Sunan At-Tirmidhi 2501

قیامت کا بیان

2501Sunan At-Tirmidhi

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَمْرٍو الْمَعَافِرِيِّ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ صَمَتَ نَجَا ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ ابْنِ لَهِيعَةَ، وَأَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيُّ هُوَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ.

عبداللہ بن عمرو ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو خاموش رہا اس نے نجات پائی ١ ؎۔

Sayyidina Abdullah ibn Amr (RA) reported that Allah’s Messenger said, "One who keeps quiet is rescued."

صحيح، الصحيحة (535)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2501
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث غریب ہے، ٢ - اسے ہم صرف ابن لہیعہ کی روایت سے جانتے ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: خاموشی آدمی کے لیے سکون اور آخرت کے لیے نجات کا ذریعہ ہے، کیونکہ لوگوں سے زیادہ میل جول اور ان سے گپ شپ کرنا یہ دین کے لیے باعث خطرہ ہے، اس لیے اپنے فاضل اوقات کو ذکر و اذکار اور تلاوت قرآن میں صرف کرنا زیادہ بہتر ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: ٨٨٦١)، وانظر: مسند احمد (٢/١٥٩، ١٧٧)، وسنن الدارمی/الرقاق ٥ (٣٧٥٥) (صحیح )