قیامت کا بیان

Sunan At-Tirmidhi · Chapter 34 · 112 hadiths · Page 4 of 6

2475Sunan At-Tirmidhi

حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ وَهْبِ بْنِ كَيْسَانَ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: بَعَثَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ ثَلَاثُ مِائَةٍ نَحْمِلُ زَادَنَا عَلَى رِقَابِنَا، فَفَنِيَ زَادُنَا حَتَّى إِنْ كَانَ يَكُونُ لِلرَّجُلِ مِنَّا كُلَّ يَوْمٍ تَمْرَةٌ، فَقِيلَ لَهُ: يَا أَبَا عَبْدِ اللَّهِ وَأَيْنَ كَانَتْ تَقَعُ التَّمْرَةُ مِنَ الرَّجُلِ ؟ فَقَالَ: لَقَدْ وَجَدْنَا فَقْدَهَا حِينَ فَقَدْنَاهَا، وَأَتَيْنَا الْبَحْرَ فَإِذَا نَحْنُ بِحُوتٍ قَدْ قَذَفَهُ الْبَحْرُ، فَأَكَلْنَا مِنْهُ ثَمَانِيَةَ عَشَرَ يَوْمًا مَا أَحْبَبْنَا ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَقَدْ رُوِيَ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، وَرَوَاهُ مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنْ وَهْبِ بْنِ كَيْسَانَ أَتَمَّ مِنْ هَذَا وَأَطْوَلَ.

جابر بن عبداللہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں تین سو کی تعداد میں بھیجا، ہم اپنا اپنا زاد سفر اٹھائے ہوئے تھے، ہمارا زاد سفر ختم ہوگیا نوبت یہاں تک پہنچ گئی کہ ہر آدمی کے حصہ میں صرف ایک ایک کھجور آتی تھی، ان سے کہا گیا: ابوعبداللہ! ایک کھجور سے آدمی کا کیا ہوتا ہوگا؟ جب وہ بھی ختم ہوگئی تو ہمیں اس کی قدر معلوم ہوئی، انہوں نے فرمایا: ہم سمندر کے کنارے پہنچے آخر ہمیں ایک مچھلی ملی، جسے سمندر نے باہر پھینک دیا تھا، چناچہ ہم اس میں سے اٹھارہ دن تک جس طرح چاہا سیر ہو کر کھاتے رہے ١ ؎۔

Sayyidina Jabir bin Abdullah (RA) narrated, "Allahs Messenger ﷺ sent us, three hundred men. We carried our provision on our riding beasts. Soon, our provision was exhausted and we only had one date for one man each day." Someone said to Jabir, "O Abu Abdullah, how could a date suffice one man?" He said, "When even that was exhausted, we realized its value. We then came upon a sea and suddenly found a fish that the sea had thrown on shore. We ate from it for eighteen days to our content." [Bukhari 2483, Muslim 935, Ibn e Majah 4159, Nisai 435]

صحيح، ابن ماجة (4159)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2475
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - یہ حدیث جابر کے واسطے سے دوسری سندوں سے بھی مروی ہے، ٣ - اس حدیث کو مالک بن انس نے وہب بن کیسان سے اس سے زیادہ مکمل اور مطول روایت کیا ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: معلوم ہوا کہ صحابہ کرام دنیا سے کس قدر بےرغبت تھے، فقر و تنگدستی کی وجہ سے ان کی زندگی کس طرح پریشانی کے عالم میں گزرتی تھی، اس کے باوجود بھوک کی حالت میں بھی ان کا جذبہ جہاد بلند ہوتا تھا، کیونکہ وہ صبر و ضبط سے کام لیتے تھے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الشرکة ١ (٢٤٨٣)، والجھاد ١٢٤ (٢٩٨٣)، والمغازي ٦٥ (٤٣٦٠-٤٣٦٢)، والأطعمة ١٢ (٥٤٩٤)، صحیح مسلم/الصید ٤ (١٩٣٥)، سنن النسائی/الصید ٣٥ (٤٣٥٦، ٤٣٥٩)، سنن ابن ماجہ/الزھد ١٢ (٤١٥٩) (تحفة الأشراف: ٣١٢٥)، موطا امام مالک/صفة النبی ١٠ (٢٤)، وسنن الدارمی/الصید ٦ (٢٠٥٥) (صحیح )
2476Sunan At-Tirmidhi

حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاق، حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ زِيَادٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ كَعْبٍ الْقُرَظِيِّ، حَدَّثَنِي مَنْ، سَمِعَ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ، يَقُولُ: إِنَّا لَجُلُوسٌ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْمَسْجِدِ إِذْ طَلَعَ عَلَيْنَا مُصْعَبُ بْنُ عُمَيْرٍ مَا عَلَيْهِ إِلَّا بُرْدَةٌ لَهُ مَرْقُوعَةٌ بِفَرْوٍ، فَلَمَّا رَآهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَكَى لِلَّذِي كَانَ فِيهِ مِنَ النِّعْمَةِ، وَالَّذِي هُوَ الْيَوْمَ فِيهِ، ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: كَيْفَ بِكُمْ إِذَا غَدَا أَحَدُكُمْ فِي حُلَّةٍ وَرَاحَ فِي حُلَّةٍ وَوُضِعَتْ بَيْنَ يَدَيْهِ صَحْفَةٌ وَرُفِعَتْ أُخْرَى وَسَتَرْتُمْ بُيُوتَكُمْ كَمَا تُسْتَرُ الْكَعْبَةُ ؟ قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ نَحْنُ يَوْمَئِذٍ خَيْرٌ مِنَّا الْيَوْمَ نَتَفَرَّغُ لِلْعِبَادَةِ وَنُكْفَى الْمُؤْنَةَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَأَنْتُمُ الْيَوْمَ خَيْرٌ مِنْكُمْ يَوْمَئِذٍ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ، وَيَزِيدُ بْنُ زِيَادٍ هُوَ ابْنُ مَيْسَرَةَ وَهُوَ مَدَنِيٌّ، وَقَدْ رَوَى عَنْهُ مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، وَغَيْرُ وَاحِدٍ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ، وَيَزِيدُ بْنُ زِيَادٍ الدِّمَشْقِيُّ الَّذِي رَوَى عَنِ الزُّهْرِيِّ، رَوَى عَنْهُ وَكِيعٌ، وَمَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ، وَيَزِيدُ بْنُ أَبِي زِيَادٍ كُوفِيٌّ رَوَى عَنْهُ سُفْيَانُ، وَشُعْبَةُ، وَابْنُ عُيَيْنَةَ، وَغَيْرُ وَاحِدٍ مِنَ الْأَئِمَّةِ.

