گمشدہ چیزوں کا بیان

Sunan Ibne-Majah · Chapter 20 · 11 hadiths

2501Sunan Ibne-Majah

طلب شفعہ

حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْبَيْلَمَانِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا شُفْعَةَ لِشَرِيكٍ عَلَى شَرِيكٍ إِذَا سَبَقَهُ بِالشِّرَاءِ وَلَا لِصَغِيرٍ وَلَا لِغَائِبٍ.

عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: شریک کو شریک پر اس وقت شفعہ نہیں رہتا ہے، جب وہ خریداری میں اس سے سبقت کر جائے، اسی طرح نہ کم سن (نابالغ) کے لیے شفعہ ہے، اور نہ غائب کے لیے ١ ؎۔

It was narrated from Ibn Umar that the Messenger of Allah ﷺ said. "There is no preemption for a partner when his co-partner has beaten him to it (in another deal before), nor for a minor nor one who is absent."

Notes · وضاحت
١ ؎: مثلاً کسی جائیداد میں زید، عمر اور بکر شریک ہیں، بکر نے اپنا حصہ زید کے ہاتھ بیچ دیا، تو عمر کو زید پر شفعہ کے دعویٰ کا حق حاصل نہ ہوگا۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٧٢٩٣، ومصباح الزجاجة: ٨٨٧) (ضعیف جدا) (سند میں محمد بن الحارث ضعیف راوی ہیں، اور محمد بن عبد الرحمن البیلمانی متہم با لکذب راوی ہیں، نیز ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الضعیفة، للالبانی: ٤٨٠٤ )
2502Sunan Ibne-Majah

گمشدہ اونٹ، گائے اور بکری

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ حُمَيْدٍ الطَّوِيلِ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ مُطَرِّفِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الشِّخِّيرِ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ضَالَّةُ الْمُسْلِمِ حَرَقُ النَّارِ.

عبداللہ بن شخیر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: مسلمان کی گمشدہ چیز آگ کا شعلہ ہے ١ ؎۔

It was narrated from Mutarrif bin Abdullah bin Shikhkhir that his father said. "The Messenger of Allah ﷺ said: The lost animal of the Muslim may lead to the burning flame of Hell.

Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی جو کوئی اس کی خبر نہ کرے بلکہ اسے ہضم کرنے کی نیت سے چھپا رکھے تو اس کے بدلے میں یہ جہنم کی آگ کا مستحق ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٥٣٥١، ومصباح الزجاجة: ٨٨٨)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/٢٥) (صحیح) (ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الصحیحة، للالبانی: ٦٢٠ )
2503Sunan Ibne-Majah

گمشدہ اونٹ، گائے اور بکری

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا أَبُو حَيَّانَ التَّيْمِيُّ، حَدَّثَنَا الضَّحَّاكُ خَالُ الْمُنْذِرِ بْنِ جَرِيرٍ، عَنِ الْمُنْذِرِ بْنِ جَرِيرٍ، قَالَ: كُنْتُ مَعَ أَبِي بِالْبَوَازِيجِ فَرَاحَتِ الْبَقَرُ فَرَأَى بَقَرَةً أَنْكَرَهَا، فَقَالَ: مَا هَذِهِ؟ قَالُوا: بَقَرَةٌ لَحِقَتْ بِالْبَقَرِ، قَالَ: فَأَمَرَ بِهَا فَطُرِدَتْ حَتَّى تَوَارَتْ ثُمَّ قَالَ: سَمِعْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: لَا يُؤْوِي الضَّالَّةَ إِلَّا ضَالٌّ.

منذر بن جریر کہتے ہیں کہ میں اپنے والد کے ساتھ بوازیج میں تھا کہ گایوں کا ریوڑ نکلا، تو آپ نے ان میں ایک اجنبی قسم کی گائے دیکھی تو پوچھا: یہ گائے کیسی ہے؟ لوگوں نے کہا: کسی اور کی گائے ہے، جو ہماری گایوں کے ساتھ آگئی ہے، انہوں نے حکم دیا، اور وہ ہانک کر نکال دی گئی یہاں تک کہ وہ نظر سے اوجھل ہوگئی، پھر کہا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا ہے: گمشدہ چیز کو وہی اپنے پاس رکھتا ہے جو گمراہ ہو ١ ؎۔

It was narrated that Mundhir bin Jarir said: "I was with my father in Bawazij and the cows came back in the evening. He saw a cow and did not recognize it. He said: What is this? He said: A cow that joined the herd: And he issued orders that it be driven away until it disappeared from view, Then he said: I heard the Messenger of Allah ﷺ say "No one gives refuge to a stray animal but one who is also astray."

