عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ عیدین میں: سبح اسم ربک الأعلى اور هل أتاک حديث الغاشية پڑھتے تھے۔
It was narrated from Ibn Abbâs that the Prophet ﷺ used :to recite in the ‘Eid prayer Glorify the Name of your Lord, the Most High.” and “Has there come to you the narration of the overwhelming?” (Hasan)
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٦٤٤٧، ومصباح الزجاجة: ٤٤٧) (صحیح) (سند میں موسیٰ بن عبیدہ ضعیف ہیں، لیکن سابقہ شواہد کی بناء پر حدیث صحیح ہے )
اسماعیل بن ابی خالد کہتے ہیں کہ میں نے ابوکاہل ؓ کو دیکھا ہے، انہیں رسول اللہ ﷺ سے شرف صحبت حاصل تھا، میرے بھائی نے مجھ سے بیان کیا کہ ابوکاہل ؓ نے کہا کہ میں نے نبی اکرم ﷺ کو ایک اونٹنی پر خطبہ دیتے ہوئے دیکھا، اور ایک حبشی اس کی نکیل پکڑے ہوئے تھے ١ ؎۔
It was narrated that Ismâ’il bin Abu Khálid said: “I saw Abu Kahil, and he was a Companion, and my brother narrated to me that he said: ‘I saw the Prophet ﷺ delivering the sermon atop his she-camel, and an Ethiopian was holding onto its reins.” (Hasan)
Notes · وضاحت
١ ؎: حبشی سے مراد بلال ؓ ہیں۔
Takhrij · تخریج
سنن النسائی/العیدین ١٦ (١٥٧٤)، (تحفة الأشراف: ١٢١٤٢)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/٣٠٦) (حسن )
قیس بن عائذ ؓ (ابوکاہل) کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم ﷺ کو ایک خوبصورت اونٹنی پر خطبہ دیتے ہوئے دیکھا اور ایک حبشی اس کی نکیل پکڑے ہوئے تھے۔
It was narrated that Qais bin ‘Aidh, who was Abu Kâhil, said: “I saw the Prophet ﷺ delivering the sermon atop beautiful she-camel, an Ethiopian was holding onto its reins.” (Hasan)
سعد مؤذن کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ خطبہ کے درمیان تکبیر کہتے تھے، اور عیدین کے خطبہ کے دوران کثرت سے تکبیریں پڑھتے تھے۔
It was narrated from Abdur-Rahmân bin Sa’d bin Ammar bin Sa’d, the Mu’adhdhin that his father narrated, from his father, that his grandfather “The Prophet ﷺ used to say Takbir between the two sermons and he used to say the takbir a great deal in the sermon ‘Eid.” (Da’if)
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٣٨٣٠، ومصباح الزجاجة: ٤٤٨) (ضعیف) (اس حدیث کی سند میں عبد الرحمن ضعیف ہیں، اور ان کے والد اور دادا مجہول الحال ہیں )
ابو سعید خدری ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ عید کے دن نکلتے اور لوگوں کو دو رکعت پڑھاتے، پھر سلام پھیرتے، اور اپنے قدموں پر کھڑے ہو کر لوگوں کی جانب رخ کرتے، اور لوگ بیٹھے رہتے، اور آپ ﷺ فرماتے: لوگو! صدقہ کرو، صدقہ کرو، زیادہ صدقہ عورتیں دیتیں، کوئی بالی ڈالتی، کوئی انگوٹھی اور کوئی کچھ اور، اگر آپ کو لشکر بھیجنا ہوتا تو لوگوں سے اس کا ذکر کرتے، ورنہ تشریف لے جاتے ۔
Abu Sa’ eed Al-Khudri said: ‘The Messenger of Allah ﷺ used to go out on the day of ‘Eid and lead the people in praying two Rak’ah, then he would say the salam and stand on his two feet facing the people while they were sitting down. He would say: ‘Give in charity. Give in charity.’ Those who gave most in charity were the women, (they would give) earrings and rings and things. If he wanted to send out an expedition he would mention it, otherwise he would leave. (Sahih)
جابر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ عید الفطر یا عید الاضحی میں گئے، تو آپ ﷺ نے کھڑے ہو کر خطبہ دیا، پھر تھوڑی دیر بیٹھے، پھر کھڑے ہوگئے۔
It was narrated that Jâbir said: “The Messenger of Allah ﷺ went out on the Day of Al-Fitr’ or Al-Adha, and delivered a sermon standing up. Then he sat down briefly, then stood up again.” (Da’if)
