بن بلائے ولیمہ میں جانا
حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ شَقِيقٍ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ يُقَالُ لَهُ: أَبُو شُعَيْبٍ، إِلَى غُلَامٍ لَهُ لَحَّامٍ، فَقَالَ: اصْنَعْ لِي طَعَامًا يَكْفِي خَمْسَةً، فَإِنِّي رَأَيْتُ فِي وَجْهِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْجُوعَ، قَالَ: فَصَنَعَ طَعَامًا، ثُمَّ أَرْسَلَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَدَعَاهُ وَجُلَسَاءَهُ الَّذِينَ مَعَهُ، فَلَمَّا قَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اتَّبَعَهُمْ رَجُلٌ لَمْ يَكُنْ مَعَهُمْ حِينَ دُعُوا، فَلَمَّا انْتَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْبَابِ، قَالَ لِصَاحِبِ الْمَنْزِلِ: إِنَّهُ اتَّبَعَنَا رَجُلٌ لَمْ يَكُنْ مَعَنَا حِينَ دَعَوْتَنَا فَإِنْ أَذِنْتَ لَهُ دَخَلَ ، قَالَ: فَقَدْ أَذِنَّا لَهُ فَلْيَدْخُلْ. قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، قَالَ: وَفِي الْبَاب، عَنْ ابْنِ عُمَرَ.
ابومسعود ؓ کہتے ہیں کہ ابوشعیب نامی ایک شخص نے اپنے ایک گوشت فروش لڑکے کے پاس آ کر کہا: تم میرے لیے کھانا بنا جو پانچ آدمیوں کے لیے کافی ہو کیونکہ میں نے رسول اللہ ﷺ کے چہرے پر بھوک کا اثر دیکھا ہے، تو اس نے کھانا تیار کیا۔ پھر نبی اکرم ﷺ کو بلانے کے لیے آدمی بھیجا۔ تو اس نے آپ کو اور آپ کے ساتھ جو لوگ بیٹھے تھے سب کو کھانے کے لیے بلایا، جب نبی اکرم ﷺ (چلنے کے لیے) اٹھے، تو آپ کے پیچھے ایک اور شخص بھی چلا آیا، جو آپ کے ساتھ اس وقت نہیں تھا جب آپ کو دعوت دی گئی تھی۔ جب رسول اللہ ﷺ دروازے پر پہنچے تو آپ نے صاحب خانہ سے فرمایا: ہمارے ساتھ ایک اور شخص ہے جو ہمارے ساتھ اس وقت نہیں تھا، جب تم نے دعوت دی تھی، اگر تم اجازت دو تو وہ بھی اندر آ جائے؟ ، اس نے کہا: ہم نے اسے بھی اجازت دے دی، وہ بھی اندر آ جائے ١ ؎۔
Sayyidina Abu Mas’ud (RA) narrated : A man called Abu Shu’ayb came to his slave, Lahham and said to him, ‘Prepare for me a meal that would suffice five people, for, I see signs of hunger on the face of Allah’s Messenger ﷺ . So, he prepared the food. After that, he sent him to the Prclphet r’-’ li LO and invited him and thejee sitting with him. When the Prophet ﷺ stood up, a man who had not been with him when he was invited followed him. So, when he came to the door, he said to the owner of the house, ‘A man who was not with us at the time of invitation has followed us and if you permit him, admit him. He said, “Indeed, we permit him’. So, he entered. [Ahmed 14807, Nisai 2081, Muslim 2036] --------------------------------------------------------------------------------