عبادہ بن صامت ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جو اللہ سے ملنا چاہتا ہے اللہ بھی اس سے ملنا چاہتا ہے اور جو اللہ سے ملنے کو ناپسند کرتا ہو اللہ بھی اس سے ملنے کو ناپسند کرتا ہے ۔
Sayyidina Ubadahh ibn Samit reported that the Prophet ﷺ said, “He who holds meeting with Allah dear, Allah also holds dear meeting with him. And if anyone hates to meet Allah then Allah also hates to meet him.” [Ahmed2275, Bukhari 6507, Muslim 2683, Nisai 4264]
**صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1066
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- عبادہ بن صامت کی حدیث حسن صحیح ہے، ٢- اس باب میں ابوموسیٰ اشعری، ابوہریرہ، اور عائشہ ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں۔
ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو اللہ سے ملنا چاہتا ہے اللہ بھی اس سے ملنا چاہتا ہے، اور جو اللہ سے ملنے کو ناپسند کرتا ہے اللہ بھی اس سے ملنے کو ناپسند کرتا ہے ۔ تو میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ہم سبھی کو موت ناپسند ہے؟ تو آپ نے فرمایا: یہ مراد نہیں ہے، بلکہ مراد یہ ہے کہ مومن کو جب اللہ کی رحمت، اس کی خوشنودی اور اس کے جنت کی بشارت دی جاتی ہے تو وہ اللہ سے ملنا چاہتا ہے اور اللہ اس سے ملنا چاہتا ہے، اور کافر کو جب اللہ کے عذاب اور اس کی غصے کی خبر دی جاتی ہے تو وہ اللہ سے ملنے کو ناپسند کرتا ہے اور اللہ بھی اس سے ملنے کو ناپسند کرتا ہے ١ ؎۔
Sayyidah Ayshah (RA) reported that she recalled Allah’s Messenger ﷺ saying that if anyone loves to meet Allah then Allah also love to meet him and if he hates to meet Allah then Allah too hates to meet him. She said, “O Messenger of Allah, all of us detest death.” He said, “That is not so. But when the Believer is given glad tidings of Allah’s mercy and His pleasure and His Paradise, he loves the meeting with Allah. And Allah also loves to meet him. As for the disbeliever, when he is given tidings of Allah’s punishment and His wrath he hates to meet Allah and Allah hates the meeting with him.” [Ahmed24227, Bukhari 6507, Muslim 2684, Nisai 1938] --------------------------------------------------------------------------------
صحيح، ابن ماجة (4264)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1067
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: مطلب یہ ہے کہ جان نکلنے کے وقت اور موت کے فرشتوں کے آ جانے کے وقت آدمی میں اللہ سے ملنے کی جو چاہت ہوتی ہے وہ مراد ہے نہ کہ عام حالات میں کیونکہ عام حالات میں کوئی بھی مرنے کو پسند نہیں کرتا۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الرقاق ٤١ (تعلیقا بعد حدیث عبادة) صحیح مسلم/الذکر ٥ (٢٦٨٤) سنن النسائی/الجنائز ١٠ (١٨٣٩) سنن ابن ماجہ/الزہد ٣١ (٤٢٦٤) (تحفة الأشراف: ١٦١٠٣) (صحیح) وأخرجہ کل من: صحیح مسلم/الذکر (المصدر المذکور) مسند احمد (٦/٤٤، ٥٥، ٢٠٧) من غیر ہذا الوجہ۔
جابر بن سمرہ ؓ کہتے ہیں کہ ایک شخص نے خودکشی کرلی، تو نبی اکرم ﷺ نے اس کی نماز جنازہ نہیں پڑھی۔
Sayyidina Samurah (RA) narrated that a man killed himself. So, the Prophet ﷺ did not pray his funeral salah. [Ahmed20906, Muslim 978, Nisai 1960]
صحيح، ابن ماجة (1526)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1068
