهْلِكَكُمْ كَمَا أَهْلَكَتْهُمْ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.

مسور بن مخرمہ ؓ نے خبر دی ہے کہ عمرو بن عوف ؓ (یہ بنو عامر بن لوی کے حلیف اور جنگ بدر میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ حاضر تھے) نے مجھے خبر دی کہ رسول اللہ ﷺ نے ابوعبیدہ بن جراح ؓ کو بھیجا پھر وہ بحرین (احساء) سے کچھ مال غنیمت لے کر آئے، جب انصار نے ابوعبیدہ کے آنے کی خبر سنی تو وہ سب فجر میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ شریک ہوئے، ادھر جب رسول اللہ ﷺ نماز فجر سے فارغ ہو کر واپس ہوئے تو لوگ آپ کے سامنے آئے۔ جب آپ ﷺ نے ان سب کو دیکھا تو مسکرائے اور فرمایا: شاید تم لوگوں نے یہ بات سن لی ہے کہ ابوعبیدہ کچھ لے کر آئے ہیں ، لوگوں نے کہا جی ہاں، اللہ کے رسول! آپ نے فرمایا: تمہارے لیے خوشخبری ہے اور اس چیز کی امید رکھو جو تمہیں خوش کرے، اللہ کی قسم! میں تم پر فقر و محتاجی سے نہیں ڈرتا ہوں، البتہ مجھے یہ اندیشہ ہے کہ دنیا تم پر کشادہ کردی جائے، جیسا کہ تم سے پہلے لوگوں پر کشادہ کی گئی، پھر تم اس میں حرص و رغبت کرنے لگو جیسا کہ ان لوگوں نے حرص و رغبت کی، پھر دنیا تمہیں تباہ و برباد کر دے جیسا کہ اس نے ان کو تباہ و برباد کیا ١ ؎۔

Miswar ibn Makhramah reported on the authority of Amr ibn Awf of Lu’ayyi, the tribe who had participated in the Battle of Badr with the Prophet ﷺ that Allah’s Messenger had sent Abu Ubaydah ibn Jarrah and he returned from l3ahrain with some property. The Ansar, having heard of his coming, offered the salah of fajr with Allah’s Messenger ﷺ . When he had finished the salah and turned (towards the congregation) , they were seenby him .He smiled on seeing them and said, “I presume that you have heard that Abu Ubaydah has limed returned with something.” They confirmed that they had and he said, “So, have the glad tidings and hope for what should please you. For, by Allah, I donot fear poverty overtakng you, but I fear for you that the world will be spread out for you as it was for those before you and you will contend with each other over it as they did and you will be ruined as they were ruined.” [Bukhari 3158, Muslim 2961, Ahmed 17234]

صحيح، ابن ماجة (3997)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2462
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ مال و اسباب کی فراوانی دینی اعتبار سے فقر و تنگ دستی سے کہیں زیادہ خطرناک ہے، یہی وجہ ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے اپنی امت کو اس فتنہ سے آگاہ کیا، تاکہ لوگ اس کے خطرناک نتائج سے اپنے آپ کو بچا کر رکھیں، لیکن افسوس صد افسوس مال و اسباب کی اسی کثرت نے لوگوں کی اکثریت کو دین سے غافل کردیا، اور آج وہ چیز ہمارے سامنے ہے جس کا آپ کو اندیشہ تھا، حالانکہ مال جمع کرنے سے آدمی سیر نہیں ہوتا بلکہ مال کی فروانی کے ساتھ ساتھ اس کے اندر مال کی بھوک بڑھتی جاتی ہے یہاں تک کہ قبر کی مٹی ہی اس کا پیٹ بھر سکتی ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الجزیہ ١ (٣١٥٨)، والمغازي ١٢ (٤٠١٥)، والرقاق ٧ (٦٤٢٥)، صحیح مسلم/الزہد ١ (٢٩٦١)، سنن ابن ماجہ/الفتن ١٨ (٣٩٩٧) (تحفة الأشراف: ١٠٧٨٤) (صحیح )
2463Sunan At-Tirmidhi

