Sunan At-Tirmidhi 2449

قیامت کا بیان

2449Sunan At-Tirmidhi

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ الْمُؤَدِّبُ، حَدَّثَنَا عَمَّارُ بْنُ مُحَمَّدٍ ابْنُ أُخْتِ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ، حَدَّثَنَا أَبُو الْجَارُودِ الْأَعْمَىوَاسْمُهُ: زِيَادُ بْنُ الْمُنْذِرِ الْهَمْدَانِيُّ، عَنْ عَطِيَّةَ الْعَوْفِيِّ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَيُّمَا مُؤْمِنٍ أَطْعَمَ مُؤْمِنًا عَلَى جُوعٍ أَطْعَمَهُ اللَّهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مِنْ ثِمَارِ الْجَنَّةِ، وَأَيُّمَا مُؤْمِنٍ سَقَى مُؤْمِنًا عَلَى ظَمَإٍ سَقَاهُ اللَّهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مِنَ الرَّحِيقِ الْمَخْتُومِ، وَأَيُّمَا مُؤْمِنٍ كَسَا مُؤْمِنًا عَلَى عُرْيٍ كَسَاهُ اللَّهُ مِنْ خُضْرِ الْجَنَّةِ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ، وَقَدْ رُوِيَ هَذَا عَنْ عَطِيَّةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ مَوْقُوفًا، وَهُوَ أَصَحُّ عِنْدَنَا وَأَشْبَهُ.

ابو سعید خدری ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو مومن بندہ کسی بھوکے مومن کو کھانا کھلائے گا اسے اللہ تعالیٰ قیامت کے روز جنت کے پھل کھلائے گا، اور جو مومن بندہ کسی پیاسے مومن کو پانی پلائے گا، قیامت کے روز اللہ تعالیٰ اسے «الرحيق المختوم» (مہر بند شراب) پلائے گا، اور جو مومن بندہ کسی ننگے بدن والے مومن کو کپڑا پہنائے گا اللہ تعالیٰ اسے جنت کے سبز جوڑے پہنائے گا ۔

Sayyidina Abu Sa’eed Khudri (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “If a believer feeds (another) believer when he is hungry then Allah will feed him on the Day of Resurrection from the fruit of Paradise. And, if a believer gives water to a believer when he is thirsty then Allah will give him to drink on the Day of Resurrection from rahiq ul-makhatum (sealded wine) . And, if a believer clothes another believer when he is without (sufficient) clothes then Allah will clothe him with green (garments) of Paradise.” [Ahmed 11101]

ضعيف، المشکاة (1913)، ضعيف أبي داود (300) // (371 / 1682) //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2449
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث غریب ہے، ٢ - یہ حدیث عطیہ کے واسطے سے ابو سعید خدری سے موقوفا مروی ہے، اور ہمارے نزدیک یہی سند سب سے زیادہ اقرب اور صحیح ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/ الزکاة ٤١ (١٦٨٢) (تحفة الأشراف: ٤٢٠١)، و مسند احمد (٣/١٣) (ضعیف) (سند میں عطیہ عوفی ضعیف ہیں، نیز زیاد بن منذر بقول ابن معین: کذاب ہے، اور ابوداود کی سند میں نبی ح لین الحدیث اور ابو خالد دالانی مدلس کثیر الخطأ ہیں )