ابوذر غفاری ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: اے میرے بندو! تم سب گمراہ ہو، سوائے اس کے جسے میں ہدایت دوں، اس لیے تم سب مجھ سے ہدایت مانگو میں تمہیں ہدایت دوں گا، اور تم سب کے سب محتاج ہو سوائے اس کے جسے میں غنی (مالدار) کر دوں، اس لیے تم مجھ ہی سے مانگو میں تمہیں رزق دوں گا، اور تم سب گنہگار ہو، سوائے اس کے جسے میں عافیت دوں سو جسے یہ معلوم ہے کہ میں بخشنے پر قادر ہوں پھر وہ مجھ سے مغفرت چاہتا ہے تو میں اسے معاف کردیتا ہوں، اور مجھے کوئی پرواہ نہیں اگر تمہارے اگلے اور پچھلے، تمہارے زندے اور مردے اور تمہارے خشک و تر سب میرے بندوں میں سے سب سے زیادہ متقی و پرہیزگار بندے کی طرح ہوجائیں تو بھی میری سلطنت میں ایک مچھر کے پر برابر اضافہ نہ ہوگا، اور اگر تمہارے اگلے اور پچھلے، تمہارے زندے اور مردے اور تمہارے خشک و تر سب میرے بندوں میں سے سب سے زیادہ شقی و بدبخت کی طرح ہوجائیں تو بھی میری سلطنت میں ایک مچھر کے پر برابر کمی نہ ہوگی، اور اگر تمہارے اگلے اور پچھلے، تمہارے زندے اور مردے اور تمہارے خشک و تر سب ایک ہی زمین پر جمع ہوجائیں اور تم میں سے ہر انسان مجھ سے اتنا مانگے جہاں تک اس کی آرزوئیں پہنچیں اور میں تم میں سے ہر سائل کو دے دوں تو بھی میری سلطنت میں کچھ بھی فرق واقع نہ ہوگا مگر اتنا ہی کہ تم میں سے کوئی سمندر کے کنارے سے گزرے اور اس میں ایک سوئی ڈبو کر نکال لے، اور ایسا اس وجہ سے ہے کہ میں سخی، بزرگ ہوں، جو چاہتا ہوں کرتا ہوں، میرا دینا صرف کہہ دینا، اور میرا عذاب صرف کہہ دینا ہے، کسی چیز کے لیے جب میں چاہتا ہوں تو میرا حکم یہی ہے کہ میں کہتا ہوں ہوجا بس وہ ہوجاتی ہے ۔
Sayyidina Abu Dharr (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ narrated the saying of Allah. He said, “O My slaves all of you are astray except those whom I guide, so ask Me for guidance. I will guide you. And all of you are poor save whom I enrich, so ask Me. I will give you provision. And all of you are sinners except those whom I save. Hence, he of you who knows that I am able to forgive and seeks forgiveness from Me, I will forgive him and I do not care about it. And if the first of you and the last of you, the living among you and your dead, the fresh of you and the withered among you gather together to have hearts as the heart of the most righteous that will not increase My dominion by even so much as the wing of a mosquito. And again if the first of you and the last of you, the living among you your dead, the fresh of you and and the withered among you, gather together to have hears as the heart of the cruelest of My slaves that will not diminish My kingdom even so much as the wing of a mosquito. And, if the first of you and the last of you, your jinns and your mankind, the living among you and the dead of you. And if the . fresh among you and the stale among you gather together in one field and each one of you prays to Me for his desire I will give every seeker among you That will not diminish from My kingdom except like when one of you passes by an ocean and after immersing a needle in it withdraws it to him This because I am Jawwad Wajid Majid. I do what I will, My grant is a word and my punishment is a word. My only command to anything when I intend it is that I say to it ‘Be’ and it is." [Ahmed 21425, Bukhari 490, Muslim 2577, Ibn e Majah 4257] --------------------------------------------------------------------------------
ضعيف بهذا السياق، ابن ماجة (4257) // ضعيف ابن ماجة (929)، المشکاة (2350)، ضعيف الجامع الصغير (6437) //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2495
