جنگ کے متعلق احادیث مبارکہ

Sunan An Nasai · Chapter 37 · 167 hadiths · Page 9 of 9

4131Sunan An Nasai

مسلمان کا خون حرام ہونا

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا شَرِيكٌ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي الضُّحَى، عَنْمَسْرُوقٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا تَرْجِعُوا بَعْدِي كُفَّارًا يَضْرِبُ بَعْضُكُمْ رِقَابَ بَعْضٍ لَا يُؤْخَذُ الرَّجُلُ بِجِنَايَةِ أَبِيهِ، وَلَا جِنَايَةِ أَخِيهِ. قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ: هَذَا خَطَأٌ، وَالصَّوَابُ مُرْسَلٌ.

عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تم لوگ میرے بعد کافر نہ ہوجانا کہ تم آپس میں ایک دوسرے کی گردن مارنے لگو، آدمی کو نہ اس کے باپ کے گناہ کی وجہ سے پکڑا جائے گا اور نہ ہی اس کے بھائی کے گناہ کی وجہ سے ۔ ابوعبدالرحمٰن نسائی کہتے ہیں: یہ غلط ہے (کہ یہ متصل ہے) صحیح یہ ہے کہ یہ مرسل ہے ١ ؎۔

It was narrated that Ibn Umar said: "The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said: Do not revert to disbelievers after I am gone, striking the necks of one another (killing one another). No man is to be punished for the sins of his father, or for the sins of his brother.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4126
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی: جس سند میں مسروق ہیں اس سند سے اس روایت کا مرسل ہونا ہی صواب ہے، مسروق کے واسطے سے جس نے اس روایت کو متصل کردیا ہے اس نے غلطی کی ہے، یہ مطلب نہیں ہے کہ سرے سے یہ حدیث ہی مرسل ہے، دیگر محدثین کی سندیں متصل ہیں۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: ٧٤٥٢)، ویأتي عند المؤلف بأرقام: ٤١٣٢-٤١٣٤) (صحیح )
4132Sunan An Nasai

مسلمان کا خون حرام ہونا

أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ يَعْقُوبَ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْمُسْلِمٍ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا تَرْجِعُوا بَعْدِي كُفَّارًا يَضْرِبُ بَعْضُكُمْ رِقَابَ بَعْضٍ، وَلَا يُؤْخَذُ الرَّجُلُ بِجَرِيرَةِ أَبِيهِ، وَلَا بِجَرِيرَةِ أَخِيهِ.

عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تم میرے بعد کافر نہ ہوجانا کہ آپس میں ایک دوسرے کی گردنیں مارو، کوئی شخص اپنے باپ کے گناہ کی وجہ سے نہ پکڑا جائے گا اور نہ ہی اس کے بھائی کے گناہ کی وجہ سے ۔

It was narrated that Abdullah said: "The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said: Do not revert to disbelievers after I am gone, striking the necks of one another (killing one another). No man is to be punished for the sins of his father, or the sins of his brother.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4127
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٤١٣١ (صحیح )
4133Sunan An Nasai

مسلمان کا خون حرام ہونا

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ مُسْلِمٍ، عَنْ مَسْرُوقٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا أُلْفِيَنَّكُمْ تَرْجِعُونَ بَعْدِي كُفَّارًا يَضْرِبُ بَعْضُكُمْ رِقَابَ بَعْضٍ، لَا يُؤْخَذُ الرَّجُلُ بِجَرِيرَةِ أَبِيهِ، وَلَا بِجَرِيرَةِ أَخِيهِ. هَذَا الصَّوَابُ.

مسروق کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: میں تمہیں اس طرح نہ پاؤں کہ تم میرے بعد کافر ہوجاؤ کہ تم ایک دوسرے کی گردنیں مارو، آدمی سے نہ اس کے باپ کے جرم و گناہ کا مواخذہ ہوگا اور نہ ہی اس کے بھائی کے جرم و گناہ کا ۔ یہی صحیح ہے ١ ؎۔

It was narrated that Masruq said: "The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said: I do not want to see you after I am gone reverting to disbelievers, striking the necks of one another (killing one another). No man is punished for the crime of his father, or the crime of his brother." This is correct.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4128
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی مسروق کی سند سے مرسل روایت ہی صحیح ہے۔
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٤١٣١ (صحیح) (اس لیے کہ یہ روایت مرسل ہے )
4134Sunan An Nasai

مسلمان کا خون حرام ہونا

أَخْبَرَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ يَعْقُوبَ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ، عَنْ أَبِي الضُّحَى، عَنْ مَسْرُوقٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا تَرْجِعُوا بَعْدِي كُفَّارًا. مُرْسَلٌ.

