انماط (یعنی قالین) کے استعمال کی اجازت
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: هَلْ لَكُمْ أَنْمَاطٌ ؟ قُلْتُ: وَأَنَّى تَكُونُ لَنَا أَنْمَاطٌ ؟ قَالَ: أَمَا إِنَّهَا سَتَكُونُ لَكُمْ أَنْمَاطٌ ، قَالَ: فَأَنَا أَقُولُ لِامْرَأَتِي أَخِّرِي عَنِّي أَنْمَاطَكِ، فَتَقُولُ: أَلَمْ يَقُلِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّهَا سَتَكُونُ لَكُمْ أَنْمَاطٌ، قَالَ: فَأَدَعُهَا، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
جابر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: کیا تمہارے پاس «انماط» (غالیچے) ہیں؟ میں نے کہا: غالیچے ہمارے پاس کہاں سے ہوں گے؟ آپ نے فرمایا: تمہارے پاس عنقریب «انماط» (غالیچے) ہوں گے ۔ (تو اب وہ زمانہ آگیا ہے) میں اپنی بیوی سے کہتا ہوں کہ تم اپنے «انماط» (غالیچے) مجھ سے دور رکھو۔ تو وہ کہتی ہے: کیا رسول اللہ ﷺ نے یہ نہ کہا تھا کہ تمہارے پاس «انماط» ہوں گے، تو میں اس سے درگزر کرجاتا ہوں ١ ؎۔
Sayyidina Jabir said that Allah’s Messenger ﷺ asked him, “Do you have an anmat”? He submitted “And, how will I have an anmat”? He said, “Indeed soon you people will have anmat” Jabir said that (soon) he used to say to his wife “Draw away from me your anmat.” She would say ask, “Did not Allah’s Messenger ﷺ say to you, ‘You people will soon have anmat?”” He said, “I would then let her alone.” [Bukhari 5161,Muslim 2083,Abu Dawud 4145,Nisai 3386]