جمرہ عقبی ٰکی رمی کس جگہ سے کرنا چاہیے؟
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِيُّ، وَمَالِكُ بْنُ الْخَلِيلِ، قَالَا: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ الْحَكَمِ، وَمَنْصُورٌ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ، قَالَ: رَمَى عَبْدُ اللَّهِ الْجَمْرَةَ بِسَبْعِ حَصَيَاتٍ، جَعَلَ الْبَيْتَ عَنْ يَسَارِهِ وَعَرَفَةَ، عَنْ يَمِينِهِ، وَقَالَ: هَا هُنَا مَقَامِ الَّذِي أُنْزِلَتْ عَلَيْهِ سُورَةُ الْبَقَرَةِ، قَالَ: أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ: مَا أَعْلَمُ أَحَدًا، قَالَ: فِي هَذَا الْحَدِيثِ مَنْصُورٌ غَيْرَ ابْنِ أَبِي عَدِيٍّ وَاللَّهُ تَعَالَى أَعْلَمُ.
عبدالرحمٰن بن یزید کہتے ہیں کہ عبداللہ بن مسعود ؓ نے خانہ کعبہ کو اپنے بائیں جانب کیا اور عرفہ کو اپنے دائیں جانب اور جمرہ کو سات کنکریاں ماریں، اور کہا: یہی اس ذات کے کھڑے ہونے کی جگہ ہے جس پر سورة البقرہ نازل کی گئی۔ ابوعبدالرحمٰن نسائی کہتے ہیں: ابن ابی عدی کے سوا میں کسی کو نہیں جانتا جس نے اس حدیث میں منصور کے ہونے کی بات کہی ہو، واللہ اعلم۔
It was narrated that ‘Abdullah bin Yazid said: “Abdullah stoned the Jamrat with seven pebbles, with the House on his left and ‘Arafat on his right. And he said: ‘This is the place where the one to whom Surat Al-Baqarah was revealed stood.” (Sahih) Abu ‘Abdur-Rahman (An-Nasa’i) said: I do not know of anyone who said: Mansar in this narration except Ibn Abi ‘Adi, and Allah the Most High knows best.