علی ؓ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ مسجد میں بیٹھے ہوئے تھے کہ مصعب بن عمیر ١ ؎ آئے ان کے بدن پر چمڑے کی پیوند لگی ہوئی ایک چادر تھی، جب رسول اللہ ﷺ نے انہیں دیکھا تو ان کی اس ناز و نعمت کو دیکھ کر رونے لگے جس میں وہ پہلے تھے اور جس حالت میں ان دنوں تھے، پھر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: کیا حال ہوگا تمہارا اس وقت جب کہ تم میں سے ایک شخص ایک جوڑے میں صبح کرے گا تو دوسرے جوڑے میں شام کرے گا اور اس کے سامنے ایک برتن کھانے کا رکھا جائے گا تو دوسرا اٹھایا جائے گا، اور تم اپنے مکانوں میں ایسے ہی پردہ ڈالو گے جیسا کہ کعبہ پر پردہ ڈالا جاتا ہے؟ ٢ ؎، صحابہ نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا ہم اس وقت آج سے بہت اچھے ہوں گے اور عبادت کے لیے فارغ ہوں گے اور محنت و مشقت سے بچ جائیں گے؟ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: نہیں، بلکہ تم آج کے دن ان دنوں سے بہتر ہو ۔

Sayyidina Ali ibn Abu Talib narrated One wintry night, I went out of the house of Allah’s Messenger ﷺ . I took a bad smelling leather, slit it in the middle and put it on my neck and tied my waist with a branch of a palm tree. I was very hungry. If there had been some food in the Prophet’s r.L., house, I would have eaten from it. I was looking for something when I came across a Jew with his property. He was watering his garden with his water-wheel. I peeped inside through a hole in the wall. He said, “What is with you,O villager?” Will you draw a bucket against a date?” I said, “Yes. Open the gate that I may enter.” He opened it and I went in. He gave me a bucket. Against every bucket that I drew, he gave me a date till I had a handful; I returned the bucket and said, “Enough.” I ate them and then I drank the water. Then I came to the mosque and found Allah’s Messenger there.

ضعيف، المشکاة (5366 / التحقيق الثاني)، وانظر الحديث (2591) // ضعيف الجامع الصغير (4293) //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2476
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن غریب ہے، ٢ - یزید بن زیاد سے مراد یزید بن زیاد بن میسرہ مدنی ہیں، ان سے مالک بن انس اور دیگر اہل علم نے روایت کی ہے اور (دوسرے) یزید بن زیاد دمشقی وہ ہیں جنہوں نے زہری سے روایت کیا ہے اور ان سے (یعنی دمشقی سے) وکیع اور مروان بن معاویہ نے روایت کیا ہے، اور (تیسرے) یزید بن ابی زیاد کوفی ہیں ٣ ؎۔
Notes · وضاحت
١ ؎: مصعب بن عمیر ؓ جلیل القدر صحابہ میں سے ہیں، یہ اپنا سارا مال و متاع مکہ میں چھوڑ کر ہجرت کر کے رسول اللہ ﷺ کے پاس پہنچے، عقبہ ثانیہ کے بعد آپ نے ان کو قرآن کی تعلیم دینے اور دین کی باتیں سکھانے کے لیے مدینہ بھیجا، مدینہ میں ہجرت سے پہلے جمعہ کے لیے لوگوں کو سب سے پہلے جمع کرنے کا شرف انہی کو حاصل ہے، زمانہ جاہلیت میں سب سے زیادہ ناز و نعمت کی زندگی گزار نے والے تھے، لیکن اسلام لانے کے بعد ان سب سے انہیں بےرغبتی ہوگئی۔ ٢ ؎: یعنی ایک وقت ایسا آئے گا کہ مال ومتاع کی ایسی کثرت ہوجائے گی کہ صبح و شام کپڑے بدلے جائیں گے، قسم قسم کے کھانے لوگوں کے سامنے ہوں گے، لوگ اپنے مکانوں کی تزئین کریں گے، گھروں میں عمدہ اور قیمتی کپڑوں کے پردے لٹکائیں گے، جیسا کہ آج کل ہے۔ ٣ ؎: امام ترمذی ان تین لوگوں کے درمیان فرق بیان کر رہے ہیں جو یزید کے نام سے موسوم ہیں: ( ١ ) یزید بن زیاد بن میسرہ مدنی ہیں، جو اس حدیث کی سند میں مذکور ہیں ( ٢ ) یزید بن زیاد مشقی ہیں، ( ٣ ) یزید بن ابی زیاد کوفی ہیں۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف ٠ التحفة: ١٠٣٣٩) (ضعیف) (محمد بن کعب قرظی سے استاذ راوی مبہم ہیں )
2477Sunan At-Tirmidhi

حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ، حَدَّثَنِي عُمَرُ بْنُ ذَرٍّ، حَدَّثَنَا مُجَاهِدٌ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: كَانَ أَهْلُ الصُّفَّةِ أَضْيَافُ أَهْلِ الْإِسْلَامِ لَا يَأْوُونَ عَلَى أَهْلٍ وَلَا مَالٍ، وَاللَّهِ الَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ، إِنْ كُنْتُ لَأَعْتَمِدُ بِكَبِدِي عَلَى الْأَرْضِ مِنَ الْجُوعِ، وَأَشُدُّ الْحَجَرَ عَلَى بَطْنِي مِنَ الْجُوعِ، وَلَقَدْ قَعَدْتُ يَوْمًا عَلَى طَرِيقِهِمُ الَّذِي يَخْرُجُونَ فِيهِ، فَمَرَّ بِي أَبُو بَكْرٍ فَسَأَلْتُهُ عَنْ آيَةٍ مِنْ كِتَابِ اللَّهِ مَا أَسْأَلُهُ إِلَّا لِتَسْتَتْبِعَنِي، فَمَرَّ وَلَمْ يَفْعَلْ، ثُمَّ مَرَّ بِي عُمَرُ، فَسَأَلْتُهُ عَنْ آيَةٍ مِنْ كِتَابِ اللَّهِ مَا أَسْأَلُهُ إِلَّا لِيَسْتَتْبِعَنِي فَمَرَّ وَلَمْ يَفْعَلْ، ثُمَّ مَرَّ أَبُو الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: فَتَبَسَّمَ حِينَ رَآنِي، وَقَالَ: أَبَا هُرَيْرَةَ، قُلْتُ: لَبَّيْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: الْحَقْ، وَمَضَى فَاتَّبَعْتُهُ وَدَخَلَ مَنْزِلَهُ فَاسْتَأْذَنْتُ فَأَذِنَ لِي فَوَجَدَ قَدَحًا مِنْ لَبَنٍ، فَقَالَ: مِنْ أَيْنَ هَذَا اللَّبَنُ لَكُمْ، قِيلَ: أَهْدَاهُ لَنَا فُلَانٌ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَبَا هُرَيْرَةَ، قُلْتُ: لَبَّيْكَ، فَقَالَ: الْحَقْ إِلَى أَهْلِ الصُّفَّةِ فَادْعُهُمْ وَهُمْ أَضْيَافُ الْإِسْلَامِ لَا يَأْوُونَ عَلَى أَهْلٍ وَلَا مَالٍ إِذَا أَتَتْهُ صَدَقَةٌ بَعَثَ بِهَا إِلَيْهِمْ وَلَمْ يَتَنَاوَلْ مِنْهَا شَيْئًا، وَإِذَا أَتَتْهُ هَدِيَّةٌ أَرْسَلَ إِلَيْهِمْ فَأَصَابَ مِنْهَا وَأَشْرَكَهُمْ فِيهَا، فَسَاءَنِي ذَلِكَ وَقُلْتُ: مَا هَذَا الْقَدَحُ بَيْنَ أَهْلِ الصُّفَّةِ وَأَنَا رَسُولُهُ إِلَيْهِمْ، فَسَيَأْمُرُنِي أَنْ أُدِيرَهُ عَلَيْهِمْ، فَمَا عَسَى أَنْ يُصِيبَنِي مِنْهُ وَقَدْ كُنْتُ أَرْجُو أَنْ أُصِيبَ مِنْهُ مَا يُغْنِينِي، وَلَمْ يَكُنْ بُدٌّ مِنْ طَاعَةِ اللَّهِ وَطَاعَةِ رَسُولِهِ، فَأَتَيْتُهُمْ فَدَعَوْتُهُمْ، فَلَمَّا دَخَلُوا عَلَيْهِ فَأَخَذُوا مَجَالِسَهُمْ، فَقَالَ أَبَا هُرَيْرَةَ: خُذْ الْقَدَحَ وَأَعْطِهِمْ فَأَخَذْتُ الْقَدَحَ، فَجَعَلْتُ أُنَاوِلُهُ الرَّجُلَ فَيَشْرَبُ حَتَّى يَرْوَى، ثُمَّ يَرُدُّهُ، فَأُنَاوِلُهُ الْآخَرَ حَتَّى انْتَهَيْتُ بِهِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَدْ رَوَى الْقَوْمُ كُلُّهُمْ، فَأَخَذَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْقَدَحَ فَوَضَعَهُ عَلَى يَدَيْهِ ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ، فَتَبَسَّمَ، فَقَالَ: أَبَا هُرَيْرَةَ اشْرَبْ، فَشَرِبْتُ، ثُمَّ قَالَ: اشْرَبْ، فَلَمْ أَزَلْ أَشْرَبُ وَيَقُولُ: اشْرَبْ حَتَّى قُلْتُ: وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ مَا أَجِدُ لَهُ مَسْلَكًا، فَأَخَذَ الْقَدَحَ فَحَمِدَ اللَّهَ وَسَمَّى ثُمَّ شَرِبَ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ اہل صفہ مسلمانوں کے مہمان تھے، وہ مال اور اہل و عیال والے نہ تھے، قسم ہے اس معبود کی جس کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، بھوک کی شدت سے میں اپنا پیٹ زمین پر رکھ دیتا تھا اور بھوک سے پیٹ پر پتھر باندھ لیتا تھا، ایک دن میں لوگوں کی گزرگاہ پر بیٹھ گیا، اس طرف سے ابوبکر ؓ گزرے تو میں نے ان سے قرآن مجید کی ایک آیت اس وجہ سے پوچھی تاکہ وہ مجھے اپنے ساتھ لے جائیں لیکن وہ چلے گئے اور مجھے اپنے ساتھ نہیں لیا، پھر عمر ؓ گزرے، ان سے بھی میں نے کتاب اللہ کی ایک آیت پوچھی تاکہ وہ مجھے اپنے ساتھ لے جائیں مگر وہ بھی آگے بڑھ گئے اور مجھے اپنے ساتھ نہیں لے گئے۔ پھر ابوالقاسم ﷺ کا گزر ہوا تو آپ نے مجھے دیکھ کر مسکرایا اور فرمایا: ابوہریرہ! میں نے کہا: حاضر ہوں اللہ کے رسول! آپ نے فرمایا: ساتھ چلو اور آپ چل پڑے، میں بھی ساتھ میں ہو لیا، آپ اپنے گھر میں داخل ہوئے پھر میں نے بھی اجازت چاہی، چناچہ مجھے اجازت دے دی گئی، وہاں آپ نے دودھ کا ایک پیالہ پایا، دریافت فرمایا: یہ دودھ کہاں سے ملا؟ عرض کیا گیا: فلاں نے اسے ہدیہ بھیجا ہے، آپ ﷺ نے فرمایا: ابوہریرہ! میں نے کہا: حاضر ہوں، آپ نے فرمایا: جاؤ اہل صفہ کو بلا لاؤ، یہ مسلمانوں کے مہمان تھے ان کا کوئی ٹھکانہ نہیں تھا، گھربار تھا نہ کوئی مال، آپ ﷺ کے پاس جب کوئی صدقہ آتا تھا تو اسے ان کے پاس بھیج دیتے تھے، اس میں سے آپ کچھ نہیں لیتے تھے، اور جب کوئی ہدیہ آتا تو ان کو بلا بھیجتے، اس میں سے آپ بھی کچھ لے لیتے، اور ان کو بھی اس میں شریک فرماتے، لیکن اس ذرا سے دودھ کے لیے آپ کا مجھے بھیجنا ناگوار گزرا اور میں نے (دل میں) کہا: اہل صفہ کا کیا بنے گا؟ اور میں انہیں بلانے جاؤں گا، پھر آپ ﷺ مجھے ہی حکم دیں گے کہ اس پیالے میں جو کچھ ہے انہیں دوں، مجھے یقین ہے کہ اس میں سے مجھے کچھ نہیں ملے گا، حالانکہ مجھے امید تھی کہ اس میں سے مجھے اتنا ضرور ملے گا جو میرے لیے کافی ہوجائے گا، لیکن اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کے سوا کوئی چارہ بھی نہ تھا، چناچہ میں ان سب کو بلا لایا، جب وہ سب آپ کے پاس آئے اور اپنی اپنی جگہوں پر بیٹھ گئے تو آپ نے فرمایا: ابوہریرہ! یہ پیالہ ان لوگوں کو دے دو ، چناچہ میں وہ پیالہ ایک ایک کو دینے لگا، جب ایک شخص پی کر سیر ہوجاتا تو میں دوسرے شخص کو دیتا یہاں تک کہ میں رسول اللہ ﷺ تک پہنچ گیا، ساری قوم سیر ہوچکی تھی (یا سب لوگ سیر ہوچکے تھے) پھر آپ ﷺ نے وہ پیالہ لے کر اسے اپنے ہاتھ پر رکھا پھر اپنا سر اٹھایا اور مسکرا کر فرمایا: ابوہریرہ! یہ دودھ پیو ، چناچہ میں نے پیا، پھر آپ نے فرمایا: اسے پیو میں پیتا رہا اور آپ یہی فرماتے رہے یہاں تک کہ میں نے کہا: اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق لے کر بھیجا ہے اب میں پینے کی گنجائش نہیں پاتا، پھر آپ نے پیالہ لیا، اللہ کی حمد و ثنا بیان کی اور بسم اللہ کہہ کر دودھ پیا ١ ؎۔

