Sunan At-Tirmidhi 1087

نکاح کا بیان

1087Sunan At-Tirmidhi

جس عورت سے پیغام نکاح کرے اس کو دیکھ لینا

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي زَائِدَةَ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَاصِمُ بْنُ سُلَيْمَانَ هُوَ: الْأَحْوَلُ، عَنْ بَكْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْمُزَنِيِّ، عَنْ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ، أَنَّهُ خَطَبَ امْرَأَةً، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: انْظُرْ إِلَيْهَا فَإِنَّهُ أَحْرَى أَنْ يُؤْدَمَ بَيْنَكُمَا . وَفِي الْبَاب: عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ مَسْلَمَةَ، وَجَابِرٍ، وَأَبِي حُمَيْدٍ، وَأَنَسٍ، وَأَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ، وَقَدْ ذَهَبَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ إِلَى هَذَا الْحَدِيثِ، وَقَالُوا: لَا بَأْسَ أَنْ يَنْظُرَ إِلَيْهَا مَا لَمْ يَرَ مِنْهَا مُحَرَّمًا، وَهُوَ قَوْلُ: أَحْمَدَ، وَإِسْحَاق، وَمَعْنَى قَوْلِهِ أَحْرَى: أَنْ يُؤْدَمَ بَيْنَكُمَا، قَالَ: أَحْرَى أَنْ تَدُومَ الْمَوَدَّةُ بَيْنَكُمَا.

مغیرہ بن شعبہ ؓ کہتے ہیں کہ انہوں نے ایک عورت کے پاس نکاح کا پیغام بھیجا، تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: تم اسے دیکھ لو ١ ؎۔

Sayyidina Mughirah ibn Shu’bah (RA) said that he proposed to a woman. So, the Prophet ﷺ said to him, “Look at her. That would strengthen your love for one another”. [Ahmed 18160, Nisai 3232, Ibn e Majah 1865] --------------------------------------------------------------------------------

صحيح، ابن ماجة (1865)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1087
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث حسن ہے، ٢- اس باب میں محمد بن مسلمہ، جابر، ابوحمید اور ابوہریرہ ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں، ٣- بعض اہل علم اسی حدیث کی طرف گئے ہیں، وہ کہتے ہیں: اسے دیکھنے میں کوئی حرج نہیں جب وہ اس کی کوئی ایسی چیز نہ دیکھے جس کا دیکھنا حرام ہے۔ یہی احمد اور اسحاق بن راہویہ کا بھی قول ہے، ٤- اور «أحری أن يؤدم بينكما» کے معنی یہ ہیں کہ یہ تم دونوں کے درمیان محبت پیدا کرنے کے لیے زیادہ موزوں ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: جمہور کے نزدیک یہ حکم مستحب ہے واجب نہیں، اگر کوئی کسی قابل اعتماد رشتہ دار عورت کو بھیج کر عورت کے رنگ و روپ اور عادات وخصائل کا پتہ لگالے تو یہ بھی ٹھیک ہے جیسا کہ رسول اللہ ﷺ نے ام سلیم ؓ کو بھیج کر ایک عورت کے متعلق معلومات حاصل کی تھی۔
Takhrij · تخریج
سنن النسائی/النکاح ١٧ (٢٢٣٧)، سنن ابن ماجہ/النکاح ٩ (١٨٦٦)، (بزیادة في السیاق) ( تحفة الأشراف: ١١٤٨٩)، مسند احمد (٤/٢٤٥، ٢٤٦)، سنن الدارمی/النکاح ٥ (٢٢١٨) (صحیح)