جنازوں کا بیان

Sunan Ibne-Majah · Chapter 8 · 206 hadiths · Page 1 of 11

1433Sunan Ibne-Majah

بیمار کی عیادت

حَدَّثَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنِ الْحَارِثِ، عَنْ عَلِيٍّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لِلْمُسْلِمِ عَلَى الْمُسْلِمِ سِتَّةٌ بِالْمَعْرُوفِ: يُسَلِّمُ عَلَيْهِ إِذَا لَقِيَهُ، وَيُجِيبُهُ إِذَا دَعَاهُ، وَيُشَمِّتُهُ إِذَا عَطَسَ، وَيَعُودُهُ إِذَا مَرِضَ، وَيَتْبَعُ جِنَازَتَهُ إِذَا مَاتَ، وَيُحِبُّ لَهُ مَا يُحِبُّ لِنَفْسِهِ.

علی ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: مسلمان کی مسلمان پر حسن سلوک کے چھ حقوق ہیں: ١ ۔ جب اس سے ملاقات ہو تو اسے سلام کرے، ٢ ۔ جب وہ دعوت دے تو اس کی دعوت قبول کرے، ٣ ۔ جب وہ چھینکے اور الحمد لله کہے تو جواب میں يرحمک الله کہے، ٤ ۔ جب وہ بیمار ہو تو اس کی عیادت (بیمار پرسی) کرے، ٥ ۔ جب اس کا انتقال ہوجائے تو اس کے جنازہ کے ساتھ جائے، ٦ ۔ اور اس کے لیے وہی پسند کرے جو اپنے لیے پسند کرتا ہے ۔

It was narrated that Ali said that the Messenger of Allah ﷺ said: "The Muslim has six courtesies due from the Muslim: He should greet him with Salaam when he meets him; he should accept his invitation if he invites him; he should answer [by Yarhamuk-Allah (may Allah have mercy on you) to him if he sneezes (and says AI-Hamdulillah); he should visit him if he falls sick; he should follow his funeral if he dies; and he should love for him what he loves for himself." (Sahih)

Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الأدب ١ (٢٧٣٦)، (تحفة الأشراف: ١٠٠٤٤)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/٨٨، ٨٩، ٢/٣٧٢، ٤١٢)، سنن الدارمی/الاستئذان ٥ (٢٦٧٥) (صحیح )
1434Sunan Ibne-Majah

بیمار کی عیادت

حَدَّثَنَا أَبُو بِشْرٍ بَكْرُ بْنُ خَلَفٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ حَكِيمِ بْنِ أَفْلَحَ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: لِلْمُسْلِمِ عَلَى الْمُسْلِمِ أَرْبَعُ خِلَالٍ: يُشَمِّتُهُ إِذَا عَطَسَ، وَيُجِيبُهُ إِذَا دَعَاهُ، وَيَشْهَدُهُ إِذَا مَاتَ، وَيَعُودُهُ إِذَا مَرِضَ.

ابومسعود (عقبہ بن عمرو) انصاری ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: ایک مسلمان کے دوسرے مسلمان پر چار حقوق ہیں: جب اسے چھینک آئے اور وہ الحمدلله کہے تو اس کے جواب میں يرحمک الله کہے، جب وہ دعوت دے تو اس کی دعوت کو قبول کرے، جب اس کا انتقال ہوجائے تو اس کے جنازہ میں حاضر ہو، اور جب بیمار ہوجائے تو اس کی عیادت کرے ۔

It was narrated from Abu Masud that the Prophet ﷺ said: "The Muslim has four things due from the Muslim: He should if answer [by saying Yarhamuk-Allah (may Allah have mercy on you) , to him if he sneezes (and says AI-Hamdulillah); he should accept his invitation if he invites him; he should attend his funeral if he dies; and he should visit him if he falls sick." (Hasan)

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٩٩٧٩، ومصباح الزجاجة: ٥٠٥)، مسند احمد (٥/٢٧٢) (صحیح )
1435Sunan Ibne-Majah