Sayyidina Abu Hurairah (RA) ﷺ narrated: The Ahlus as Suffah were guests of the adherents of Islam. They owned no house and no property. By Allah besides Whom there is no God, I used to rest my liver on the ground and tie a stone on my belly because of severe hunger. One day, I sat down on the path on which they passed when Abu Bakr (RA) came by. I asked him about a verse from Allah’s Book and I did not ask him but only that he might take me along but he went away without doing that. Then, Umar came by and I asked him about a verse Book, and I had not asked him except that he might take me along, but he moved ahead without doing that. Then Abul Qasim came by and smiled on seeing me. I said, “Here I am, O Messenger of Allah.” He said, “Come along.” and walked ahead and I followed him. He entered his house and I sought his permission which he gave me. He found a bowl of milk and asked. ‘From where has this milk come to you.’ He was told “It is presented to us by so-and-so.”He said, “O Abu Hurayrah.” I said, “Here am I.” He said, “Fetch the Ahl as Suffah. Invite them. They are the guests of the Muslims. They own neither house nor property.” when he received charity, he sent that to them and did not take anything from it for himself. And when he received a gift, he summoned i, took from it and shared it with them.O But, I did not like it (that day) , for, he sent me to summon them over a bowl of milk. What is a bowl of milk for them? He will then ask me to take the bowl round to, each of them and I will find nothing for me while I had hoped to drink from it to satiation point. And it was just that much. However I had to obey. so like it or not I fetched them. When they came in and sat down at their places, he gave me the bowl, saying. “Give them to drink.” I gave it to each, one by one. Everyone drank to his full and returned the bowl to me and I gave it to the next man till I had finished with them and come to Allah’s Messenger. He took the bowl and kept it in his hand, raised his head and smiled. He said, “O Abu Hurayrah, drink!" So, I drank from it. He said again, “Drink!” And I did not cease to drink and he to say, "Drink!", till I said, “By Him Who sent you with the truth, I find no possibility for any more.” So, he took the bowl, praised Allah, took his name and drank. [Ahmed 10684, Bukhari 6246] --------------------------------------------------------------------------------

صحيحصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2477
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ جو لوگ اہل و عیال اور مال والے نہ ہوں ان کا خاص خیال رکھا جائے، اصحاب صفہ کے ساتھ نبی اکرم ﷺ کی محبت اسی خاص خیال کا نتیجہ ہے، آپ کے پاس جب ہدیہ کی کوئی چیز آتی تو اس میں دوسروں کو بھی شریک کرتے تھے، دودھ کی کثرت یہ آپ کے معجزہ کی دلیل ہے، یہ بھی معلوم ہوا کہ مہمان کو مزید کھانے پینے کے لیے کہنا چاہیئے، اور کھانے کی مقدار اگر کافی ہے تو خوب سیر ہو کر کھانا پینا بھی جائز ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الاستئذان ١٤ (٦٢٤٦) (مختصرا) والرقاق ١٧ (٦٤٥٢) (تحفة الأشراف: ١٤٣٤٤) (صحیح )
2478Sunan At-Tirmidhi

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حُمَيْدٍ الرَّازِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْقُرَشِيُّ، حَدَّثَنَا يَحْيَى الْبَكَّاءُ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: تَجَشَّأَ رَجُلٌ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: كُفَّ عَنَّا جُشَاءَكَ فَإِنَّ أَكْثَرَهُمْ شِبَعًا فِي الدُّنْيَا أَطْوَلُهُمْ جُوعًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ، وفي الباب عن أَبِي جُحَيْفَةَ.

عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ کے پاس ایک شخص نے ڈکار لیا، تو آپ نے فرمایا: تم اپنی ڈکار ہم سے دور رکھو اس لیے کہ دنیا میں سب سے زیادہ پیٹ بھر کر کھانے والا قیامت کے دن سب سے زیادہ بھوکا رہے گا ١ ؎۔

Sayyidina Ibn Umar (RA) reported that a man let out a belch in the presence of the Prophet ﷺ . He said, “Keep your belch away from us for, those who eat much to overfill their bellies in this world will have a lengthy hunger on the Day of Resurrection.” [Ibn e Majah 3350] --------------------------------------------------------------------------------

حسن، ابن ماجة (3350 - 3351)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2478
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث اس سند سے حسن غریب ہے، ٢ - اس باب میں ابوجحیفہ ؓ سے بھی روایت ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: ڈکار عموماً زیادہ کھانے سے آتی ہے، اس لیے آپ نے اس آدمی سے یہ فرمایا اور اگر ڈکار گیس کی بیماری کی وجہ سے آئے تو اس ڈکار پر یہ حدیث صادق نہیں آئے گی، کیونکہ یہ تو مجبوری کی حالت میں ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/الأطعمة ٥٠ (٣٣٥٠، ٣٣٥١) (تحفة الأشراف: ٨٥٦٣) (حسن )
2479Sunan At-Tirmidhi

حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ بْنِ أَبِي مُوسَى، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: يَا بُنَيَّ لَوْ رَأَيْتَنَا وَنَحْنُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصَابَتْنَا السَّمَاءُ لَحَسِبْتَ أَنَّ رِيحَنَا رِيحُ الضَّأْنِ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ، وَمَعْنَى هَذَا الْحَدِيثِ أَنَّهُ كَانَ ثِيَابَهُمُ الصُّوفُ فَإِذَا أَصَابَهُمُ الْمَطَرُ يَجِيءُ مِنْ ثِيَابِهِمْ رِيحُ الضَّأْنِ.

ابوموسیٰ اشعری ؓ کہتے ہیں کہ انہوں نے کہا: اے میرے بیٹے! اگر تم ہمیں اس وقت دیکھتے جب ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تھے اور ہمیں بارش نصیب ہوتی تھی تو تم خیال کرتے کہ ہماری بو بھیڑ کی بو جیسی ہے۔

Sayyidina Abu Musa (RA) said to his son, Son, if you had observed us during times of the Prophet ﷺ while rain fell on us, you would have perceived on us the odour of a ram.’ [Ahmed 19779, Abu Dawud 4033, Ibn e Majah 3562]

صحيح، ابن ماجة (3562)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2479
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث صحیح ہے، ٢ - اس حدیث کا مطلب یہ ہے کہ صحابہ کے کپڑے اون کے ہوتے تھے، جب اس پر بارش کا پانی پڑتا تو اس سے بھیڑ کی جیسی بو آنے لگتی تھی ١ ؎۔
Notes · وضاحت
١ ؎: اس وقت اون کا کپڑا موٹا جھوٹا ہوتا تھا، جیسا گڈریوں کا ہوتا ہے، آج کل کا قیمتی اونی کپڑا مراد نہیں ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/ اللباس ٦ (٤٠٣٣)، سنن ابن ماجہ/اللباس ٤ (٣٥٦٢) (تحفة الأشراف: ٩١٢٦) (صحیح )
2480Sunan At-Tirmidhi(2481)

حَدَّثَنَا عَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ الْمُقْرِئُ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي مَرْحُومٍ عَبْدِ الرَّحِيمِ بْنِ مَيْمُونٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ مُعَاذِ بْنِ أَنَسٍ الْجُهَنِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: مَنْ تَرَكَ اللِّبَاسَ تَوَاضُعًا لِلَّهِ وَهُوَ يَقْدِرُ عَلَيْهِ دَعَاهُ اللَّهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَلَى رُءُوسِ الْخَلَائِقِ حَتَّى يُخَيِّرَهُ مِنْ أَيِّ حُلَلِ الْإِيمَانِ شَاءَ يَلْبَسُهَا ، هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ، وَمَعْنَى قَوْلِهِ حُلَلِ الْإِيمَانِ: يَعْنِي مَا يُعْطَى أَهْلُ الْإِيمَانِ مِنْ حُلَلِ الْجَنَّةِ.

