عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے معاذ ؓ کو یمن کی جانب بھیجا، اور فرمایا: تم اہل کتاب (یہود و نصاریٰ ) کے پاس پہنچو گے، تم انہیں اس بات کی دعوت دینا کہ وہ گواہی دیں کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، اور میں اس کا رسول ہوں، اگر وہ اسے مان لیں تو انہیں بتانا کہ اللہ تعالیٰ نے ان پر رات و دن میں پانچ نمازیں فرض کی ہیں، اگر وہ اسے مان لیں تو بتانا کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے مالوں میں ان پر زکاۃ فرض کی ہے، جو ان کے مالداروں سے لی جائے گی اور انہیں کے محتاجوں میں بانٹ دی جائیگی، اگر وہ اس کو مان لیں تو پھر ان کے عمدہ اور نفیس مال وصول کرنے سے بچے رہنا ١ ؎ (بلکہ زکاۃ میں اوسط مال لینا) ، اور مظلوم کی بد دعا سے بھی بچنا، اس لیے کہ اس کے اور اللہ تعالیٰ کے درمیان کوئی رکاوٹ نہیں ہے ٢ ؎۔
It was narrated from Ibn Abbas that the Prophet ﷺ nt Mu aadh. to Yemen, and said":You are going to some people among the People of the Book. CalI them to bear witness that none has the rIght to be worshiped but Allah, and that I am the Messenger of Allah ﷺ . they obey that, then tell them that Allah has enjoined upon them live prayers every day and night. If they Obey that, then telI them that Allah has enjoined upon them charity (Zakat) from their wealth, to be taken from their rich and given to their poor. If they obey that, then beware of (taking) the best of their wealth. And beware of the supplication of the oppressed, for there is no barrier between it and Allah." (Sahih)
Notes · وضاحت
١ ؎: زکاۃ میں صاحب زکاۃ سے عمدہ مال لینا منع ہے، البتہ اگر وہ اپنی خوشی سے اللہ تعالیٰ کی رضا کے لئے عمدہ جانور چن کر دے تو لے لیا جائے، اس حدیث سے معلوم ہوا کہ غیر مسلم کو اسلام کی دعوت دی جائے، تو سب سے پہلے اس کو اللہ تعالیٰ کی عبادت اور محمد رسول اللہ ﷺ کی اطاعت کی دعوت دی جائے یعنی سب سے پہلے وہ لا إلہ إلا اللہ محمد رسول اللہ کی شہادت دے، جب وہ توحید و رسالت پر ایمان لا کر لا إلہ إلا اللہ محمد رسول اللہ کو اپنی زبان سے دہرائے تو یہ اس بات کا اعلان ہوگا کہ اس نے دین اسلام قبول کرلیا، ایمان نام ہے دل سے توحید و رسالت اور اس کے تقاضوں کے مطابق زندگی گزارنے کے اقرار اور زبان سے اس کے اعتراف اور عملی طور پر اسلامی تعلیمات کو اپنی زندگی میں نافذ کرنے کا اس لیے توحید و رسالت کے بعد سب سے اہم اور بنیادی رکن اور اسلامی فریضہ یعنی نماز پڑھنے کی دعوت دی جائے، اس کے بعد زکاۃ ادا کرنے کی جیسا کہ اس حدیث میں آیا ہے، چونکہ اسلام کے پانچ بنیادی ارکان میں رمضان کے روزوں اور بیت اللہ کا حج ہے، اس لیے ان کی طرف دعوت دینے کا کام دوسرے احکام و مسائل سے پہلے ہوگا، ویسے اسلام لانے کے بعد ہر طرح کے چھوٹے بڑے دینی مسائل کا سیکھنا اور اس پر عمل کرنا اسلام کے مطابق زندگی گزارنا ہے، اور اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُواْ ادْخُلُواْ فِي السِّلْمِ كَآفَّةً وَلاَ تَتَّبِعُواْ خُطُوَاتِ الشَّيْطَانِ إِنَّهُ لَكُمْ عَدُوٌّ مُّبِينٌ (سورة البقرة:208) ایمان والو ! اسلام میں پورے پورے داخل ہوجاؤ اور شیطان کے قدموں کی تابعداری نہ کرو، وہ تمہارا کھلا دشمن ہے ٢ ؎: یعنی وہ فوراً مقبول ہوتی ہے رد نہیں ہوتی۔
عبداللہ بن مسعود ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو کوئی اپنے مال کی زکاۃ ادا نہیں کرتا اس کا مال قیامت کے دن ایک گنجا سانپ بن کر آئے گا، اور اس کے گلے کا طوق بن جائے گا، پھر آپ ﷺ نے اس کے ثبوت کے لیے قرآن کی یہ آیت پڑھی: ولا يحسبن الذين يبخلون بما آتاهم الله من فضله یعنی اور جن لوگوں کو اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے (کچھ) مال دیا ہے، اور وہ اس میں بخیلی کرتے ہیں، (فرض زکاۃ ادا نہیں کرتے) تو اس بخیلی کو اپنے حق میں بہتر نہ سمجھیں بلکہ بری ہے، ان کے لیے جس (مال) میں انہوں نے بخیلی کی ہے، وہی قیامت کے دن ان (کے گلے) کا طوق ہوا چاہتا ہے، اور آسمانوں اور زمین کا وارث (آخر) اللہ تعالیٰ ہی ہوگا، اور جو تم کرتے ہو (سخاوت یا بخیلی) اللہ تعالیٰ کو اس کی خبر ہے (سورۃ آل عمران: ١٨٠) ۔
