Sunan At-Tirmidhi 2507

قیامت کا بیان

2507Sunan At-Tirmidhi

حَدَّثَنَا أَبُو مُوسَى مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ سُلَيْمَانَ الْأَعْمَشِ، عَنْ يَحْيَى بْنِ وَثَّابٍ، عَنْ شَيْخٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: الْمُسْلِمُ إِذَا كَانَ مُخَالِطًا النَّاسَ وَيَصْبِرُ عَلَى أَذَاهُمْ خَيْرٌ مِنَ الْمُسْلِمِ الَّذِي لَا يُخَالِطُ النَّاسَ وَلَا يَصْبِرُ عَلَى أَذَاهُمْ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: قَالَ ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ: كَانَ شُعْبَةُ يَرَى أَنَّهُ ابْنُ عُمَرَ.

یحییٰ بن وثاب نے ایک بزرگ صحابی سے روایت کی ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جو مسلمان لوگوں سے میل جول رکھتا ہے اور ان سے پہنچنے والی تکلیفوں کو برداشت کرتا ہے وہ اس مسلمان سے بہتر ہے جو نہ لوگوں سے میل جول رکھتا ہے اور نہ ہی ان کی تکلیفوں کو برداشت کرتا ہے ١ ؎۔

Yahya ibn Thabit (RA) reported on the authority of a companion that the Prophet ﷺ said, “If a Muslim mixes with people and endures the hardship they cause then he is better than the Muslim who does not mix with people and so does not endure the hardship they cause." [Ibn e Majah 4032, Ahmed 5022]

صحيح، ابن ماجة (4032)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2507
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
ابن ابی عدی نے کہا: شعبہ کا خیال ہے کہ شیخ صحابی (بزرگ صحابی) سے مراد ابن عمر ؓ ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: گویا لوگوں کے درمیان رہ کر جمعہ، جماعت، نیکی و بھلائی کے کام اور مجالس خیر میں شریک رہنا، ضرورت مندوں کی خبرگیری، مریضوں کی عیادت اور لوگوں کے دیگر مصالح کے لیے ان سے رابطہٰ و ضبط رکھنا، اس شرط کے ساتھ کہ انہیں بھلائی کا حکم دے اور برائی سے روکے، اور ان سے پہنچنے والی تکالیف و ایذاء پر صبر کرے تو اس سے بہتر مسلمان کوئی نہیں ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/الفتن ٢٣ (٤٠٣٢) (تحفة الأشراف: ٨٥٦٥) (صحیح )