کتنی کنکریوں سے رمی کرنی چاہیے؟
أَخْبَرَنِي يَحْيَى بْنُ مُوسَى الْبَلْخِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ، قَالَ: قَالَ مُجَاهِدٌ، قَالَ سَعْدٌ: رَجَعْنَا فِي الْحَجَّةِ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَبَعْضُنَا يَقُولُ: رَمَيْتُ بِسَبْعِ حَصَيَاتٍ، وَبَعْضُنَا يَقُولُ: رَمَيْتُ بِسِتٍّ، فَلَمْ يَعِبْ بَعْضُهُمْ عَلَى بَعْضٍ.
سعد رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ہم نبی اکرم ﷺ کے ساتھ حج میں لوٹے۔ تو ہم میں سے کوئی کہتا تھا: ہم نے سات کنکریاں ماریں اور کوئی کہتا تھا: ہم نے چھ ماریں، تو ان میں سے کسی نے ایک دوسرے پر نکیر نہیں کی۔
Sad said: “We returned during the Hajj with the Prophet ﷺ, and some of us said that they had stoned (the Jamarat) with seven stones, and others said that they had done so with six, and no one denounced anyone else.” (Hasan)