It was narrated from Abdullah bin Masud that the Messenger of Allah ﷺ said: "There is no one who does not pay Zakat on his wealth, but a bald-headed snake will be made to appear to him on the Day of Resurrection, until it encircles his neck" Then the Messenger of Allah ﷺ recited the follwing Verse to us confirming that from the Book of Allah the Most High . "And Iet not thotsee w a covetously withhold of that which Allah has bestowed on them of His -Boounty (wealth) think that it is good for them.()sahih
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/تفسیر القرآن (سورة آل عمران) (٣٠١٢)، سنن النسائی/الزکاة ٢ (٢٤٤٣)، (تحفة الأشراف: ٩٢٣٧)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/٣٧٧) (صحیح )
ابوذر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو کوئی اونٹ، بکری اور گائے والا اپنے مال کی زکاۃ ادا نہیں کرتا، تو اس کے جانور قیامت کے دن اس سے بہت بڑے اور موٹے بن کر آئیں گے جتنے وہ تھے، وہ اسے اپنی سینگوں سے ماریں گے اور کھروں سے روندیں گے، جب اخیر تک سب جا نور ایسا کر چکیں گے تو پھر باربار تمام جانور ایسا ہی کرتے رہیں گے یہاں تک کہ لوگوں کے درمیان فیصلہ کردیا جائے گا ۔
It was narrated from ABU Dharr that the Messenger of Allah ﷺ said:"There is no owner of camels, sheep or cattle who does not pay Zakat on them, but th will come to him on the of Resurrection as big and as fat as they ever were butting him their hornss and trampling him with their hooves. Every time the ast of them has passed the first of theem will come back to him , until Judgement is passed the people." (Sahih)
ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جن اونٹوں کی زکاۃ نہیں دی گئی وہ آئیں گے اور اپنے مالک کو اپنے پاؤں سے روندیں گے، اور گائیں اور بکریاں آئیں گی وہ اپنے مالک کو اپنے کھروں سے روندیں گی اور اسے سینگوں سے ماریں گی، اور اس کا خزانہ ایک گنجا سانپ بن کر آئے گا، اور اپنے مالک سے قیامت کے دن ملے گا، اس کا مالک اس سے دور بھاگے گا، پھر وہ اس کے سامنے آئے گا تو وہ بھاگے گا، اور کہے گا: آخر تو میرے پیچھے کیوں پڑا ہے؟ وہ کہے گا: میں تیرا خزانہ ہوں، میں تیرا خزانہ ہوں، آخر مالک اپنے ہاتھ کے ذریعہ اس سے اپنا بچاؤ کرے گا لیکن وہ اس کا ہاتھ ڈس لے گا ١ ؎۔
It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Messenger of Allah ﷺ said: "The camels on which the dues (i.e., Zakat) were not paid will come, trampling their owners with their hooves. And cattle and sheep will come and trample their owners with their hooves and butt them with their horns. And hoarded treasure will come in the form of a baldheaded snake, and will meet its owner on the Day of Resurrection. Its owner will flee from it two times, then it will come to him and he will flee again, and will say: What do I have to do with you? and it will say: I am your hoarded treasure, I am your hoarded treasure. He will try to shield himself with his hand and it will devour it." (Sahih)
Notes · وضاحت
١ ؎: کیونکہ ہاتھ ہی سے زکاۃ نہیں دی گئی تو پہلے اسی عضو کو سزا دی جائے گی، خزانہ (کنز) سے مراد یہاں وہی مال ہے جس کی زکاۃ ادا نہیں کی گئی جیسے آگے آتا ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٤٠٤١)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الزکاة ٣ (١٤٠٢)، الجہاد ١٨٩ (٣٠٧٣)، تفسیر براء ة ٦ (٤٦٥٩)، الحیل ٣ (٩٦٥٨)، سنن النسائی/الزکاہ ٦ (٢٤٥٠)، موطا امام مالک/الزکاة ١٠ (٢٢)، مسند احمد (٢/٣١٦، ٣٧٩، ٤٢٦) (صحیح )
