ثابت کے باپ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: نماز میں چھینک، اونگھ، جمائی، حیض، قے اور نکسیر شیطان کی طرف سے ہوتا ہے ۔
Adi ibn Thabit reported from his father who from his grandfather in a marfu form that the sneeze and dozing and yawning during salah, and menses, vomitting and nose bleeding are from the devil.
ضعيف، المشکاة (999) // ضعيف الجامع الصغير (3865) //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2748
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن غریب ہے، ٢ - ہم اسے صرف شریک کی روایت جانتے ہیں جسے وہ ابوالیقظان سے روایت کرتے ہیں، ٣ - میں نے محمد بن اسماعیل بخاری سے اس روایت «عن عدی بن ثابت عن ابیہ عن جدہ» کے تعلق سے پوچھا کہ عدی کے دادا کا کیا نام ہے؟ تو انہوں نے کہا کہ میں نہیں جانتا، لیکن یحییٰ بن معین سے پوچھا گیا تو انہوں نے کہا کہ ان کا نام دینار ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/الإقامة ٤٢ (٩٦٩) (تحفة الأشراف: ٣٥٤٣) (ضعیف) (سند میں ” ثابت انصاری “ مجہول، اور ” ابوالیقظان “ ضعیف ہیں )
عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: کوئی شخص اپنے بھائی کو اس کے بیٹھنے کی جگہ سے اٹھا کر خود اس کی جگہ نہ بیٹھ جائے ۔
Sayyidina Ibn Umar (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “No one fl, of you must have his brother get up from his seat and then sit down there.” [Ahmed 5629,Bukhari 6269,Muslim 2177]
صحيحصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2749
عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تم میں سے کوئی شخص اپنے بھائی کو اس کی جگہ سے اٹھا کر خود اس جگہ نہ بیٹھ جائے ۔ راوی سالم کہتے ہیں: ابن عمر ؓ کے احترام میں آدمی ان کے آنے پر اپنی جگہ سے اٹھ کر کھڑا ہوجاتا تھا لیکن وہ (اس ممانعت کی وجہ سے) اس کی جگہ نہیں بیٹھتے تھے۔
Hasan ibn Ali Khallal reported it from Abdur Razzaq, from Ma’mar, from Zuhri, from Saalim, from Ibn Umar (RA) that Allah’s Messenger ﷺ said, “None of you must remove his brother from his seat and sit down there himself.”
صحيحصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2750
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث صحیح ہے۔ اور پھر واپس آئے تو وہ اپنی جگہ پر بیٹھنے کا زیادہ مستحق ہے۔
وہب بن حذیفہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: آدمی اپنے بیٹھنے کی جگہ کا زیادہ مستحق ہے، اگر وہ کسی ضرورت سے اٹھ کر جائے اور پھر واپس آئے تو وہی اپنی جگہ پر بیٹھنے کا زیادہ حق رکھتا ہے ۔
Sayyidina Wahb ibn Hudhayfah reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “A man has more right to this seat. If he goes out to attend to his need and returns then he has more right to his seat.” [Ahmed 11282]
عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: کسی بھی شخص کے لیے جائز نہیں کہ وہ دو آدمیوں کے بیچ میں بیٹھ کر تفریق پیدا کرے مگر ان کی اجازت سے ١ ؎۔
Sayyidina Abdullah ibn Amr (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “It is not lawful for a man that he separate two men (and sit between them) without their permission.” [Ahmed 7078,Abu Dawud 4845]
حسن صحيح، المشکاة (7403 / التحقيق الثاني)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2752
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - اس حدیث کو عامر احول نے عمرو بن شعیب سے بھی روایت کی ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: معلوم ہوا کہ بیٹھے ہوئے دو آدمیوں کے درمیان بغیر اجازت کسی کا بیٹھنا صحیح نہیں، اگر وہ دونوں اجازت دے دیں تو پھر بیٹھنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/ الأدب ٢٤ (٤٨٤٤، ٤٨٤٥) (تحفة الأشراف: ٨٦٥٦)، و مسند احمد (٢/٢١٣) (حسن صحیح )
