اقامت نماز اور اس کا طریقہ

Sunan Ibne-Majah · Chapter 7 · 630 hadiths · Page 25 of 32

1283Sunan Ibne-Majah

عیدین کی نماز قرائت

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ خَلَّادٍ الْبَاهِلِيُّ، حَدَّثَنَا وَكِيعُ بْنُ الْجَرَّاحِ، حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ عُبَيْدَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَطَاءٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنّ النَّبِيَّ: كَانَ يَقْرَأُ فِي الْعِيدَيْنِ بِسَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى وَهَلْ أَتَاكَ حَدِيثُ الْغَاشِيَةِ.

عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ عیدین میں: سبح اسم ربک الأعلى اور هل أتاک حديث الغاشية پڑھتے تھے۔

It was narrated from Ibn Abbâs that the Prophet ﷺ used :to recite in the ‘Eid prayer Glorify the Name of your Lord, the Most High.” and “Has there come to you the narration of the overwhelming?” (Hasan)

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٦٤٤٧، ومصباح الزجاجة: ٤٤٧) (صحیح) (سند میں موسیٰ بن عبیدہ ضعیف ہیں، لیکن سابقہ شواہد کی بناء پر حدیث صحیح ہے )
1284Sunan Ibne-Majah

عیدین کا خطبہ

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ إِسْمَاعِيل بْنِ أَبِي خَالِدٍ، قَالَ: رَأَيْتُ أَبَا كَاهِلٍ وَكَانَتْ لَهُ صُحْبَةٌ، فَحَدَّثَنِي أَخِي عَنْهُ، قَالَ: رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَيَخْطُبُ عَلَى نَاقَةٍ، وَحَبَشِيٌّ آخِذٌ بِخِطَامِهَا.

اسماعیل بن ابی خالد کہتے ہیں کہ میں نے ابوکاہل ؓ کو دیکھا ہے، انہیں رسول اللہ ﷺ سے شرف صحبت حاصل تھا، میرے بھائی نے مجھ سے بیان کیا کہ ابوکاہل ؓ نے کہا کہ میں نے نبی اکرم ﷺ کو ایک اونٹنی پر خطبہ دیتے ہوئے دیکھا، اور ایک حبشی اس کی نکیل پکڑے ہوئے تھے ١ ؎۔

It was narrated that Ismâ’il bin Abu Khálid said: “I saw Abu Kahil, and he was a Companion, and my brother narrated to me that he said: ‘I saw the Prophet ﷺ delivering the sermon atop his she-camel, and an Ethiopian was holding onto its reins.” (Hasan)

Notes · وضاحت
١ ؎: حبشی سے مراد بلال ؓ ہیں۔
Takhrij · تخریج
سنن النسائی/العیدین ١٦ (١٥٧٤)، (تحفة الأشراف: ١٢١٤٢)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/٣٠٦) (حسن )
1285Sunan Ibne-Majah

عیدین کا خطبہ

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ عَائِذٍ هُوَ أَبُو كَاهِلٍ، قَالَ: رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَيَخْطُبُ عَلَى نَاقَةٍ حَسْنَاءَ، وَحَبَشِيٌّ آخِذٌ بِخِطَامِهَا.

قیس بن عائذ ؓ (ابوکاہل) کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم ﷺ کو ایک خوبصورت اونٹنی پر خطبہ دیتے ہوئے دیکھا اور ایک حبشی اس کی نکیل پکڑے ہوئے تھے۔

It was narrated that Qais bin ‘Aidh, who was Abu Kâhil, said: “I saw the Prophet ﷺ delivering the sermon atop beautiful she-camel, an Ethiopian was holding onto its reins.” (Hasan)

Takhrij · تخریج
انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: ١٢١٤٢) (حسن )
1286Sunan Ibne-Majah

عیدین کا خطبہ

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ نُبَيْطٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ حَجَّ، فَقَالَ: رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَيَخْطُبُ عَلَى بَعِيرِهِ.