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٢٦٦١، ومصباح الزجاجة: ٤٤٩) (منکر) (سند میں اسماعیل بن مسلم اور ابوبحر ضعیف ہیں، نیز ابوالزبیر مدلس اور روایت عنعنہ سے کی ہے، اس لئے یہ سنداً اور متناً ضعیف ہے، صحیح مسلم میں جابر بن سمرہ ؓ سے یہ خطبہ جمعہ میں محفوظ ہے )
عبداللہ بن سائب ؓ کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ نماز عید میں حاضر ہوا، تو آپ نے ہمیں عید کی نماز پڑھائی، پھر فرمایا: ہم نماز ادا کرچکے، لہٰذا جو شخص خطبہ کے لیے بیٹھنا چاہے بیٹھے، اور جو جانا چاہے جائے ۔
It was narrated that ‘Abdullah bin Sâ’ib said: “I attended the ‘Eid prayer with the Messenger of Allah ﷺ . He led us in offering the ‘Phd prayer, then he said: ‘I have finished the prayer. Whoever wants to sit (and listen to) the sermon, then let him sit, and whoever wants to leave, then let him leave.’” (Sahih)
عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ عید گاہ کی طرف گئے تو آپ نے لوگوں کو عید کی نماز پڑھائی، اور اس سے پہلے یا بعد کوئی اور نماز نہ پڑھی۔
It was narrated from lbn ‘Abbâs that the Messenger of Allah ﷺ went out and led them in the ‘Eid prayer, and he did not pray before it or after it. (Sahih)
ابو سعید خدری ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نماز عید سے پہلے کچھ بھی نہیں پڑھتے تھے، جب اپنے گھر واپس لوٹتے تو دو رکعت پڑھتے ١ ؎۔
It was narrated that Abu Sa’eed Al-Khudri said: “The Messenger of Allah ﷺ did not pray before the ‘Eid prayer, but when he went back to his house he would pray two Rak’ah.” (Da’if)
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٤١٨٧، ومصباح الزجاجة: ٤٥١)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/٤٠) (حسن )
سعد مؤذن سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ عید کے لیے پیدل جاتے اور پیدل ہی واپس آتے۔
‘Abdur-Rahmân bin Sa’d bin ‘Ammâr bin Sa’d said: “My father told me, from his father, from his grandfather, that the Prophet ﷺ used to go out to the ‘Eid prayers walking, and he would come back walking.” (Da’if)
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٣٨٣١، ومصباح الزجاجة: ٤٥٢) (حسن) (شواہد کی بناء پر یہ حدیث حسن ہے، ورنہ اس کی سند میں عبد الرحمن ضعیف، اور ان کے والد و دادا مجہول الحال ہیں، ملاحظہ ہو: الإرواء: ٦٣٦ )
عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ عید کے لیے پیدل جاتے، اور پیدل ہی واپس آتے۔
It was narrated that Ibn ‘Umar said: “The Messenger of Allah ﷺ used to go out to the ‘Eid prayers walking, and come back walking.” (Da’if)
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٧٧٤٠ و ٨٠٢٠، ومصباح الزجاجة: ٤٥٣) (حسن) (شواہد کی بناء پر یہ حدیث حسن ہے، ورنہ اس کی سند میں عبد الرحمن بن عبد اللہ العمری ضعیف ہیں، نیز ملاحظہ ہو: الإرواء: ٦٣٦ )
ابورافع کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ عید گاہ کے لیے پیدل چل کر آتے تھے۔
It was narrated from Muhammad bin ‘Ubaidullâh bin Abu Râfi’, from his father, from is grandfather, that the Messenger of Allah ﷺ used to Dome to ‘Eid prayers walking. (Da’if)
Notes · وضاحت
١ ؎: ان حدیثوں سے معلوم ہوا کہ سنت یہی ہے کہ عیدگاہ کو پیدل جائے، اگر عید گاہ دور ہو یا کوئی پیدل نہ چل سکے تو سواری پر جائے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٢٠٢١، ومصباح الزجاجة: ٤٥٤) (حسن) (شواہد کی بناء پر یہ حدیث حسن ہے، ورنہ اس کی سند میں دو راوی: مندل و محمد بن عبیداللہ ضعیف ہیں، ملاحظہ ہو: الإرواء: ٦٣٦ )
مؤذن رسول سعد القرظ ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ جب عیدین کی نماز کے لیے نکلتے تو سعید بن ابی العاص کے مکان سے گزرتے، پھر خیمہ والوں کی طرف تشریف لے جاتے، پھر دوسرے راستے سے واپس ہوتے، اور قبیلہ بنی زریق کے راستے سے عمار بن یاسر اور ابوہریرہ ؓ کے مکانات کو پار کرتے ہوئے مقام بلاط پر تشریف لے جاتے۔
