Sunan At-Tirmidhi 2773

آداب اور اجازت لینے کا بیان

2773Sunan At-Tirmidhi

اس بارے میں کہ سواری کا مالک اس پر آگے بیٹھنے کا زیادہ مستحق ہے

حَدَّثَنَا أَبُو عَمَّارٍ الْحُسَيْنُ بْنُ حُرَيْثٍ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ وَاقِدٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بُرَيْدَةَ، قَال: سَمِعْتُ أَبِي بُرَيْدَةَ، يَقُولُ: بَيْنَمَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَمْشِي إِذْ جَاءَهُ رَجُلٌ وَمَعَهُ حِمَارٌ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ ارْكَبْ، وَتَأَخَّرَ الرَّجُلُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَأَنْتَ أَحَقُّ بِصَدْرِ دَابَّتِكَ إِلَّا أَنْ تَجْعَلَهُ لِي، قَالَ: قَدْ جَعَلْتُهُ لَكَ قَالَ: فَرَكِبَ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ، وَفِي الْبَابِ، عَنْ قَيْسِ بْنِ سَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ.

بریدہ ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ چلے جا رہے تھے کہ اسی دوران ایک شخص جس کے ساتھ گدھا تھا آپ کے پاس آیا۔ اور آپ سے عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ سوار ہوجائیے، اور خود پیچھے ہٹ گیا۔ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تو اپنی سواری کے سینے پر یعنی آگے بیٹھنے کا زیادہ حقدار ہو الاّ یہ کہ تم مجھے اس کا حق دے دو۔ یہ سن کر فوراً اس نے کہا: میں نے اس کا حق آپ کو دے دیا۔ پھر آپ اس پر سوار ہوگئے ١ ؎۔

Sayyidina Abu Buraida (RA) reported that while the Prophet ﷺ was going on foot, a man came with his donkey. He said, “O Messenger of Allah ﷺ come ride and he moved behind (making space for the Prophet ﷺ in front) But, he said, “No You have more right over the main seat on your animal unless you give the right to me.” He said, “I have given you the right to it.” So, he mounted it. [Ahmed 23053,Abu Dawud 2572]

صحيح، المشکاة (3918)، الإرواء (2 / 257)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2773
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
اس سند سے یہ حدیث حسن غریب ہے۔ اس باب میں قیس بن سعد بن عبادۃ سے بھی روایت ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ رسول اللہ ﷺ کی شخصیت کس قدر متواضع تھی، آپ کسی دوسرے کے حق کو لینا پسند نہیں کرتے تھے یہاں تک کہ وہ خود آپ کو یہ حق دینے پر راضی نہ ہوجاتا، یہ بھی معلوم ہوا کہ آپ کی شخصیت میں ہمیشہ انصاف پسندی اور حق کا اظہار شامل تھا۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/ الجھاد ٦٥ (٢٥٧٢) (تحفة الأشراف: ١٩٦١) (صحیح )