عمر بن خطاب ؓ کے غلام خالد بن اسلم کہتے ہیں کہ میں عبداللہ بن عمر ؓ کے ساتھ جا رہا تھا کہ ان سے ایک اعرابی (دیہاتی) ملا، اور آیت کریمہ: والذين يکنزون الذهب والفضة ولا ينفقونها في سبيل الله (سورة التوبة: 34) جو لوگ سونے اور چاندی کو خزانہ بنا کر رکھتے ہیں، اور اسے اللہ کی راہ میں صرف نہیں کرتے کے متعلق ان سے پوچھنے لگا کہ اس سے کون لوگ مراد ہیں؟ تو ابن عمر ؓ نے کہا: جس نے اسے خزانہ بنا کر رکھا، اور اس کی زکاۃ ادا نہیں کی، تو اس کے لیے ہلاکت ہے، یہ آیت زکاۃ کا حکم اترنے سے پہلے کی ہے، پھر جب زکاۃ کا حکم اترا تو اللہ تعالیٰ نے اسے مالوں کی پاکی کا ذریعہ بنادیا، پھر وہ دوسری طرف متوجہ ہوئے اور بولے: اگر میرے پاس احد پہاڑ کے برابر سونا ہو جس کی تعداد مجھے معلوم ہو، اور اس کی زکاۃ ادا کرتا رہوں، اور اللہ کے حکم کے مطابق اس کو استعمال کرتا رہوں، تو مجھے کوئی پروا نہیں ہے ١ ؎۔
Khalid bin Aslam, the freed slave of Umar bin Khattab, said: "I went out with Abdullah bin Umar, and a Bedouin met him and recited to him the words of Allah: And those who hoard up gold and silver (the money, the Zakah of which has not been paid) and spend them not in the way of Allah . Ibn Umar said to him. The one who hoards it and doe; not pay the Zakat due on it, woe to him. But this was before the (ruling on) Zakat was revealed. When it was revealed, Allah made It a purification of wealth Then he turned away and said: ;I do not mind if I have (the equivalent of) Uhud in gold provided that I know how much it is and I pay Zakat on it and I ils.e it in obedience of Allah, the Mighty and Sublime." (Sahih)
Notes · وضاحت
١ ؎: عبداللہ بن عمر ؓ بہت مالدار آدمی تھے، اس اعرابی (دیہاتی) نے ان سے کچھ مانگا ہوگا، انہوں نے نہ دیا ہوگا تو یہ آیت ان کو شرمندہ کرنے کے لئے پڑھی، عبداللہ بن عمر ؓ نے اس کی تفسیر بیان کی کہ یہ آیت اس وقت کی ہے جب زکاۃ کا حکم نہیں اترا تھا، اور مطلق مال کا حاصل کرنا اور اس سے محفوظ رکھنا منع تھا، اس کے بعد زکاۃ کا حکم اترا، اب جس مال حلال میں سے زکاۃ دی جائے وہ کنز (خزانہ) نہیں ہے، اگرچہ لاکھوں کروڑوں روپیہ ہو، بلکہ مال حلال اللہ تعالیٰ کی بڑی نعمت ہے۔ اور انسان جو عبادتیں مالداری کی حالت میں کرسکتا ہے جیسے صدقہ و خیرات، اسلامی لشکر کی تیاری، اور تعلیم دین وغیرہ میں مدد مفلسی اور غریبی میں ہونا ناممکن ہے، لیکن اللہ تعالیٰ جب مال حلال عنایت فرمائے تو اس کا شکریہ یہ ہے کہ اللہ کے حکم کے مطابق اس کو خرچ کرے، آپ کھائے دوسروں کو کھلائے، صلہ رحمی کرے، مدرسے اور یتیم خانے، مسجدیں اور کنویں بنوا دے، مسافروں اور محتاجوں کی مدد کرے، اور جو مالدار اس طرح حلال مال کو اللہ کی رضا مندی میں صرف کرتا ہے اس کا درجہ بہت بڑا ہے۔ ابن حجر (رح) نے کہا: عبداللہ بن عمر ؓ نے ہزار غلام آزاد کئے اور ہزار گھوڑے اللہ کی راہ میں مجاہدین کو دیئے اور اس کے ساتھ وہ دنیا کی حکومت اور عہدے سے نفرت کرتے تھے۔
ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب تم نے اپنے مال کی زکاۃ ادا کردی، تو تم نے وہ حق ادا کردیا جو تم پر تھا ۔
It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Messenger of Allah ﷺ said: "When you pay Zakat on your wealth, then you have done what is required of you." (Hasan)
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الزکاة ٢ (٦١٨)، (تحفة الأشراف: ١٣٥٩١) (ضعیف) ( ملاحظہ ہو : سلسلة الاحادیث الضعیفة، للالبانی : ٢٢١٨ )
فاطمہ بنت قیس ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی اکرم ﷺ کو فرماتے سنا: مال میں زکاۃ کے علاوہ کوئی حق نہیں ہے ١ ؎۔
It was narrated from Fatimah bint Qais that she heard him, meaning the Prophet ﷺ say: "There is nothing due on wealth other than Zakat." (Daif)