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن ہے، ٢ - بعض لوگوں نے اسی طرح اس حدیث کو بطریق: «عن شهر بن حوشب عن معدي كرب عن أبي ذر عن النبي صلی اللہ عليه وسلم» روایت کیا ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/الزہد ٣٠ ٤٢٥٧٠) (تحفة الأشراف: ١١٩٦٤) (ضعیف) (اس سیاق سے یہ حدیث ضعیف ہے، سند میں لیث بن ابی سلیم اور شہر بن حوشب دونوں راوی ضعیف ہیں، لیکن اس کے اکثر حصے صحیح مسلم میں موجود ہیں ۔ )
عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم ﷺ سے ایک حدیث سنی ہے اگر میں نے اسے ایک یا دو بار سنا ہوتا یہاں تک کہ سات مرتبہ گنا تو میں اسے تم سے بیان نہ کرتا، لیکن میں نے اسے اس سے زیادہ مرتبہ سنا ہے، آپ ﷺ فرما رہے تھے: بنی اسرائیل میں کفل نامی ایک شخص تھا جو کسی گناہ کے کرنے سے پرہیز نہیں کرتا تھا، چناچہ اس کے پاس ایک عورت آئی، اس نے اسے ساٹھ دینار اس لیے دیے کہ وہ اس سے بدکاری کرے گا، لیکن جب وہ اس کے آگے بیٹھا جیسا کہ مرد اپنی بیوی کے آگے بیٹھتا ہے تو وہ کانپ اٹھی اور رونے لگی، اس شخص نے پوچھا: تم کیوں روتی ہو کیا میں نے تمہارے ساتھ زبردستی کی ہے؟ وہ بولی: نہیں، لیکن آج میں وہ کام کر رہی ہوں جو میں نے کبھی نہیں کیا اور اس کام کے کرنے پر مجھے سخت ضرورت نے مجبور کیا ہے، چناچہ اس نے کہا: تم ایسا غلط کام کرنے جا رہی ہے جسے تم نے کبھی نہیں کیا، اس لیے تم جاؤ، وہ سب دینار بھی تمہارے لیے ہیں، پھر اس شخص نے کہا: اللہ کی قسم! اب اس کے بعد میں کبھی بھی اللہ کی نافرمانی نہیں کروں گا، پھر اسی رات میں اس کا انتقال ہوگیا، چناچہ صبح کو اس کے دروازے پر لکھا ہوا تھا بیشک اللہ تعالیٰ نے کفل کو بخش دیا ۔
Sayyidina Ibn Umar (RA) narrated: I heard the Prophet ﷺ narrate a hadith and I did not hear it once or twice, or that I counted it seven times, but, that I heard it more often then that. I heard him say, ‘A man of Banu Isra’il, Kifi, did not cease to commit any sin. A woman came to him and he gave her sixty dinars that he might copulate with her. When he sat down over her the sitting of a man with his wife she trembled and wept. He asked, What makes you cry? Have I compelled you against your will?’ She said, “No. But, this deed, I have never at all done and nothing forced me to it but need. He said, You do it (today) while you have never done it.Go away! And it is for you’. (meaning, the dinars) And he also said, ‘No! I will never again disob Allah’. He died that night. Morning dawned with the inscription on his door: Indeed, Allah ha forgiven Kifi.” [Ahmed 4747]
ضعيف، الضعيفة (4083)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2496
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن ہے، ٢ - اسے شیبان اور دیگر لوگوں نے اعمش سے اسی طرح مرفوعاً روایت کیا ہے، اور بعض لوگوں نے اسے اعمش سے غیر مرفوع روایت کیا ہے، ابوبکر بن عیاش نے اس حدیث کو اعمش سے روایت کیا ہے لیکن اس میں غلطی کی ہے، اور «عن عبد اللہ بن عبد اللہ عن سعيد بن جبير عن ابن عمر» کہا ہے جو کہ غیر محفوظ ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: ٧٠٤٩)، وانظر مسند احمد (٣/٢٣) (ضعیف) (سند میں سعد مولی طلحہ مجہول ہے، نیز اس کے مرفوع و موقوف ہونے میں اختلاف ہے، تفصیل کے لیے دیکھیے: الضعیفة رقم: ٤٠٨٣ )
حارث بن سوید کہتے ہیں کہ ہم سے عبداللہ بن مسعود ؓ نے دو حدیثیں بیان کیں، ایک اپنی طرف سے اور دوسری نبی اکرم ﷺ کی طرف سے (یعنی ایک موقوف اور دوسری مرفوع) عبداللہ بن مسعود ؓ نے کہا: مومن اپنے گناہ کو ایسا دیکھتا ہے گویا وہ پہاڑ کی جڑ میں ہے۔ ڈرتا ہے کہ اس پر وہ گر نہ پڑے ١ ؎، اور فاجر اپنے گناہ کو ایک مکھی کے مانند دیکھتا ہے جو اس کی ناک پر بیٹھی ہوئی ہے، اس نے ہاتھ سے اشارہ کیا اور وہ اڑ گئی ٢ ؎۔