Notes · وضاحت
١ ؎: بوازیج: ایک شہر کا نام ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/اللقطة ١ (١٧٢٠)، (تحفة الأشراف: ٣٢٣٣)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/٣٦٠، ٣٦٢) (صحیح) (سند میں علت ہے کیونکہ ضحاک مجہول راوی ہیں، لیکن مرفوع حدیث، شاہد کی بناء پر صحیح ہے، قصہ ضعیف ہے، ملاحظہ ہو: الإرواء: ١٥٦٣ ، و صحیح أبی داود: ١٥١٣ ، تراجع الألبانی: رقم: ٥١٥ )
2504Sunan Ibne-Majah

گمشدہ اونٹ، گائے اور بکری

حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ إِسْمَاعِيل بْنِ الْعَلَاءِ الْأَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ يَزِيدَ مَوْلَى الْمُنْبَعِثِ، عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ، فَلَقِيتُ رَبِيعَةَ فَسَأَلْتُهُ، فَقَالَ: حَدَّثَنِي يَزِيدُ، عَنْزَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: سُئِلَ عَنْ ضَالَّةِ الْإِبِلِ فَغَضِبَ وَاحْمَرَّتْ وَجْنَتَاهُ فَقَالَ: مَا لَكَ وَلَهَا؟ مَعَهَا الْحِذَاءُ وَالسِّقَاءُ، تَرِدُ الْمَاءَ وَتَأْكُلُ الشَّجَرَ، حَتَّى يَلْقَاهَا رَبُّهَاوَسُئِلَ عَنْ ضَالَّةِ الْغَنَمِ، فَقَالَ: خُذْهَا، فَإِنَّمَا هِيَ لَكَ أَوْ لِأَخِيكَ أَوْ لِلذِّئْبِوَسُئِلَ عَنِ اللُّقَطَةِ، فَقَالَ: اعْرِفْ عِفَاصَهَا وَوِكَاءَهَا وَعَرِّفْهَا سَنَةً فَإِنِ اعْتُرِفَتْ وَإِلَّا فَاخْلِطْهَا بِمَالِكَ.

زید بن خالد جہنی ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ سے گمشدہ اونٹ کے متعلق پوچھا گیا، تو آپ غضب ناک ہوگئے، اور غصے سے آپ کے رخسار مبارک سرخ ہوگئے اور فرمایا: تم کو اس سے کیا سروکار، اس کے ساتھ اس کا جوتا اور مشکیزہ ہے، وہ خود پانی پر جاسکتا ہے اور درخت سے کھا سکتا ہے، یہاں تک کہ اس کا مالک اسے پا لیتا ہے پھر آپ ﷺ سے گمشدہ بکری کے بارے پوچھا گیا، تو آپ ﷺ نے فرمایا: اس کو لے لو اس لیے کہ وہ یا تو تمہاری ہے یا تمہارے بھائی کی یا بھیڑیئے کی ١ ؎ پھر آپ سے گری پڑی چیز کے متعلق پوچھا گیا، تو آپ ﷺ نے فرمایا: اس کی تھیلی اور بندھن کو پہچان لو، اور ایک سال تک اس کا اعلان کرتے رہو، ٢ ؎ اگر اس کی شناخت پہچان ہوجائے تو ٹھیک ہے، ورنہ اسے اپنے مال میں شامل کرلو ۔

It was narrated from Zaid bin Khalid that the Prophet ﷺ was asked about a lost camel. He became angry and his cheeks turned red, and he said: "What does it have to do with you? It has its feet and its water supply, It can go and drink water and eat from the trees until its Owner finds it." And he was asked about lost sheep, and he said: "Take it for it will be for you or for your brother or for the wolf." And he was asked about lost property and he said: "Remember the features of its leather bag and strap, and announce it for one year, then if someone claims it describing it to you with those features (give it to him), otherwise incorporate it into your Own wealth."