ابومجلز سے روایت ہے کہ ایک آدمی حلقہ کے بیچ میں بیٹھ گیا، تو حذیفہ نے کہا: محمد ﷺ کے فرمان کے مطابق وہ شخص ملعون ہے جو بیٹھے ہوئے لوگوں کے حلقہ (دائرہ) کے بیچ میں جا کر بیٹھے ١ ؎۔
Abu Mijlaz reported that a man sat in the center of a circle (of men). Hudhaifa (RA) said to him, “He who sits in the centre of a circle si accursed by the tongue of Muhammad or cursed by Allah through the tongue ot Muhammad.’ [Abu Dawud 4826]
ضعيف، الضعيفة (638)، المشکاة (4722) // ضعيف الجامع الصغير (4694)، ضعيف أبي داود (1028 / 4826) //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2753
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - ابومجلز کا نام لاحق بن حمید ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: اس سے مراد وہ آدمی ہے جو مجلس کے کنارے نہ بیٹھ کر لوگوں کی گردنوں کو پھاندتا ہوا بیچ حلقہ میں جا کر بیٹھے، اور لوگوں کے درمیان حائل ہوجائے، البتہ ایسا آدمی جس کا انتظار اسی بنا پر ہو کہ وہ مجلس کے درمیان آ کر بیٹھے تو وہ اس لعنت میں داخل نہیں ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/ الأدب ١٧ (٤٨٢٦) (تحفة الأشراف: ٣٣٨٩)، و مسند احمد (٥/٣٨٣، ٤٠١) (ضعیف) (ابو مجلز اور حذیفہ ؓ کے درمیان سند میں انقطاع ہے )
انس ؓ کہتے ہیں کہ کوئی شخص انہیں یعنی (صحابہ) کو رسول اللہ سے زیادہ محبوب نہ تھا کہتے ہیں: (لیکن) وہ لوگ آپ کو دیکھ کر (ادباً ) کھڑے نہ ہوتے تھے۔ اس لیے کہ وہ لوگ جانتے تھے کہ آپ ﷺ اسے ناپسند کرتے ہیں۔
Sayyidina Anas (RA) narrated: No one was dearer than Allah’s Messenger ﷺ to the sahabah yet when they saw him, they did not stand up because they knew the dislike for that.
صحيح مختصر الشمائل (289)، الضعيفة تحت الحديث (346)، المشکاة (4698)، نقد الکتاني ص (51)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2754
ابومجلز کہتے ہیں کہ معاویہ ؓ باہر نکلے، عبداللہ بن زبیر اور ابن صفوان انہیں دیکھ کر (احتراماً ) کھڑے ہوگئے۔ تو معاویہ ؓ نے کہا تم دونوں بیٹھ جاؤ۔ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ہے: جو شخص یہ پسند کرے کہ لوگ اس کے سامنے با ادب کھڑے ہوں تو وہ اپنا ٹھکانا جہنم میں بنا لے ١ ؎۔
Abu Mijlaz reported that when Mu’awiyah (RA) came out, Abdullah ibn Zubayr and Ibn Safwan stood up on seeing him He said, “Sit down I had heard Allah’s Messenger ﷺ say, ‘He to whom it pleases that men may stand like statues for him, let him find his seat in Hell.”
صحيح، المشکاة (4699)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2755
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن ہے، ٢ - اس باب میں ابوامامہ سے بھی روایت ہے۔ ہم سے بیان کیا ہناد نے وہ کہتے ہیں: ہم سے بیان کیا ابواسامہ نے اور ابواسامہ نے حبیب بن شہید سے حبیب بن شہید نے ابومجلز سے ابومجلز نے معاویہ کے واسطہ سے نبی اکرم ﷺ سے اسی طرح روایت کی۔
Notes · وضاحت
١ ؎: معلوم ہوا کہ ادب و تعظیم کی خاطر کسی کے لیے کھڑا ہونا مکروہ ہے، البتہ کسی معذور شخص کی مدد کے لیے اٹھ کھڑا ہونے میں کوئی قباحت نہیں ہے، نیز اگر کسی آنے والے کے لیے بیٹھے ہوئے لوگوں میں سے کوئی آگے بڑھ کر اس کو لے کر مجلس میں آئے اور بیٹھائے تو اس میں کوئی حرج نہیں جیسا کہ فاطمہ ؓ رسول اللہ کے لیے کرتی تھی۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/ الأدب ١٦٥ (٥٢٢٩) (تحفة الأشراف: ١١٤٤٨)، و مسند احمد (٤/١٠٠) (صحیح )
ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: پانچ چیزیں فطرت سے ہیں ١ ؎، ( ١ ) شرمگاہ کے بال مونڈنا، ( ٢ ) ختنہ کرنا، ( ٣ ) مونچھیں کترنا، ( ٤ ) بغل کے بال اکھیڑنا، ( ٥ ) ناخن تراشنا ۔