مسروق کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: میرے بعد کافر نہ ہوجانا ۔ (یہ حدیث) مرسل ہے۔

It was narrated from Masruq that: The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said: "Do not revert to disbelievers after I am gone". It is Mursal.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4129
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٤١٣١(صحیح) (مسروق نے صحابی کا ذکر نہیں کیا، اس لیے یہ روایت بھی مرسل ہے، لیکن دوسرے طرق سے تقویت پاکر حدیث صحیح ہے )
4135Sunan An Nasai

مسلمان کا خون حرام ہونا

أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ زُرَارَةَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا إِسْمَاعِيل، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَبِي بَكْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: لَا تَرْجِعُوا بَعْدِي ضُلَّالًا يَضْرِبُ بَعْضُكُمْ رِقَابَ بَعْضٍ.

ابوبکرہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: تم میرے بعد کافر نہ ہوجانا کہ آپس میں ایک دوسرے کی گردنیں مارنے لگو ۔

It was narrated from Abu Bakrah that: The Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) said: "Do not revert to misguidance after I am gone, striking the necks of one another (killing one another).

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4130
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: ١١٧٠٠)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/المناسک ٦٨ (١٩٤٧) مسند احمد (٥/٣٧، ٤٤، ٤٥، ٤٩) (صحیح )
4136Sunan An Nasai

مسلمان کا خون حرام ہونا

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ، قَالَا: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ مُدْرِكٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا زُرْعَةَ بْنَ عَمْرِو بْنِ جَرِيرٍ، عَنْ جَرِيرٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ اسْتَنْصَتَ النَّاسَ، قَالَ: لَا تَرْجِعُوا بَعْدِي كُفَّارًا يَضْرِبُ بَعْضُكُمْ رِقَابَ بَعْضٍ.

جریر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے حجۃ الوداع میں لوگوں کو خاموش کیا اور فرمایا: میرے بعد تم کافر نہ ہوجانا کہ تم ایک دوسرے کی گردنیں مارنے لگو ۔

It was narrated from Jarir that : During the Farewell Pilgrimage, the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) asked the people to be quiet and listen, and said: "Do not revert to disbelievers after I am gone, striking the necks of one another (killing one another).

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4131
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/العلم ٤٣ (١٢١)، المغازي ٧٧ (٤٤٠٥)، الدیات ٢ (٦٨٦٩)، الفتن ٨ (٧٠٨٠)، صحیح مسلم/الإیمان ٢٩ (٦٥)، سنن ابن ماجہ/الفتن ٥ (٣٩٤٢)، (تحفة الأشراف: ٣٢٣٦)، مسند احمد (٤/٣٥٨، ٣٦٣، ٣٦٦)، سنن الدارمی/المناسک ٧٦ ١٩٦٢) (صحیح )
4137Sunan An Nasai

مسلمان کا خون حرام ہونا

أَخْبَرَنَا أَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ أَبِي السَّفَرِ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل، عَنْ قَيْسٍ، قَالَ: بَلَغَنِي أَنَّجَرِيرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اسْتَنْصِتِ النَّاسَ، ثُمَّ قَالَ: لَا أُلْفِيَنَّكُمْ بَعْدَ مَا أَرَى تَرْجِعُونَ بَعْدِي كُفَّارًا يَضْرِبُ بَعْضُكُمْ رِقَابَ بَعْضٍ.

جریر بن عبداللہ ؓ کہتے ہیں کہ مجھ سے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: لوگوں سے خاموش رہنے کو کہو ، پھر فرمایا: اس کے بعد جب میں تمہیں دیکھوں (قیامت کے روز) تو ایسا نہ پاؤں کہ تم کافر ہوجاؤ اور ایک دوسرے کی گردنیں مارو ۔

It was narrated that Jarir bin Abdullah said: "The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said to me: Ask the people to be quiet and listen. Then he said: I do not want to see you after I am gone reverting to disbelievers, striking the necks of one another (killing one another).

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4132
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: ٣٢٤٤) (صحیح )