Harith ibn Suwayd (RA) reported that Abdullah narrated to them two ahadith from himself and the other from the Prophet ﷺ . He said: A Believer sees his sins as though he is at the base of a mountain and fears that it might fall on him. And, a sinner sees his sins as though a fly is perched on his nose. He weaves at it like this and it flies away.This was his saying, while) Allah’s Messenger said: Allah is more pleased when one of you makes repentance than a man is on finding his she camel in wilderness where he had gone with it. He loses it and looks out for it till he is on the point of death and says to himself, ‘Let me return to where I had lost it and die there.” He returns to the place and his sleepy eyes have the better of him.(Later) , he awakes and lo! His camel is by his head laden with his food and his drink and what is good for him. [Ahmed 3627, Bukhari 6308, Muslim 2744, TM 4247]
**صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2497
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی اسے عذاب الٰہی کا پہاڑ اپنے سامنے نظر آتا ہے۔ ٢ ؎: یعنی ایک فاجر شخص اپنے گناہ کے سلسلہ میں بےخوف ہوتا ہے اور اس کی نگاہ میں اس گناہ کی کوئی اہمیت نہیں، نہ ہی اسے اس پر کوئی افسوس ہوتا ہے بلکہ اس کی حیثیت اس مکھی کی طرح ہے جو ناک پر بیٹھی ہو اور ہاتھ کے اشارہ سے بھاگ جائے، اسی طرح اس کے عقل و فہم میں اس گناہ کا کوئی تصور باقی نہیں رہتا یہ ابن مسعود کی موقوف روایت ہے، (مرفوع کا ذکر آگے ہے)۔
عبداللہ بن مسعود ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: یقیناً اللہ تم میں سے ایک شخص کی توبہ پر اس شخص سے کہیں زیادہ خوش ہوتا ہے جو کسی بےآب و گیاہ چٹیل میدان میں ہے اور اس کے ساتھ اس کی اونٹنی ہے جس پر اس کا توشہ، کھانا پانی اور دیگر ضرورتوں کی چیز رکھی ہوئی ہے، پھر اس کی اونٹنی کھو جاتی ہے اور وہ اسے ڈھونڈنے کے لیے نکل پڑتا ہے، یہاں تک کہ جب وہ ہلاکت کے قریب پہنچ جاتا ہے تو وہ سوچتا ہے: میں اسی جگہ لوٹ جاؤں جہاں سے میری اونٹنی کھو گئی تھی، اور وہیں مرجاؤں چناچہ وہ لوٹ کر اسی جگہ پہنچتا ہے، اور اس پر نیند طاری ہوجاتی ہے، پھر جب بیدار ہوتا ہے تو کیا دیکھتا ہے کہ اس کی اونٹنی اس کے سر کے پاس موجود ہے اس پر اس کا کھانا پانی اور حاجت کی چیز بھی موجود ہے ۔
صحيحصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2498
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - اس باب میں ابوہریرہ، نعمان بن بشیر اور انس بن مالک ؓ نے نبی اکرم ﷺ سے حدیثیں روایت کی ہیں۔
انس ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: سارے انسان خطاکار ہیں اور خطا کاروں میں سب سے بہتر وہ ہیں جو توبہ کرنے والے ہیں ۔
Sayyidina Anas (RA) reported that the Prophet ﷺ said, “Every son of Adam commits sin but the best of those who sin are those who repent.” [Ahmed 13048]
حسن، ابن ماجة (4251)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2499
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث غریب ہے، ٢ - اسے ہم صرف علی بن مسعدہ ہی کی روایت سے جانتے ہیں جسے وہ قتادہ سے روایت کرتے ہیں۔
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/الزہد ٢٩ (٤٢٥١) (تحفة الأشراف: ١٣١٥) (حسن )
ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جو شخص اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتا ہو تو اسے چاہیئے کہ وہ اپنے مہمان کی عزت کرے، اور جو اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتا ہو تو اسے چاہیئے کہ وہ بھلی بات کہے یا خاموش رہے ١ ؎۔
Sayyidina Abu Hurairah (RA) reported that the Prophet ﷺ said, "He who believes in Allah and the Last Day must honour his guest. And he who believes in Allah and the Last Day must speak a good word or keep quite."
