کنکریاں مارنے کے بعد کون کون سی اشیاء حلال ہوتی ہیں؟
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، عَنْ الْحَسَنِ الْعُرَنِيِّ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: إِذَا رَمَى الْجَمْرَةَ، فَقَدْ حَلَّ لَهُ كُلُّ شَيْءٍ إِلَّا النِّسَاءَ، قِيلَ: وَالطِّيبُ ؟ قَالَ: أَمَّا أَنَا فَقَدْرَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَضَمَّخُ بِالْمِسْكِ أَفَطِيبٌ هُوَ.
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ جب آدمی نے جمرہ عقبہ کی رمی کرلی، تو اس کے لیے سبھی چیزیں حلال ہوگئیں سوائے عورت کے، پوچھا گیا: اور خوشبو؟ تو انہوں نے کہا: ہاں خوشبو بھی، میں نے رسول اللہ ﷺ کو مشک ملتے ہوئے دیکھا، کیا وہ خوشبو ہے؟ (اگر خوشبو ہے تو خوشبو بھی حلال ہے) ۔
It was narrated that Ibn ‘Abbas said: “When (the pilgrim) has stoned the Jamrat, everything becomes permissible for him except (intimacy with) women.” It was said: “And perfume?” He said: “I saw the Messenger of Allah ﷺ smelling strongly of musk - is it not a perfume?” (Sahih)