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢- اس مسئلے میں اہل علم کا اختلاف ہے، بعض کہتے ہیں کہ ہر شخص کی نماز پڑھی جائے گی جو قبلہ کی طرف نماز پڑھتا ہو اور خودکشی کرنے والے کی بھی پڑھی جائے گی۔ ثوری اور اسحاق بن راہویہ کا یہی قول ہے، ٣- اور احمد کہتے ہیں: امام خودکشی کرنے والے کی نماز نہیں پڑھے گا، البتہ (مسلمانوں کے مسلمان حاکم) امام کے علاوہ لوگ پڑھیں گے۔
ابوقتادہ ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ کے پاس ایک شخص لایا گیا تاکہ آپ اس کی نماز جنازہ پڑھائیں تو آپ ﷺ نے فرمایا: تم اپنے ساتھی کی نماز پڑھ لو کیونکہ اس پر قرض ہے ۔ (میں نہیں پڑھوں گا) اس پر ابوقتادہ نے عرض کیا: اس کی ادائیگی میرے ذمے ہے، رسول اللہ ﷺ نے پوچھا: پورا پورا ادا کرو گے؟ تو انہوں نے کہا: (ہاں) پورا پورا ادا کریں گے تو آپ نے اس کی نماز جنازہ پڑھائی۔
Uthman ibn Abdullah ibn Mawhib reported having heard Abdullah ibn Abu Qatadah narrate on the authority of his father that a funeral was brought before the Prophet ﷺ that the funeral salah might be offered. He commanded (to his companions i “Pray over your companion for there is a debt against him.” So, Abu Qatadah (RA) said, “That debt, I take over.” Allah’s Messenger ﷺ asked, “All of- it?” He confirmed, “All of it.” Hence, the Prophet ﷺ prayed his funeral salah. [Ibn e Majah 2407]
صحيح، ابن ماجة (2407)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1069
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- ابوقتادہ کی حدیث حسن صحیح ہے، ٢- اس باب میں جابر، سلمہ بن الاکوع، اسماء بنت یزید ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Takhrij · تخریج
سنن النسائی/الجنائز ٦٧ (١٩٦٢) سنن ابن ماجہ/الصدقات ٩ (٢٤٠٧) سنن الدارمی/البیوع ٥٣ (٢٦٣٥) (تحفة الأشراف: ١٢١٠٣) مسند احمد (٥/٣٠٢) (صحیح)
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے پاس کوئی فوت شدہ شخص جس پر قرض ہو لایا جاتا تو آپ پوچھتے: کیا اس نے اپنے قرض کی ادائیگی کے لیے کچھ چھوڑا ہے؟ اگر آپ کو بتایا جاتا کہ اس نے اتنا مال چھوڑا ہے جس سے اس کے قرض کی مکمل ادائیگی ہوجائے گی تو آپ اس کی نماز جنازہ پڑھاتے، ورنہ مسلمانوں سے فرماتے: تم لوگ اپنے ساتھی کی نماز جنازہ پڑھ لو (میں نہیں پڑھ سکتا) ، پھر جب اللہ نے آپ کے لیے فتوحات کا دروازہ کھولا تو آپ کھڑے ہوئے اور آپ نے فرمایا: میں مسلمانوں کا ان کی اپنی جانوں سے زیادہ حقدار ہوں۔ تو مسلمانوں میں سے جس کی موت ہوجائے اور وہ قرض چھوڑ جائے تو اس کی ادائیگی میرے ذمہ ہے اور جو کوئی مال چھوڑ کر جائے تو وہ اس کے وارثوں کا ہے ۔
Sayyidah.Abu Hurayrah (RA) narrated : If a debtor’s body was brought to Allah’s Messenger ﷺ for the funeral salah, he would ask, “Has he left anything to repay debts?” If he was told that he had left enough to pay off his debts then he would lead his funeral salah, otherwise he would ask the Muslims to pray over their companion. When Allah opened for him (a number of) victories, he stood up and said, “I am better for the Believers than their own selves. Hence, if any of the Believers dies leaving a debt then his debt is on me, and if he leaves behind property then that belongs to the heirs.” [Ahmed9855, Bukhari 2298, Muslim 1619, Nisai 1963] --------------------------------------------------------------------------------
صحيح، ابن ماجة (2415)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1070