معاذ بن انس جہنی ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو شخص زینت کا لباس خالص اللہ کی رضا مندی اور اس کی تواضع کی خاطر چھوڑ دے باوجود یہ کہ وہ اسے میسر ہے تو اللہ تعالیٰ ایسے شخص کو قیامت کے دن تمام خلائق کے سامنے بلائے گا تاکہ وہ اہل ایمان کے لباس میں سے جسے چاہے پسند کرے، اور پہنے۔

Sayyidina Mu’adh ibn Anas Juhanni (RA) reported that Allah’s Messegner ﷺ said, “If anyone refrains from wearing good garments out of humility towards Allah though he is capable of wearing that then Allah will summon him on the Day of Resurrection at the head of all creatures and give him choice to wear any of the dresses of faith.”

حسن، الصحيحة (717)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2481
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن ہے، ٢ - «حلل الإيمان» سے جنت کے وہ لباس مراد ہیں جو اہل ایمان کو دیئے جائیں گے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: ١١٣٠٢) (حسن )
2481Sunan At-Tirmidhi(2482)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حُمَيْدٍ الرَّازِيُّ، حَدَّثَنَا زَافِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ إِسْرَائِيلَ، عَنْ شَبِيبِ بْنِ بَشِيرٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: النَّفَقَةُ كُلُّهَا فِي سَبِيلِ اللَّهِ إِلَّا الْبِنَاءَ فَلَا خَيْرَ فِيهِ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ، هَكَذَا قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ حَمَيْدٍ، شَبِيبُ بْنُ بَشِيرٍ وَإِنَّمَا هُوَ شَبِيبُ بْنُ بِشْرٍ.

انس بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: نفقہ سب کا سب اللہ کی راہ میں ہے سوائے اس نفقہ کے جو گھر بنانے میں صرف ہوتا ہے کیونکہ اس میں کوئی خیر نہیں ہے ۔

Sayyidina Anas ibn Maalik (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said,“Every spending is in the path of Allah, except (on) construction. There is no good in it.”

ضعيف، الضعيفة (1061)، التعليق الرغيب (2 / 113) // ضعيف الجامع الصغير (5994) //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2482
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث غریب ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: ٩٠١) (ضعیف) (سند میں زافر سخت وہم کے شکار ہوجاتے تھے، اور شبیب روایت میں غلطیاں کر جاتے تھے )
2482Sunan At-Tirmidhi(2483)

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، أَخْبَرَنَا شَرِيكٌ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ حَارِثَةَ بْنِ مُضَرِّبٍ، قَالَ: أَتَيْنَا خَبَّابًا نَعُودُهُ وَقَدِ اكْتَوَى سَبْعَ كَيَّاتٍ، فَقَالَ: لَقَدْ تَطَاوَلَ مَرَضِي، وَلَوْلَا أَنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: لَا تَمَنَّوْا الْمَوْتَ لَتَمَنَّيْتُ، وَقَالَ: يُؤْجَرُ الرَّجُلُ فِي نَفَقَتِهِ كُلِّهَا إِلَّا التُّرَابَ، أَوْ قَالَ: فِي الْبِنَاءِ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.

حارثہ بن مضرب کہتے ہیں کہ ہم خباب ؓ کے پاس عیادت کرنے کے لیے آئے، انہوں نے اپنے بدن میں سات داغ لگوا رکھے تھے، انہوں نے کہا: یقیناً میرا مرض بہت لمبا ہوگیا ہے، اگر میں رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے نہ سنا ہوتا کہ موت کی تمنا نہ کرو ، تو میں ضرور اس کی تمنا کرتا، اور آپ نے فرمایا: آدمی کو ہر خرچ میں ثواب ملتا ہے سوائے مٹی میں خرچ کرنے کے ، یا فرمایا: گھر بنانے میں ١ ؎۔

Harithah ibn Mudarriab (RA) narrated: We visited Khabbab to enqiure about his health. He had got himself branded seven times. He said, “My illness has prolonged and if I had not heard Allahs Messenger ﷺ say, "Do not yearn for death’. I would have longed for it." He also said, “A man is rewarded for his spending except on dust.” [Ahmed 2111, Bukhari 5672, Ibn e Majah 41631]

صحيح ومضی (970) // هذا رقم الدع اس، وهو عندنا برقم (776 - 984) //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2483
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی جو اپنی ضرورت سے زائد عمارت پر خرچ ہوتا ہے اس پر کچھ بھی ثواب نہیں ملتا، ویسے انسان کو سر چھپانے، گرمی، سردی کی شدت اور بارش وغیرہ سے بچاؤ کے لیے ایک مکان کی ضرورت ہوتی ہے، کیونکہ یہ انسانی زندگی کے لیے ناگزیر ہے، حدیث میں مذکورہ وعید ایسی تعمیرات سے متعلق ہے جو ضرورت سے زائد ہوں یا جن پر اسراف سے خرچ کیا جائے۔
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم ٩٧٠ (صحیح )
2483Sunan At-Tirmidhi(2480)

حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا الْجَارُودُ بْنُ مُعَاذٍ، حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى، عَنْ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ، عَنْ أَبِي حَمْزَةَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ النَّخَعِيِّ، قَالَ: الْبِنَاءُ كُلُّهُ وَبَالٌ، قُلْتُ: أَرَأَيْتَ مَا لَا بُدَّ مِنْهُ، قَالَ: لَا أَجْرَ وَلَا وِزْرَ .