‘Abdur-Rahnân bin Sa`d bin ‘Ammâr bin Sa’d said: “My father told me, from his father, from his grandfather, that when the Prophet ﷺ went out on the two ‘Eid, he would pass by the house of Sa’eed bin Abul-’As, then by the people of the tent then he would leave by a different route, via Banu Zuraiq, then he would go out by the house of ‘Ammar bin Yasir and the house of Abu Hurairah (RA) to Balât.” (Da’if)
Notes · وضاحت
١ ؎: بلاط ایک مقام کا نام ہے، جو مسجد نبوی اور بازار کے درمیان واقع تھا۔ ٢ ؎: علماء نے راستہ بدلنے کی بہت سی حکمتیں بیان فرمائی ہیں، امام نووی (رح) نے اس کی حکمت مقامات عبادت کا زیادہ ہونا بتلایا ہے، بعض کہتے ہیں کہ ایسا اس لئے کہ دونوں راستے قیامت والے دن گواہی دیں گے کہ یا اللہ تیری تکبیر و تہلیل کرتا ہوا یہ بندہ ہمارے اوپر سے گزرا تھا کیونکہ نماز عید کے لئے یہ حکم ہے کہ آتے جاتے راستوں میں بہ آواز بلند تکبیریں پڑھتے اور اللہ کا ذکر کرتے رہو، یا مقصد ہے کہ ایک کے بجائے دو راستوں کے فقراء، لوگوں کے صدقہ و خیرات سے بہرمند ہوں، یا اس لئے کہ مسلمانوں کی قوت و اجتماعیت کا زیادہ سے زیادہ مظاہرہ ہو۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٣٨٣٢، ومصباح الزجاجة: ٤٥٦) (ضعیف) (عبدالرحمن اور ان کے والد ضعیف ہیں )
عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ وہ عید کے لیے ایک راستے سے جاتے، اور دوسرے راستے سے واپس آتے اور کہتے کہ رسول اللہ ﷺ ایسا ہی کرتے تھے۔
It was narrated from Ibn ‘Umar that he used to go out to the ‘Eid prayers via one route, and return via another, and he said that the Messenger of Allah ﷺ used to do that. (Hasan)
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الصلاة ٢٥٤ (١١٥٦)، (تحفة الأشراف: ٧٧٢٢)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/١٠٩) (صحیح )
ابورافع ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ عید کے لیے پیدل چل کر آتے تھے اور اس راستہ کے سوا دوسری راستہ سے لوٹتے تھے جس سے پہلے آئے تھے۔
It was narrated from Muhammad bin Ubaidulláh bin Abu Râfi’, from his father, from his grandfather, that the Messenger of Allah ﷺ used to come to ‘Eid prayers walking, and that he would go back via a different route than the one he began with. (Da’if)
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٢٠٢١، ومصباح الزجاجة: ٤٥٥) (صحیح) (اگلی و پچھلی حدیثوں سے تقویت پاکر یہ حدیث صحیح ہے، ورنہ اس کی سند میں مندل و محمد بن عبید اللہ دونوں ضعیف ہیں )
ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ جب عیدین کے لیے نکلتے تو اس راستہ کے سوا دوسرے راستہ سے لوٹتے جس سے شروع میں آئے تھے۔
It was narrated from Abu Hurairah (RA) that when the Prophet ﷺ went out to ‘Eid (prayers), he would return via a different route than the first one he took. (Sahih)
عامر شعبی کہتے ہیں کہ عیاض اشعری نے شہر انبار میں عید کی اور کہا: کیا بات ہے کہ میں تم کو اس طرح دف بجاتے اور گاتے نہیں دیکھ رہا ہوں جیسے رسول اللہ ﷺ کے پاس بجایا، اور گایا جاتا تھا ١ ؎۔
It was narrated that Amir said: “lyâd Al-Ash’ari was in Anbar at the time of ‘Eid, and he said ‘Why is it that I do not engaged in Taqils as was done in the presence of the Messenger of Allah ﷺ .(Da’if)
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١١٠١٧، ومصباح الزجاجة: ١٣٠٢) (ضعیف) (سند میں شریک ضعیف الحدیث راوی ہیں، اور ایسے ہی سوید بن سعید متکلم فیہ راوی ہیں، ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الضعیفة، للالبانی: رقم: ٤٢٨٥ )