Sunan At-Tirmidhi 2780

آداب اور اجازت لینے کا بیان

2780Sunan At-Tirmidhi

عورتوں کے فتنے سے بچنے کے متعلق

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى الصَّنْعَانِيُّ، حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ،وَسَعِيدِ بْنِ زَيْدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ نُفَيْلٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: مَا تَرَكْتُ بَعْدِي فِي النَّاسِ فِتْنَةً أَضَرَّ عَلَى الرِّجَالِ مِنَ النِّسَاءِ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَقَدْ رَوَى هَذَا الْحَدِيثَ غَيْرُ وَاحِدٍ مِنَ الثِّقَاتِ، عَنْ سُلَيْمَانَ التَّيْمِيِّ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَلَمْ يَذْكُرُوا فِيهِ عَنْ سَعِيدِ بْنِ زَيْدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ نُفَيْلٍ، وَلَا نَعْلَمُ أَحَدًا قَالَ: عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ، وَسَعِيدُ بْنُ زَيْدٍ غَيْرُ الْمُعْتَمِرِ، وَفِي الْبَابِ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ. حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ سُلَيْمَانَ التَّيْمِيِّ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، نَحْوَهُ.

اسامہ بن زید اور سعید بن زید ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: میں نے اپنے بعد مردوں کے لیے عورتوں سے زیادہ نقصان پہنچانے والا کوئی فتنہ نہیں چھوڑا ١ ؎۔

Sayyidina Usamah ibn Zayd (RA) and Sa’eed ibn Zayd ibn Amr ibn Nufayl reported that the Prophet ﷺ said, “I do not leave behind me any trial more injurous to man than (the trial) through women.” [Ahmed 21805,Bukhari 5096,Muslim 2741, Ibn e Majah 3998]

صحيح، الصحيحة (2701) صحيح، الصحيحة (2701)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2780 ابن عمر ؓ نے بسند «سفيان عن سليمان التيمي عن أبي عثمان عن أسامة بن زيد عن النبي صلی اللہ عليه وسلم» اسی طرح روایت کی ہے۔ صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2780
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - یہ حدیث کئی ثقہ لوگوں نے بطریق: «سليمان التيمي عن أبي عثمان عن أسامة بن زيد عن النبي صلی اللہ عليه وسلم» سے روایت کی ہے۔ اور انہوں نے اس سند میں «عن سعيد بن زيد بن عمرو بن نفيل» کا ذکر نہیں کیا، ٣ - ہم معتمر کے علاوہ کسی کو نہیں جانتے جس نے «عن أسامة بن زيد وسعيد بن زيد» (ایک ساتھ) کہا ہو، ٤ - اس باب میں ابوسعید ؓ سے بھی روایت ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: مرد عورتوں کے حسن و عشق کا شکار ہو کر اپنا دین و دنیا سب تباہ اور حکومت و اقتدار سب گنوا بیٹھتے ہیں۔ اسی فتنے کو استعمال کر کے عیسائیوں اور یہودیوں نے ملت کو پارہ پارہ کردیا اور مسلمانوں کو غلام اور زیرنگیں کرلیا۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/النکاح ١٨ (٥٠٩٦)، صحیح مسلم/الذکر والدعاء ٢٦ (٢٧٤٠)، سنن ابن ماجہ/الفتن ١٩ (٣٩٩٨) (تحفة الأشراف: ٩٩، و ٤٤٦٢)، و مسند احمد (٥/٢٠٠) (صحیح) انظر ماقبلہ (صحیح )