عبدالرحمٰن بن یزید کہتے ہیں کہ عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ سے کہا گیا کہ کچھ لوگ جمرہ کو گھاٹی کے اوپر سے کنکریاں مارتے ہیں، تو عبداللہ بن مسعود نے وادی کے نیچے سے کنکریاں ماریں، پھر کہا: قسم ہے اس ذات کی جس کے سوا کوئی حقیقی معبود نہیں، اسی جگہ سے اس شخص نے کنکریاں ماریں جس پر سورة البقرہ نازل ہوئی (یعنی محمد ﷺ نے) ۔
It was narrated that ‘Abdur Rahman - meaning bin Yazid - said: “It was said to ‘Abdullah bin Mas’ud, that some people were stoning the Jamrat from above Al ‘Aqabah.” He said: “So ‘Abdullah stoned it from the bottom of the valley, then he said: ‘From here - by the One beside whom there is no other God — did the one to whom Surat Al-Baqarah was revealed, stone it.” (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3070
عبدالرحمٰن بن یزید کہتے ہیں کہ عبداللہ بن مسعود ؓ نے خانہ کعبہ کو اپنے بائیں جانب کیا اور عرفہ کو اپنے دائیں جانب اور جمرہ کو سات کنکریاں ماریں، اور کہا: یہی اس ذات کے کھڑے ہونے کی جگہ ہے جس پر سورة البقرہ نازل کی گئی۔ ابوعبدالرحمٰن نسائی کہتے ہیں: ابن ابی عدی کے سوا میں کسی کو نہیں جانتا جس نے اس حدیث میں منصور کے ہونے کی بات کہی ہو، واللہ اعلم۔
It was narrated that ‘Abdullah bin Yazid said: “Abdullah stoned the Jamrat with seven pebbles, with the House on his left and ‘Arafat on his right. And he said: ‘This is the place where the one to whom Surat Al-Baqarah was revealed stood.” (Sahih) Abu ‘Abdur-Rahman (An-Nasa’i) said: I do not know of anyone who said: Mansar in this narration except Ibn Abi ‘Adi, and Allah the Most High knows best.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3071
عبدالرحمٰن بن یزید کہتے ہیں کہ میں نے ابن مسعود ؓ کو دیکھا کہ انہوں نے جمرہ عقبہ کو وادی کے اندر سے کنکریاں ماریں، پھر کہا: قسم ہے اس ذات کی جس کے سوا کوئی حقیقی معبود نہیں، یہی ہے اس ہستی کے کھڑے ہونے کی جگہ جس پر سورة البقرہ اتاری گئی۔
‘Abdur-Rahman bin Yazid said: “I saw Ibn Mas’ud stone Jamratul ‘Aqabah from the bottom of the valley, then he said: ‘This - by the One beside Whom there is no other God - is the place where the one to whom Surat Al-Baqarah was revealed stood.” (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3072
اعمش کہتے ہیں کہ میں نے حجاج کو کہتے سنا کہ سورة البقرہ نہ کہو، بلکہ کہو وہ سورة جس میں بقرہ کا ذکر کیا گیا ہے میں نے اس بات کا ذکر ابراہیم سے کیا، تو انہوں نے کہا کہ مجھ سے عبدالرحمٰن بن یزید نے بیان کیا ہے کہ وہ عبداللہ (عبداللہ بن مسعود) کے ساتھ تھے جس وقت انہوں نے جمرہ عقبہ کو کنکریاں ماریں، وہ وادی کے اندر آئے، اور جمرہ کو اپنے نشانہ پر لیا، اور سات کنکریاں ماریں، اور ہر کنکری کے ساتھ تکبیر کہی، تو میں نے کہا: بعض لوگ (کنکریاں مارنے کے لیے) پہاڑ پر چڑھتے ہیں۔ تو انہوں نے کہا: قسم ہے اس ذات کی جس کے سوا کوئی حقیقی معبود نہیں، یہی جگہ ہے جہاں سے میں نے اس شخص کو جس پر سورة البقرہ نازل ہوئی کنکریاں مارتے ہوئے دیکھا ١ ؎۔
Al-A’mash said: “I heard Al Hajjaj say: ‘Do not say Surat Al Baqarah, say: ‘The Surah in which the cow (Al-Baqarah) is mentioned.” I mentioned that to Ibrahim, and he said: “Abdur-Rahman bin Yazid told me, that he was with ‘Abdullah when he stoned Jamratul ‘Aqabah. He went down the middle of the valley, stood opposite it - meaning the Jamrah - and threw seven pebbles at it, saying the Takbir with each pebble. I said: “Some people climbed the mountain.” He said: “Here - by the One beside Whom there is no other God - is the place where the one to whom Slirat Al-Baqarah was revealed stoned.” (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3073