نبی ط ؓ کہتے ہیں کہ انہوں نے حج کیا اور کہا: میں نے نبی اکرم ﷺ کو اپنے اونٹ پہ خطبہ دیتے ہوئے دیکھا۔

It narrated from Salamah bin Nubait that his father performd Haff and said: “I saw the Prophet ﷺ delivering the sermon atop his camel.” (Da’if)

Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الحج ٦٢ (١٩١٦)، سنن النسائی/الحج ١٩٨ (٣٠١٠)، (تحفة الأشراف: ١١٥٨٩)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/ ٣٠٥، ٣٠٦) (صحیح )
1287Sunan Ibne-Majah

عیدین کا خطبہ

حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَعْدِ بْنِ عَمَّارِ بْنِ سَعْدٍ الْمُؤَذِّنِ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَيُكَبِّرُ بَيْنَ أَضْعَافِ الْخُطْبَةِ يُكْثِرُ التَّكْبِيرَ فِي خُطْبَةِ الْعِيدَيْنِ.

سعد مؤذن کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ خطبہ کے درمیان تکبیر کہتے تھے، اور عیدین کے خطبہ کے دوران کثرت سے تکبیریں پڑھتے تھے۔

It was narrated from Abdur-Rahmân bin Sa’d bin Ammar bin Sa’d, the Mu’adhdhin that his father narrated, from his father, that his grandfather “The Prophet ﷺ used to say Takbir between the two sermons and he used to say the takbir a great deal in the sermon ‘Eid.” (Da’if)

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٣٨٣٠، ومصباح الزجاجة: ٤٤٨) (ضعیف) (اس حدیث کی سند میں عبد الرحمن ضعیف ہیں، اور ان کے والد اور دادا مجہول الحال ہیں )
1288Sunan Ibne-Majah

عیدین کا خطبہ

حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ قَيْسٍ، عَنْ عِيَاضِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَخْبَرَنِي أَبُو سَعِيدٍ الْخُدْرِيُّ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَيَخْرُجُ يَوْمَ الْعِيدِ، فَيُصَلِّي بِالنَّاسِ رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ يُسَلِّمُ، فَيَقِفُ عَلَى رِجْلَيْهِ، فَيَسْتَقْبِلُ النَّاسَ وَهُمْ جُلُوسٌ، فَيَقُولُ: تَصَدَّقُوا تَصَدَّقُوا، فَأَكْثَرُ مَنْ يَتَصَدَّقُ النِّسَاءُ بِالْقُرْطِ وَالْخَاتَمِ وَالشَّيْءِ، فَإِنْ كَانَتْ حَاجَةٌ يُرِيدُ أَنْ يَبْعَثَ بَعْثًا يَذْكُرُهُ لَهُمْ وَإِلَّا انْصَرَفَ.

ابو سعید خدری ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ عید کے دن نکلتے اور لوگوں کو دو رکعت پڑھاتے، پھر سلام پھیرتے، اور اپنے قدموں پر کھڑے ہو کر لوگوں کی جانب رخ کرتے، اور لوگ بیٹھے رہتے، اور آپ ﷺ فرماتے: لوگو! صدقہ کرو، صدقہ کرو، زیادہ صدقہ عورتیں دیتیں، کوئی بالی ڈالتی، کوئی انگوٹھی اور کوئی کچھ اور، اگر آپ کو لشکر بھیجنا ہوتا تو لوگوں سے اس کا ذکر کرتے، ورنہ تشریف لے جاتے ۔

Abu Sa’ eed Al-Khudri said: ‘The Messenger of Allah ﷺ used to go out on the day of ‘Eid and lead the people in praying two Rak’ah, then he would say the salam and stand on his two feet facing the people while they were sitting down. He would say: ‘Give in charity. Give in charity.’ Those who gave most in charity were the women, (they would give) earrings and rings and things. If he wanted to send out an expedition he would mention it, otherwise he would leave. (Sahih)

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الحیض ٦ (٣٠٤)، العیدین ٦ (٩٦٤، ٩٨٩)، الزکاة ٤٤ (١٤٣١)، صحیح مسلم/الایمان ٣٤ (٧٩، ٨٠)، العیدین ٩ (٨٤٤)، سنن النسائی/العیدین ١٩ (١٥٧٧)، (تحفة الأشراف: ٥٥٥٨)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/٣٦، ٥٧) (صحیح )
1289Sunan Ibne-Majah

عیدین کا خطبہ

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَكِيمٍ، حَدَّثَنَا أَبُو بَحْرٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ مُسْلِمٍ الْخَوْلَانِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ فِطْرٍ أَوْ أَضْحَى، فَخَطَبَ قَائِمًا، ثُمَّ قَعَدَ قَعْدَةً، ثُمَّ قَامَ.

