Sunan Ibne-Majah 1438

جنازوں کا بیان

1438Sunan Ibne-Majah

بیمار کی عیادت

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عُقْبَةُ بْنُ خَالِدٍ السَّكُونِيُّ، عَنْ مُوسَى بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِذَا دَخَلْتُمْ عَلَى الْمَرِيضِ، فَنَفِّسُوا لَهُ فِي الْأَجَلِ، فَإِنَّ ذَلِكَ لَا يَرُدُّ شَيْئًا، وَهُوَ يَطِيبُ بِنَفْسِ الْمَرِيضِ.

ابو سعید خدری ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب تم مریض کے پاس جاؤ، تو اسے لمبی عمر کی امید دلاؤ، اس لیے کہ ایسا کہنے سے تقدیر نہیں پلٹتی، لیکن بیمار کا دل خوش ہوتا ہے ۔

It was narrated from Abu Saeed Al-Khudri that the Messenger of Allah ﷺ said: "When you enter upon one who is sick, cheer him up and give him hope of a long life, for that does not change anything (of the Divine Decree), but it will cheer the heart of the one who is sick." (Daif)

Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الطب ٣٥ (٠٨٧)، (تحفة الأشراف: ٤٢٩٢) (ضعیف) (موسیٰ بن محمد اس سند میں ضعیف ہیں، ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الضعیفة، للالبانی: ١٨٢ )