ابوحمزہ سے روایت ہے کہ ابراہیم نخعی کہتے ہیں: گھر مکان سب کا سب ہر عمارت باعث وبال ہے، میں نے کہا: اس مکان کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے، جسے بنائے بغیر چارہ نہیں انہوں نے کہا: نہ اس میں کوئی اجر ہے اور نہ کوئی گناہ۔

ضعيف الإسناد مقطوعصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2480
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: ١٨٤١٤) (ضعیف الإسناد )
2484Sunan At-Tirmidhi

حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ طَهْمَانَ أَبُو الْعَلَاءِ، حَدَّثَنَا حُصَيْنٌ، قَالَ: جَاءَ سَائِلٌ فَسَأَلَ ابْنَ عَبَّاسٍ، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ لِلسَّائِلِ: أَتَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ؟ قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: أَتَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ ؟ قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: وَتَصُومُ رَمَضَانَ ؟ قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: سَأَلْتَ وَلِلسَّائِلِ حَقٌّ إِنَّهُ لَحَقٌّ عَلَيْنَا أَنْ نَصِلَكَ، فَأَعْطَاهُ ثَوْبًا، ثُمَّ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: مَا مِنْ مُسْلِمٍ كَسَا مُسْلِمًا ثَوْبًا إِلَّا كَانَ فِي حِفْظِ مِنَ اللَّهِ مَا دَامَ مِنْهُ عَلَيْهِ خِرْقَةٌ ، قَالَ: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ.

حصین کہتے ہیں کہ ایک سائل نے آ کر ابن عباس ؓ سے کچھ مانگا تو ابن عباس نے سائل سے کہا: کیا تم یہ گواہی دیتے ہو کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں ہے؟ اس نے کہا: ہاں، آپ نے کہا: کیا تم یہ گواہی دیتے ہو کہ محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں؟ اس نے کہا: ہاں، آپ نے کہا: کیا تم رمضان کے روزے رکھتے ہو؟ اس نے کہا: ہاں، آپ نے کہا: تم نے سوال کیا اور سائل کا حق ہوتا ہے، بیشک ہمارے اوپر ضروری ہے کہ ہم تمہارے ساتھ حسن سلوک کریں، چناچہ انہوں نے اسے ایک کپڑا دیا اور کہا: میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے: جو کوئی مسلمان کسی مسلمان بھائی کو کوئی کپڑا پہناتا ہے تو وہ اللہ کی امان میں اس وقت تک رہتا ہے جب تک اس کپڑے کا ایک ٹکڑا بھی اس پر باقی رہتا ہے ۔

Husain reported that a beggar pleaded with Ibn Abbas (RA) . He asked him, “Do you testify that there is no God but Allah”? He said “Yes.” He asked the beggar if he bore witness that Muhammad is Allah’s Messenger. He said, “Yes.” He asked, “And do you fast during Ramadan"? He said, “Yes.” He said. “You begged and a beggar has a right and it is our duty to give you something. So, he gave him a garment, and said, “I heard Allah’s Messenger ﷺ say, "No Muslim will clothe a Muslim a garment without being in Allah’s protection as long as a rag of this garment is on the man.” --------------------------------------------------------------------------------

ضعيف، المشکاة (1920)، التعليق الرغيب (3 / 112) // ضعيف الجامع الصغير (5217) //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2484
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث اس سند سے حسن غریب ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: ٥٤٠٩) (ضعیف) (سند میں خالد بن طہمان مختلط ہوگئے تھے )
2485Sunan At-Tirmidhi

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ، وَمُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، وَابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، وَيَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ عَوْفِ بْنِ أَبِي جَمِيلَةَ الْأَعْرَابِيِّ، عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَامٍ، قَالَ: لَمَّا قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ انْجَفَلَ النَّاسُ إِلَيْهِ وَقِيلَ: قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَجِئْتُ فِي النَّاسِ لِأَنْظُرَ إِلَيْهِ فَلَمَّا اسْتَثْبَتُّ وَجْهَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَرَفْتُ أَنَّ وَجْهَهُ لَيْسَ بِوَجْهِ كَذَّابٍ، وَكَانَ أَوَّلُ شَيْءٍ تَكَلَّمَ بِهِ أَنْ قَالَ: أَيُّهَا النَّاسُ أَفْشُوا السَّلَامَ، وَأَطْعِمُوا الطَّعَامَ، وَصَلُّوا وَالنَّاسُ نِيَامٌ، تَدْخُلُوا الْجَنَّةَ بِسَلَامٍ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ.

عبداللہ بن سلام ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جب مدینہ تشریف لائے تو لوگ آپ کی طرف دوڑ پڑے، اور کہنے لگے: اللہ کے رسول آ گئے، اللہ کے رسول آ گئے، اللہ کے رسول آ گئے، چناچہ میں بھی لوگوں کے ساتھ آیا تاکہ آپ کو دیکھوں، پھر جب میں نے آپ ﷺ کا چہرہ مبارک اچھی طرح دیکھا تو پہچان گیا کہ یہ کسی جھوٹے کا چہرہ نہیں ہوسکتا، اور سب سے پہلی بات جو آپ نے کہی وہ یہ تھی لوگو! سلام پھیلاؤ، کھانا کھلاؤ اور رات میں جب لوگ سو رہے ہوں تو نماز پڑھو، تم لوگ سلامتی کے ساتھ جنت میں داخل ہو گے ١ ؎۔

Sayyidina Abdullah ibn Salaam (RA) narrated: When the Prophet ﷺ came to Madina with his migration; people rushed to him and exclaimed, “Allah’s Messenger ﷺ has come!’ I also went to see him with the people. When my eyes fell on him, I could not help say. “This cannot be the face of a liar.” At this juncture, he said for the first time, “O People! Spread salaam. Feed people. When people are asleep in the night, offer salah and enter Paradise in peace.” [Ibn e Majah 1334, 3251] --------------------------------------------------------------------------------

صحيح، ابن ماجة (1334 و 3251)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2485
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث صحیح ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: یہ وہ مومنانہ خصائل و عادات ہیں کہ ان میں سے ہر خصلت جنت میں لے جانے کا سبب ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/الإقامة ١٧٤ (١٣٣٤)، والأطعمة ١ (٣٢٥١) (تحفة الأشراف: ٥٣٣١)، و مسند احمد (٥/٤٥١) (صحیح )
2486Sunan At-Tirmidhi

حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ مُوسَى الْأَنْصَارِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَعْنٍ الْمَدَنِيُّ الْغِفَارِيُّ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: الطَّاعِمُ الشَّاكِرُ بِمَنْزِلَةِ الصَّائِمِ الصَّابِرِ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ.

ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: کھانا کھا کر اللہ کا شکر ادا کرنے والا (اجر و ثواب میں) صبر کرنے والے روزہ دار کے برابر ہے ۔

Sayyidina Abu Hurairah (RA) reported that the Prophet ﷺ said, "The grateful eater (who thanks on eating) is like the patient person who fasts.” [Ibn e Majah 1764, Ahmed 7811] --------------------------------------------------------------------------------

صحيح، ابن ماجة (1764 و 1765)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2486
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن غریب ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/الصوم ٥٥ (١٧٦٤، ١٧٦٥) (تحفة الأشراف: ١٣٠٧٢)، و مسند احمد (٢/٢٨٣) (صحیح )
2487Sunan At-Tirmidhi

حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ الْحَسَنِ الْمَرْوَزِيُّ بِمَكَّةَ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: لَمَّا قَدِمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ، أَتَاهُ الْمُهَاجِرُونَ، فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا رَأَيْنَا قَوْمًا أَبْذَلَ مِنْ كَثِيرٍ وَلَا أَحْسَنَ مُوَاسَاةً مِنْ قَلِيلٍ مِنْ قَوْمٍ نَزَلْنَا بَيْنَ أَظْهُرِهِمْ، لَقَدْ كَفَوْنَا الْمُؤْنَةَ، وَأَشْرَكُونَا فِي الْمَهْنَإِ حَتَّى لَقَدْ خِفْنَا أَنْ يَذْهَبُوا بِالْأَجْرِ كُلِّهِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا مَا دَعَوْتُمُ اللَّهَ لَهُمْ وَأَثْنَيْتُمْ عَلَيْهِمْ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ.