Sayyidina Abu Hurairah (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “Five things are natural: shaving the pubes, to circumcise, trimiming the moustache, plucking hair from armpit and clipping nails.” [Ahmed 7142,Bukhari 5889,Muslim 257, AD4198,Muslim 292]
صحيح، ابن ماجة (292)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2756
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی انبیاء کی وہ سنتیں ہیں جن کی اقتداء کرنے کا ہمیں حکم دیا گیا ہے۔ یہ ساری شریعتوں میں تھیں، کیونکہ یہ فطرت انسانی کے اندر داخل ہیں۔
ام المؤمنین عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: دس ١ ؎ چیزیں فطرت سے ہیں ( ١ ) مونچھیں کترنا ( ٢ ) ڈاڑھی بڑھانا ( ٣ ) مسواک کرنا ( ٤ ) ناک میں پانی ڈالنا ( ٥ ) ناخن کاٹنا ( ٦ ) انگلیوں کے جوڑوں کی پشت دھونا ( ٦ ) بغل کے بال اکھیڑنا ( ٨ ) ناف سے نیچے کے بال مونڈنا ( ٩ ) پانی سے استنجاء کرنا، زکریا (راوی) کہتے ہیں کہ مصعب نے کہا: دسویں چیز میں بھول گیا۔ ہوسکتا ہے کہ وہ کلی کرنا ہو ، «انتقاص الماء» سے مراد پانی سے استنجاء کرنا ہے۔
Sayyidah Aisha (RA) reported that the Prophet ﷺ said, “Ten things are instinctive : trimming the moustache, growing the beard, the siwak, rinsing the nose, clipping the nails, washing the back of fingers, plucking hair in the armpit, shaving the pubes, abstersion with 1 water,” Zakariya reported that Mus’ab said, “I have forgotten the tenth except that it should be rinsing the mouth.” [Ahmed 25114,Muslim 261,Abu Dawud 53,Nisai 5055] --------------------------------------------------------------------------------
حسن، ابن ماجة (293)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2757
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن ہے، ٢ - اس باب میں عمار بن یاسر، ابن عمر اور ابوہریرہ ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: پچھلی حدیث میں پانچ کا ذکر ہے، اور اس میں دس کا، دونوں میں کوئی تضاد نہیں، پانچ دس میں داخل ہیں، یا پہلے آپ کو پانچ کے بارے میں بتایا گیا، بعد میں دس کے بارے میں بتایا گیا۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الطہارة ١٦ (٢٦١)، سنن ابی داود/ الطہارة ٢٩ (٥٣)، سنن النسائی/الزینة ١ (٥٠٤٣)، سنن ابن ماجہ/الطہارة ٨ (٢٩٣) (تحفة الأشراف: ٨٨ ا ١٦)، و مسند احمد (٦/١٣٧) (صحیح )
انس بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے لوگوں کے لیے مدت متعین فرما دی ہے کہ ہر چالیس دن کے اندر ناخن کاٹ لیں۔ مونچھیں کتروا لیں۔ اور ناف سے نیچے کے بال مونڈ لیں۔
Sayyidina Anas (RA) ibn Malik reported that the Prophet ﷺ set for them the limit of forty days for every clipping of nails and trimming of moustache and shaving the pubes. [Muslim 258,Abu Dawud 4200.Nisai 14, Ibn e Majah 295]
صحيح، ابن ماجة (295)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2758
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الطھارة ١٦ (٢٥٨)، سنن ابی داود/ الترجل ١٦ (٤٢٠٠)، سنن النسائی/الطھارة ١٤ (١٤)، سنن ابن ماجہ/الطھارة ٨ (٢٩٢) (تحفة الأشراف: ١٠٧٠)، و مسند احمد (٣/١٢٢، ٢٠٣) (صحیح )
انس بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ مونچھیں کترنے، ناخن کاٹنے، زیر ناف کے بال لینے، اور بغل کے بال اکھاڑنے کا ہمارے لیے وقت مقرر فرما دیا گیا ہے، اور وہ یہ ہے کہ ہم انہیں چالیس دن سے زیادہ نہ چھوڑے رکھیں ١ ؎۔
Sayyidina Anas (RA) ibn Malik reported that they were commanded to trim the moustache, clip the nails, shave the pubes and pluck hair from the armpits not later than every forty days.