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢- اسے یحییٰ بن بکیر اور دیگر کئی لوگوں نے لیث بن سعد سے عبداللہ بن صالح کی حدیث کی طرح روایت کیا ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الکفارة ٥ (٢٢٩٨) والنفقات ١٥ (٥٣٧١) صحیح مسلم/الفرائض ٤ (١٦١٩) (تحفة الأشراف: ١٥٢١١٦) مسند احمد (٢/٤٥٣) (صحیح) وأخرجہ کل من: سنن النسائی/الجنائز ٦٧ (١٩٦٥) سنن ابن ماجہ/الصدقات ١٣ (٢٤١٥) مسند احمد (٢/٢٩٠) من غیر ہذا الوجہ، وأخرجہ: صحیح البخاری/الاستقراض ١١ (٢٣٩٨، ٢٣٩٩) وتفسیر الاقراب ١ (٤٧٩١) والفرائض ٤ (٦٧٣١) و ١٥ (٦٧٤٥) و ٢٥ (٦٧٦٣) صحیح مسلم/الفرائض (المصدرالمذکور) مسند احمد (٢/٤٥٦) مغتصرا ومن غیر ہذا الوجہ۔
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب میت کو یا تم میں سے کسی کو دفنا دیا جاتا ہے تو اس کے پاس کالے رنگ کی نیلی آنکھ والے دو فرشتے آتے ہیں، ان میں سے ایک کو منکر اور دوسرے کو نکیر کہا جاتا ہے۔ اور وہ دونوں پوچھتے ہیں: تو اس شخص کے بارے میں کیا کہتا تھا۔ وہ (میت) کہتا ہے: وہی جو وہ خود کہتے تھے کہ وہ اللہ کے بندے اور اللہ کے رسول ہیں، اور میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں اور محمد ﷺ اس کے بندے اور رسول ہیں تو وہ دونوں کہتے ہیں: ہمیں معلوم تھا کہ تو یہی کہے گا پھر اس کی قبر طول و عرض میں ستر ستر گز کشادہ کردی جاتی ہے، پھر اس میں روشنی کردی جاتی ہے۔ پھر اس سے کہا جاتا ہے: سو جا، وہ کہتا ہے: مجھے میرے گھر والوں کے پاس واپس پہنچا دو کہ میں انہیں یہ بتاسکوں، تو وہ دونوں کہتے ہیں: تو سو جا اس دلہن کی طرح جسے صرف وہی جگاتا ہے جو اس کے گھر والوں میں اسے سب سے زیادہ محبوب ہوتا ہے، یہاں تک کہ اللہ اسے اس کی اس خواب گاہ سے اٹھائے، اور اگر وہ منافق ہے، تو کہتا ہے: میں لوگوں کو جو کہتے سنتا تھا، وہی میں بھی کہتا تھا اور مجھے کچھ نہیں معلوم۔ تو وہ دونوں اس سے کہتے ہیں: ہمیں معلوم تھا کہ تو یہی کہے گا پھر زمین سے کہا جاتا ہے: تو اسے دبوچ لے تو وہ اسے دبوچ لیتی ہے اور پھر اس کی پسلیاں ادھر کی ادھر ہوجاتی ہیں۔ وہ ہمیشہ اسی عذاب میں مبتلا رہتا ہے۔ یہاں تک کہ اللہ اسے اس کی اس خواب گاہ سے اٹھائے ۔
Sayyidina Abu Hurayrah (RA) narrated that Allah’s Messenger ﷺ said: When the corpse, or (he said) one of you, is lowered in the grave, two angels, black-coloured with blue eyes, come to him. One of them is called Munkar and the other Nakir. They ask him, “What do you say about this man?” He answers what he was used to say (in the world), “He is Allah’s slave and His Messenger U And I bear witness that there is no God but Allah and that Muhammad is His slave and His Messenger.’ They both say, “Indeed, we knew that you would say so.” Then his grave is expandea seventy cubits by seventy cubits and illuminated for him, and he is told, “Go to sleep.” He says, “I wish to return to my family and inform them.” But, they say, “Sleep as a newly married sleeps, whom none but the dearest of his family may wake up”, until Allah resurrects him from his sleep. But, if he is a hypocrite, he says, “I have heard people say and I say the like of that, while I do not know.” So, they both say, “Indeed, we knew that you would say so.” And it is said to the earth, “Press in upon him”, and it presses itself upon him. So, his ribs are squeezed together and the punishment does not cease on him till Allah resurrects him from that place of his.