بیمار کی عیادت

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: خَمْسٌ مِنْ حَقِّ الْمُسْلِمِ عَلَى الْمُسْلِمِ: رَدُّ التَّحِيَّةِ، وَإِجَابَةُ الدَّعْوَةِ، وَشُهُودُ الْجِنَازَةِ، وَعِيَادَةُ الْمَرِيضِ، وَتَشْمِيتُ الْعَاطِسِ إِذَا حَمِدَ اللَّهَ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: مسلمان کے مسلمان پر پانچ حقوق ہیں: سلام کا جواب دینا، دعوت قبول کرنا، جنازہ میں حاضر ہونا، مریض کی عیادت کرنا، اور جب چھینکنے والا الحمد لله کہے، تو اس کے جواب میں يرحمک الله کہنا۔

lt was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Messenger of Allah ﷺ said: "Five are the rights of the Muslim over the Muslim: Returning his greeting, accepting his invitation; attending his funeral; visiting the sick; and answering (saying Yarhamuk-Allah) to the one who sneezes, if he praises Allah (says AI-Hamdu Lillah)." (Hasan)

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٥٠٩٢، ومصباح الزجاجة: ٥٠٦)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الجنائز ٢ (١٢٤٠)، صحیح مسلم/السلام ٣ (٢١٦٢)، سنن النسائی/الجنائز ٥٢ (١٩٤٠)، مسند احمد (٢/٣٢١، ٣٣٢، ٣٥٧، ٣٧٢، ٣٨٨) (صحیح )
1436Sunan Ibne-Majah

بیمار کی عیادت

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الصَّنْعَانِيُّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قَالَ: سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ الْمُنْكَدِرِ، يَقُولُ: سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، يَقُولُ: عَادَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَاشِيًا، وَأَبُو بَكْرٍ، وَأَنَا فِي بَنِي سَلَمَةَ.

جابر بن عبداللہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ اور ابوبکر ؓ پیدل چل کر میری عیادت کے لیے آئے، اور میں (مدینہ سے دور) قبیلہ بنو سلمہ میں تھا۔

Jabir bin Abdullah said: "The Messenger of Allah ﷺ came walking to visit me (when I was sick), as did Abu Bakr, when I was with Banu Salimah. (Sahih)

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الوضوء ٤٥ (١٩٤)، التفسیر ٤ (٤٥٧٧)، المرضی ٥ (٥٦٥١)، الفرائض ١ (٦٧٢٣)، الاعتصام ٨ (٣٠١٥)، صحیح مسلم/الفرائض ٢ (١٦١٦)، سنن ابی داود/الجنائز ٢ (٢٨٨٦)، سنن الترمذی/الفرائض ٧ (٢٠٩٧)، تفسیرالقرآن ٥ (٣٠١٥)، سنن النسائی/الطہارة ١٠٣ (١٣٨)، (تحفة الأشراف: ٣٠٢٨)، وقد أخرجہ: سنن الدارمی/الطہارة ٥٦ (٧٦٠) (یہ حدیث مکرر ہے، دیکھئے: ٢٧٢٨) (صحیح )
1437Sunan Ibne-Majah

بیمار کی عیادت

حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا مَسْلَمَةُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ حُمَيْدٍ الطَّوِيلِ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا يَعُودُ مَرِيضًا إِلَّا بَعْدَ ثَلَاثٍ.

انس بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ مریض کی عیادت اس کی بیماری کے تین دن گزر جانے کے بعد فرماتے تھے۔

It was narrated that Anas bin Malik (RA) said: "The Prophet ﷺ did not visit any sick person until after three days." (Daif)

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٧١٨، و مصباح الزجاجة: ٥٠٧) (موضوع) (اس میں مسلمہ بن علی متروک اور منکر الحدیث ہے، ابن الجوزی نے اسے موضوعات میں داخل کیا ہے، نیز ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الضعیفة، للالبانی: ١٤٥ )
1438Sunan Ibne-Majah

بیمار کی عیادت

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عُقْبَةُ بْنُ خَالِدٍ السَّكُونِيُّ، عَنْ مُوسَى بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِذَا دَخَلْتُمْ عَلَى الْمَرِيضِ، فَنَفِّسُوا لَهُ فِي الْأَجَلِ، فَإِنَّ ذَلِكَ لَا يَرُدُّ شَيْئًا، وَهُوَ يَطِيبُ بِنَفْسِ الْمَرِيضِ.