Notes · وضاحت
١ ؎: امام ترمذی نے فاطمہ بنت قیس سے اس کے خلاف روایت کی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا : بیشک مال میں اور حق بھی ہیں، سوائے زکاۃ کے، تو یہ حدیث مضطرب ہوئی۔
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الزکاة ٢٧ (٦٥٩، ٦٦٠)، (تحفة الأشراف: ١٨٠٢٦)، وقد أخرجہ: سنن الدارمی/الزکاة ١٣ (١٦٧٧) (ضعیف منکر) ( سند میں درج ابو حمزہ میمون ا الٔاعور ضعیف راوی ہے، اور شریک القاضی بھی ضعیف راوی ہیں، نیز ملاحظہ ہو : سلسلة الاحادیث الضعیفة، للالبانی : ٤٣٨٣ )
علی ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: میں نے گھوڑوں اور غلاموں کی زکاۃ معاف کردی ہے، لیکن نقد پیسوں میں سے چالیسواں حصہ دو، ہر چالیس درہم میں ایک درہم کے حساب سے ۔
It was narrated from Ali that the Messenger of Allah ﷺ said: "I have exempted you from having to pay Zakat on horses and slaves, but bring one quarter of one-tenth of every forty Dirham: one Dirham." (Daif)
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الزکاة ٤ (١٥٧٢)، (تحفة الأشراف: ١٠٠٣٩)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الزکاة ٣ (٦٢٠)، سنن النسائی/الزکاة ١٨ (٢٤٧٩)، مسند احمد (١/١٢١، ١٣٢، ١٤٦)، سنن الدارمی/الزکاة ٧ (١٦٦٩) (صحیح) (شواہد کی بناء پر صحیح ہے، نیز ملاحظہ ہو: صحیح أبی داود: ٥/٢٩٥ )
عبداللہ بن عمر اور ام المؤمنین عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ ہر بیس دینار یا اس سے زیادہ میں آدھا دینار لیتے تھے، اور چالیس دینار میں ایک دینار کے حساب سے لیتے تھے۔
It was narrated from Ibn Umar and Aisha (RA) that from every twenty Dinar or more, the Prophet ﷺ used to take half a Dinar, and from forty Dinar, one Dinar. (Hasan)
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٧٢٩١، ١٦٢٨٩، ومصباح الزجاجة: ٦٤) (صحیح) ( ابراہیم بن اسماعیل ضعیف راوی ہے، لیکن حدیث شواہد کی وجہ سے صحیح ہے، ملاحظہ ہو : الإرواء : ٨١٣ )
ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا: کسی بھی مال پر اس وقت تک زکاۃ نہیں ہے جب تک کہ اس پر سال نہ گزر جائے ١ ؎۔
It was narrated that Aisha (RA) said: "I heard the Messenger of Allah ﷺ say: There is no Zakat on wealth until Hawl (one year) has passed. (Hasan)
Notes · وضاحت
١ ؎: اگر کسی کے پاس شروع سال میں دس دینار تھے، لیکن بیچ سال میں دس دینار اور ملے تو اس پر زکاۃ واجب نہ ہوگی جب تک بیس دینار پر پورا سال نہ گزرے، شافعی کا یہی قول ہے، اور ابوحنیفہ نے کہا کہ بیچ سال میں جو مال حاصل ہو وہ پہلے مال سے مل جائے گا اور سال پورا ہونے پر اس میں زکاۃ واجب ہوگی، یہ اختلاف اس صورت میں ہے، جب دوسرا مال الگ سے ہوا ہو، اور پہلے مال کا نفع ہو تو بالاتفاق اس سے مل جائے گا۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٧٨٨٩، ومصباح الزجاجة: ٦٤١) (صحیح) (حارثہ بن محمد بن أبی الرجال ضعیف ہے، لیکن دوسرے طریق سے صحیح ہے، نیز ملاحظہ ہو: صحیح ابی داود: ٨١٣، الإرواء: ٧٨٧ )
ابو سعید خدری ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی اکرم ﷺ کو فرماتے سنا: پانچ وسق سے کم کھجور میں زکاۃ نہیں ہے، اور پانچ اوقیہ سے کم چاندی میں زکاۃ نہیں ہے، اور پانچ اونٹوں سے کم میں زکاۃ نہیں ہے ۔
It was narrated from Abu Sa eed Al,Khudri that he heard the Prophet ﷺ say: "There is no Sadaqah on anything less than five Awsaq of dates, five Awaqia of silver and five camels." (Sahih)
جابر بن عبداللہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: پانچ اونٹ سے کم میں زکاۃ نہیں ہے، اور پانچ اوقیہ سے کم چاندی میں زکاۃ نہیں ہے، اور پانچ وسق سے کم اناج یا میوہ میں زکاۃ نہیں ہے ۔
It was narrated from Jabir bin Abdullah that the Messenger of Allah ﷺ said: There is no Sadaqah on less than five camels; there is no Sadaqah on less than five Awaq; and there is no Sadaqah on less than five Awsaq. (Sahih)