Notes · وضاحت
١ ؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ سورة البقرہ کہنا درست ہے اور حجاج کا خیال صحیح نہیں ہے۔
ابو جعفر محمد بن علی بن حسین باقر کہتے ہیں کہ ہم جابر بن عبداللہ کے پاس گئے تو میں نے ان سے کہا: آپ ہمیں نبی اکرم ﷺ کے حج کا حال بتائیے، تو انہوں نے کہا: رسول اللہ ﷺ نے اس جمرہ کو جو درخت کے قریب ہے سات کنکریاں ماریں، ہر کنکری کے ساتھ آپ تکبیر کہہ رہے تھے، کنکریاں اتنی چھوٹی تھیں جو چٹکی میں آسکیں۔ آپ نے وادی کے اندر سے رمی کی، پھر آپ منحر (قربان گاہ) کی طرف پلٹے اور قربانی کی۔
Ja’far bin Muhammad bin ‘Ali bin Husain narrated that his father said: “We entered upon Jabir bin ‘Abdullah and I said: ‘Tell me about the Hajj of the Prophet ﷺ. ‘He said: ‘The Messenger of Allah ﷺ stoned the Jamrat which is by the tree, with seven pebbles, saying the Takbir with each pebble - pebbles that were the size of date stones or fingertips. And he threw them from the bottom of the valley, then he went to the place of sacrifice in Mina.” (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3076
سعد رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ہم نبی اکرم ﷺ کے ساتھ حج میں لوٹے۔ تو ہم میں سے کوئی کہتا تھا: ہم نے سات کنکریاں ماریں اور کوئی کہتا تھا: ہم نے چھ ماریں، تو ان میں سے کسی نے ایک دوسرے پر نکیر نہیں کی۔
Sad said: “We returned during the Hajj with the Prophet ﷺ, and some of us said that they had stoned (the Jamarat) with seven stones, and others said that they had done so with six, and no one denounced anyone else.” (Hasan)
صحيح الإسنادصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3077
ابومجلز کہتے ہیں کہ میں نے ابن عباس ؓ سے کنکریوں کے متعلق پوچھا تو انہوں نے کہا: مجھے معلوم نہیں، رسول اللہ ﷺ نے چھ کنکریاں ماریں یا سات۔
It was narrated that Qatadah said: “I heard Abu Mijlaz say: ‘I asked Ibn ‘Abbas something about the Jimar, and he said: I do not know, the Messenger of Allah ﷺ stoned it with six or seven.” (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3078
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الحج ٧٨ (١٩٧٧)، (تحفة الأشراف: ٦٥٤١)، مسند احمد (١/٣٧٢) (صحیح) (حدیث کی سند صحیح ہے، لیکن اگلی حدیث میں سات کنکریاں مارنے کا بیان ہے، اس لیے اس میں موجود شک چھ یا سات کنکری کی بات غریب اور خود ابن عباس اور دوسروں کی احادیث کے خلاف ہے )
عبداللہ بن عباس اپنے بھائی فضل بن عباس (رضی الله عنہم) سے روایت کرتے ہیں، فضل رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم ﷺ کے پیچھے سوار تھا آپ برابر لبیک کہتے رہے یہاں تک کہ آپ نے جمرہ عقبہ کی رمی کی، آپ نے اسے سات کنکریاں ماریں، اور ہر کنکری کے ساتھ آپ اللہ اکبر کہہ رہے تھے۔
It was narrated from Ibn ‘Abbas that his brother Al-Fadl bin ‘Abbas said: “I was riding behind the Prophet ﷺ and he continued to recite the Talbiyah until he stoned Jamratul ‘Aqabah. He stoned it with seven pebbles, saying the Takbir with each throw.” (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3079
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ فضل بن عباس ؓ نے کہا کہ میں رسول اللہ ﷺ کے پیچھے اونٹ پر سوار تھا تو میں برابر آپ کو لبیک پکارتے ہوئے سن رہا تھا یہاں تک کہ آپ نے جمرہ عقبہ کی رمی کی تو جب رمی کرلی تو آپ نے تلبیہ پکارنا بند کردیا۔
Al-Fadl bin ‘Abbas (RA) said: “I was riding behind the Messenger of Allah ﷺ and he continued to hear him reciting the Talbiyah until he stoned Jamratul ‘Aqabah, then when he stoned (the Jamrah) he stopped reciting the Talbiyah.” (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3080