ابو سعید خدری ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب تم مریض کے پاس جاؤ، تو اسے لمبی عمر کی امید دلاؤ، اس لیے کہ ایسا کہنے سے تقدیر نہیں پلٹتی، لیکن بیمار کا دل خوش ہوتا ہے ۔

It was narrated from Abu Saeed Al-Khudri that the Messenger of Allah ﷺ said: "When you enter upon one who is sick, cheer him up and give him hope of a long life, for that does not change anything (of the Divine Decree), but it will cheer the heart of the one who is sick." (Daif)

Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الطب ٣٥ (٠٨٧)، (تحفة الأشراف: ٤٢٩٢) (ضعیف) (موسیٰ بن محمد اس سند میں ضعیف ہیں، ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الضعیفة، للالبانی: ١٨٢ )
1439Sunan Ibne-Majah

بیمار کی عیادت

حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْخَلَّالُ، حَدَّثَنَا صَفْوَانُ بْنُ هُبَيْرَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو مَكِينٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَادَ رَجُلًا، فَقَالَ: مَا تَشْتَهِي؟، قَالَ: أَشْتَهِي خُبْزَ بُرٍّ، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ كَانَ عِنْدَهُ خُبْزُ بُرٍّ، فَلْيَبْعَثْ إِلَى أَخِيهِ، ثُمَّ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِذَا اشْتَهَى مَرِيضُ أَحَدِكُمْ شَيْئًا، فَلْيُطْعِمْهُ.

عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے ایک بیمار کی عیادت کی، تو اس سے پوچھا: کیا کھانے کو جی چاہتا ہے؟ اس نے کہا: گیہوں کی روٹی کھانے کی خواہش ہے، تو آپ ﷺ نے فرمایا: جس شخص کے پاس گیہوں کی روٹی ہو، وہ اسے اپنے بیمار بھائی کے پاس بھیج دے پھر آپ ﷺ نے فرمایا: جب تم میں سے کسی کا مریض کچھ کھانے کی خواہش کرے تو وہ اسے وہی کھلائے ۔

It was narrated from Ibn Abbas that the Prophet ﷺ visited a man and said: "What do you long for?" He said: "I long for wheat bread." The Prophet ﷺ said: "Whoever has any wheat bread, let him send it to his brother." Then the Prophet ﷺ said: "If any sick person among you longs for something, then feed him." (Daif)

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٦٢٢٤، ومصباح الزجاجة: ٥٠٨) (ضعیف) (اس میں صفوان بن ھبیرہ لین الحدیث ہیں، نیز یہ حدیث ( ٣٤٤٠ ) نمبر پر آرہی ہے )
1440Sunan Ibne-Majah

بیمار کی عیادت

حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ وَكِيعٍ، حَدَّثَنَا أَبُو يَحْيَى الْحِمَّانِيُّ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ يَزِيدَ الرَّقَاشِيِّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: دَخَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى مَرِيضٍ يَعُودُهُ، فَقَالَ: أَتَشْتَهِي شَيْئًا؟ أَتَشْتَهِي كَعْكًا؟، قَالَ: نَعَمْ، فَطَلَبُوا لَهُ.

انس بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ ایک مریض کی عیادت کے لیے گئے، تو پوچھا: کیا کچھ کھانے کو جی چاہتا ہے؟ کیا کیک کھانا چاہتے ہو؟ اس نے کہا: ہاں، تو لوگوں نے اس کے لیے کیک منگوایا۔

It was narrated that Anas bin Malik (RA) said: "The Prophet ﷺ entered upon a sick person to visit him. He said: Do you long for anything? Do you long for Kak (a type of bread)? He said:Yes. So they sent someone to bring some Kak for him." (Daif)

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٦٨٣، ومصباح الزجاجة: ٥٠٩) (ضعیف) (اس میں یزید بن ابان الرقاشی ضعیف ہیں، نیز ٣٤٤١ نمبر پر یہ حدیث آرہی ہے )
1441Sunan Ibne-Majah

بیمار کی عیادت

حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُسَافِرٍ، حَدَّثَنِي كَثِيرُ بْنُ هِشَامٍ، حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ بُرْقَانَ، عَنْ مَيْمُونِ بْنِ مِهْرَانَ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، قَالَ: قَالَ لِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِذَا دَخَلْتَ عَلَى مَرِيضٍ، فَمُرْهُ أَنْ يَدْعُوَ لَكَ، فَإِنَّ دُعَاءَهُ كَدُعَاءِ الْمَلَائِكَةِ.