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٢٥٦٦، ومصباح الزجاجة: ٦٤٢)، مسند احمد (٣/٢٩٦) (صحیح )
علی بن ابی طالب ؓ سے روایت ہے کہ عباس ؓ نے نبی اکرم ﷺ سے اپنی زکاۃ پیشگی ادا کرنے کے متعلق پوچھا تو آپ نے انہیں اس کی رخصت دی۔
It was narrated from Aii bin Abu Talib that Abbas askedI Prophet ﷺ about paying his Sadaqah before it is due, and he granted him permission to d that. (Daif)
عبداللہ بن ابی اوفی ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے پاس کوئی اپنے مال کی زکاۃ لاتا تو آپ اس کے لیے دعا فرماتے، میں بھی آپ کے پاس اپنے مال کی زکاۃ لے کر آیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: اللهم صل على آل أبي أوفى اے اللہ! ابواوفی کی اولاد پر اپنی رحمت نازل فرما ١ ؎۔
‘Abdullâh bin Abu Awfa said: “Whenever a man brought Sadaqah to the Messenger of Allah ﷺ he would bless him. I brought him the Sadaqah of my wealth and he said:(O Allah! Send blessing upon the family of Abu Awfa).”(Sahih)
Notes · وضاحت
١ ؎: اس سے معلوم ہوا کہ جو شخص اپنی زکاۃ خود لے کر آئے تو عامل ( زکاۃ وصول کرنے والا ) اس کو دعائیں دے۔
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب تم زکاۃ دو اس کا ثواب نہ بھول جاؤ، بلکہ یوں کہو: اللهم اجعلها مغنما ولا تجعلها مغرما اے اللہ! تو اسے ہمارے لیے مال غنیمت بنا دے، اسے تاوان نہ بنا ۔
It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Messenger of Allah ﷺ said: "When you give Zakt, do not forget its reward, and say,(O Allah! Make it a gain and do not make it a loss)." (Maudu)
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٤١٢٩، ومصباح الزجاجة: ٦٤٣) (موضوع) (بختری بن عبید ضعیف، متروک راوی ہے، اور ولید بن مسلم مدلس، نیز ملاحظہ ہو: الإرواء: ٨٥٢ ، سلسلة الاحادیث الضعیفة، للالبانی: ١٠٩٦ )
عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا، ابن شہاب زہری کہتے ہیں کہ مجھے سالم نے ایک تحریر پڑھوائی، جو رسول اللہ ﷺ نے زکاۃ کے بیان میں اپنی وفات سے پہلے لکھوائی تھی، اس تحریر میں میں نے یہ لکھا پایا: پانچ اونٹ میں ایک بکری ہے، اور دس اونٹ میں دو بکریاں ہیں، اور پندرہ اونٹ میں تین بکریاں ہیں، اور بیس اونٹ میں چار بکریاں ہیں، اور پچیس سے پینتیس اونٹوں تک میں ایک بنت مخاض ١ ؎ ہے، اگر بنت مخاض نہ ہو تو ابن لبون ٢ ؎ ہے، اور اگر پینتیس سے ایک بھی زیادہ ہوجائے تو ٤٥ تک بنت لبون ٣ ؎ ہے، اور اگر ٤٥ سے بھی زیادہ ہوجائے تو ساٹھ تک ایک حقہ ٤ ؎ ہے، اور اگر ساٹھ سے ایک بھی زیادہ ہوجائے، تو ٧٥ تک ایک جذعہ ٥ ؎، اور اگر ٧٥ سے ایک بھی زیادہ ہوجائے تو نوے تک دو بنت لبون ہیں، اور اگر نوے سے ایک بھی زیادہ ہوجائے تو ١٢٠ تک دو حقے ہیں، اور اگر ١٢٠ سے زیادہ ہوں تو ہر پچاس میں ایک حقہ، اور ہر چالیس میں ایک بنت لبون ہے ۔
Ibn Shihab narrated from Salim bin Abdullah, from his father, from the Prophet ﷺ . He (Ibn Shihab) said: "Salim read to me a letter that the Messenger of Allah ﷺ had written concerning Sadaqat, before Allah caused him to pass away, in which it was said: For five camels one sheep; for ten, two sheep; for fifteen, three sheep; for twenty, four sheep. For twenty-five, a Bini Makhdd (a one-year-old shecamel), up to thirty-five; if there is no Bini Makhdd, then a Bin Labun (a two-year-old male camel). If there are more than thirty-five, even one, then a Bini Labun (a two-year-old she-camel) must be given, up to forty-five. If there are more than forty-five, even one, then a Hiqqah (a three-year,old she-camel), up to sixty camels. If there are more than sixty, even one more, then a ]adhaah (a fouryear-old she-camel) must be given, up to seventy-five. If there are more than seventy-five, even one more, then two Bint Labun must be given, up to ninety. If there are more than ninety, even one more, then two Hiqqan must be given, up to one hundred and twenty. If there are many camels, then for each fifty, one Hiqqah must be given and for each forty a Bini Labun " (Hasan)
