Sunan At-Tirmidhi 2776

آداب اور اجازت لینے کا بیان

2776Sunan At-Tirmidhi

اچانک نظر پڑجانے کے بارے میں

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، أَخْبَرَنَا يُونُسُ بْنُ عُبَيْدٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ بْنِ عَمْرِو بْنِ جَرِيرٍ، عَنْ جَرِيرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ نَظْرَةِ الْفُجَاءَةِ فَأَمَرَنِي أَنْ أَصْرِفَ بَصَرِي ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَأَبُو زُرْعَةَ بْنُ عَمْرٍو اسْمُهُ هَرِمٌ.

جریر بن عبداللہ ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے (کسی اجنبیہ عورت پر) اچانک پڑجانے والی نظر سے متعلق پوچھا۔ تو آپ نے فرمایا: تم اپنی نگاہ پھیرلیا کرو ١ ؎۔

Sayyidina Jarir ibn Abdullah (RA) said that he asked Allah’s Messenger ﷺ about a sudden gaze. He commanded him to turn away his sight. [Ahmed 19218,Muslim 2159,Abu Dawud 21481

صحيح حجاب المرأة (35)، صحيح أبي داود (1864)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2776
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حدیث حسن صحیح ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: معلوم ہوا کہ کسی مقصد و ارادہ کے بغیر اگر اچانک کسی اجنبی عورت پر نگاہ پڑجائے تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے، حرج اور گناہ تو اس میں ہے کہ اس پر باربار نگاہ مقصد و ارادہ کے ساتھ ڈالی جائے، اور یہ کہ اچانک نگاہ کو بھی فوراً پھیرلیا جائے۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الأدب ١٠ (٢١٥٩)، سنن ابی داود/ النکاح ٤٤ (٢١٤٨) (تحفة الأشراف: ٣٢٣٧)، و مسند احمد (٤/٣٥٨، ٣٦١)، وسنن الدارمی/الاستئذان ١٥ (٢٦٨٥) (صحیح )