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/المناسک ٦٩ (٣٠٤٠)، (تحفة الأشراف: ١١٠٥٦)، مسند احمد (١/٢١٤) (صحیح )
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ فضل (فضل بن عباس ؓ) نے انہیں خبر دی کہ وہ رسول اللہ ﷺ کے پیچھے اونٹ پر سوار تھے اور آپ برابر تلبیہ پکار رہے تھے یہاں تک کہ آپ نے جمرہ عقبہ کی رمی کی۔
It was narrated from Ibn ‘Abbas that Al-Fadl told him that he rode behind the Messenger of Allah ﷺ and he continued to recite the Talbiyah until he stoned the Jamrat. (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3081
فضل بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ وہ رسول اللہ ﷺ کے پیچھے سوار تھے، اور آپ برابر لبیک پکار رہے تھے یہاں تک کہ آپ نے جمرہ عقبہ کی رمی کی۔
It was narrated from Al-Fadl bin ‘Abbas (RA) that he was riding behind the Prophet ﷺ, and he continued to recite the Talbiyah until he stoned Jamratul ‘Aqabah. (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3082
زہری کہتے ہیں ہمیں یہ بات پہنچی ہے کہ رسول اللہ ﷺ جب اس جمرے کو کنکری مارتے جو منیٰ کی قربان گاہ کے قریب ہے، تو اسے سات کنکریاں مارتے، اور جب جب کنکری مارتے اللہ اکبر کہتے، پھر ذرا آگے بڑھتے، اور اپنے دونوں ہاتھ اٹھا کر قبلہ رو کھڑے ہو کر دعا کرتے اور کافی دیر تک کھڑے رہتے، پھر جمرہ ثانیہ کے پاس آتے، اور اسے بھی سات کنکریاں مارتے اور جب جب کنکری مارتے اللہ اکبر کہتے۔ پھر بائیں جانب مڑتے بیت اللہ کی طرف منہ کر کے ہاتھ اٹھا کر کھڑے ہو کر دعا کرتے۔ پھر اس جمرے کے پاس آتے، جو عقبہ کے پاس ہے اور اسے سات کنکریاں مارتے اور اس کے پاس (دعا کے لیے) کھڑے نہیں ہوتے۔ زہری کہتے ہیں کہ میں نے سالم بن عبداللہ سے یہ حدیث سنی، وہ اپنے والد عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت کرتے ہیں، اور ابن عمر ؓ بھی اسے نبی اکرم ﷺ سے روایت کرتے ہیں۔
It was narrated that Az-Zuhri said: “We heard that when the Messenger of Allah ﷺ stoned the Jamrah he stoned it with seven pebbles, saying the Takbir every time he threw a pebble. Then he came in front of it and stood facing the Qiblah, raising his hands and supplicating for a longtime. Then he came to the second Jamrah and stoned it stoned it with seven pebbles, saying the Takbir every time he threw a pebble. Then he moved to the left and stood facing the Qiblah, raising his hands and supplicating for a longtime. Then he came to the Jamrat that is at Al ‘Aqabah and stoned it with seven pebbles, but he did not stand there.” Az-Zuhri said: “I heard Salim narrate this from his father, from the Prophet ﷺ, and Ibn ‘Umar used to do that.” (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3083
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ جب آدمی نے جمرہ عقبہ کی رمی کرلی، تو اس کے لیے سبھی چیزیں حلال ہوگئیں سوائے عورت کے، پوچھا گیا: اور خوشبو؟ تو انہوں نے کہا: ہاں خوشبو بھی، میں نے رسول اللہ ﷺ کو مشک ملتے ہوئے دیکھا، کیا وہ خوشبو ہے؟ (اگر خوشبو ہے تو خوشبو بھی حلال ہے) ۔
It was narrated that Ibn ‘Abbas said: “When (the pilgrim) has stoned the Jamrat, everything becomes permissible for him except (intimacy with) women.” It was said: “And perfume?” He said: “I saw the Messenger of Allah ﷺ smelling strongly of musk - is it not a perfume?” (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3084
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/الحج ٧٠ (٣٠٤١)، (تحفة الأشراف: ٥٣٩٧)، مسند احمد (١/٢٣٤، ٣٤٤، ٣٦٩) (صحیح )