١- ابوہریرہ کی حدیث حسن غریب ہے، ٢- اس باب میں علی، زید بن ثابت، ابن عباس، براء بن عازب، ابوایوب، انس، جابر، ام المؤمنین عائشہ اور ابوسفیان ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں۔ ان سبھوں نے نبی اکرم ﷺ سے عذاب قبر کے متعلق روایت کی ہے۔
عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب کوئی آدمی مرتا ہے تو اس پر صبح و شام اس کا ٹھکانا پیش کیا جاتا ہے، اگر وہ جنتیوں میں سے ہے تو جنت میں اپنا ٹھکانا دیکھتا ہے اور اگر وہ جہنمیوں میں سے ہے تو وہ جہنم میں اپنا ٹھکانا دیکھتا ہے، پھر اس سے کہا جاتا ہے: یہ تیرا ٹھکانا ہے، یہاں تک کہ اللہ تجھے قیامت کے دن اٹھائے ۔
Sayyidina Ibn Umar (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “When a person dies, his resting place is shown to him. If he is to be in Paradise then his abode in Paradise (is shown) and if he is to be in the Fire then his abode in the Fire. After that, it is said, “This your abode till Allah resurrects you on the Day of Resurrection.” [Ahmed5119, Bukhari 1379, Muslim 2866, Nisai 2072]
صحيحصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1072
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے ١ ؎۔
Notes · وضاحت
١ ؎: اس طرح کی مزید صحیح احادیث میں منکرین عذاب قبر کا پورا پورا رد پایا جاتا ہے، اگر ایسے لوگ عالم برزخ کے احوال کو اپنی عقل پر پرکھیں اور اپنی عقلوں کو ہی دین کا معیار بنائیں تو پھر شریعت مطہرہ میں ایمانیات کے تعلق سے کتنے ہی ایسے بیسیوں مسائل ہیں کہ جن کا ادراک انسانی عقل کر ہی نہیں سکتی تو پھر کیا قرآن وسنت اور سلف صالحین کی وہی راہ تھی جو اس طرح کی عقل والوں نے اختیار کی ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف: ٨٠٥٧) (صحیح) وأخرجہ کل من: صحیح البخاری/الجنائز ٨٩ (١٣٧٩) وبدء الخلق ٨ (٣٢٤) والرقاق ٤٢ (٦٥١٥) صحیح مسلم/الجنة ١٧ (٢٨٦٦) سنن النسائی/الجنائز ١١٦) (٢٠٧٢، ٢٠٧٣، ٢٠٧٤ الزہد ٣٢ (٤٢٧٠) موطا امام مالک/الجنائز ١٦ (٤٧) مسند احمد (٢/١٦، ٥١، ١١٣، ١٢٣) من غیر ہذا الوجہ۔
عبداللہ بن مسعود ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جس نے کسی مصیبت زدہ کی (تعزیت) ماتم پرسی کی، اسے بھی اس کے برابر اجر ملے گا ۔
Sayyidina Abdullah (RA) reported that the Prophet ﷺ said, “One who comforts a person who suffers gets a reward like the sufferer’s.” [Ibn e Majah 1602]
ضعيف، ابن ماجة (1602) // ضعيف سنن ابن ماجة برقم (350)، وانظر تعليقي عليه في الصفحة (121)، المشکاة (1737)، ضعيف الجامع الصغير (5696)، الإرواء (765) //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1073
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث غریب ہے، ٢- ہم اسے صرف علی بن عاصم کی روایت سے مرفوع جانتے ہیں، بعض لوگوں نے محمد بن سوقہ سے اسی جیسی حدیث اسی سند سے موقوفاً روایت کی ہے۔ اور اسے مرفوع نہیں کیا ہے، ٣- کہا جاتا ہے کہ علی بن عاصم پر جو زیادہ طعن ہوا، اور لوگوں نے ان پر نکیر کی ہے وہ اسی حدیث کے سبب ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/الجنائز ٥٦ (١٦٠٢) (تحفة الأشراف: ٩١٦٦) (ضعیف) (سند میں علی بن عاصم بہت غلطی کرتے تھے اور اپنی غلطی پر اصرار بھی کرتے تھے)
عبداللہ بن عمرو ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو مسلمان جمعہ کے دن یا جمعہ کی رات کو مرتا ہے، اللہ اسے قبر کے فتنے سے محفوظ رکھتا ہے ۔
Sayyidina Abdullah ibn Amr (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “No Muslim dies on the day of Friday or the night of Friday but Allah protects him from the trial in the grave.” [Ahmed6593]