عمر بن خطاب ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے مجھ سے فرمایا: جب تم کسی مریض کے پاس جاؤ، تو اس سے اپنے لیے دعا کی درخواست کرو، اس لیے کہ اس کی دعا فرشتوں کی دعا کی طرح ہے ۔

It was narrated that Umar bin Al-Khattab (RA) said: "The Prophet ﷺ said to me: When you enter upon one who is sick, tell him to pray for you, for his supplication is like the supplication of the angels" (Daif)

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٠٦٤٩، ومصباح الزجاجة: ٥١٠) (ضعیف جدًا) (اس سند میں انقطاع ہے، کیونکہ میمون بن مہران نے عمر ؓ کو نہیں پایا ہے )
1442Sunan Ibne-Majah

بیمار کی عیادت کا ثواب

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ عَلِيٍّ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: مَنْ أَتَى أَخَاهُ الْمُسْلِمَ عَائِدًا، مَشَى فِي خَرَافَةِ الْجَنَّةِ حَتَّى يَجْلِسَ، فَإِذَا جَلَسَ غَمَرَتْهُ الرَّحْمَةُ، فَإِنْ كَانَ غُدْوَةً صَلَّى عَلَيْهِ سَبْعُونَ أَلْفَ مَلَكٍ حَتَّى يُمْسِيَ، وَإِنْ كَانَ مَسَاءً صَلَّى عَلَيْهِ سَبْعُونَ أَلْفَ مَلَكٍ حَتَّى يُصْبِحَ.

علی ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا: جو شخص اپنے مسلمان بھائی کی عیادت کے لیے آئے وہ جنت کے کھجور کے باغ میں چل رہا ہے یہاں تک کہ وہ بیٹھ جائے، جب بیٹھ جائے، تو رحمت اسے ڈھانپ لیتی ہے، اگر صبح کے وقت عیادت کے لیے گیا ہو تو ستر ہزار فرشتے شام تک اس کے لیے دعا کرتے ہیں، اور اگر شام کا وقت ہو تو ستر ہزار فرشتے صبح تک اس کے لیے دعا کرتے ہیں ۔

It was narrated that Ali said: "I heard the Messenger of Allah ﷺ Whoever comes to his Muslim brother and visits him (when he is sick), he is walking among the harvest of Paradise until he sits down, and when he sits down he is covered with mercy. If it is morning, seventy thousand angels will send blessing upon him until evening, and If It 18 evening, seventy thousand angels will send blessing upon him un til monning:" (Hasan)

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٠٢١١، ومصباح الزجاجة: ٥١١)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الجنائز ٧ (٣٠٩٨، ٣٠٩٩)، سنن الترمذی/الجنائز ٢ (٩٦٩)، مسند احمد (١/٩٧، ١٢٠) (صحیح )
1443Sunan Ibne-Majah

بیمار کی عیادت کا ثواب

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، حَدَّثَنَا أَبُو سِنَانٍ الْقَسْمَلِيُّ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي سَوْدَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ عَادَ مَرِيضًا، نَادَى مُنَادٍ مِنَ السَّمَاءِ طِبْتَ وَطَابَ مَمْشَاكَ، وَتَبَوَّأْتَ مِنَ الْجَنَّةِ مَنْزِلًا.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس نے کسی مریض کی عیادت کی تو آسمان سے منادی (آواز لگانے والا) آواز لگاتا ہے: تم اچھے ہو اور تمہارا جانا اچھا رہا، تم نے جنت میں ایک ٹھکانا بنا لیا ۔

It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Messenger of Allah ﷺ said: Whoever visits a sick person, a caller calls from heaven: May you be happy, may your walking be blessed, and may you occupy a dignified position in Paradise:" (Daif)

Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/البروالصلة ٦٤ (٢٠٠٨)، (تحفة الأشراف: ١٤١٣٣)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/٣٢٦، ٣٤٤، ٣٥٤) (حسن) (تراجع الألبانی، رقم: ٥٩٣ )
1444Sunan Ibne-Majah

میّت کو لا الہ الا اللہ کی تلقین کرنا

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ كَيْسَانَ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَقِّنُوا مَوْتَاكُمْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اپنے مردوں کو لا إله إلا الله کی تلقین کرو ۔

It was narrated that Abu Hurairah (RA) that the Messenger of Allah ﷺ said: Urge your dying ones to say La ilaha illallah." (Sahih)

Notes · وضاحت
١ ؎: مردوں سے مراد وہ بیمار ہیں جو مرنے کے بالکل قریب ہوں۔ ٢ ؎: تلقین سے مراد تذکیر ہے یعنی ان کے پاس پڑھ کر انہیں اس کی یاد دہانی کرائی جائے تاکہ سن کر وہ بھی پڑھنے لگیں۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الجنائز ١ (٩١٧)، (تحفة الأشراف: ١٣٤٤٨) (صحیح )
1445Sunan Ibne-Majah

میّت کو لا الہ الا اللہ کی تلقین کرنا

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بِلَالٍ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ غَزِيَّةَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عُمَارَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَقِّنُوا مَوْتَاكُمْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ.

ابو سعید خدری ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اپنے مردوں کو (جو مرنے کے قریب ہوں) لا إله إلا الله کی تلقین کرو ۔

It was narrated that Abu Saeed Al-Khudri said: "The Messenger of Allah ﷺ said: Urge your dying ones to say: "La ilalla illallah." (Sahih)

Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الجنائز ١ (٩١٦)، سنن ابی داود/الجنائز ٢٠ (٣١١٧)، سنن الترمذی/الجنائز ٧ (٩٧٦)، سنن النسائی/الجنائز ٤ (١٨٢٧)، (تحفة الأشراف: ٤٤٠٣)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/٣) (صحیح )
1446Sunan Ibne-Majah

میّت کو لا الہ الا اللہ کی تلقین کرنا

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ، حَدَّثَنَا كَثِيرُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ إِسْحَاق بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَعْفَرٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَقِّنُوا مَوْتَاكُمْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ الْحَلِيمُ الْكَرِيمُ، سُبْحَانَ اللَّهِ رَبِّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ، الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، كَيْفَ لِلْأَحْيَاءِ؟، قَالَ: أَجْوَدُ وَأَجْوَدُ.

عبداللہ بن جعفر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اپنے مردوں (جو لوگ مرنے کے قریب ہوں) کو یہ کہنے کی تلقین کرو: لا إله إلا الله الحليم الكريم سبحان الله رب العرش العظيم الحمد لله رب العالمين کی تلقین کرو (ترجمہ) اللہ تعالیٰ کے علاوہ کوئی معبود برحق نہیں، جو حلیم و کریم والا ہے، اللہ تعالیٰ کی ذات پاک ہے جو عرش عظیم کا رب ہے، تمام حمد و ثنا اللہ تعالیٰ کو لائق و زیبا ہے جو سارے جہاں کا رب ہے لوگوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! یہ دعا زندوں کے لیے کیسی ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: بہت بہتر ہے، بہت بہتر ہے ۔

It was narrated from Ishaq bin Abdullah bin Jafar that his father said: "The Messenger of Allah ﷺ said: Urge your dying nes to say: "La ilaha illallahul-Halimul-Karim, Subhan-Allahi illaRabbil-Arshil-Azim, AI-Hamdu Lillahi Rabbil-filamin (None has the right to be worshiped but Allah,the Forbearing, the Most Kind. Glory is to Allah, Lord of the magnificent Throne; praise is to Allah, the Lord of the worlds). They said: O Messenger of Allah, what about those who are alive? He said: Even better, even better. (Daif)