حَدَّثَنَا سُوَيْدٌ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ يُونُسَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، وَابْنِ الْمُسَيَّبِ، أَنَّ حَكِيمَ بْنَ حِزَامٍ، قَالَ: سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَعْطَانِي، ثُمَّ سَأَلْتُهُ فَأَعْطَانِي، ثُمَّ سَأَلْتُهُ فَأَعْطَانِي، ثُمَّ قَالَ: يَا حَكِيمُ، إِنَّ هَذَا الْمَالَ خَضِرَةٌ حُلْوَةٌ فَمَنْ أَخَذَهُ بِسَخَاوَةِ نَفْسٍ بُورِكَ لَهُ فِيهِ وَمَنْ أَخَذَهُ بِإِشْرَافِ نَفْسٍ لَمْ يُبَارَكْ لَهُ فِيهِ، وَكَانَ كَالَّذِي يَأْكُلُ وَلَا يَشْبَعُ، وَالْيَدُ الْعُلْيَا خَيْرٌ مِنَ الْيَدِ السُّفْلَى ، فَقَالَ حَكِيمٌ: فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ لَا أَرْزَأُ أَحَدًا بَعْدَكَ شَيْئًا حَتَّى أُفَارِقَ الدُّنْيَا، فَكَانَ أَبُو بَكْرٍ يَدْعُو حَكِيمًا إِلَى الْعَطَاءِ فَيَأْبَى أَنْ يَقْبَلَهُ، ثُمَّ إِنَّ عُمَرَ دَعَاهُ لِيُعْطِيَهُ فَأَبَى أَنْ يَقْبَلَ مِنْهُ شَيْئًا، فَقَالَ عُمَرُ: إِنِّي أُشْهِدُكُمْ يَا مَعْشَرَ الْمُسْلِمِينَ عَلَى حَكِيمٍ أَنِّي أَعْرِضُ عَلَيْهِ حَقَّهُ مِنْ هَذَا الْفَيْءِ فَيَأْبَ أَنْ يَأْخُذَهُ، فَلَمْ يَرْزَأْ حَكِيمٌ أَحَدًا مِنَ النَّاسِ شَيْئًا بَعْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى تُوُفِّيَ، قَالَ: هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ.

حکیم بن حزام ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے مانگا تو آپ نے مجھے دیا، پھر مانگا تو پھر دیا، پھر مانگا تو پھر دیا، پھر آپ نے فرمایا: حکیم! بیشک یہ مال ہرا بھرا میٹھا ہے، جو اسے خوش دلی سے لے لے گا تو اسے اس میں برکت نصیب ہوگی، اور جو اسے حریص بن کرلے گا اسے اس میں برکت حاصل نہ ہوگی، اور اس کی مثال ایسے ہی ہے جو کھاتا ہے لیکن آسودہ نہیں ہوتا، اور اوپر کا ہاتھ (دینے والا) نیچے کے ہاتھ (لینے والے) سے بہتر ہے ، حکیم کہتے ہیں: میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! قسم ہے اس ذات کی جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے! آپ کے بعد میں کسی سے کچھ نہ لوں گا یہاں تک کہ دنیا سے رخصت ہوجاؤں، پھر ابوبکر ؓ، حکیم ؓ کو کچھ دینے کے لیے بلاتے تو وہ اسے قبول کرنے سے انکار کردیتے، ان کے بعد عمر ؓ نے بھی انہیں کچھ دینے کے لیے بلایا تو اسے بھی قبول کرنے سے انکار کردیا، چناچہ عمر ؓ نے کہا: اے مسلمانوں کی جماعت! میں تم لوگوں کو حکیم پر گواہ بناتا ہوں کہ اس مال غنیمت میں سے میں ان کا حق پیش کرتا ہوں تو وہ اسے لینے سے انکار کرتے ہیں، چناچہ رسول اللہ ﷺ کے بعد حکیم ؓ نے کسی شخص کے مال سے کچھ نہیں لیا یہاں تک کہ وہ دنیا سے رخصت ہوگئے ١ ؎۔

Sayyidina Hakim ibn Hizam narrated: I asked Allah’s Messenger ﷺ (for some property) and he gave me. I asked him again and he gave me. Then, he said, “O Hakim! Indeed this wealth (and property) is green and sweet. He who takes it with a liberal heart, (finds) it is blessed for him and he who takes it debasing himself (finds that) it is not blessed for him and is like one who eats but is not satiated. And, the upper hand is better than the lower hand.” So, I said, “O Messenger of Allah, by Him who has sent you with truth, I will never ask anyone after you for anything till I depart from the world.” So, Abu Bakr (RA) did summon Hakim to give something but he refused to take it. Then Umar (RA) summoned him that he may give him, but he refused to take anything from him. So, Umar said, “I call you to wintess, O company of Hakim that I offered him his right in the fa’i, but he refused to take it.” Hakim never asked any man for anything after Allah’s Messenger till he died. [Ahmed 15327, Bukhari 1472, Muslim 1035, Nisai 2527] --------------------------------------------------------------------------------

صحيحصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2463
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث صحیح ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: حکیم بن حزام ؓ کو یہ اندیشہ تھا کہ اگر لوگوں سے ان کے لیے ہوئے کو قبول کرنے لگا تو کہیں یہ عادت اس حد سے بڑھ نہ جائے جس کے لینے کی انہیں خواہش نہیں، یہی وجہ ہے کہ انہوں نے اس چیز کا بھی انکار کردیا جو ان کا حق بنتا تھا، یہ دنیا سے بےرغبتی کی اعلی مثال ہے، عمر ؓ نے لوگوں کو گواہ اس لیے بنایا تاکہ لوگ ان کے بارے میں یہ نہ کہہ سکیں کہ حکیم ؓ کے انکار کی حقیقت کو عمر ؓ نہ جان سکے، «واللہ اعلم»۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الزکاة ٥٠ (١٤٧٢)، والوصایا ٩ (٢٧٥٠)، وفرض الخمس ١٩ (٣١٤٣)، والرقاق ١١ (٦٤٤١)، صحیح مسلم/الزکاة ٣٢ (١٠٣٥)، سنن النسائی/الزکاة ٥٠ (٢٥٣٢)، و ٩٣ (٢٦٠٢-٢٦٠٤) (تحفة الأشراف: ٣٤٢٦)، وحإ (٣/٤٠٢، ٤٣٤)، وسنن الدارمی/الزکاة ٢٢ (١٦٦٠) (صحیح )
2464Sunan At-Tirmidhi

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا أَبُو صَفْوَانَ، عَنْ يُونُسَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍقَالَ: ابْتُلِينَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالضَّرَّاءِ فَصَبَرْنَا، ثُمَّ ابْتُلِينَا بِالسَّرَّاءِ بَعْدَهُ فَلَمْ نَصْبِرْ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ.

عبدالرحمٰن بن عوف ؓ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تکلیف اور تنگی میں آزمائے گئے تو اس پر ہم نے صبر کیا، پھر آپ کے بعد کی حالت میں کشادگی اور خوشی میں آزمائے گئے تو ہم صبر نہ کرسکے ١ ؎۔

Sayyidina Abdur Rahman ibn Awf ﷺ said, “We were put to trial with Allah’s Messenger facing hardship, but we bore that with patience. Then we were tried with prosperity, but we were not patient.”

حسن الإسنادصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2464
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: مفہوم یہ ہے کہ آپ ﷺ کے زمانہ میں جب ہم بےانتہا مشقت و پریشانی کی زندگی گزار رہے تھے تو اس وقت ہم نے صبر سے کام لیا، لیکن آپ کے بعد جب ہمارے لیے مال و اسباب کی کثرت ہوگئی تو ہم گھمنڈ و تکبر میں مبتلا ہوگئے اور اترا گئے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: ٩٧١٩) (صحیح الإسناد )
2465Sunan At-Tirmidhi

حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنِ الرَّبِيعِ بْنِ صَبِيحٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبَانَ وَهُوَ الرَّقَاشِيُّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ كَانَتِ الْآخِرَةُ هَمَّهُ جَعَلَ اللَّهُ غِنَاهُ فِي قَلْبِهِ، وَجَمَعَ لَهُ شَمْلَهُ، وَأَتَتْهُ الدُّنْيَا وَهِيَ رَاغِمَةٌ، وَمَنْ كَانَتِ الدُّنْيَا هَمَّهُ جَعَلَ اللَّهُ فَقْرَهُ بَيْنَ عَيْنَيْهِ، وَفَرَّقَ عَلَيْهِ شَمْلَهُ وَلَمْ يَأْتِهِ مِنَ الدُّنْيَا إِلَّا مَا قُدِّرَ لَهُ .