صحيح، الإرواء (2525)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2500
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث صحیح ہے، ٢ - اس باب میں عائشہ، انس ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: معلوم ہوا کہ بولنے سے پہلے بولنے والا خوب سوچ سمجھ لے تب بولے، یا پھر خاموش ہی رہے تو بہتر ہے، کہیں ایسا نہ ہو کہ بھلی بات بھی الٹے نقصان دہ ہوجائے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الأدب ٣١ (٦٠١٨)، صحیح مسلم/الإیمان ١٩ (١٤)، سنن ابن ماجہ/الفتن ١٢ (٣٩٧٦) (تحفة الأشراف: ١٥٢٧٢)، و مسند احمد (٢/٢٦٧، ٢٦٩، ٤٣٣، ٤٦٣) (صحیح )
عبداللہ بن عمرو ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو خاموش رہا اس نے نجات پائی ١ ؎۔
Sayyidina Abdullah ibn Amr (RA) reported that Allah’s Messenger said, "One who keeps quiet is rescued."
صحيح، الصحيحة (535)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2501
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث غریب ہے، ٢ - اسے ہم صرف ابن لہیعہ کی روایت سے جانتے ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: خاموشی آدمی کے لیے سکون اور آخرت کے لیے نجات کا ذریعہ ہے، کیونکہ لوگوں سے زیادہ میل جول اور ان سے گپ شپ کرنا یہ دین کے لیے باعث خطرہ ہے، اس لیے اپنے فاضل اوقات کو ذکر و اذکار اور تلاوت قرآن میں صرف کرنا زیادہ بہتر ہے۔
ابوموسیٰ اشعری ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ سے پوچھا کیا گیا کہ مسلمانوں میں سب سے زیادہ افضل کون ہے؟ آپ نے فرمایا: جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے مسلمان محفوظ ہوں ١ ؎۔
Sayyidina Abu Musa (RA) reported that he asked Allah’s Messenger ﷺ ,“Which Muslim in the most excellent”? He said, “He from whose tongue and hand (other) Muslims are safe.” [Ahmed 6765, Bukhari 11, Muslim 42] --------------------------------------------------------------------------------
صحيحصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2504
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث ابوموسیٰ کی روایت سے اس سند سے صحیح غریب ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: زبان سے محفوظ رہنے کا مفہوم یہ ہے کہ وہ اپنی زبان سے کسی مسلمان کی طعن و تشنیع، غیبت چغل خوری، بہتان تراشی نہ کرے، نہ ہی اسے گالی گلوج دے، اور ہاتھ سے محفوظ رہنے کا مفہوم یہ ہے کہ اپنے ہاتھ سے نہ کسی کو مارے، نہ قتل کرے، نہ ناحق کسی کی کوئی چیز توڑے، اور نہ ہی باطل افکار پر مشتمل کوئی تحریر لکھے جس سے کہ لوگ گمراہ ہوں۔
معاذ بن جبل ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جس نے اپنے کسی دینی بھائی کو کسی گناہ پر عار دلایا تو اس کی موت نہیں ہوگی یہاں تک کہ اس سے وہ گناہ صادر ہوجائے ۔
Sayyidina Mu’az ibn Jabal (RA) reproted that Allah’s Messenger ﷺ said, "If anyone shames his brother for a sin then he will not die till he does the same thing.” Ahmad said, "(It means) the sin for which he has repented.”