١- یہ حدیث غریب ہے، ٢- اس حدیث کی سند متصل نہیں ہے، ربیعہ بن سیف ابوعبدالرحمٰن حبلی سے روایت کرتے ہیں اور وہ عبداللہ بن عمرو سے۔ اور ہم نہیں جانتے کہ ربیعہ بن سیف کی عبداللہ بن عمرو ؓ سے سماع ہے یا نہیں۔
علی بن ابی طالب ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ان سے فرمایا: علی! تین چیزوں میں دیر نہ کرو: نماز کو جب اس کا وقت ہوجائے، جنازہ کو جب آ جائے، اور بیوہ (کے نکاح) کو جب تم اس کا کفو (مناسب ہمسر) پالو ۔
Sayyidina Ali ibn Abu Talib (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said to him, “Three things you should not postpone : the prayer when the hour for it arrives, the funeral when it is ready, and (the marriage of) an unmarried woman when you find a suitable match for her.” [Ahmed 828, Ibn e Majah 1486, Tirmidhi 171]
ضعيف، ابن ماجة (1486) // ضعيف سنن ابن ماجة برقم (326)، المشکاة (605)، ضعيف الجامع الصغير (2563 و 6181)، وتقدم برقم (25 / 172) //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1075
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث غریب ہے، ٢- میں اس کی سند متصل نہیں جانتا۔
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/الجنائز ١٨ (١٤٨٦) (تحفة الأشراف: ١٠٢٥١) (ضعیف) (سند میں سعید بن عبداللہ جہنی لین الحدیث ہیں لیکن دیگر دلائل سے حدیث کا معنی صحیح ہے)
ابوبرزہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس نے کسی ایسی عورت کی تعزیت (ماتم پرسی) کی جس کا لڑکا مرگیا ہو، تو اسے جنت میں اس کے بدلہ ایک عمدہ کپڑا پہنایا جائے گا ۔
Sayyidina Abu Barzah (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “One who comforts a woman who has lost a child will be given to wear a striped cloak in Paradise.”
ضعيف، المشکاة (1738) // ضعيف الجامع الصغير (5695)، الإرواء (764) //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1076
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث غریب ہے، ٢- اس کی سند قوی نہیں ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف: ١١٦٠٩) (ضعیف) (اس کی راویہ ” منیہ “ مجہول الحال ہیں)
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک جنازے میں اللہ اکبر کہا تو پہلی تکبیر پر آپ نے رفع یدین کیا اور دایاں ہاتھ بائیں ہاتھ کے اوپر رکھا۔
Sayyidina Abu Hurayrah narrated that once Allah’s Messenger ﷺ called Allah u Akbar in the funeral salah, he raised his hands at the first takbir and then placed the right hand over the left. --------------------------------------------------------------------------------
حسن الأحكام (115 - 116)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1077
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث غریب ہے، ٢- ہم اسے صرف اسی طریق سے جانتے ہیں، ٣- اہل علم کا اس مسئلہ میں اختلاف ہے، صحابہ کرام وغیرہم میں سے اکثر اہل علم کا خیال ہے کہ آدمی جنازے میں ہر تکبیر کے وقت دونوں ہاتھ اٹھائے گا، یہ ابن مبارک، شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا قول ہے ١ ؎، ٤- بعض اہل علم کہتے ہیں: صرف پہلی بار اپنے دونوں ہاتھ اٹھائے گا۔ یہی ثوری اور اہل کوفہ کا قول ہے ٢ ؎، ٥- ابن مبارک کہتے ہیں کہ نماز جنازہ میں داہنے ہاتھ سے اپنے بائیں ہاتھ کو نہیں پکڑے گا، ٦- اور بعض اہل علم کہتے ہیں: وہ اپنے داہنے ہاتھ سے اپنے بائیں ہاتھ کو پکڑے گا جیسے وہ دوسری نماز میں کرتا ہے، ٧-