انس ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ جب مدینہ تشریف لائے تو آپ کے پاس مہاجرین نے آ کر عرض کیا: اللہ کے رسول! جس قوم کے پاس ہم آئے ہیں ان سے بڑھ کر ہم نے کوئی قوم ایسی نہیں دیکھی جو اپنے مال بہت زیادہ خرچ کرنے والی ہے اور تھوڑے مال ہونے کی صورت میں بھی دوسروں کے ساتھ غم خواری کرنے والی ہے۔ چناچہ انہوں نے ہم کو محنت و مشقت سے باز رکھا اور ہم کو آرام و راحت میں شریک کیا یہاں تک کہ ہمیں خوف ہے کہ ہماری ساری نیکیوں کا ثواب کہیں انہیں کو نہ مل جائے؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: بات ایسی نہیں ہے جیسا تم نے سمجھا ہے جب تک تم لوگ اللہ سے ان کے لیے دعائے خیر کرتے رہو گے اور ان کا شکریہ ادا کرتے رہو گے ١ ؎۔

صحيح، المشکاة (3206)، التعليق الرغيب (2 / 56 )صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2487
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث اس سند سے حسن صحیح غریب ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی جب تک تم ان کے حق میں خیر کی دعا کرتے رہو گے تو تمہاری یہ دعائیں ان کی نیکیوں کے بالمقابل ہوں گی، اور اس کا ثواب تمہیں ملے گا، اور تمہاری یہی دعائیں ان کی اس محنت و مشقت کا بدل ہوں گی جو انہوں نے تمہاری خاطر کیا۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: ٧٥٥) (صحیح )
2488Sunan At-Tirmidhi

حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو الْأَوْدِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِمَنْ يَحْرُمُ عَلَى النَّارِ ؟ أَوْ بِمَنْ تَحْرُمُ عَلَيْهِ النَّارُ ؟ عَلَى كُلِّ قَرِيبٍ هَيِّنٍ سَهْلٍ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ.

عبداللہ بن مسعود ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: کیا میں تمہیں ایسے لوگوں کی خبر نہ دوں جو جہنم کی آگ پر یا جہنم کی آگ ان پر حرام ہے؟ جہنم کی آگ لوگوں کے قریب رہنے والے، آسانی کرنے والے، اور نرم اخلاق والے پر حرام ہے ١ ؎۔

Sayyidina Abdullah ibn Mas’ud (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “Shall I not point out to you a person whom the Fire is forbidden to touch and who is forbidden to the Fire? He is the one who makes things easy for the relatives.”

صحيح، الصحيحة (935)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2488
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن غریب ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی جو اپنے حسن اخلاق اور حسن معاملہ سے لوگوں کے دلوں میں اور دنیاوی معاملات میں دوسروں کے ساتھ آسانی، نرمی، تواضع اور مشفقانہ طرز اپنانے والا ہے اس کے لیے جہنم کی آگ حرام ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: ٩٣٤٧) (صحیح )
2489Sunan At-Tirmidhi

حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ الْحَكَمِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الْأَسْوَدِ بْنِ يَزِيدَ، قَالَ: قُلْتُ عَائِشَةَ: أَيُّ شَيْءٍ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصْنَعُ إِذَا دَخَلَ بَيْتَهُ ؟ قَالَتْ: كَانَ يَكُونَ فِي مَهْنَةِ أَهْلِهِ فَإِذَا حَضَرَتِ الصَّلَاةُ قَامَ فَصَلَّى ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.

اسود بن یزید کہتے ہیں کہ میں نے عائشہ ؓ سے پوچھا کیا: رسول اللہ ﷺ جب اپنے گھر میں داخل ہوتے تھے تو کیا کرتے تھے؟ کہا: آپ ﷺ اپنے گھر والوں کے کام کاج میں مشغول ہوجاتے تھے، پھر جب نماز کا وقت ہوجاتا تو کھڑے ہوتے اور نماز پڑھنے لگتے تھے ١ ؎۔

Aswad ibnYazid (RA) narrated: I asked Sayyidah Aaisha (RA) “What did the Prophet ﷺ do on entering his home”? She said, “He helped in the household chores and when it was the time of Salah, he offered Salah”? [Ahmed 24957, Bukhari 676]

صحيح مختصر الشمائل (293)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2489
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: اس حدیث میں تواضع کے اپنانے، غرور و تکبر چھوڑنے اور اپنے اہل و عیال کی خدمت کرنے کی ترغیب ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الأذان ٤٤ (٦٧٦)، النفقات ٨ (٥٣٦٣)، والأدب ٤٠ (٦٠٣٩) (تحفة الأشراف: ١٥٩٢٩) (صحیح )
2490Sunan At-Tirmidhi

حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ زَيْدٍ التَّغْلَبِيِّ، عَنْ زَيْدٍ الْعَمِّيِّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا اسْتَقْبَلَهُ الرَّجُلُ فَصَافَحَهُ لَا يَنْزِعُ يَدَهُ مِنْ يَدِهِ حَتَّى يَكُونَ الرَّجُلُ يَنْزِعُ، وَلَا يَصْرِفُ وَجْهَهُ عَنْ وَجْهِهِ حَتَّى يَكُونَ الرَّجُلُ هُوَ الَّذِي يَصْرِفُهُ، وَلَمْ يُرَ مُقَدِّمًا رُكْبَتَيْهِ بَيْنَ يَدَيْ جَلِيسٍ لَهُ ، قَالَ: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ.