Notes · وضاحت
١ ؎: بنت مخاض: اونٹ کا وہ مادہ بچہ جو اپنی عمر کا ایک سال پورا کرچکا ہو۔ ٢ ؎: ابن لبون: اونٹ کا وہ نر بچہ جو اپنی عمر کے دو سال پورے کرچکا ہو۔ ٣ ؎: بنت لبون: اونٹ کا وہ مادہ بچہ جو اپنی عمر کے دو سال پورے کرچکا ہو۔ ٤ ؎: حقہ: اونٹ کا وہ مادہ بچہ جو اپنی عمر کے تین سال پورے کرچکا ہو۔ ٥ ؎: جذعہ: اونٹ کا وہ مادہ بچہ جو عمر کے چار سال پورے کرچکا ہو۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٦٨٣٧)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الزکاة ٤ (١٥٦٨)، سنن الترمذی/الزکاة ٤ (٦٢١)، موطا امام مالک/الزکاة ١١ (٢٣)، مسند احمد (٢/١٤، ١٥)، سنن الدارمی/الزکاة ٦ (١٦٦٦) (صحیح )
ابو سعید خدری ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: پانچ اونٹوں سے کم میں زکاۃ نہیں ہے، اور چار میں کچھ نہیں ہے، جب پانچ اونٹ ہوجائیں تو نو تک ایک بکری ہے، جب دس ہوجائیں تو چودہ تک دو بکریاں ہیں، اور جب پندرہ ہوجائیں تو ١٩ تک تین بکریاں ہیں، اور جب بیس ہوجائیں تو ٢٤ تک چار بکریاں ہیں، اور جب پچیس ہوجائیں تو ٣٥ تک بنت مخاض (ایک سال کی اونٹنی) ہے، اور اگر ایک سال کی اونٹنی نہ ہو تو ایک ابن لبون (دو سال کا ایک اونٹ) ہے، اور اگر ٣٥ سے ایک اونٹ بھی زیادہ ہوجائے تو ٤٥ تک بنت لبون (دو سال کی ایک اونٹنی) ہے، اور اگر ٤٥ سے ایک اونٹ بھی زیادہ ہوجائے تو ساٹھ تک حقہ (تین سال کی ایک اونٹنی) ہے، اور اگر ٦٠ سے ایک اونٹ بھی زیادہ ہوجائے تو ٧٥ تک جذعہ (چار سال کی ایک اونٹنی) ہے، اور اگر ٧٥ سے ایک اونٹ بھی زیادہ ہوجائے تو ٩٠ تک دو بنت لبون (دو سال کی دو اونٹنیاں) ہیں، اور اگر ٩٠ سے ایک اونٹ بھی زیادہ ہوجائے تو ١٢٠ تک دو حقہ (تین سال کی دو اونٹنیاں) ہیں، پھر ہر پچاس میں ایک حقہ (تین سال کی ایک اونٹنی) ، اور ہر چالیس میں بنت لبون (دو سال کی ایک اونٹنی) ہے ۔
It was narrated that Abu Sa’eed Al-Khudri said: “The Messenger of Allah ﷺ said: ‘There is no Sadaqah on any less than five camels, or for four, if the number of camels reaches five then one sheep must be given, up to nine, If the number reaches ten, then two sheep must be given, up to fourteen, if the number reaches fifteen, then three sheep must be given, up to nineteen. If the number reaches twenty, then four sheep must be given, up to twentyfour. If the number reaches twenty-five, then a flint Makhdd (a one-yearold she- camel), up to thirty-five; if there is no flint Makhdd, then a Bin Lahun (a two-year-old male camel). If there are more camels, then a bint Labun (two-year-old she-camel) up to forty-five. If there are more camels, then a Hiqqah (a threeyear-old she-camel) must be given, up to sixty. If there are more camels, then a Jadhaah (a five-year-old she-camel) must be given, up to seventy-five. If there are more camels, then two Bint Labun must be given, up to ninety. If there are more camels, then two Hiqqah should be given, up to one hundred and twenty. Then for each fifty, one Hiqqah, and for each forty, a Bint Labun. " (Hasan)
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٤٤٠٩، ومصباح الزجاجة: ٦٤٤)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/٦، ٣٠، ٧٣) (حسن) (ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الصحیحة، للالبانی: ٢١٩٢ )