Notes · وضاحت
١ ؎: اگر کوئی اس کی حفاظت نہ کرے گا تو وہ اسے کھاجائے گا۔ ٢ ؎: بازار یا مسجد یا جہاں لوگ جمع ہوتے ہوں، پکار کر کہے کہ مجھے ایک چیز ملی ہے، نشانی بتا کر جس کی ہو لے جائے، اگر اس کا مالک اس کی شناخت کرلے تو ٹھیک ہے، ورنہ اسے اپنے مال میں شامل کرلے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/اللقطة ١ (٢٤٢٦)، صحیح مسلم/اللقطة ١ (١٧٢٢)، سنن ابی داود/اللقطة ١ (١٧٠٤، ١٧٠٥)، سنن الترمذی/الاحکام ٣٥ (١٣٧٢)، (تحفة الأشراف: ٣٧٦٣)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الأقضیة ٣٨ (٤٦، ٤٧)، مسند احمد (٤/١١٥، ١١٦، ١١٧) (صحیح )
2505Sunan Ibne-Majah

گمشدہ اونٹ، گائے اور بکری

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، عَنْ أَبِي الْعَلَاءِ، عَنْ مُطَرِّفٍ، عَنْعِيَاضِ بْنِ حِمَارٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ وَجَدَ لُقَطَةً فَلْيُشْهِدْ ذَا عَدْلٍ أَوْ ذَوَيْ عَدْلٍ، ثُمَّ لَا يُغَيِّرْهُ وَلَا يَكْتُمْ، فَإِنْ جَاءَ رَبُّهَا، فَهُوَ أَحَقُّ بِهَا، وَإِلَّا فَهُوَ مَالُ اللَّهِ يُؤْتِيهِ مَنْ يَشَاءُ.

عیاض بن حمار ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس کو کوئی گری پڑی چیز ملے تو وہ ایک یا دو معتبر شخص کو اس پر گواہ بنا لے، پھر وہ نہ اس میں تبدیلی کرے اور نہ چھپائے، اگر اس کا مالک آجائے تو وہ اس کا زیادہ حقدار ہے، ورنہ وہ اللہ کا مال ہے جس کو چاہتا ہے دے دیتا ہے ١ ؎۔

It was narrated from Iyad bin Himar that the Messenger of Allah ﷺ said: "Whoever finds lost property, let him ask one or two men of good character to witness it, then he should not alter it nor conceal it. If its owner comes along, then he has more right to it, otherwise it belongs to Allah, Who gives it to whomsoever He wills."

Notes · وضاحت
١ ؎: صحیحین میں زید بن خالد ؓ کی حدیث میں ہے کہ نبی کریم ﷺ سے چاندی اور سونے کے لقطہ کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: اس کا تھیلا اور سربند پہچان لو، پھر ایک سال تک اس کو پوچھتے رہو، اگر کوئی اس کو نہ پہچانے تو خرچ کر ڈالو، لیکن وہ تمہارے پاس امانت ہوگی، جب اس کا مالک آئے، گرچہ ایک زمانہ گزرنے کے بعد تو تم اس کو دے دو۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/اللقطة ١ (١٧٠٩)، (تحفة الأشراف: ١١٠١٣)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/١٦٢، ٢٦٦) (صحیح )
2506Sunan Ibne-Majah

گمشدہ اونٹ، گائے اور بکری

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، عَنْ سُوَيْدِ بْنِ غَفَلَةَ، قَالَ: خَرَجْتُ مَعَ زَيْدِ بْنِ صُوحَانَ، وَسَلْمَانَ بْنِ رَبِيعَةَ حَتَّى إِذَا كُنَّا بِالْعُذَيْبِ الْتَقَطْتُ سَوْطًا، فَقَالَا لِي: أَلْقِهِ، فَأَبَيْتُ، فَلَمَّا قَدِمْنَا الْمَدِينَةَ أَتَيْتُ أُبَيَّ بْنَ كَعْبٍ فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ، فَقَالَ: أَصَبْتَ، الْتَقَطْتُ مِائَةَ دِينَارٍ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلْتُهُ، فَقَالَ: عَرِّفْهَا سَنَةً، فَعَرَّفْتُهَا فَلَمْ أَجِدْ أَحَدًا يَعْرِفُهَا، فَسَأَلْتُهُ، فَقَالَ: عَرِّفْهَا. فَعَرَّفْتُهَا، فَلَمْ أَجِدْ أَحَدًا يَعْرِفُهَا، فَقَالَ: اعْرِفْ وِعَاءَهَا وَوِكَاءَهَا وَعَدَدَهَا، ثُمَّ عَرِّفْهَا سَنَةً، فَإِنْ جَاءَ مَنْ يَعْرِفُهَا، وَإِلَّا، فَهِيَ كَسَبِيلِ مَالِكَ.