انس بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس کا مقصود زندگی آخرت ہو اللہ تعالیٰ اس کے دل میں استغناء و بےنیازی پیدا کردیتا ہے، اور اسے دل جمعی عطا کرتا ہے ١ ؎، اور دنیا اس کے پاس ذلیل ہو کر آتی ہے اور جس کا مقصود طلب دنیا ہو، اللہ تعالیٰ اس کی محتاجی اس کی دونوں آنکھوں کے سامنے رکھ دیتا ہے اور اس کی جمع خاطر کو پریشان کردیتا ہے اور دنیا اس کے پاس اتنی ہی آتی ہے جو اس کے لیے مقدر ہے ۔

Sayyidina Anas ibn Maalik (RA) reported that Allah’s Messenger said, “As for him whose concern is the Hereafter, Allah grows in his heart an unconcern (for the world) and brings it together for him and the world comes to him while it is unwanted. But, as for him whose concern is this world, Allah makes poverty his lot and makes him anious for it and the world does not come to him except what is decreed for him.”

صحيح (947 - 948)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2465
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی جس کی نیت طلب آخرت ہوگی اللہ رب العالمین اسے معمولی زندگی پر بھی صابر و قانع بنا دے گا تاکہ وہ دنیا کا حریص اور اس کا طالب بن کر نہ رہے، اس کے پراگندہ دنیاوی خیالات کو جمع کر دے گا، اسے دل جمعی نصیب ہوگی، اور دنیا اس کے پاس ذلیل ہو کر آئے گی۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: ١٦٧٤) (صحیح )
2466Sunan At-Tirmidhi

حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ، أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ زَائِدَةَ بْنِ نَشِيطٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي خَالِدٍ الْوَالِبِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: إِنَّ اللَّهَ تَعَالَى يَقُولُ: يَا ابْنَ آدَمَ تَفَرَّغْ لِعِبَادَتِي أَمْلَأْ صَدْرَكَ غِنًى وَأَسُدَّ فَقْرَكَ، وَإِلَّا تَفْعَلْ مَلَأْتُ يَدَيْكَ شُغْلًا وَلَمْ أَسُدَّ فَقْرَكَ ، قَالَ: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ، وَأَبُو خَالِدٍ الْوَالِبِيُّ اسْمُهُ: هُرْمُزُ.

ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ابن آدم! تو میری عبادت کے لیے یکسو ہوجا، میں تیرا سینہ استغناء و بےنیازی سے بھر دوں گا، اور تیری محتاجی دور کروں گا، اور اگر تو نے ایسا نہ کیا تو میں تیرا دل مشغولیت سے بھر دوں گا اور تیری محتاجی دور نہ کروں گا ۔

Sayyidina Abu Hurairah (RA) reported that the Prophet ﷺ narrated: Allah says, ‘O son of Aadam, busy yourself in My worship. I will fill your breast with contentment (and unconcern) and keep away your poverty, (otherwise) if you do not do so, both your hands will be occupied yet I will not remove your poverty (and need).” [Ahmed 8704, Ibn e Majah 4107]

صحيح، ابن ماجة (4107)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2466
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن غریب ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/الزہد ٢ (٤١٠٧) (تحفة الأشراف: ١٤٨٨١) (صحیح )
2468Sunan At-Tirmidhi

حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدٍ، عَنْ عَزْرَةَ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحِمْيَرِيِّ، عَنْ سَعْدِ بْنِ هِشَامٍ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: كَانَ لَنَا قِرَامُ سِتْرٍ فِيهِ تَمَاثِيلُ عَلَى بَابِي، فَرَآهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: انْزَعِيهِ فَإِنَّهُ يُذَكِّرُنِي الدُّنْيَا ، قَالَتْ: وَكَانَ لَنَا سَمَلُ قَطِيفَةٍ تَقُولُ عَلَمُهَا مِنْ حَرِيرٍ كُنَّا نَلْبَسُهَا، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ.

ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ ہمارے پاس ایک باریک پردہ تھا جس پر تصویریں بنی تھیں، پردہ میرے دروازے پر لٹک رہا تھا، جب اسے رسول اللہ ﷺ نے دیکھا تو فرمایا: اس کو یہاں سے دور کر دو اس لیے کہ یہ مجھے دینا کی یاد دلاتا ہے ، عائشہ ؓ کہتی ہیں: ہمارے پاس ایک روئیں دار پرانی چادر تھی جس پر ریشم کے نشانات بنے ہوئے تھے اور اسے ہم اوڑھتے تھے۔

Sayyidah Aaisha (RA) narrated: We had a fine curtain on which was a picture (which I) Hung on the door, Allah’s Messenger ﷺ saw it and said, “Remove it for it reminds me world.” We also had an old cotton cloak with patches of silk with which we used to cover ourselves.” [Muslim 2107, Nisai 5318, Ahmed 24321]