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٥٢١٣، ومصباح الزجاجة: ٥١٢) (ضعیف) (اس کی سند میں اسحاق بن عبد اللہ مجہول الحال ہیں، ویسے حدیث کا یہ جملہ لقنوا موتاکم صحیح ہے، جیسا کہ اس سے پہلے والی حدیثوں میں گزرا ہے، ملاحظہ ہو: ٤٣١٧ )
1447Sunan Ibne-Majah

موت کے قریب بیمار کے پاس کیا بات کی جائے ؟

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَعَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ شَقِيقٍ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِذَا حَضَرْتُمَ الْمَرِيضَ أَوِ الْمَيِّتَ، فَقُولُوا خَيْرًا، فَإِنَّ الْمَلَائِكَةَ يُؤَمِّنُونَ عَلَى مَا تَقُولُونَ، فَلَمَّا مَاتَ أَبُو سَلَمَةَ، أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ أَبَا سَلَمَةَ قَدْ مَاتَ، قَالَ: قُولِي: اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي وَلَهُ، وَأَعْقِبْنِي مِنْهُ عُقْبًى حَسَنَةً، قَالَتْ: فَفَعَلْتُ فَأَعْقَبَنِي اللَّهُ مَنْ هُوَ خَيْرٌ مِنْهُ، مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.

ام المؤمنین ام سلمہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب تم بیمار یا میت کے پاس جاؤ، تو اچھی بات کہو، اس لیے کہ فرشتے تمہاری باتوں پہ آمین کہتے ہیں ، چناچہ جب (میرے شوہر) ابوسلمہ کا انتقال ہوا تو میں نبی اکرم ﷺ کے پاس آئی، اور میں نے کہا: اللہ کے رسول! ابوسلمہ ؓ کا انتقال ہوگیا، تو آپ ﷺ نے فرمایا: تم یہ کلمات کہو: اللهم اغفر لي وله وأعقبني منه عقبى حسنة اے اللہ مجھ کو اور ان کو بخش دے، اور مجھے ان کا نعم البدل عطا فرما ۔ ام سلمہ ؓ کہتی ہیں کہ میں نے ایسا ہی کیا، تو اللہ تعالیٰ نے مجھے ان سے بہتر محمد رسول اللہ ﷺ کو ان کے نعم البدل کے طور پر عطا کیا ١ ؎۔

It was narrated that Unun Salamah said: "The Messenger of Allah ﷺ said: When you visit one who is sick or dying, say Good things, for the angels say: Amin to whatever you say. When Abu Salamah died, I came to the Prophet ﷺ and said: O Messenger of Allah! ﷺ Abu Salamah has died. He said: Say: "Allahhumaghfir Ii wa lahu, wa aqibni minhu. uqbfi hasanah (O Allah, forgive me and him, and compensate me with someone better than him). She said: I said that, and Allah compensated me with someone better than him: Muhammad the Messenger of Allah ﷺ . (Sahih)

Notes · وضاحت
١ ؎: دوسری روایت میں ہے کہ میں نے اپنے دل میں کہا: ابوسلمہ سے بہتر کون ہوگا، پھر اللہ تعالیٰ نے محمد رسول اللہ ﷺ کو دیا، جو ابوسلمہ سے بہتر تھے، ابوسلمہ کی وفات کے بعد ام سلمہ ؓ نے نبی کریم ﷺ سے نکاح کرلیا۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الجنائز ٣ (٩١٩)، سنن ابی داود/الجنائز ١٩ (٣١١٥)، سنن الترمذی/الجنائز ٧ (٩٧٧) سنن النسائی/الجنائز ٣ (١٨٢٦)، (تحفة الأشراف: ١٨١٦٢)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الجنائز ١٤ (٤٢)، مسند احمد (٦/٢٩١، ٣٠٦، ٣٢٢) (صحیح )
1448Sunan Ibne-Majah

موت کے قریب بیمار کے پاس کیا بات کی جائے ؟

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ شَقِيقٍ، عَنْ ابْنِ الْمُبَارَكِ، عَنْ سُلَيْمَانَ التَّيْمِيِّ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ وَلَيْسَ بِالنَّهْدِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ مَعْقِلِ بْنِ يَسَارٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اقْرَءُوهَا عِنْدَ مَوْتَاكُمْ، يَعْنِي: يس.