سوید بن غفلہ کہتے ہیں کہ میں زید بن صوحان اور سلمان بن ربیعہ کے ساتھ نکلا، جب ہم عذیب پہنچے تو میں نے وہاں ایک کوڑا پڑا ہوا پایا، ان دونوں نے مجھ سے کہا: اس کو اسی جگہ ڈال دو، لیکن میں نے ان کا کہا نہ مانا، پھر جب ہم مدینہ پہنچے، تو میں ابی بن کعب ؓ کے پاس آیا، اور ان سے اس کا تذکرہ کیا، تو انہوں نے کہا: تم نے ٹھیک کیا، میں نے بھی رسول اللہ ﷺ کے عہد میں سو دینار پڑے پائے تھے تو میں نے آپ ﷺ سے اس کے متعلق پوچھا، تو آپ ﷺ نے فرمایا: سال بھر تک اس کے مالک کا پتہ کرتے رہو ، میں پتا کرتا رہا، لیکن کسی کو نہ پایا جو انہیں پہچانتا ہو، پھر میں نے آپ ﷺ سے پوچھا، تو آپ ﷺ نے فرمایا: اس کا تھیلا، بندھن اور اس کی تعداد یاد رکھو، پھر سال بھر اس کے مالک کا پتا کرتے رہو، اگر اس کا جا ننے والا آجائے تو خیر، ورنہ وہ تمہارے مال کی طرح ہے ١ ؎۔

It was narrated that Suwaid bin Ghafalah said: "I Went out with Zaid bin Suhan and Salman bin Rabiah, and When we were at Udhaib, I found a whip. They said to me: Throw it away, but I refused, When we came to Al-Madinah I went to Ubayy bin Kab and told him about that. He said: You did the right thing. I found one hundred Dinar that had been lost at the time of the Messenger of Allah ﷺ , and I asked him about it. He said, "Announce it for a year: So I announced it, and I did not find anyone who recognized it. I asked him (again) and he said: Announce it," but I did not find anyone who recognized it. He said: "Remember the features of its bag and strap, and how many it contains, then announce it for a year, If someone comes who describes it with those features(give it to him), otherwise it is like your own property."

Notes · وضاحت
١ ؎: صحیح مسلم کی روایت میں ہے: ثمَّ عرِّفها سنةً، فإن جاء صاحبُها وإلا فشأنكَ بها سال بھر اس کے مالک کا پتہ کرتے رہو، اگر اس کا جاننے والا آجائے تو خیر ورنہ اس سے فائدہ اٹھاؤ۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/اللقطة ١ (٢٤٢٦)، صحیح مسلم/اللقطة ١ (١٧٢٣)، سنن ابی داود/اللقطة ١ (١٧٠١، ١٧٠٢)، سنن الترمذی/الأحکام ٣٥ (١٣٧٤)، (تحفة الأشراف: ٢٨)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٥/١٢٦، ١٢٧) (صحیح )
2507Sunan Ibne-Majah

گمشدہ اونٹ، گائے اور بکری

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ الْحَنَفِيُّ، ح وَحَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا الضَّحَّاكُ بْنُ عُثْمَانَ الْقُرَشِيُّ، حَدَّثَنِي سَالِمٌ أَبُو النَّضْرِ، عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُئِلَ عَنِ اللُّقَطَةِ؟ فَقَالَ: عَرِّفْهَا سَنَةً، فَإِنِ اعْتُرِفَتْ فَأَدِّهَا فَإِنْ لَمْ تُعْرَفْ فَاعْرِفْ عِفَاصَهَا وَوِعَاءَهَا ثُمَّ كُلْهَا فَإِنْ جَاءَ صَاحِبُهَا فَأَدِّهَا إِلَيْهِ.