صحيح غاية المرام (136)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2468
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث اس سند سے حسن صحیح غریب ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/اللباس ٢٦ (٢١٠٧/٨٨)، سنن النسائی/الزینة ١١١ (٥٣٥٥)، انظر أیضا: صحیح البخاری/المظالم ٣٢ (٢٤٧٩)، واللباس ٩١ (٥٩٥٤)، والأدب ٧٥ (٦١٠٩)، وسنن النسائی/القبلة ١٢ (٧٦٢) (تحفة الأشراف: ١٦١٠١)، و مسند احمد (٦/٤٩، ٢٤١) (صحیح )
2469Sunan At-Tirmidhi

حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: كَانَتْ وِسَادَةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الَّتِي يَضْطَجِعُ عَلَيْهَا مِنْ أَدَمٍ حَشْوُهَا لِيفٌ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ.

ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے پاس چمڑے کا ایک تکیہ (بستر) تھا جس پر آپ آرام فرماتے تھے اس میں کھجور کی پتلی چھال بھری ہوئی تھی ١ ؎۔

Sayyidah Aaisha (RA) reported that the pillow on which Allah’s Messenger rested was made of leather in which fibre of dates was filled.

صحيح مختصر الشمائل (282)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2469
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث صحیح ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: یہ اس ذات گرامی کی سادہ زندگی کا حال تھا جو سید المرسلین تھے، آج کی پرتکلف زندگی آپ ﷺ کی اس سادہ زندگی سے کس قدر مختلف ہے، کاش ہم مسلمان آپ کی اس سادگی کو اپنے لیے نمونہ بنائیں، اور اسے اختیار کریں۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/اللباس ٦ (٢٠٨٢) (تحفة الأشراف: ١٧٠٦٤) (صحیح )
2470Sunan At-Tirmidhi

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ أَبِي مَيْسَرَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّهُمْ ذَبَحُوا شَاةً، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَا بَقِيَ مِنْهَا ؟ قَالَتْ: مَا بَقِيَ مِنْهَا إِلَّا كَتِفُهَا، قَالَ: بَقِيَ كُلُّهَا غَيْرَ كَتِفِهَا ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ، وَأَبُو مَيْسَرَةَ هُوَ الْهَمْدَانِيُّ اسْمُهُ: عَمْرُو بْنُ شُرَحْبِيلَ.

ام المؤمنین عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ صحابہ نے ایک بکری ذبح کی، نبی اکرم ﷺ نے پوچھا اس میں سے کچھ باقی ہے؟ عائشہ ؓ نے کہا: دستی کے سوا اور کچھ نہیں باقی ہے، آپ نے فرمایا: دستی کے سوا سب کچھ باقی ہے ١ ؎۔

Sayyidah Aaisha narrated that they slaughtered a goat. Allah’s Messenger ﷺ asked, “What remains from it?” She said, “Nothing of it remains except for the shoulder piece.” He said, “There remains everything of it except its shoulder blade.”

صحيح، الصحيحة (2544)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2470
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث صحیح ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: مفہوم یہ ہے کہ ذبح کی گئی بکری کا جتنا حصہ غریبوں اور محتاجوں میں تقسیم کردیا گیا ہے۔ یہی صدقہ کیا ہوا مال درحقیقت باقی ہے، رہا وہ حصہ جو تمہارے پاس ہے وہ باقی نہیں ہے، اس سے آپ ﷺ کا اشارہ رب العالمین کے اس فرمان کی طرف ہے، «ماعندکم ينفد وما عند اللہ باق» جو تمہارے پاس ہے وہ ختم ہونے والا ہے، اور رب العالمین کے پاس جو کچھ ہے وہ باقی رہنے والا ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: ١٧٤١٩) (صحیح )
2471Sunan At-Tirmidhi

حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ إِسْحَاق الْهَمْدَانِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: إِنْ كُنَّا آَلَ مُحَمَّدٍ نَمْكُثُ شَهْرًا مَا نَسْتَوْقِدُ بِنَارٍ إِنْ هُوَ إِلَّا الْمَاءُ وَالتَّمْرُ ، قَالَ: هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ.

ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ ہم آل محمد ( ﷺ ) ایسے تھے کہ ایک ایک مہینہ چولہا نہیں جلاتے تھے، ہمارا گزر بسر صرف کھجور اور پانی پر ہوتا تھا۔

Sayyidina Aaisha said, “We, the family of Muhammad ﷺ would go through a month without burning fire (in our house) except that (we consumed) water and dates.” [Muslim 2972, Ibn e Majah 4144]

صحيح مختصر الشمائل (111)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2471
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث صحیح ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الزہد ١ (٢٩٧٢)، سنن ابن ماجہ/الزہد ١٠ (٤١٤٤) (تحفة الأشراف: ١٧٠٦٥)، وراجع أیضا صحیح البخاری/الھبة ١ (٢٥٦٧)، والرقاق ١٧ (٦٤٥٨، ٦٥٤٥٩) (تحفة الأشراف: ١٧٠٦٥)، و مسند احمد (٦/٥٠، ٧١، ٨٦) (صحیح )
2467Sunan At-Tirmidhi

حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: تُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعِنْدَنَا شَطْرٌ مِنْ شَعِيرٍ فَأَكَلْنَا مِنْهُ مَا شَاءَ اللَّهُ، ثُمَّ قُلْتُ لِلْجَارِيَةِ: كِيلِيهِ فَكَالَتْهُ، فَلَمْ يَلْبَثْ أَنْ فَنِيَ، قَالَتْ: فَلَوْ كُنَّا تَرَكْنَاهُ لَأَكَلْنَا مِنْهُ أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ، وَمَعْنَى قَوْلِهَا شَطْرٌ تَعْنِي شَيْئًا.

ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کی وفات ہوئی، اس وقت ہمارے پاس تھوڑی سی جو تھی، پھر جتنی مدت تک اللہ تعالیٰ نے چاہا ہم نے اسی سے کھایا، پھر ہم نے لونڈی کو جو تولنے کے لیے کہا، تو اس نے تولا، پھر بقیہ جو بھی جلد ہی ختم ہوگئے، لیکن اگر ہم اسے چھوڑ دیتے اور نہ تولتے تو اس میں سے اس سے زیادہ مدت تک کھاتے ١ ؎۔

Sayyidah Aaisha (RA) said: “When Allah’s Messenger died, we had some barley. We ate from it what we wished to eat. Then I said to the female servant, ‘Weigh it’. Once she weighed it, it did not last long. If we had let it be (as it was) we would have eaten it for more than that time.” [Ahmed 24822, Bukhari 3097, Muslim 2973, Ibn e Majah 3345]

Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - یہاں عائشہ ؓ کے قول «شطر» کا معنی قدرے اور تھوڑا ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: اس حدیث میں فقر و تنگ دستی کی زندگی گزار نے والوں کے لیے نصیحت ہے کہ وہ اہل دنیا اور ان کو میسر آسائشوں کی طرف نہ دیکھیں، بلکہ رسول اور ازواج مطہرات کی زندگیوں کو سامنے رکھیں، اور فقر و فاقہ کی زندگی کو اپنے لیے باعث سعادت سمجھیں، یہ بھی معلوم ہوا کہ کھانے پینے کی چیزوں کو بلا تولے ناپے استعمال کیا جائے تو اس میں برکت ہوتی ہے، اور جس حدیث میں طعام کے تولنے کے بارے میں ہے کہ تولنے سے برکت ہوتی ہے وہ طعام بیچنے کے موقع سے ہے، کیونکہ اس وقت دو آدمیوں کے اپنے اپنے حقوق کی جانکاری کی بات ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: ١٧٢٢٧) (صحیح )
2472Sunan At-Tirmidhi

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ أَسْلَمَ أَبُو حَاتِمٍ الْبَصْرِيُّ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، حَدَّثَنَا ثَابِتٌ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَقَدْ أُخِفْتُ فِي اللَّهِ وَمَا يُخَافُ أَحَدٌ، وَلَقَدْ أُوذِيتُ فِي اللَّهِ وَمَا يُؤْذَى أَحَدٌ، وَلَقَدْ أَتَتْ عَلَيَّ ثَلَاثُونَ مِنْ بَيْنِ يَوْمٍ وَلَيْلَةٍ وَمَا لِي وَلِبِلَالٍ طَعَامٌ يَأْكُلُهُ ذُو كَبِدٍ إِلَّا شَيْءٌ يُوَارِيهِ إِبْطُ بِلَالٍ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَمَعْنَى هَذَا الْحَدِيثِ حِينَ خَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَارِبًا مِنْ مَكَّةَ وَمَعَهُ بِلَالٌ إِنَّمَا كَانَ مَعَ بِلَالٍ مِنَ الطَّعَامِ مَا يَحْمِلُهُ تَحْتَ إِبْطِهِ.