موضوع، الضعيفة (178) // ضعيف الجامع الصغير (5710) //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2505
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث غریب ہے، ٢ - اس کی سند متصل نہیں ہے، اور خالد بن معدان کی ملاقات معاذ بن جبل سے ثابت نہیں ہے، خالد بن معدان سے مروی ہے کہ انہوں نے ستر صحابہ سے ملاقات کی ہے، اور معاذ بن جبل کی وفات عمر بن خطاب کی خلافت میں ہوئی، اور خالد بن معدان نے معاذ کے کئی شاگردوں کے واسطہ سے معاذ سے کئی حدیثیں روایت کی ہے، ٣ - احمد بن منیع نے کہا: اس سے وہ گناہ مراد ہے جس سے وہ شخص توبہ کرچکا ہو۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: ١١٣١٠) (موضوع) (خالد بن معدان کا سماع معاذ ؓ سے نہیں ہے، اور سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ محمد بن حسن کذاب راوی ہے، اسی نے یہ حدیث گھڑی ہوگی مگر سند متصل نہ کرسکا )
واثلہ بن اسقع ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اپنے بھائی کے ساتھ شماتت اعداء نہ کرو، ہوسکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس پر رحم کرے اور تمہیں آزمائش میں ڈال دے ۔
Sayyidina Wathilah ibn Asqa (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, "Do not display pleasure at a sebtack your brother suffers lest Allah has mercy on him and puts you to test."
ضعيف، المشکاة (4856 / التحقيق الثاني) // ضعيف الجامع الصغير (6245) //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2506
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن غریب ہے، ٢ - مکحول کا سماع واثلہ بن اسقع، انس بن مالک اور ابوھند داری سے ثابت ہے، اور یہ بھی کہا جاتا ہے کہ ان کا سماع ان تینوں صحابہ کے علاوہ کسی سے ثابت نہیں ہے، ٣ - یہ مکحول شامی ہیں ان کی کنیت ابوعبداللہ ہے، یہ ایک غلام تھے بعد میں انہیں آزاد کردیا گیا تھا، ٤ - اور ایک مکحول ازدی بصریٰ بھی ہیں ان کا سماع عبداللہ بن عمر سے ثابت ہے ان سے عمارہ بن زاذان روایت کرتے ہیں۔ اس سند سے مکحول شامی کے بارے میں مروی ہے کہ جب ان سے کوئی مسئلہ پوچھا جاتا تو وہ «ندانم» (میں نہیں جانتا) کہتے تھے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: ١١٧٤٩) (ضعیف) (سند میں حفص بن غیاث اخیر عمر میں مختلط ہوگئے تھے )
ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: میں یہ نہیں پسند کرتا کہ میں کسی انسان کی نقل کروں اور مجھے اتنا اور اتنا مال ملے ۔
Sayyidah Aaisha (RA) reported that Allah’s Messenger (SAW said, “I do not like to speak of (the faults of) anyone even if there is for me such and such (for speaking so) ."
ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ میں نے نبی اکرم ﷺ کے سامنے ایک شخص کی نقل کی تو آپ نے فرمایا: مجھے یہ پسند نہیں کہ میں کسی انسان کی نقل کروں اور مجھے اتنا اور اتنا مال ملے ۔ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! بیشک صفیہ ایک عورت ہیں، اور اپنے ہاتھ سے اس طرح اشارہ کیا، گویا یہ مراد لے رہی تھیں کہ صفیہ پستہ قد ہیں۔ آپ نے فرمایا: بیشک تم نے اپنی باتوں میں ایسی بات ملائی ہے کہ اگر اسے سمندر کے پانی میں ملا دیا جائے تو اس کا رنگ بدل جائے ١ ؎۔
Sayyidah Aaisha (RA) narrated: A man was mentioned before the Prophet ﷺ . He said, “It does not please me that I should speak about a man even if there is for me (in that) such and such.” I said, “O Messenger of Allah! ﷺ Indeed Safiyah is a woman, indicating hand, “like this”, meaning, short. He said, “You have put in a word that if it is mixed with the water of an ocean that would change.” [Ahmed 25617]
صحيح، المشکاة (4853 و 4857 / التحقيق الثانی)، غاية المرام (427)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2502
Notes · وضاحت
١ ؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ کسی کی نقل بھی غیبت میں شامل ہے، اس لیے بطور تحقیر کسی کے جسمانی عیب کی نقل اتارنا یا تنقیص کے لیے اسے بیان کرنا سخت گناہ کا باعث ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/ الأدب ٤٠ (٤٨٧٥) (تحفة الأشراف: ١٦١٣٢)، و مسند احمد (٦/١٨٩) (صحیح )
یحییٰ بن وثاب نے ایک بزرگ صحابی سے روایت کی ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جو مسلمان لوگوں سے میل جول رکھتا ہے اور ان سے پہنچنے والی تکلیفوں کو برداشت کرتا ہے وہ اس مسلمان سے بہتر ہے جو نہ لوگوں سے میل جول رکھتا ہے اور نہ ہی ان کی تکلیفوں کو برداشت کرتا ہے ١ ؎۔
Yahya ibn Thabit (RA) reported on the authority of a companion that the Prophet ﷺ said, “If a Muslim mixes with people and endures the hardship they cause then he is better than the Muslim who does not mix with people and so does not endure the hardship they cause." [Ibn e Majah 4032, Ahmed 5022]
صحيح، ابن ماجة (4032)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2507
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
ابن ابی عدی نے کہا: شعبہ کا خیال ہے کہ شیخ صحابی (بزرگ صحابی) سے مراد ابن عمر ؓ ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: گویا لوگوں کے درمیان رہ کر جمعہ، جماعت، نیکی و بھلائی کے کام اور مجالس خیر میں شریک رہنا، ضرورت مندوں کی خبرگیری، مریضوں کی عیادت اور لوگوں کے دیگر مصالح کے لیے ان سے رابطہٰ و ضبط رکھنا، اس شرط کے ساتھ کہ انہیں بھلائی کا حکم دے اور برائی سے روکے، اور ان سے پہنچنے والی تکالیف و ایذاء پر صبر کرے تو اس سے بہتر مسلمان کوئی نہیں ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/الفتن ٢٣ (٤٠٣٢) (تحفة الأشراف: ٨٥٦٥) (صحیح )
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: آپسی پھوٹ اور بغض و عداوت کی برائی سے اجتناب کرو کیونکہ یہ (دین کو) مونڈنے والی ہے ١ ؎، آپسی پھوٹ کی برائی سے مراد آپس کی عداوت اور بغض و حسد ہے اور «الحالقة» مونڈنے والی سے مراد دین کو مونڈنے والی ہے۔
Sayyidina Abu Hurairah (RA) reported that the Prophet ﷺ said, "It is on you that you avoid ill-will with each other, because that is what shaves."(i.e. it ruins the religion)
١ ؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ آپسی بغض و عداوت اور انتشار و افتراق سے اجتناب کرنا چاہیئے، کیونکہ اس سے نہ یہ کہ صرف دنیا تباہ ہوتی ہے بلکہ دین بھی ہاتھ سے جاتا رہتا ہے۔