زید بن خالد جہنی ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ سے لقطہٰ کے متعلق پوچھا گیا، تو آپ ﷺ نے فرمایا: سال بھر اس کے مالک کا پتہ کرتے رہو، اگر کوئی اس کی (پہچان) کرلے تو اسے دے دو، ورنہ اس کی تھیلی اور اس کا بندھن یاد رکھو، پھر اس کو اپنے کھانے میں استعمال کرلو، اگر اس کا مالک آجائے تو اسے ادا کر دو ١ ؎۔

It was narrated from Zaid bin Khalid Al-juhani that the Messenger of Allah ﷺ was asked about lost property. He said: Announce it for a year, then if someone describes it with its features, return it to him. If no one claims it, then remember the features of its leather bag and strap and consume it (use it), then if its owner comes along give it to him"

Notes · وضاحت
١ ؎: مکہ میں جو لقطہ (گری پڑی چیز) ملے اس کے مالک کے تلاش کرنے میں زیادہ کوشش کرنی چاہیے، کیونکہ حدیث میں ہے کہ مکہ کا لقطہ جائز نہیں، مگر اس کے لئے جو اس کو دریافت کرے، صحیحین میں انس ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے راستہ میں ایک کھجور پائی تو فرمایا: اگر مجھ کو یہ ڈر نہ ہوتا کہ شاید یہ صدقہ کی ہو تو میں اسے کھا لیتا، اور احمد و طبرانی اور بیہقی نے یعلی بن مرہ ؓ سے روایت کی ہے کہ جس نے رسی یا درہم وغیرہ جیسا حقیر لقطہ اٹھایا تو وہ اس کے بارے میں تین دن تک پوچھے، اگر اس سے زیادہ چاہے تو چھ دن تک پوچھے اور مصنف عبدالرزاق میں ہے کہ علی ؓ نبی کریم ﷺ کے پاس ایک دینار لائے جس کو انہوں نے بازار میں پایا تھا، آپ ﷺ نے فرمایا: تین دن اس کے مالک کو پوچھتے رہو، انہوں نے پوچھا کوئی مالک نہیں پایا، جو اس کو پہچانے تب نبی کریم ﷺ نے فرمایا: اب اس کو کھالو (یعنی خرچ کرلو) اگر لقطہ کھانے کی چیز ہو (جیسے روٹی پھل وغیرہ) تو اس کا پوچھنا ضروری نہیں فوراً اس کا کھا لینا درست ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/اللقطة ١ (١٧٢٢)، سنن ابی داود/اللقطة ١ (١٧٠٦)، سنن الترمذی/الأحکام ٣٥ (١٣٧٢، ١٣٧٣)، (تحفة الأشراف: ٣٧٤٨)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/١١٦، ٥/١٩٣) (صحیح )
2508Sunan Ibne-Majah

چوہا بل سے جو مال نکال لائے وہ لینا

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خَالِدِ بْنِ عَثْمَةَ، حَدَّثَنِي مُوسَى بْنُ يَعْقُوبَ الزَّمْعِيُّ، حَدَّثَتْنِي عَمَّتِي قُرَيْبَةُ بِنْتُ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ أُمَّهَا كَرِيمَةَ بِنْتَ الْمِقْدَادِ بْنِ عَمْرٍو أَخْبَرَتْهَا، عَنِ ضُبَاعَةَ بِنْتِ الزُّبَيْرِ، عَنِ الْمِقْدَادِ بْنِ عَمْرٍو، أَنَّهُ خَرَجَ ذَاتَ يَوْمٍ إِلَى الْبَقِيعِ وَهُوَ: الْمَقْبَرَةُ لِحَاجَتِهِ، وَكَانَ النَّاسُ لَا يَذْهَبُ أَحَدُهُمْ فِي حَاجَتِهِ إِلَّا فِي الْيَوْمَيْنِ وَالثَّلَاثَةِ، فَإِنَّمَا يَبْعَرُ كَمَا تَبْعَرُ الْإِبِلُ، ثُمَّ دَخَلَ خَرِبَةً، فَبَيْنَمَا هُوَ جَالِسٌ لِحَاجَتِهِ، إِذْ رَأَى جُرَذًا أَخْرَجَ مِنْ جُحْرٍ دِينَارًا، ثُمَّ دَخَلَ فَأَخْرَجَ آخَرَ حَتَّى أَخْرَجَ سَبْعَةَ عَشَرَ دِينَارًا، ثُمَّ أَخْرَجَ طَرَفَ خِرْقَةٍ حَمْرَاءَ. قَالَ الْمِقْدَادُ: فَسَلَلْتُ الْخِرْقَةَ، فَوَجَدْتُ فِيهَا دِينَارًا، فَتَمَّتْ ثَمَانِيَةَ عَشَرَ دِينَارًا، فَخَرَجْتُ بِهَا حَتَّى أَتَيْتُ بِهَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَخْبَرْتُهُ خَبَرَهَا، فَقُلْتُ: خُذْ صَدَقَتَهَا يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: ارْجِعْ بِهَا، لَا صَدَقَةَ فِيهَا بَارَكَ اللَّهُ لَكَ فِيهَا، ثُمَّ قَالَ: لَعَلَّكَ أَتْبَعْتَ يَدَكَ فِي الحُجْرِقُلْتُ: لَا وَالَّذِي أَكْرَمَكَ بِالْحَقِّ. قَالَ: فَلَمْ يَفْنَ آخِرُهَا حَتَّى مَاتَ.