ہاتھ باندھنا مجھے زیادہ پسند ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: ان لوگوں کا استدلال عبداللہ بن عمر ؓ کی حدیث سے ہے جس میں ہے کہ نبی اکرم ﷺ جب نماز جنازہ پڑھتے تو اپنے دونوں ہاتھ ہر تکبیر میں اٹھاتے اس کی تخریج دارقطنی نے اپنی علل میں «عن عمر بن شبہ حدثنا یزید بن ہارون انبأنا یحییٰ بن سعید عن نافع عن ابن عمروقال ہکذا … رفعہ عمر بن شبة» کے طریق سے کی ہے لیکن ایک جماعت نے ان کی مخالفت کی ہے اور یزید بن ہارون سے اسے موقوفاً روایت کیا ہے اور یہی صحیح ہے اس باب میں کوئی صحیح مرفوع روایت نہیں ہے۔ ٢ ؎: ان لوگوں کا استدلال باب کی اس حدیث سے ہے لیکن یہ روایت ضعیف ہے جیسا کہ تخریج سے ظاہر ہے نیز ان کی دوسری دلیل ابن عباس کی روایت ہے اس کی تخریج دارقطنی نے کی ہے اس میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ جنازہ میں اپنے دونوں ہاتھ پہلی تکبیر میں اٹھاتے تھے پھر ایسا نہیں کرتے تھے لیکن اس میں ایک راوی فضل بن سکن ہے جسے علماء نے ضعیف کہا ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف: ١٣١١٧) (حسن) (سند میں ابو فردہ یزید بن سناز ضعیف راوی ہیں، لیکن متابعات وشواہد کی بنا پر یہ حدیث حسن ہے، دیکھئے احکام الجنائز: ١١٥، ١١٦)
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: مومن کی جان اس کے قرض کی وجہ سے اٹکی رہتی ہے جب تک کہ اس کی ادائیگی نہ ہوجائے ۔
Sayyidina Abu Hurayrah reorted that Allah’s Messenger ﷺ said, “The Believer’s heart is suspended with his debt till it is paid.”
صحيح، ابن ماجة (2413)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1078
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف، ( تحفة الأشراف: ١٤٩٥٩) وانظر: مسند احمد (٢/٤٤٠) (صحیح) وأخرجہ سنن ابن ماجہ/الصدقات ١٢ و مسند احمد (٢/٤٧٥) من غیر ہذا الوجہ، انظر الحدیث الآتي۔
اس سند سے بھی ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: مومن کی جان اس کے قرض کی وجہ سے اٹکی رہتی ١ ؎ ہے جب تک کہ اس کی ادائیگی نہ ہوجائے ٢ ؎۔
Muhammad ibn Bashshar reported the same hadith from Abdur Rahman ibn Mahdi, from Ibrahim ibn Sa’d who from his father, from Amr ibn Salamah who from his father, from Abu Hurayrah ‘‘ [Ahmed1016O Ibn e Majah 2413] --------------------------------------------------------------------------------
صحيح بما قبله (1078)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1079
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث حسن ہے، ٢- یہ پہلی حدیث سے زیادہ صحیح ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی اس کا معاملہ موقوف رہتا ہے اس کی نجات یا ہلاکت کا فیصلہ نہیں کیا جاتا ہے۔ ٢ ؎: یہ خاص ہے اس شخص کے ساتھ جس کے پاس اتنا مال ہو جس سے وہ قرض ادا کرسکے رہا وہ شخص جس کے پاس مال نہ ہو اور وہ اس حال میں مرا ہوا کہ قرض کی ادائیگی کا اس کا پختہ ارادہ رہا ہو تو ایسے شخص کے بارے میں حدیث میں وارد ہے کہ اس کا قرض اللہ تعالیٰ ادا کر دے گا۔
Takhrij · تخریج
انظر ما قبلہ ( تحفة الأشراف: ١٤٩٨١) (صحیح) (اوپر کی حدیث سے تقویت پا کر یہ صحیح ہے)
اکرم ﷺ نے فرمایا: ”تم میں سے کوئی ہرگز کسی مصیبت کی وجہ سے جو اس پر نازل ہوئی ہو موت کی تمنا نہ کرے۔ بلکہ وہ یوں کہے: «اللهم أحيني ما كانت الحياة خيرا لي وتوفني إذا كانت الوفاة خيرا لي» ”اے اللہ! مجھے زندہ رکھ جب تک کہ زندگی میرے لیے بہتر ہو، اور مجھے موت دے جب میرے لیے موت بہتر ہو“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Anas bin Malik narrated that: The Prophet said that (a Hadith similar to no. 970).