جابر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ عید الفطر یا عید الاضحی میں گئے، تو آپ ﷺ نے کھڑے ہو کر خطبہ دیا، پھر تھوڑی دیر بیٹھے، پھر کھڑے ہوگئے۔

It was narrated that Jâbir said: “The Messenger of Allah ﷺ went out on the Day of Al-Fitr’ or Al-Adha, and delivered a sermon standing up. Then he sat down briefly, then stood up again.” (Da’if)

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٢٦٦١، ومصباح الزجاجة: ٤٤٩) (منکر) (سند میں اسماعیل بن مسلم اور ابوبحر ضعیف ہیں، نیز ابوالزبیر مدلس اور روایت عنعنہ سے کی ہے، اس لئے یہ سنداً اور متناً ضعیف ہے، صحیح مسلم میں جابر بن سمرہ ؓ سے یہ خطبہ جمعہ میں محفوظ ہے )
1290Sunan Ibne-Majah

نماز کے بعد خطبہ کا انتظار کرنا

حَدَّثَنَا هَدِيَّةُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، وَعَمْرُو بْنُ رَافِعٍ الْبَجَلِيُّ، قَالَا: حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْعَطَاءٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ السَّائِبِ، قَالَ: حَضَرْتُ الْعِيدَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَصَلَّى بِنَا الْعِيدَ، ثُمَّ قَالَ: قَدْ قَضَيْنَا الصَّلَاةَ، فَمَنْ أَحَبَّ أَنْ يَجْلِسَ لِلْخُطْبَةِ فَلْيَجْلِسْ، وَمَنْ أَحَبَّ أَنْ يَذْهَبَ فَلْيَذْهَبْ.

عبداللہ بن سائب ؓ کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ نماز عید میں حاضر ہوا، تو آپ نے ہمیں عید کی نماز پڑھائی، پھر فرمایا: ہم نماز ادا کرچکے، لہٰذا جو شخص خطبہ کے لیے بیٹھنا چاہے بیٹھے، اور جو جانا چاہے جائے ۔

It was narrated that ‘Abdullah bin Sâ’ib said: “I attended the ‘Eid prayer with the Messenger of Allah ﷺ . He led us in offering the ‘Phd prayer, then he said: ‘I have finished the prayer. Whoever wants to sit (and listen to) the sermon, then let him sit, and whoever wants to leave, then let him leave.’” (Sahih)

Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الصلاة ٢٥٣ (١١٥٥)، سنن النسائی/العیدین ١٤ (١٥٧٢)، (تحفة الأشراف: ٥٣١٥) (صحیح )
1291Sunan Ibne-Majah

عید سے پہلے یا بعد نماز پڑھنا

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، حَدَّثَنِي عَدِيُّ بْنُ ثَابِتٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْابْنِ عَبَّاسٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: خَرَجَ فَصَلَّى بِهِمُ الْعِيدَ لَمْ يُصَلِّ قَبْلَهَا وَلَا بَعْدَهَا.

عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ عید گاہ کی طرف گئے تو آپ نے لوگوں کو عید کی نماز پڑھائی، اور اس سے پہلے یا بعد کوئی اور نماز نہ پڑھی۔

It was narrated from lbn ‘Abbâs that the Messenger of Allah ﷺ went out and led them in the ‘Eid prayer, and he did not pray before it or after it. (Sahih)

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/العیدین ٨ (٩٦٤)، ٢٦ (٩٨٩)، الزکاة ٢١ (١٤٣١)، اللباس ٥٧ (٥٨٨١)، ٥٩ (٥٨٨٣)، صحیح مسلم/العیدین ٢ (٨٨٤)، سنن ابی داود/الصلاة ٢٥٦ (١١٥٩)، سنن الترمذی/الصلاة ٢٧٠ (الجمعة ٣٥) (٥٣٧)، سنن النسائی/العیدین ٢٨ (١٥٨٨)، (تحفة الأشراف: ٥٥٥٨)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/ ٢٨٠، ٣٤٠، ٣٥٥)، سنن الدارمی/الصلاة ٢١٩ (١٦٤٦) (صحیح )
1292Sunan Ibne-Majah

عید سے پہلے یا بعد نماز پڑھنا

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الطَّائِفِيُّ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَمْ يُصَلِّ قَبْلَهَا، وَلَا بَعْدَهَا فِي عِيدٍ.