مقداد بن عمرو ؓ سے روایت ہے کہ ایک دن وہ بقیع کے قبرستان کی طرف قضائے حاجت کے لیے نکلے، ان دنوں لوگ قضائے حاجت کے لیے دو دو تین تین دن بعد ہی جایا کرتے تھے، اور مینگنیاں نکالتے تھے، خیر وہ ایک ویرانے میں گئے اور قضائے حاجت کے لیے بیٹھے ہی تھے کہ اتنے میں ایک چوہے پر نظر پڑی جس نے سوراخ میں سے ایک دینار نکالا، پھر وہ اندر گھس گیا، اور پھر ایک دینار اور نکالا یہاں تک کہ اس نے سترہ دینار نکالے، پھر ایک سرخ کپڑے کے ٹکڑے کا کنارہ نکالا۔ مقداد ؓ کہتے ہیں کہ میں نے وہ ٹکڑا کھینچا تو اس میں ایک دینار اور ملا اس طرح کل اٹھارہ دینار پورے ہوگئے، انہیں لے کر میں رسول اللہ ﷺ کے پاس حاضر ہوا، اور آپ کو پورا واقعہ بتایا، میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ اس کی زکاۃ لے لیجئے، آپ ﷺ نے فرمایا: لے جاؤ، اس میں زکاۃ نہیں، اللہ تعالیٰ تمہیں اس میں برکت دے ، پھر آپ ﷺ نے فرمایا: شاید تم نے سوراخ میں اپنا ہاتھ ڈالا؟ میں نے کہا: نہیں، قسم ہے اس ذات کی جس نے آپ کی حق سے عزت فرمائی ۔ راوی کہتے ہیں: ان دیناروں میں اتنی برکت ہوئی کہ ان کی وفات تک آخری دینار ختم نہیں ہوا تھا۔

It was narrated from Miqdad bin Amr that he went out one day to Al-Baqi, which is the graveyard, to relieve himself. People used to go out to relieve themselves only every two or three days, and their feces was like that of a camel (because of hunger and rough food). Then he entered a ruin and while he was squatting to relieve himself, he saw a rat bringing a Dinar out of a hole, then it went in and brought out another, until it had brought out seventeen Dinars. Then it brought out a piece of red rag. Miqdad said: "I picked up the rag and found another Dinar inside it, thus completing eighteen Dinar. I took them out and brought them to the Messenger of Allah ﷺ , and told him what had happened. I said, Take its Sadaqah (charity), O Messenger of Allah: He said: Take them back, for no Sadaqah is due on them. May Allah bless them for you: Then he said: Perhaps you put your hand in the hole? I said: No, by the One Who has honored you with the Truth.

Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الخراج ٤٠ (٣٠٨٧)، (تحفة الأشراف: ١١٥٥٠) (ضعیف) (سند میں موسیٰ بن یعقوب ضعیف اور قر یبة بنت عبداللہ لین الحدیث ہیں )
2509Sunan Ibne-Majah

جسے کان ملے

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَيْمُونٍ الْمَكِّيُّ، وَهِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدٍ وأَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: فِي الرِّكَازِ الْخُمُسُ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: رکاز میں پانچواں حصہ (بیت المال کا) ہے ١ ؎۔

It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Messenger of Allah ﷺ said: "One fifth is due on buried treasure."