انس ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ کے سامنے جب کوئی شخص آتا اور آپ سے مصافحہ کرتا تو آپ اپنا ہاتھ اس کے ہاتھ سے نہیں نکالتے جب تک وہ شخص خود اپنا ہاتھ نہ نکال لیتا، اور آپ اپنا رخ اس کی طرف سے نہیں پھیرتے، جب تک کہ وہ خود اپنا رخ نہ پھیر لیتا، اور آپ نے اپنے کسی ساتھی کے سامنے کبھی پاؤں نہیں پھیلائے۔

Amr ibn Shu’ayb (RA) reported from his father on the authority of his grandfather that the Prophet ﷺ said, “The arrogant will be (rasied and) gathered on the Day of Resurrection as ants in the garb of mankind.They will be covered with disgrace from all sides and they will be driven to a cell in Hell named Bulas. They will boil in the fire of Fires and will be given to drink the pus of the people of the Fire, extremely bad in odour.” [Ahmed 6689]

ضعيف إلا جملة المصافحة فهي ثابتة، ابن ماجة (3716)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2490
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث غریب ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/الأدب ٢١ (٣٧١٦) (تحفة الأشراف: ٨٤١) (ضعیف) (سند میں زید العمی ضعیف راوی ہیں، مگر مصافحہ والا ٹکڑا دیگر احادیث سے ثابت ہے )
2491Sunan At-Tirmidhi

حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: خَرَجَ رَجُلٌ مِمَّنْ كَانَ قَبْلَكُمْ فِي حُلَّةٍ لَهُ يَخْتَالُ فِيهَا فَأَمَرَ اللَّهُ الْأَرْضَ فَأَخَذَتْهُ فَهُوَ يَتَجَلْجَلُ فِيهَا، أَوْ قَالَ: يَتَلَجْلَجُ فِيهَا إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ.

عبداللہ بن عمرو ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تم سے اگلی امتوں میں سے ایک شخص ایک جوڑا پہن کر اس میں اتراتا ہوا نکلا چناچہ اللہ تعالیٰ نے زمین کو حکم دیا اور زمین نے اس کو مضبوطی سے پکڑ لیا، پس وہ قیامت کے دن تک زمین میں دھنستا چلا جا رہا ہے ١ ؎۔

Sayyidina Abdullah ibn Amar (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “A man among those who were before you went out dressed in his cloak, boasting about it. So Allah commanded the earth and it seized him. He will now go on sinking into it till the last Hour.”

صحيح صحيح الجامع (3217)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2491
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث صحیح ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: معلوم ہوا کہ اللہ کی عطا کردہ نعمت کا شکر گزار ہونا چاہیئے، خود پسندی اور تکبر میں مبتلا ہو کر اپنی حیثیت کو کبھی فراموش نہیں کرنا چاہیئے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: ٨٦٤٣) (صحیح )
2492Sunan At-Tirmidhi

حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَجْلَانَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْجَدِّهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: يُحْشَرُ الْمُتَكَبِّرُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَمْثَالَ الذَّرِّ فِي صُوَرِ الرِّجَالِ يَغْشَاهُمُ الذُّلُّ مِنْ كُلِّ مَكَانٍ، فَيُسَاقُونَ إِلَى سِجْنٍ فِي جَهَنَّمَ يُسَمَّى بُولَسَ تَعْلُوهُمْ نَارُ الْأَنْيَارِ، يُسْقَوْنَ مِنْ عُصَارَةِ أَهْلِ النَّارِ طِينَةَ الْخَبَالِ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.

عبداللہ بن عمرو بن عاص ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: متکبر (گھمنڈ کرنے والے) لوگوں کو قیامت کے دن میدان حشر میں چھوٹی چھوٹی چیونٹیوں کے مانند لوگوں کی صورتوں میں لایا جائے گا، انہیں ہر جگہ ذلت ڈھانپے رہے گی، پھر وہ جہنم کے ایک ایسے قید خانے کی طرف ہنکائے جائیں گے جس کا نام «بولس» ہے۔ اس میں انہیں بھڑکتی ہوئی آگ ابالے گی، وہ اس میں جہنمیوں کے زخموں کی پیپ پئیں گے جسے «طينة الخبال» کہتے ہیں، یعنی سڑی ہوئی بدبودار کیچڑ ۔

حسن، المشکاة (5112 / التحقيق الثانی)، التعليق الرغيب (4 / 18)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2492
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف (أخرجہ النسائي في الکبری) (تحفة الأشراف: ٨٨٠٠) (حسن )
2493Sunan At-Tirmidhi

حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، وَعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ، قَالَا: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ الْمُقْرِئُ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي أَيُّوبَ، حَدَّثَنِي أَبُو مَرْحُومٍ عَبْدُ الرَّحِيمِ بْنُ مَيْمُونٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ مُعَاذِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: مَنْ كَظَمَ غَيْظًا وَهُوَ يَقْدِرُ عَلَى أَنْ يُنَفِّذَهُ دَعَاهُ اللَّهُ عَلَى رُءُوسِ الْخَلَائِقِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ حَتَّى يُخَيِّرَهُ فِي أَيِّ الْحُورِ شَاءَ ، قَالَ: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ.

معاذ بن انس ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جس نے غصہ پر قابو پا لیا اس حال میں کہ اس کے کر گزرنے پر قادر تھا، تو قیامت کے روز اللہ تعالیٰ اسے تمام لوگوں کے سامنے بلائے گا اور اختیار دے گا کہ وہ جنت کی حوروں میں سے جسے چاہے پسند کرلے ۔

SahI ibn Mu’az ibn Anas (RA) reported on the authority of his father that Prophet ﷺ said, “He who checks anger while he is able to give vent to it (will find that) Allah summons him over the heads of the creatures (over the Day of Resurrection) that he may choose whichever of the maidens of Paradise he wishes.” [Ahmed 15637]

**صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2493
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن غریب ہے۔
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم ٢٠٢١ (صحیح )
2494Sunan At-Tirmidhi

حَدَّثَنَا سَلَمَةُ بْنُ شَبِيبٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْغِفَارِيُّ الْمَدَنِيُّ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ثَلَاثٌ مَنْ كُنَّ فِيهِ نَشَرَ اللَّهُ عَلَيْهِ كَنَفَهُ وَأَدْخَلَهُ جَنَّتَهُ، رِفْقٌ بِالضَّعِيفِ، وَشَفَقَةٌ عَلَى الْوَالِدَيْنِ، وَإِحْسَانٌ إِلَى الْمَمْلُوكِ ، قَالَ: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْمُنْكَدِرِ هُوَ أَخُو مُحَمَّدُ بْنُ الْمُنْكَدِرِ.

جابر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تین خصلتیں ایسی ہیں کہ یہ جس کے اندر پائی جائیں تو قیامت کے روز اللہ اپنی رحمت کے سایہ تلے رکھے گا، اور اسے اپنی جنت میں داخل کرے گا۔ ( ١ ) ضعیفوں کے ساتھ نرم برتاؤ کرے ( ٢ ) ماں باپ کے ساتھ شفقت و محبت کا برتاؤ کرے، ( ٣ ) لونڈیوں اور غلاموں پر احسان کرے ۔

Sayyidina Jabir (RA) reported that Allah’s Messegner ﷺ said, ‘If anyone has three characteristics, Allah will raise him by His side (in His protection) and admit him to Paradise. They are: being mild to the weak, being kind to parents and being kind to slaves.”

موضوع، الضعيفة (92) // ضعيف الجامع الصغير (2556) //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2494
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن غریب ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: ٣١٤٦) (موضوع) (سند میں عبد اللہ بن ابراہیم کذاب، اور اس کا باپ مجہول راوی ہے )