معقل بن یسار ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اپنے مردوں کے پاس اسے یعنی سورة يس پڑھو ۔

It was narrated from Maqil bin Yasar that the Messenger of Allah ﷺ said: "Recite Quran near your dying ones," meaning Ya-Sin. (Daif)

Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الجنائز ٢٤ (٣١٢١) (تحفة الأشراف: ١١٤٧٩)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٥/٢٦، ٢٧) (ضعیف) (ملاحظہ ہو: الإرواء: ٦٨٨ ، وسلسلة الاحادیث الضعیفة، للالبانی: ٥٨٦١ ، ابوعثمان کے والد مجہول ہیں )
1449Sunan Ibne-Majah

موت کے قریب بیمار کے پاس کیا بات کی جائے ؟

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ . ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيل، حَدَّثَنَا الْمُحَارِبِيُّ، جَمِيعًا عَنْمُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاق، عَنِ الْحَارِثِ بْنِ فُضَيْلٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: لَمَّا حَضَرَتْ كَعْبًا الْوَفَاةُ أَتَتْهُ أُمُّ بِشْرٍ بِنْتُ الْبَرَاءِ بْنِ مَعْرُورٍ، فَقَالَتْ: يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ، إِنْ لَقِيتَ فُلَانًا فَاقْرَأْ عَلَيْهِ مِنِّي السَّلَامَ، قَالَ: غَفَرَ اللَّهُ لَكِ يَا أُمَّ بِشْرٍ، نَحْنُ أَشْغَلُ مِنْ ذَلِكَ، قَالَتْ: يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَمَا سَمِعْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: إِنَّ أَرْوَاحَ الْمُؤْمِنِينَ فِي طَيْرٍ خُضْرٍ، تَعْلُقُ فِي شَجَرِ الْجَنَّةِ، قَالَ: بَلَى، قَالَتْ: فَهُوَ ذَاكَ.

عبدالرحمٰن بن کعب بن مالک بیان کرتے ہیں کہ جب ان کے والد کعب ؓ کی وفات کا وقت آیا، تو ان کے پاس ام بشر بنت براء بن معرور ؓ آئیں، اور کہنے لگیں: اے ابوعبدالرحمٰن! اگر فلاں سے آپ کی ملاقات ہو تو ان کو میرا سلام کہیں، کعب ؓ نے کہا: اے ام بشر! اللہ تمہیں بخشے، ہمیں اتنی فرصت کہاں ہوگی کہ ہم لوگوں کا سلام پہنچاتے پھریں، انہوں نے کہا: اے ابوعبدالرحمٰن! کیا آپ نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے نہیں سنا: مومنوں کی روحیں سبز پرندوں کی صورت میں ہوں گی، اور جنت کے درختوں سے کھاتی چرتی ہوں گی ، کعب ؓ کہا: کیوں نہیں، ضرور سنی ہے، تو انہوں نے کہا: بس یہی مطلب ہے۔

It was narrated from Abdur-Rahman bin Kab bin Malik, about Kab: "When Kab was dying, Umm e Bishr bint Bara bin Marur came to him and said: O Abu Abdur-Rahmanl If you meet so-and-so, convey Salam to him from me. He said: May Allah forgive you, O Umm Bishr! We are too busy to think of that. She said: O Abu Abdur-Rahman ! Did you not hear the Messenger of Allah ﷺ say: "The souls of the believers are in green birds, eating from the trees of Paradise"? He said: Yes. She said: That is what I mean. (Daif)

Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/فضائل الجہاد ١٣ (١٦٤١)، سنن النسائی/الجنائز ١١٧ (٢٠٧٥)، (تحفة الأشراف: ١١١٤٨)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الجنائز ١٦ (٤٩)، مسند احمد (٣/٤٥٥، ٤٥٦، ٤٦٠، ٦/٣٨٦، ٤٢٥) (ضعیف) (سند میں محمد بن اسحاق مدلس ہیں، اور روایت عنعنہ سے ہے، اس لئے یہ ضعیف ہے، لیکن مرفوع حدیث صحیح ہے، جو ( ٤٢٧١ ) نمبر پر آرہی ہے )
1450Sunan Ibne-Majah

موت کے قریب بیمار کے پاس کیا بات کی جائے ؟

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْأَزْهَرِ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى، حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ الْمَاجِشُونِ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُنْكَدِرِ، قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ وَهُوَ يَمُوتُ، فَقُلْتُ: اقْرَأْ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ السَّلَامَ.