Notes · وضاحت
١ ؎: رکاز کان کو کہتے ہیں، اور کچھ علماء کہتے ہیں کہ کافروں کے دفینہ یعنی خزانہ کو رکاز کہا جاتا ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الحدود ١١ (١٧١٠)، سنن ابی داود/الخراج ٤٠ (٣٠٨٥)، سنن الترمذی/الأحکام ٣٧ (١٣٧٧)، سنن النسائی/الزکاة ٢٨ (٢٤٩٧)، (تحفة الأشراف: ١٣١٢٨، ١٥١٤٧)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الزکاة ٦٦ (١٤٩٩)، المساقاة ٣ (٢٣٥٥)، الدیات ٢٨ (٦٩١٢)، ٢٩ (٦٩١٣)، موطا امام مالک/ العقول ١٨ (١٢)، مسند احمد (٢/٢٢٨، ٢٢٩، ٢٥٤، ٢٧٤، ٢٨٥، ٣١٩، ٣٨٢، ٣٨٦، ٤٠٦، ٤١١، ٤١٤، ٤٥٤، ٤٥٦، ٤٦٧، ٤٧٥، ٤٨٢، ٤٨٢، ٤٩٥، ٤٩٩، ٥٠١، ٥٠٧)، سنن الدارمی/الزکاة ٣٠ (١٧١٠)، الدیات ٩ (٢٤٢٢) (صحیح )
2510Sunan Ibne-Majah

جسے کان ملے

حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ، عَنْ إِسْرَائِيلَ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: فِي الرِّكَازِ الْخُمُسُ.

عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: رکاز میں پانچواں حصہ (بیت المال کا) ہے ۔

It was narrated from Ibn Abbas that the Messenger of Allah ﷺ said: "One fifth is due on buried treasure

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٦١٢٩، ومصباح الزجاجة: ٨٨٩)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/٣١٤، ٣/١٨٠) (صحیح )
2511Sunan Ibne-Majah

جسے کان ملے

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ ثَابِتٍ الْجَحْدَرِيُّ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِسْحَاق الْحَضْرَمِيُّ، حَدَّثَنَا سُلَيْم بْنُ حَيَّانَ، سَمِعْتُ أَبِييُحَدِّثُ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: كَانَ فِيمَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ رَجُلٌ اشْتَرَى عَقَارًا، فَوَجَدَ فِيهَا جَرَّةً مِنْ ذَهَبٍ، فَقَالَ: اشْتَرَيْتُ مِنْكَ الْأَرْضَ وَلَمْ أَشْتَرِ مِنْكَ الذَّهَبَ، فَقَالَ الرَّجُلُ: إِنَّمَا بِعْتُكَ الْأَرْضَ بِمَا فِيهَا فَتَحَاكَمَا إِلَى رَجُلٍ، فَقَالَ: أَلَكُمَا وَلَدٌ فَقَالَ أَحَدُهُمَا: لِي غُلَامٌ، وَقَالَ الْآخَرُ: لِي جَارِيَةٌ، قَالَ: فَأَنْكِحَا الْغُلَامَ الْجَارِيَةَ وَلْيُنْفِقَا عَلَى أَنْفُسِهِمَا مِنْهُ وَلْيَتَصَدَّقَا.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: تم سے پہلے لوگوں میں سے ایک شخص نے ایک زمین خریدی، اس میں اسے سونے کا ایک مٹکا ملا، خریدار بائع (بیچنے والے) سے کہنے لگا: میں نے تو تم سے زمین خریدی ہے سونا نہیں خریدا، اور بائع کہہ رہا تھا: میں نے زمین اور جو کچھ اس میں ہے سب تمہارے ہاتھ بیچا ہے، الغرض دونوں ایک شخص کے پاس معاملہ لے گئے، اس نے پوچھا: تم دونوں کا کوئی بچہ ہے؟ ان میں سے ایک نے کہا: ہاں میرے پاس ایک لڑکا ہے اور دوسرے نے کہا: میرے پاس ایک لڑکی ہے، تو اس شخص نے کہا: تم دونوں اس لڑکے کی شادی اس لڑکی سے کر دو، اور چاہیئے کہ اس سونے کو وہی دونوں اپنے اوپر خرچ کریں، اور اس میں سے صدقہ بھی دیں۔

Sulalm bin Hayyiin said: "I heard my father narrate from Abu Hurairah (RA) that the Prophet ﷺ said: Among those who came before you there was a man who bought some property and found therein a jar of gold He said: "I bought land from you but I did not buy the gold from you. " The man said: "Rather I sold you the land whatever is in it".They referred their case to (a third) man wh o said: "O a you have children?" One of them said: "I have a boy." The other said: "I have a girl." He said: "Marry the boy to the girl, and let them spend on themselves from it and give in charity."

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٢٢٩٦)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الأنبیاء ٥٤ (٣٤٧٢)، صحیح مسلم/الأقضیة ١١ (١٧٢١)، مسند احمد (٢/٣١٦) (صحیح )