انس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: مجھے اللہ کی راہ میں ایسا ڈرایا گیا کہ اس طرح کسی کو نہیں ڈرایا گیا اور اللہ کی راہ میں مجھے ایسی تکلیفیں پہنچائی گئی ہیں کہ اس طرح کسی کو نہیں پہنچائی گئیں، مجھ پر مسلسل تیس دن و رات گزر جاتے اور میرے اور بلال کے لیے کوئی کھانا نہیں ہوتا کہ جسے کوئی جان والا کھائے سوائے تھوڑی سی چیز کے جسے بلال اپنی بغل میں چھپالیتے تھے ١ ؎۔

Sayyidina Anas reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “ I was threatened in Allah’s path as no one was threatened and I was annoyed in Allah’s path as no one was annoyed.O There came upon me thirty days and nights when Bilal (RA) and I had no food which ‘those with a liver’ eat, except which was kept under Bilal (RA) ’s armpit.” [Ahmed 14057, Ibn e Majah 151]

صحيح، ابن ماجة (151)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2472
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - ـ اسحدیث میں وہدنمراد ہیں کہ جب آپ صلی اللہ علیہوسلم اہلم کہ سے بیزارہوکرم کہ سے نکلگئے تھے اور ساتھ میں بلالرضیاللهعنہ تھے، انکے پاسکچھکھاناتھاج سے وہبغل میں دبائے ہوئے تھے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ اللہ کے کلمہ کی سربلندی اور اس کے دین کے اظہار کے لیے آپ نے کس قدر جسمانی تکالیف برداشت کی ہیں، اور اس پر مستزاد یہ کہ مسلسل کئی کئی دن گزر جاتے اور آپ بھوکے رہتے، ظاہر ہے بلال نے اپنی بغل میں جو کچھ چھپا رکھا تھا وہ کب تک ساتھ دیتا، اس حدیث میں داعیان حق کے لیے عبرت و نصیحت ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/المقدمة ١١ (١٥١) (تحفة الأشراف: ٣٤١) (صحیح )
2473Sunan At-Tirmidhi

حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاق، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زِيَادٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ كَعْبٍ الْقُرَظِيِّ، حَدَّثَنِي مَنْ، سَمِعَ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ، يَقُولُ: خَرَجْتُ فِي يَوْمٍ شَاتٍ مِنْ بَيْتِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَدْ أَخَذْتُ إِهَابًا مَعْطُوبًا فَحَوَّلْتُ وَسَطَهُ فَأَدْخَلْتُهُ عُنُقِي وَشَدَدْتُ وَسَطِي، فَحَزَمْتُهُ بِخُوصِ النَّخْلِ وَإِنِّي لَشَدِيدُ الْجُوعِ وَلَوْ كَانَ فِي بَيْتِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَعَامٌ لَطَعِمْتُ مِنْهُ، فَخَرَجْتُ أَلْتَمِسُ شَيْئًا، فَمَرَرْتُ بِيَهُودِيٍّ فِي مَالٍ لَهُ وَهُوَ يَسْقِي بِبَكَرَةٍ لَهُ فَاطَّلَعْتُ عَلَيْهِ مِنْ ثُلْمَةٍ فِي الْحَائِطِ، فَقَالَ: مَا لَكَ يَا أَعْرَابِيُّ، هَلْ لَكَ فِي كُلِّ دَلْوٍ بِتَمْرَةٍ ؟ قُلْتُ: نَعَمْ، فَافْتَحْ الْبَابَ حَتَّى أَدْخُلَ، فَفَتَحَ فَدَخَلْتُ فَأَعْطَانِي دَلْوَهُ، فَكُلَّمَا نَزَعْتُ دَلْوًا أَعْطَانِي تَمْرَةً حَتَّى إِذَا امْتَلَأَتْ كَفِّي أَرْسَلْتُ دَلْوَهُ، وَقُلْتُ: حَسْبِي، فَأَكَلْتُهَا ثُمَّ جَرَعْتُ مِنَ الْمَاءِ فَشَرِبْتُ، ثُمَّ جِئْتُ الْمَسْجِدَ فَوَجَدْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيهِ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ.