انس بن مالک ؓ بیان کرتے ہیں کہ ابوبکر صدیق ؓ نے انہیں لکھا: بسم الله الرحمن الرحيم یہ فریضہ زکاۃ کا نصاب ہے جسے رسول اللہ ﷺ نے مسلمانوں پر فرض قرار دیا ہے، اور اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو اس کا حکم دیا، زکاۃ کے اونٹوں کی مقررہ عمروں میں کمی بیشی کی تلافی اس طرح ہوگی کہ جس کو زکاۃ میں جذعہ ( ٤ چار سال کی اونٹنی) ادا کرنی ہو جو اس کے پاس نہ ہو بلکہ حقہ (تین سالہ اونٹنی) ہو تو وہی لے لی جائے گی، اور کمی کے بدلے دو بکریاں لی جائیں گی، اگر اس کے پاس ہوں، ورنہ بیس درہم لیا جائے گا، اور جس شخص کو حقہ بطور زکاۃ ادا کرنا ہو اور اس کے پاس وہ نہ ہو بلکہ بنت لبون ہو تو اس سے بنت لبون قبول کرلی جائے گی، اور وہ اس کے ساتھ دو بکریاں یا بیس درہم دے گا، اور جس کو زکاۃ میں بنت لبون ادا کرنی ہو اور اس کے پاس بنت لبون نہ ہو بلکہ حقہ ہو تو اس سے حقہ لیا جائے گا، اور زکاۃ وصول کرنے والا اسے بیس درہم یا دو بکریاں دے گا، اور جسے زکاۃ میں بنت لبون ادا کرنی ہو، اس کے پاس بنت لبون نہ ہو بلکہ بنت مخاض ہو تو اس سے بنت مخاض لی جائے گی، اور ساتھ میں زکاۃ دینے والا بیس درہم یا دو بکریاں دے گا، اور جس کو زکاۃ میں بنت مخاض ادا کرنی ہو اور اس کے پاس وہ نہ ہو بلکہ بنت لبون ہو تو اس سے بنت لبون لے لی جائے گی، اور زکاۃ وصول کرنے والا اسے بیس درہم یا دو بکریاں واپس دے گا، اور جس کے پاس بنت مخاض نہ ہو بلکہ ابن لبون ہو تو اس سے وہی لے لیا جائے گا، اور اس کو اس کے ساتھ کچھ اور نہ دینا ہوگا ١ ؎۔
Anas bin Malik (RA) narrated that Abu Bakr Siddiq (RA) wrote to him: "In the Name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful. This is the obligation of Sadaqah which the Messenger of Allah ﷺ enjoined upon the Muslims as Allah commanded the Messenger of Allah ﷺ The ages of camels to be given (in Zakat) may be made up in sheep. So if a man has camels on which the Sadaqah is a [adhaan (a four-year-old shecamel), and he does not have a Jadhaah but he has a Hiqqah (a three-year-old she-camel), then the Hiqqah should be accepted from him, and two sheep should be given (in addition), if they are readily available, or twenty Dirham. If a man has camels on which the Sadaqah is a Hiqqah, and he only has a Bint Labun (a two year-old she-camel), then the Bint Labun should be accepted from him, along with two sheep or twenty Dirhams. If a man has camels on which the Sadaqah is a Bini Labun, and he does not have one, but he has a Hiqqah, then it should be accepted from him, and the Zakfit collector should give him back twenty Dirham or two sheep. If a man has camels on which the Sadaqah is a Bini Labun, and he does not have one, but he has a Bini Makhdd (a one-year-old she-camel), then the Bini Makhad should be accepted from him, along with twenty Dirham or two sheep. If a man has camels on which the Sadaqah is a Bini Makhad, and he does not have one, but he has a Bini Labun, then the Bini Labun should be accepted from him, and the Zakat collector should give him back twenty Dirhams or two sheep. Whoever does not have a Bini Makhad, but he has a Bin Labun (a two-yearold male camel), then it should be accepted from him and nothing else need be given along with it." (Sahih)
Notes · وضاحت
١ ؎: مطلب یہ ہے کہ اگر پورے سن کی اونٹنی نہ ہو تو اس سے ایک سال زیادہ کا نر اونٹ اسی کے برابر سمجھا جائے گا، نہ صرف مال والے کو کچھ دینا ہوگا، نہ زکاۃ لینے والے کو کچھ پھیرنا پڑے گا۔