صحيح انظر ما قبله (2758)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2759
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث پہلی حدیث سے زیادہ صحیح ہے، ٢ - صدقہ بن موسیٰ (جو پہلی حدیث کی سند میں) محدثین کے نزدیک حافظ نہیں ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: مطلب یہ ہے کہ چالیس دن سے اوپر نہ ہو، یہ مطلب نہیں ہے کہ چالیس دن کے اندر جائز نہیں۔
زید بن ارقم ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس نے اپنی مونچھوں کے بال نہ لیے (یعنی انہیں نہیں کاٹا) تو وہ ہم میں سے نہیں ہے ۔
Sayyidina Zayd ibn Arqam (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “He who does not clip (some of) his moustache is not among us.” [Ahmed 19283,Nisai 13]
عبداللہ بن عمرو بن عاص ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ اپنی ڈاڑھی لمبائی اور چوڑائی سے لیا کرتے تھے۔
Amr ibn Shu’ayb reported on the authority of his father and his grandfather that the oph used dipsohairmhis beard from its length and its breadth.
موضوع، الضعيفة (288) // ضعيف الجامع الصغير (4517) //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2762
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث غریب ہے، ٢ - میں نے محمد بن اسماعیل بخاری کو کہتے ہوئے سنا ہے: عمر بن ہارون مقارب الحدیث ہیں۔ میں ان کی کوئی ایسی حدیث نہیں جانتا جس کی اصل نہ ہو، یا یہ کہ میں کوئی ایسی حدیث نہیں جانتا جس میں وہ منفرد ہوں، سوائے اس حدیث کے کہ نبی اکرم ﷺ اپنی ڈاڑھی کے طول و عرض سے کچھ لیتے تھے۔ میں اسے صرف عمر بن ہارون کی روایت سے جانتا ہوں۔ میں نے انہیں (یعنی بخاری کو عمر بن ہارون) کے بارے میں اچھی رائے رکھنے والا پایا ہے، ٣ - میں نے قتیبہ کو عمر بن ہارون کے بارے میں کہتے ہوئے سنا ہے کہ عمر بن ہارون صاحب حدیث تھے۔ اور وہ کہتے تھے کہ ایمان قول و عمل کا نام ہے، ٤ - قتیبہ نے کہا: وکیع بن جراح نے مجھ سے ایک شخص کے واسطے سے ثور بن یزید سے بیان کیا ثور بن یزید سے اور ثور بن یزید روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے اہل طائف پر منجنیق نصب کردیا۔ قتیبہ کہتے ہیں میں نے (اپنے استاد) وکیع بن جراح سے پوچھا کہ یہ شخص کون ہیں؟ (جن کا آپ نے ابھی روایت میں «عن رجل» کہہ کر ذکر کیا ہے) تو انہوں نے کہا: یہ تمہارے ساتھی عمر بن ہارون ہیں ١ ؎۔
Notes · وضاحت
١ ؎: امام ترمذی نے وکیع بن جراح کے واسطہ سے جو حدیث منجنیق روایت کی ہے، تو اس کا مقصد یہ ہے کہ وکیع بن جراح جیسے ثقہ راوی نے عمر بن ہارون سے روایت کی ہے، گویا عمر بن ہارون کی توثیق مقصود ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: ٨٦٦٢) (موضوع) (سند میں ” عمر بن ہارون ابو جو ین العبدی “ متروک الحدیث ہے )
عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں مونچھیں کٹوانے اور ڈاڑھیاں بڑھانے کا حکم دیا ١ ؎۔
Sayyidina Ibn Umar (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ gave the command to cut the moustache well and to grow the beard. [Bukhari 5892,Muslim 259,Abu Dawud 4199]
صحيح ص انظر ما قبله (2763)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2764