عبداللہ بن عمرو بن العاص ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے عید میں عید سے پہلے یا بعد کوئی بھی نماز نہیں پڑھی۔

It was narrated from ‘Amr bin Shu’aib, from his father, from his grandfather, that the Prophet ﷺ did not pray before or after the ‘Eid prayer. (Hasan)

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٨٧٢٩، ومصباح الزجاجة: ٤٥٠)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/١٨٠) (حسن صحیح )
1293Sunan Ibne-Majah

عید سے پہلے یا بعد نماز پڑھنا

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا الْهَيْثَمُ بْنُ جَمِيلٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو الرَّقِّيِّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَلَا يُصَلِّي قَبْلَ الْعِيدِ شَيْئًا، فَإِذَا رَجَعَ إِلَى مَنْزِلِهِ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ.

ابو سعید خدری ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نماز عید سے پہلے کچھ بھی نہیں پڑھتے تھے، جب اپنے گھر واپس لوٹتے تو دو رکعت پڑھتے ١ ؎۔

It was narrated that Abu Sa’eed Al-Khudri said: “The Messenger of Allah ﷺ did not pray before the ‘Eid prayer, but when he went back to his house he would pray two Rak’ah.” (Da’if)

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٤١٨٧، ومصباح الزجاجة: ٤٥١)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/٤٠) (حسن )
1294Sunan Ibne-Majah

نماز عید کے لئے پیدل جانا

حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَعْدِ بْنِ عَمَّارِ بْنِ سَعْدٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: كَانَ يَخْرُجُ إِلَى الْعِيدِ مَاشِيًا، وَيَرْجِعُ مَاشِيًا.

سعد مؤذن سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ عید کے لیے پیدل جاتے اور پیدل ہی واپس آتے۔

‘Abdur-Rahmân bin Sa’d bin ‘Ammâr bin Sa’d said: “My father told me, from his father, from his grandfather, that the Prophet ﷺ used to go out to the ‘Eid prayers walking, and he would come back walking.” (Da’if)

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٣٨٣١، ومصباح الزجاجة: ٤٥٢) (حسن) (شواہد کی بناء پر یہ حدیث حسن ہے، ورنہ اس کی سند میں عبد الرحمن ضعیف، اور ان کے والد و دادا مجہول الحال ہیں، ملاحظہ ہو: الإرواء: ٦٣٦ )
1295Sunan Ibne-Majah

نماز عید کے لئے پیدل جانا

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ، أَنْبَأَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْعُمَرِيُّ، عَنْ أَبِيهِ، وَعُبَيْدُ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَخْرُجُ إِلَى الْعِيدِ مَاشِيًا، وَيَرْجِعُ مَاشِيًا.

عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ عید کے لیے پیدل جاتے، اور پیدل ہی واپس آتے۔

It was narrated that Ibn ‘Umar said: “The Messenger of Allah ﷺ used to go out to the ‘Eid prayers walking, and come back walking.” (Da’if)

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٧٧٤٠ و ٨٠٢٠، ومصباح الزجاجة: ٤٥٣) (حسن) (شواہد کی بناء پر یہ حدیث حسن ہے، ورنہ اس کی سند میں عبد الرحمن بن عبد اللہ العمری ضعیف ہیں، نیز ملاحظہ ہو: الإرواء: ٦٣٦ )
1296Sunan Ibne-Majah

نماز عید کے لئے پیدل جانا

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَكِيمٍ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ الْحَارِثِ، عَنْ عَلِيٍّ، قَالَ: إِنَّ مِنَ السُّنَّةِ أَنْ يُمْشَى إِلَى الْعِيدِ.

علی ؓ کہتے ہیں کہ سنت یہ ہے کہ لوگ عید کی نماز کے لیے پیدل چل کر جائیں۔

It was narrated that ‘Ali said: “It is part of the Sunnah, to walk to ‘Eid (prayers).” (Da’if)

Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الجمعة ٣٠ (٥٣٠)، (تحفة الأشراف: ١٠٠٤٢) (حسن) (سند میں الحارث ضعیف ہے، لیکن سابقہ حدیث سے یہ حسن ہے، ملاحظہ ہو: الإرواء: ٦٣٦ )
1297Sunan Ibne-Majah

نماز عید کے لئے پیدل جانا

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ الْخَطَّابِ، حَدَّثَنَا مِنْدَلٌ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي رَافِعٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: كَانَ يَأْتِي الْعِيدَ مَاشِيًا.