محمد بن منکدر کہتے ہیں کہ میں جابر بن عبداللہ ؓ کی وفات کے وقت ان کے پاس گیا، تو میں نے ان سے کہا: رسول اللہ ﷺ کو سلام کہئے گا۔

Muhammad bin Munkadir said: "I entered upon Jabir bin Abdullah when he was dying, and said: Convey my Salam to the Messenger of Allah ﷺ " (Sahih)

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٣٠٩٥، ومصباح الزجاجة: ٥١٣)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/٦٩) (ضعیف) (شیخ البانی نے اسے ضعیف کہا ہے، ضعیف الجامع: ٢٧٥ ، مسند احمد کے محققین نے اسے صحیح الاسناد کہا ہے، ملاحظہ ہو: ١١٦٦٠ ، ١٩٤٨٢ )
1451Sunan Ibne-Majah

مومن کو نزع یعنی موت کی سختی میں اجر و ثواب حاصل ہوتا ہے

حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ عَلَيْهَا، وَعِنْدَهَا حَمِيمٌ لَهَا يَخْنُقُهُ الْمَوْتُ، فَلَمَّا رَأَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا بِهَا قَالَ لَهَا: لَا تَبْتَئِسِي عَلَى حَمِيمِكِ، فَإِنَّ ذَلِكَ مِنْ حَسَنَاتِهِ.

ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ان کے پاس گئے، وہاں پر عائشہ ؓ کے ایک رشتہ دار کا موت سے دم گھٹ رہا تھا، جب نبی اکرم ﷺ نے عائشہ ؓ کا رنج دیکھا تو ان سے فرمایا: تم اپنے رشتہ دار پر غم زدہ نہ ہو، کیونکہ یہ اس کی نیکیوں میں سے ہے ۔

It was narrated from Aisha (RA) that the Messenger of Allah ﷺ entered upon her and there was a close relative of hers who was in the throes of death. When the Prophet ﷺ saw how upset she was, he said: "Do not grieve for your relative, for that is part of his Hasaruit (merits)." (Daif)

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٧٣٨٣، ومصباح الزجاجة: ٥١٤) (ضعیف) ( اس کی سند میں ولید بن مسلم ہیں، جو کثیر التدلیس و التسویہ ہیں، گرچہ یہاں پر صیغہ تحدیث کا ہے، لیکن رواة کے اسقاط سے تدلس التسویة کا احتمال باقی ہے کہ درمیان سے کوئی راوی ساقط کردیا ہو، ملاحظہ ہو : تہذب الکمال : ٣١/٩٧ )
1452Sunan Ibne-Majah

مومن کو نزع یعنی موت کی سختی میں اجر و ثواب حاصل ہوتا ہے

حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ خَلَفٍ أَبُو بِشْرٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنِ الْمُثَنَّى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنِ ابْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْأَبِيهِ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: الْمُؤْمِنُ يَمُوتُ بِعَرَقِ الْجَبِينِ.

بریدہ ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: مومن ایسی حالت میں مرتا ہے کہ اس کی پیشانی پسینہ آلود ہوتی ہے ١ ؎۔

It was narrated from Abu Buraidah from his father that the Prophet ﷺ said: "The believer dies with sweat on his brow." (Sahih)

Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی مومن موت کی شدت سے دو چار ہوتا ہے، یا موت اسے اچانک اس حال میں پا لیتی ہے کہ وہ حلال رزق اور فرائض کی ادائیگی کے لیے اس قدر کوشاں رہتا ہے کہ اس کی پیشانی عرق آلود رہتی ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الجنائز ١٠ (٩٨٢)، سنن النسائی/الجنائز ٥ (١٨٢٩)، (تحفة الأشراف: ١٩٩٢)، وقد أخرجہ: (حم ٥/٣٥٠، ٣٥٧، ٣٦٠) (صحیح )