سوید بن غفلہ ؓ کہتے ہیں کہ ہمارے پاس نبی اکرم ﷺ کا عامل صدقہ (زکاۃ وصول کرنے والا) آیا تو میں نے اس کا ہاتھ پکڑا، اور اس کے میثاق (عہد نامہ) میں پڑھا کہ الگ الگ مالوں کو یکجا نہ کیا جائے، اور نہ مشترک مال کو زکاۃ کے ڈر سے الگ الگ کیا جائے، ایک شخص ان کے پاس ایک بھاری اور موٹی سی اونٹنی لے کر آیا، عامل زکاۃ نے اس کو لینے سے انکار کردیا، آخر وہ دوسری اونٹنی اس سے کم درجہ کی لایا، تو عامل نے اس کو لے لیا، اور کہا کہ کون سی زمین مجھے جگہ دے گی، اور کون سا آسمان مجھ پر سایہ کرے گا؟ جب میں رسول اللہ ﷺ کے پاس ایک مسلمان کا بہترین مال لے کے جاؤں گا ١ ؎۔
It was narrated that Suwaid bin Ghafalah said: "The Zakah collector of the Prophet ﷺ came to us, and I took him by the hand and read in his order: Do not gather separate herds and do not separate a single herd for fear of Sadaqah. A man brought him a huge, fat she-camel, but he refused to accept it. So he brought him another of lower quality and he accepted it. He said: What land would shelter me and what heaven would shade me, if I came to the Messenger of Allah ﷺ having taken the best of a Muslim mans camels? If…. (Daif)
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی زکاۃ زیادہ یا کم دینے کے ڈر سے زیادہ کا اندیشہ مالک کو ہوگا، اور کم کا خوف زکاۃ وصول کرنے والے کو ہوگا، یہ حکم زکاۃ دینے والے اور زکاۃ وصول کرنے والے دونوں کے لیے ہے۔ الگ الگ کو یکجا کرنے کی صورت یہ ہے کہ مثلاً تین آدمی ہیں ہر ایک کی چالیس چالیس بکریاں ہیں، الگ الگ کی صورت میں ہر ایک کو ایک ایک بکری دینی پڑے گی اس طرح مجموعی طور پر تین بکریاں دینی پڑتی ہیں مگر جب زکاۃ وصول کرنے والا ان کے پاس پہنچتا ہے تو وہ سب بکریاں جمع کرلیتے ہیں اور تعداد ایک سو بیس بن جاتی ہے، اس طرح ان کو صرف ایک بکری دینی پڑتی ہے۔ اور اکٹھا بکریوں کو الگ الگ کرنے کی صورت یہ ہے کہ دو آدمی اکٹھے ہیں اور دو سو ایک بکریاں ان کی ملکیت میں ہیں اس طرح تین بکریاں زکاۃ میں دینا لازم آتا ہے مگر جب زکاۃ وصول کرنے والا ان کے پاس پہنچتا ہے تو دونوں اپنی اپنی بکریاں الگ کرلیتے ہیں اس طرح ان میں سے ہر ایک کے ذمہ ایک ایک ہی بکری لازم آتی ہے، خلاصہ یہ کہ اس طرح کی حیلہ سازی کرنے سے منع کیا گیا ہے۔ زکاۃ وصول کرنے والے کو منع کرنے کی صورت یہ ہے کہ دو آدمی ہیں جو نہ تو باہم شریک (ساجھی دار) ہیں اور نہ ہی ایک دوسرے کے ساتھ اپنا مال ملائے ہوئے ہیں ان دونوں میں سے ہر ایک کے پاس ایک سو بیس یا اس سے کم و زیادہ بکریاں ہیں تو اس صورت میں ہر ایک کو ایک بکری زکاۃ میں دینی پڑتی ہے، مگر زکاۃ وصول کرنے والا ان دونوں کی بکریاں از خود جمع کردیتا ہے، اور ان کی مجموعی تعداد دو سو سے زائد ہوجاتی ہے، اس طرح وہ تین بکریاں وصول کرلیتا ہے اور جمع شدہ کو الگ الگ کرنے کی صورت یہ ہے کہ مثلاً ایک سو بیس بکریاں تین آدمیوں کی ملکیت میں ہیں اس صورت میں صرف ایک ہی بکری زکاۃ میں دینی پڑتی ہے، مگر زکاۃ وصول کرنے والا اسے تین الگ الگ حصوں میں تقسیم کردیتا ہے اور اس طرح تین بکریاں وصول کرلیتا ہے۔
جریر بن عبداللہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: عامل زکاۃ لوگوں کو خوش رکھ کر ہی واپس جائے ١ ؎۔
It was narrated from Jarir bin ‘Abdullah that the Messenger of Allah ﷺ said: ‘The Zakat collector should not come back unless the people are pleased with him (Sahih)
Notes · وضاحت
١ ؎: سبحان اللہ صحابہ کرام ؓ کی ایمان داری اور خوف الہی کو دیکھئے کہ ایک شخص نے خوشی سے اپنا عمدہ مال زکاۃ میں دیا تب بھی انہوں نے قبول نہ کیا، دو وجہ سے، ایک تو یہ کہ نبی کریم ﷺ نے عمدہ مال زکاۃ میں لینے سے منع کردیا تھا، دوسرے اس وجہ سے کہ شاید دینے والے کے دل کو ناگوار ہو، گو وہ ظاہر میں خوشی سے دیتا ہے، اس ذرا سی حق تلفی اور ناراضی کو بھی اتنا بڑا گناہ سمجھا کہ یوں کہا: زمین مجھے کیسے اٹھائے گی اور آسمان میرے اوپر گرپڑے گا اگر میں ایسا کام کروں، جب اسلام میں ایسے متقی اور ایمان دار اللہ تعالیٰ سے ڈرنے والے لوگ اللہ تعالیٰ نے پیدا کئے تھے تو اسلام کو اس قدر جلد ایسی ترقی ہوئی کہ اس کا پیغام دنیا کے چپہ چپہ میں پہنچ گیا۔