Sunan At-Tirmidhi 2755

آداب اور اجازت لینے کا بیان

2755Sunan At-Tirmidhi

کسی کی تعظیم میں کھڑے ہونے کی کراہت کے متعلق

حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا قَبِيصَةُ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ الشَّهِيدِ، عَنْ أَبِي مِجْلَزٍ، قَالَ: خَرَجَمُعَاوِيَةُ، فَقَامَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الزُّبَيْرِ، وَابْنُ صَفْوَانَ حِينَ رَأَوْهُ، فَقَالَ: اجْلِسَا سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: مَنْ سَرَّهُ أَنْ يَتَمَثَّلَ لَهُ الرِّجَالُ قِيَامًا فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ وَفِي الْبَابِ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ، حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ الشَّهِيدِ، عَنْ أَبِي مِجْلَزٍ، عَنْ مُعَاوِيَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مِثْلَهُ.

ابومجلز کہتے ہیں کہ معاویہ ؓ باہر نکلے، عبداللہ بن زبیر اور ابن صفوان انہیں دیکھ کر (احتراماً ) کھڑے ہوگئے۔ تو معاویہ ؓ نے کہا تم دونوں بیٹھ جاؤ۔ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ہے: جو شخص یہ پسند کرے کہ لوگ اس کے سامنے با ادب کھڑے ہوں تو وہ اپنا ٹھکانا جہنم میں بنا لے ١ ؎۔

Abu Mijlaz reported that when Mu’awiyah (RA) came out, Abdullah ibn Zubayr and Ibn Safwan stood up on seeing him He said, “Sit down I had heard Allah’s Messenger ﷺ say, ‘He to whom it pleases that men may stand like statues for him, let him find his seat in Hell.”

صحيح، المشکاة (4699)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2755
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن ہے، ٢ - اس باب میں ابوامامہ سے بھی روایت ہے۔ ہم سے بیان کیا ہناد نے وہ کہتے ہیں: ہم سے بیان کیا ابواسامہ نے اور ابواسامہ نے حبیب بن شہید سے حبیب بن شہید نے ابومجلز سے ابومجلز نے معاویہ کے واسطہ سے نبی اکرم ﷺ سے اسی طرح روایت کی۔
Notes · وضاحت
١ ؎: معلوم ہوا کہ ادب و تعظیم کی خاطر کسی کے لیے کھڑا ہونا مکروہ ہے، البتہ کسی معذور شخص کی مدد کے لیے اٹھ کھڑا ہونے میں کوئی قباحت نہیں ہے، نیز اگر کسی آنے والے کے لیے بیٹھے ہوئے لوگوں میں سے کوئی آگے بڑھ کر اس کو لے کر مجلس میں آئے اور بیٹھائے تو اس میں کوئی حرج نہیں جیسا کہ فاطمہ ؓ رسول اللہ کے لیے کرتی تھی۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/ الأدب ١٦٥ (٥٢٢٩) (تحفة الأشراف: ١١٤٤٨)، و مسند احمد (٤/١٠٠) (صحیح )