ابو الدرداء ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: کیا میں تمہیں ایسی چیز کے بارے میں نہ بتادوں جو درجہ میں صلاۃ، صوم اور صدقہ سے بھی افضل ہے، صحابہ نے عرض کیا: کیوں نہیں؟ ضرور بتائیے ، آپ نے فرمایا: وہ آپس میں میل جول کرا دینا ہے ١ ؎ اس لیے کہ آپس کی پھوٹ دین کو مونڈنے والی ہے ۔
Sayyidina Abu Darda (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, "Shall I not inform you of the most excellent degree of fasting and salah and sadaqah”? They said, “Certainly.”He said, “Peace with each other, for, discord with each other is that which shaves." [Ahmed 27578]
صحيح غاية المرام (414)، المشکاة (5038 / التحقيق الثانی)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2509
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث صحیح ہے۔ نبی اکرم ﷺ سے مروی ہے کہ آپ نے فرمایا: یہی چیز مونڈنے والی ہے۔ میں یہ نہیں کہہ رہا ہوں کہ سر کا بال مونڈنے والی ہے بلکہ دین کو مونڈ نے والی ہے ۔
Notes · وضاحت
١ ؎: معلوم ہوا کہ آپس میں میل جول کرا دینا یہ نفلی عبادت سے افضل ہے، کیونکہ یہ اللہ کی رسی کو مضبوطی سے پکڑنے اور مسلمانوں کے درمیان افتراق و انتشار کے نہ ہونے کا ذریعہ ہے، جب کہ آپسی رنجش و عداوت دینی بگاڑ کی جڑ ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/ الأدب ٥٨ (٤٩١٩) (تحفة الأشراف: ١٠٩٨١)، و مسند احمد (٦/٤٤٤) (صحیح )
زبیر بن عوام ؓ کا بیان ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: تمہارے اندر اگلی امتوں کا ایک مرض گھس آیا ہے اور یہ حسد اور بغض کی بیماری ہے، یہ مونڈنے والی ہے، میں یہ نہیں کہتا کہ سر کا بال مونڈنے والی ہے بلکہ دین مونڈنے والی ہے، قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! تم لوگ جنت میں نہیں داخل ہو گے جب تک کہ ایمان نہ لے آؤ، اور مومن نہیں ہوسکتے یہاں تک کہ آپس میں محبت نہ کرنے لگو، اور کیا میں تمہیں ایسی بات نہ بتادوں جس سے تمہارے درمیان محبت قائم ہو: تم سلام کو آپس میں پھیلاؤ۔
Sayyidina Zubair ibn Awwam (RA) reported that the Prophet ﷺ said, "The disease of the people before you, jealousy and hatred has penetrated in you. It is the shaver. I do not say that it shaves the hair, but it shaves religion. By Him in Whose hand is my life, you will not enter Paradise till you believe, and you will not believe till you love each other. Shall I not inform you what strengthens that for you? Spread Salaam among yourselves.” --------------------------------------------------------------------------------
یحییٰ بن ابی کثیر سے اس حدیث کے روایت کرنے میں اہل علم کا اختلاف ہے، بعض لوگوں نے یہ حدیث: «عن يحيى بن أبي كثير عن يعيش بن الوليد عن مولی الزبير عن النبي صلی اللہ عليه وسلم» کی سند سے روایت کی ہے ان لوگوں نے اس میں زبیر کے واسطہ کا ذکر نہیں کیا۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: ٣٦٤٨) (حسن) (سند میں مولی الزبیر مبہم راوی ہے، لیکن متابعات و شواہد کی بنا پر یہ حدیث حسن ہے، صحیح الترغیب والترہیب ٢٦٩٥ )
ابوبکرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: بغاوت اور قطع رحمی سے بڑھ کر کوئی گناہ ایسا نہیں ہے جس کا مرتکب زیادہ لائق ہے کہ اس کو اللہ کی جانب سے دنیا میں بھی جلد سزا دی جائے اور آخرت کے لیے بھی اسے باقی رکھا جائے ۔
Sayyidina Abu Bakr (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “The sins of rebellion and severing of ties of relationship are such that Allah hastens punishment to the perpetrator in this world along with what he stores up for him in the Hereafter.” [Ahmed 2002, Abu Dawud 4902, Ibn e Majah 4211]
صحيح، ابن ماجة (4211)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2511
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/ الأدب ٥١ (٤٩٠٢)، سنن ابن ماجہ/الزہد ٢٣ (٤٢١١) (تحفة الأشراف: ١١٦٩٣)، و مسند احمد (٥/٣٨) (صحیح )