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - ابن عمر ؓ کے آزاد کردہ غلام ابوبکر بن نافع ثقہ آدمی ہیں، ٣ - عمر بن نافع یہ بھی ثقہ ہیں، ٤ - عبداللہ بن نافع ابن عمر ؓ کے آزاد کردہ غلام ہیں اور حدیث بیان کرنے میں ضعیف ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: ان دونوں لفظوں کے ساتھ اس حدیث کو روایت کرنے والے ابن عمر ؓ جن کی سمجھ کی داد خود نبی اکرم ﷺ نے دی ہے، اور جو اتباع سنت میں اس حد تک بڑھے ہوئے تھے کہ جہاں نبی اکرم ﷺ نے اونٹ بیٹھا کر پیشاب کیا تھا وہاں آپ بلا ضرورت بھی اقتداء میں بیٹھ کر پیشاب کرتے تھے تو یہ کیسے سوچا جاسکتا ہے کہ آپ جو ایک مٹھی سے زیادہ اپنی داڑھی کو کاٹ دیا کرتے تھے یہ فرمان رسول ﷺ کی مخالفت ہے؟ بات یہ نہیں ہے، بلکہ صحیح بات یہ ہے کہ ابن عمر ؓ کا یہ فعل حدیث کے خلاف نہیں ہے، «توفیر» اور «اعفاء» کا مطلب ایک مٹھی سے زیادہ کاٹنے پر بھی حاصل ہوجاتا ہے، آپ از حد متبع سنت صحابی ہیں نیز عربی زبان کے جانکار ہیں، آپ سے زیادہ فرمان رسول کو کون سمجھ سکتا ہے؟ اور کون اتباع کرسکتا ہے؟۔ اس لیے جو اہل علم داڑھی کو ایک قبضہ کے بعد کاٹنے کا فتوی دیتے ہیں ان کی بات میں وزن ہے اور یہ ان مسائل میں سے ہے جس میں علماء کا اختلاف قوی اور معتبر ہے، «واللہ اعلم»۔
عباد بن تمیم کے چچا عبداللہ بن زید بن عاصم مازنی ؓ کہتے ہیں کہ انہوں نے نبی اکرم ﷺ کو مسجد میں اپنی ایک ٹانگ دوسری ٹانگ پر رکھ کر چت لیٹے ہوئے دیکھا۔
Abbad ibn Tamim reported from his uncle that he saw the Prophet ﷺ lying down in the mosque, one foot placed over the other. [Ahmed 16430,Bukhari 475,Muslim 2100,Abu Dawud 4866,Nisai 721] --------------------------------------------------------------------------------
صحيحصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2765
جابر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی اپنی پیٹھ کے بل لیٹے تو اپنی ایک ٹانگ دوسری ٹانگ پر نہ رکھے ١ ؎۔
Sayyidina Jabir (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ forbade wrapping one’s hands and body in one garment and sitting erect (in one garment) and putting one foot over the other while one is lying down on one’s back. [Muslim 2099,Abu Dawud 4865,Nisai 5342]
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - اس حدیث کو کئی راویوں نے سلیمان تیمی سے روایت کیا ہے۔ اور خداش (جن کا ذکر اس حدیث کی سند میں ہے) نہیں جانے جاتے کہ وہ کون ہیں؟ اور سلیمان تیمی نے ان سے کئی حدیثیں روایت کی ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: اس حدیث میں جو ممانعت ہے اس کا تعلق اس صورت سے ہے جب بےپردگی کا خوف ہو، اگر ایسا نہیں ہے مثلاً آدمی پائجامہ اور شلوار وغیرہ میں ہے تو ایک ٹانگ دوسری ٹانگ پر رکھ کر چت لیٹنے میں کوئی حرج نہیں ہے، جیسا کہ پچھلی حدیث میں نبی اکرم ﷺ کے بارے میں بیان ہوا۔
جابر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک کپڑے میں صماء ١ ؎ اور احتباء ٢ ؎ کرنے اور ایک ٹانگ دوسری ٹانگ پر رکھ کر چت لیٹنے سے منع فرمایا۔
Qutaybah reported from Layth, from Abu Zabayr, from the Prophet ﷺ a hadith of this kind.
صحيح، الصحيحة (1255)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2767
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: «اشتمال صمّاء»: یہ ہے کہ کپڑا اس طرح جسم پر لپیٹے کہ دونوں ہاتھ اندر ہوں، اور حرکت کرنا مشکل ہو۔ ٢ ؎: «احتباء»: یہ ہے کہ آدمی دونوں سرینوں (چوتڑوں) کے اوپر بیٹھے اور دونوں پنڈلیوں کو کھڑی کر کے پیٹ سے لگالے اور اوپر سے ایک کپڑا ڈال لے، اس صورت میں شرمگاہ کھلنے کا خطرہ لگا رہتا ہے۔ اور اگر اچانک اٹھنا پڑجائے تو آدمی جلدی سے اٹھ بھی نہیں سکتا۔
Takhrij · تخریج
سنن النسائی/الزینة ١٠٧ (٥٣٤٤) (تحفة الأشراف: ٢٩٠٥)، و مسند احمد (٣/٢٩٣، ٣٢٢، ٣٣١، ٣٤٤، ٣٤٩) وانظر ماقبلہ (صحیح )