ابورافع کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ عید گاہ کے لیے پیدل چل کر آتے تھے۔

It was narrated from Muhammad bin ‘Ubaidullâh bin Abu Râfi’, from his father, from is grandfather, that the Messenger of Allah ﷺ used to Dome to ‘Eid prayers walking. (Da’if)

Notes · وضاحت
١ ؎: ان حدیثوں سے معلوم ہوا کہ سنت یہی ہے کہ عیدگاہ کو پیدل جائے، اگر عید گاہ دور ہو یا کوئی پیدل نہ چل سکے تو سواری پر جائے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٢٠٢١، ومصباح الزجاجة: ٤٥٤) (حسن) (شواہد کی بناء پر یہ حدیث حسن ہے، ورنہ اس کی سند میں دو راوی: مندل و محمد بن عبیداللہ ضعیف ہیں، ملاحظہ ہو: الإرواء: ٦٣٦ )
1298Sunan Ibne-Majah

عید گاہ کو ایک راستے سے جانا اور دوسرے راستے سے آنا

حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَعْدِ بْنِ عَمَّارِ بْنِ سَعْدٍ، أَخْبَرَنِي أَبِي، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: كَانَ إِذَا خَرَجَ إِلَى الْعِيدَيْنِ سَلَكَ عَلَى دَارِ سَعِيدِ بْنِ أَبِي الْعَاصِ، ثُمَّ عَلَى أَصْحَابِ الْفَسَاطِيطِ، ثُمَّ انْصَرَفَ فِي الطَّرِيقِ الْأُخْرَى طَرِيقِ بَنِي زُرَيْقٍ، ثُمَّ يَخْرُجُ عَلَى دَارِ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ، وَدَارِ أَبِي هُرَيْرَةَ إِلَى الْبَلَاطِ.

مؤذن رسول سعد القرظ ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ جب عیدین کی نماز کے لیے نکلتے تو سعید بن ابی العاص کے مکان سے گزرتے، پھر خیمہ والوں کی طرف تشریف لے جاتے، پھر دوسرے راستے سے واپس ہوتے، اور قبیلہ بنی زریق کے راستے سے عمار بن یاسر اور ابوہریرہ ؓ کے مکانات کو پار کرتے ہوئے مقام بلاط پر تشریف لے جاتے۔

‘Abdur-Rahnân bin Sa`d bin ‘Ammâr bin Sa’d said: “My father told me, from his father, from his grandfather, that when the Prophet ﷺ went out on the two ‘Eid, he would pass by the house of Sa’eed bin Abul-’As, then by the people of the tent then he would leave by a different route, via Banu Zuraiq, then he would go out by the house of ‘Ammar bin Yasir and the house of Abu Hurairah (RA) to Balât.” (Da’if)

Notes · وضاحت
١ ؎: بلاط ایک مقام کا نام ہے، جو مسجد نبوی اور بازار کے درمیان واقع تھا۔ ٢ ؎: علماء نے راستہ بدلنے کی بہت سی حکمتیں بیان فرمائی ہیں، امام نووی (رح) نے اس کی حکمت مقامات عبادت کا زیادہ ہونا بتلایا ہے، بعض کہتے ہیں کہ ایسا اس لئے کہ دونوں راستے قیامت والے دن گواہی دیں گے کہ یا اللہ تیری تکبیر و تہلیل کرتا ہوا یہ بندہ ہمارے اوپر سے گزرا تھا کیونکہ نماز عید کے لئے یہ حکم ہے کہ آتے جاتے راستوں میں بہ آواز بلند تکبیریں پڑھتے اور اللہ کا ذکر کرتے رہو، یا مقصد ہے کہ ایک کے بجائے دو راستوں کے فقراء، لوگوں کے صدقہ و خیرات سے بہرمند ہوں، یا اس لئے کہ مسلمانوں کی قوت و اجتماعیت کا زیادہ سے زیادہ مظاہرہ ہو۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٣٨٣٢، ومصباح الزجاجة: ٤٥٦) (ضعیف) (عبدالرحمن اور ان کے والد ضعیف ہیں )
1299Sunan Ibne-Majah

عید گاہ کو ایک راستے سے جانا اور دوسرے راستے سے آنا

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَكِيمٍ، حَدَّثَنَا أَبُو قُتَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ أَنَّهُ كَانَ يَخْرُجُ إِلَى الْعِيدِ فِي طَرِيقٍ، وَيَرْجِعُ فِي أُخْرَى، وَيَزْعُمُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَفْعَلُ ذَلِكَ.

عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ وہ عید کے لیے ایک راستے سے جاتے، اور دوسرے راستے سے واپس آتے اور کہتے کہ رسول اللہ ﷺ ایسا ہی کرتے تھے۔

It was narrated from Ibn ‘Umar that he used to go out to the ‘Eid prayers via one route, and return via another, and he said that the Messenger of Allah ﷺ used to do that. (Hasan)

Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الصلاة ٢٥٤ (١١٥٦)، (تحفة الأشراف: ٧٧٢٢)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/١٠٩) (صحیح )
1300Sunan Ibne-Majah

عید گاہ کو ایک راستے سے جانا اور دوسرے راستے سے آنا

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْأَزْهَرِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ الْخَطَّابِ، حَدَّثَنَا مِنْدَلٌ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي رَافِعٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: كَانَ يَأْتِي الْعِيدَ مَاشِيًا، وَيَرْجِعُ فِي غَيْرِ الطَّرِيقِ الَّذِي ابْتَدَأَ فِيهِ.

ابورافع ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ عید کے لیے پیدل چل کر آتے تھے اور اس راستہ کے سوا دوسری راستہ سے لوٹتے تھے جس سے پہلے آئے تھے۔

It was narrated from Muhammad bin Ubaidulláh bin Abu Râfi’, from his father, from his grandfather, that the Messenger of Allah ﷺ used to come to ‘Eid prayers walking, and that he would go back via a different route than the one he began with. (Da’if)

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٢٠٢١، ومصباح الزجاجة: ٤٥٥) (صحیح) (اگلی و پچھلی حدیثوں سے تقویت پاکر یہ حدیث صحیح ہے، ورنہ اس کی سند میں مندل و محمد بن عبید اللہ دونوں ضعیف ہیں )
1301Sunan Ibne-Majah

عید گاہ کو ایک راستے سے جانا اور دوسرے راستے سے آنا

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حُمَيْدٍ، حَدَّثَنَا أَبُو تُمَيْلَةَ، عَنْ فُلَيْحِ بْنِ سُلَيْمَانَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْحَارِثِ الزُّرَقِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: كَانَ إِذَا خَرَجَ إِلَى الْعِيدِ رَجَعَ فِي غَيْرِ الطَّرِيقِ الَّذِي أَخَذَ فِيهِ.

ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ جب عیدین کے لیے نکلتے تو اس راستہ کے سوا دوسرے راستہ سے لوٹتے جس سے شروع میں آئے تھے۔

It was narrated from Abu Hurairah (RA) that when the Prophet ﷺ went out to ‘Eid (prayers), he would return via a different route than the first one he took. (Sahih)

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/العیدین ٢٤ (٩٨٦)، سنن الترمذی/الصلاة ٢٧٢ (الجمعة ٣٧)، (٥٤١)، (تحفة الأشراف: ١٢٩٣٧)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/٢٠٩، ٣٨٨) (صحیح )
1302Sunan Ibne-Majah

عید کے روز کھیل کود کرنا اور خوشی منانا

حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ، عَنْ مُغِيرَةَ، عَنْ عَامِرٍ، قَالَ: شَهِدَ عِيَاضٌ الْأَشْعَرِيُّ عِيدًا بِالْأَنْبَارِ، فَقَالَ: مَا لِي لَا أَرَاكُمْ تُقَلِّسُونَ كَمَا كَانَ يُقَلَّسُ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.

عامر شعبی کہتے ہیں کہ عیاض اشعری نے شہر انبار میں عید کی اور کہا: کیا بات ہے کہ میں تم کو اس طرح دف بجاتے اور گاتے نہیں دیکھ رہا ہوں جیسے رسول اللہ ﷺ کے پاس بجایا، اور گایا جاتا تھا ١ ؎۔

It was narrated that Amir said: “lyâd Al-Ash’ari was in Anbar at the time of ‘Eid, and he said ‘Why is it that I do not engaged in Taqils as was done in the presence of the Messenger of Allah ﷺ .(Da’if)

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١١٠١٧، ومصباح الزجاجة: ١٣٠٢) (ضعیف) (سند میں شریک ضعیف الحدیث راوی ہیں، اور ایسے ہی سوید بن سعید متکلم فیہ راوی ہیں، ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الضعیفة، للالبانی: رقم: ٤٢٨٥ )