عبداللہ بن عمرو ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: دو خصلتیں ایسی ہیں کہ جس شخص کے اندر وہ موجود ہوں گی اسے اللہ تعالیٰ صابر و شاکر لکھے گا اور جس کے اندر وہ موجود نہ ہوں گی اسے اللہ تعالیٰ صابر اور شاکر نہیں لکھے گا، پہلی خصلت یہ ہے کہ جس شخص نے دین کے اعتبار سے اپنے سے زیادہ دین پر عمل کرنے والے کو دیکھا اور اس کی پیروی کی اور دنیا کے اعتبار سے اپنے سے کم حیثیت والے کو دیکھا پھر اس فضل و احسان کا شکر ادا کیا جو اللہ نے اس پر کیا ہے تو اللہ تعالیٰ اسے صابر اور شاکر لکھے گا۔ اور دوسری خصلت یہ ہے کہ جس نے دین کے اعتبار سے اپنے سے کم اور دنیا کے اعتبار سے اپنے سے زیادہ پر نظر کی پھر جس سے وہ محروم رہ گیا ہے اس پر اس نے افسوس کیا، تو اللہ تعالیٰ اسے صابر اور شاکر نہیں لکھے گا ١ ؎۔
Amr ibn Shu’ayb (RA) reported from his father, from his grandfather. Abdullah ibn Amr that he heard Allah’s Messenger ﷺ say “There are two characteristics which if anyone possesses then Allah records him among the grateful and the patient. And, if anyone does not possess them then Allah does not record him as grateful or patient. If anyone looks at one who is superior to him in religion and follows him, and looks at one who is inferior to him in worldly matters and thanks Allah, praises Allah, for giving him excellence over him, then Allah writes him down as grateful and patient. And if anyone looks in matters of religion at one who is inferior to him and in worldly affairs, at one who is superior to him and rues over what he undergoes then Allah does not write him down as grateful or patient.” [Muslim 2963, Ibn e Majah 4142]
ضعيف، الضعيفة (633 و 1924) // ضعيف الجامع الصغير (2832) //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2512
Notes · وضاحت
١ ؎: گویا دینی معاملہ میں ہمیشہ اپنے سے بہتر اور سب سے زیادہ دین پر عمل کرنے والے شخص کو دیکھنا چاہیئے، تاکہ اپنے اندر اسی جیسا دینی جذبہ پیدا ہو، اور دنیا کے اعتبار سے ہمیشہ اپنے سے کم تر پر نگاہ رہے تاکہ رب العالمین کی جانب سے ہمیں جو کچھ میسر ہے اس پر ہم اس کا شکر گزار بندہ بن سکیں، اور ہمارے اندر نعمت شناسی کی صفت پیدا ہو۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: ٨٧٧٨) (ضعیف) (سند میں مثنی بن صباح ضعیف راوی ہیں، ان کی تضعیف خود امام ترمذی نے کی ہے، اور عمرو بن شعیب بن محمد اور ان کے پردادا عبداللہ بن عمرو ؓ کے درمیان انقطاع ہے، لیکن اگلی سند میں عن أبیہ کا ذکر ہے، نیز ملاحظہ ہو: الضعیفة ٦٣٣، ١٩٢٤ )
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ان لوگوں کی طرف دیکھو جو دنیاوی اعتبار سے تم سے کم تر ہوں اور ان لوگوں کی طرف نہ دیکھو جو تم سے اوپر ہوں، اس طرح زیادہ لائق ہے کہ تم اللہ کی ان نعمتوں کی ناقدری نہ کرو، جو اس کی طرف سے تم پر ہوئی ہیں ۔
Sayyidina Abu Hurairah (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “Look at those who are lower than you and do not look at those who are above you, for, it is worthier that you do not belittle the blessing of Allah upon you." [Muslim 2963, Ibn e Majah 4142, Ahmed 7453] --------------------------------------------------------------------------------
صحيح، ابن ماجة (4142 )صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2513
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث صحیح ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الزہد ١ (٢٩٦٣/٩)، سنن ابن ماجہ/الزہد ٩ (٤١٤٢)، وراجع أیضا: صحیح البخاری/الرقاق ٣٠ (٦٤٩٠)، وصحیح مسلم/الزہد (٢٩٦٣/٨) (تحفة الأشراف: ١٢٤٦٧، و ١٢٥١٤)، و مسند احمد (٢/٢٥٤، ٤٨٢) (صحیح )