علی بن ابی طالب کہتے ہیں کہ ایک ٹھنڈے دن میں رسول اللہ ﷺ کے گھر سے میں نکلا اور ساتھ میں ایک بدبودار چمڑا لے لیا جس کے بال جھڑے ہوئے تھے، پھر بیچ سے میں نے اسے کاٹ کر اپنی گردن میں ڈال لیا اور اپنی کمر کو کھجور کی شاخ سے باندھ دیا، مجھے بہت سخت بھوک لگی ہوئی تھی، اگر رسول اللہ ﷺ کے گھر میں کچھ کھانا ہوتا تو میں اس میں سے ضرور کھا لیتا، چناچہ میں کچھ کھانے کی تلاش میں نکلا، راستے میں ایک یہودی کے پاس سے گزرا جو اپنے باغ میں چرخی سے پانی دے رہا تھا، اس کو میں نے دیوار کی ایک سوراخ سے جھانکا تو اس نے کہا: اعرابی! کیا بات ہے؟ کیا تو ایک کھجور پر ایک ڈول پانی کھینچے گا؟ میں نے کہا: ہاں، اور اپنا دروازہ کھول دو تاکہ میں اندر آ جاؤں، اس نے دروازہ کھول دیا اور میں داخل ہوگیا، اس نے مجھے اپنا ڈول دیا، پھر جب بھی میں ایک ڈول پانی نکالتا تو وہ ایک کھجور مجھے دیتا یہاں تک کہ جب میری مٹھی بھر گئی تو میں نے اس کا ڈول چھوڑ دیا اور کہا کہ اتنا میرے لیے کافی ہے، چناچہ میں نے اسے کھایا اور دو تین گھونٹ پانی پیا، پھر میں مسجد میں آیا اور وہیں رسول اللہ ﷺ کو موجود پایا ١ ؎۔

Sayyidina Ali bin Abi Talib (RA) narrated: We were sitting with Allahs Messenger ﷺ in the mosque when Musab bin Umayr came to us. He had on him a cloak patched with fur. On seeing him, Allahs Messenger ﷺ wept recalling how he had lived in blessing and what hiscondition has become today. He said, "How will it be with you when one of you goes out tomorrow in a mantle and returns in a mantle and a dish is placed before him as another is removed, and you cover your homes as the Ka’bahh is covered." They said, "O Allahs Messenger, on that day, we shall be better than we are today having enough time to worship and enough of what we need." He said, "No, you are better today than you would be then." --------------------------------------------------------------------------------

ضعيف، التعليق الرغيب (3 / 109 - 110)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2473
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن غریب ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ صحابہ کرام کی زندگی کس قدر فقر و تنگ دستی سے دو چار تھی، یہاں تک کہ نبی اکرم ﷺ کی بھی یہی حالت تھی، اس فقر و فاقہ کے باوجود کسب حلال کا راستہ اپناتے تھے، اور جو کچھ میسر ہوتا اسی پر قانع ہوتے تھے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: ١٠٣٣٨) (ضعیف) (محمد بن کعب قرظی کے استاذ راوی مبہم ہیں )
2474Sunan At-Tirmidhi

حَدَّثَنَا أَبُو حَفْصٍ عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَبَّاسٍ الْجُرَيْرِيِّ، قَال: سَمِعْتُ أَبَا عُثْمَانَ النَّهْدِيَّ يُحَدِّثُ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّهُ أَصَابَهُمْ جُوعٌ فَأَعْطَاهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَمْرَةً تَمْرَةً ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.

ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ صحابہ کو ایک مرتبہ بھوک لگی تو رسول اللہ ﷺ نے ان سب کو صرف ایک ایک کھجور دی۔

Sayyidina Abu Hurairah (RA) said that (once when) they were afflicted with hunger, Allah’s Messenger ﷺ gave them a date each. [Bukhari 5411, Ibn e Majah 4157]

شاذ، ابن ماجة (4157)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2474
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/الزہد ١٢ (٤١٥٧) (تحفة الأشراف: ١٣٦١٧) (شاذ) (مؤلف اور ابن ماجہ کے یہاں جو متن ہے وہ صحیح بخاری میں اسی سند سے مروی متن سے مختلف ہے، صحیح بخاری میں فی نفر سات سات کھجوریں ملنے کا تذکرہ ہے، دیکھیے: صحیح البخاری/الأطعمة ٢٣ (٥٤١١)، و ٣٩ (٥٤٤٠ )