طب کا بیان

Sunan Ibne-Majah · Chapter 32 · 113 hadiths · Page 1 of 6

3436Sunan Ibne-Majah

اللہ نے جو بیماری بھی اتاری اس کا علاج بھی نازل فرمایا

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَهِشَامُ ابْنُ عَمَّارٍ، قَالَا، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ زِيَادِ بْنِ عِلَاقَةَ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ شَرِيكٍ، قَالَ: شَهِدْتُ الْأَعْرَابَ يَسْأَلُونَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَعَلَيْنَا حَرَجٌ فِي كَذَا؟ أَعَلَيْنَا حَرَجٌ فِي كَذَا؟ فَقَالَ لَهُمْ: عِبَادَ اللَّهِ،وَضَعَ اللَّهُ الْحَرَجَ إِلَّا مَنِ اقْتَرَضَ مِنْ عِرْضِ أَخِيهِ شَيْئًا، فَذَاكَ الَّذِي حَرِجَ، فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، هَلْ عَلَيْنَا جُنَاحٌ أَنْ لَا نَتَدَاوَى؟ قَالَ: تَدَاوَوْا عِبَادَ اللَّهِ، فَإِنَّ اللَّهَ سُبْحَانَهُ لَمْ يَضَعْ دَاءً إِلَّا وَضَعَ مَعَهُ شِفَاءً، إِلَّا الْهَرَمَ، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا خَيْرُ مَا أُعْطِيَ الْعَبْدُ؟ قَالَ: خُلُقٌ حَسَنٌ.

اسامہ بن شریک ؓ کہتے ہیں کہ میں نے اعرابیوں کو نبی اکرم ﷺ سے سوال کرتے دیکھا کہ کیا فلاں معاملے میں ہم پر گناہ ہے؟ کیا فلاں معاملے میں ہم پر گناہ ہے؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا: اللہ کے بندو! ان میں سے کسی میں بھی اللہ تعالیٰ نے گناہ نہیں رکھا سوائے اس کے کہ کوئی اپنے بھائی کی عزت سے کچھ بھی کھیلے، تو دراصل یہی گناہ ہے ، انہوں نے کہا: اللہ کے رسول! اگر ہم دوا علاج نہ کریں تو اس میں بھی گناہ ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: اللہ کے بندو! دوا علاج کرو، اس لیے کہ اللہ تعالیٰ نے کوئی ایسا مرض نہیں بنایا جس کی شفاء اس کے ساتھ نہ بنائی ہو سوائے بڑھاپے کے ، انہوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! بندے کو جو چیزیں اللہ تعالیٰ نے عطا کی ہیں ان میں سے سب بہتر چیز کیا ہے؟ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: حسن اخلاق ۔

It was narrated that Usamah bin Sharik said: "I saw the Bedouins asking the Prophet ﷺ Is there any harm in such and such, is there any harm in such and such? He said to them: O slaves of Allah! Allah has only made harm in that which transgresses the honor of ones brother. That is what is sinful. They said: O Messenger of Allah ﷺ Is there any sin if we do not seek treatment? He said: Seek treatment, O slaves of Allah! For Allah does not create any disease but He also creates with it the cure, except for old age. They said: O Messenger of Allah, what is the best thing that a person may be given? He said: Good manners.": (Sahih)

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٢٧، ومصباح الزجاجة: ١٢٧)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الطب ١ (٣٨٥٥)، سنن الترمذی/الطب ٢ (٢٠٣٨)، مسند احمد (٤/٢٧٨) (صحیح )
3437Sunan Ibne-Majah

اللہ نے جو بیماری بھی اتاری اس کا علاج بھی نازل فرمایا

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ، أَنْبَأَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ ابْنِ أَبِي خِزَامَةَ، عَنْ أَبِي خِزَامَةَ، قَالَ: سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرَأَيْتَ أَدْوِيَةً نَتَدَاوَى بِهَا، وَرُقًى نَسْتَرْقِي بِهَا، وَتُقًى نَتَّقِيهَا، هَلْ تَرُدُّ مِنْ قَدَرِ اللَّهِ شَيْئًا، قَالَ: هِيَ مِنْ قَدَرِ اللَّهِ.

ابوخزامہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ سے عرض کیا گیا: بتائیے ان دواؤں کے بارے میں جن سے ہم علاج کرتے ہیں، ان منتروں کے بارے میں جن سے ہم جھاڑ پھونک کرتے ہیں، اور ان بچاؤ کی چیزوں کے بارے میں جن سے ہم بچاؤ کرتے ہیں، کیا یہ چیزیں اللہ تعالیٰ کی تقدیر کو کچھ بدل سکتی ہیں؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا: یہ خود اللہ تعالیٰ کی تقدیر میں شامل ہیں ١ ؎۔

It was narrated that Abu Khizamah said: "The Messenger of Allah ﷺ was asked: Do you think that the medicines with which we treat ourselves, the Ruqyah by which we seek healing, and the means of protection that we seek, change the decree of AUiihat all? He said: They are part of the decree of Allah.": (Daif)

Notes · وضاحت
١ ؎: سبحان اللہ، کیا عمدہ جواب دیا کہ سوال کرنے والے کو اب کچھ کہنے کی گنجائش ہی نہیں رہی، مطلب آپ ﷺ کے جواب کا یہ ہے کہ سپر یا ڈھال رکھنا یا دوا یا علاج کرنا تقدیر الہی کے خلاف نہیں ہے، جو فعل دنیا میں واقع ہو وہی معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ کی تقدیر میں تھا، پس انسان کے لیے ضروری ہے کہ تدبیر اور علاج میں کوتاہی نہ کرے، ہوگا تو وہی جو تقدیر میں ہے، اسی طرح جو کوئی علاج نہ کرے، تو سمجھنا چاہیے کہ اس کی تقدیر میں یہی ہے، غرض اللہ تعالیٰ کی تقدیر بندے کو معلوم نہیں ہوسکتی جب کوئی فعل بندے سے ظاہر ہوجاتا ہے اس وقت تقدیر معلوم ہوتی ہے، حدیث میں وتقى نتقيها سے پرہیز مراد ہے جو بعض بیماریوں میں بعض کھانوں سے پرہیز کرتے ہیں، اور اس حدیث میں یہی معنی زیادہ مناسب ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الطب ٢١ (٢٠٦٥)، (تحفة الأشراف: ١١٨٩٨)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/٤٢١) (ضعیف) (تراجع الألبانی: رقم: ٣٤٥ )
3438Sunan Ibne-Majah

اللہ نے جو بیماری بھی اتاری اس کا علاج بھی نازل فرمایا

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: مَا أَنْزَلَ اللَّهُ دَاءً، إِلَّا أَنْزَلَ لَهُ دَوَاءً.

عبداللہ بن مسعود ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے ایسی کوئی بیماری نہیں اتاری جس کی دوا نہ اتاری ہو ۔

It was narrated from Abdullah that the Prophet ﷺ said: "Allah does not send down any disease, but He also sends down the cure for it." (Sahih)

Notes · وضاحت
١ ؎: معلوم ہوا کہ بیماری اور علاج دونوں اللہ کی طرف سے اترتے ہیں۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٩٣٣٣، ومصباح الزجاجة: ١١٩١)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/٧٧، ٤١٣، ٤٤٣، ٤٤٦، ٤٥٣) (صحیح )
3439Sunan Ibne-Majah

اللہ نے جو بیماری بھی اتاری اس کا علاج بھی نازل فرمایا

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَإِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعِيدٍ الْجَوْهَرِيُّ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ، عَنْ عُمَرَ بْنِ سَعِيدِ بْنِ أَبِي حُسَيْنٍ، حَدَّثَنَا عَطَاءٌ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَا أَنْزَلَ اللَّهُ دَاءً، إِلَّا أَنْزَلَ لَهُ شِفَاءً.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے ایسی کوئی بیماری نہیں اتاری جس کا علاج نہ اتارا ہو ١ ؎۔

It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Messenger of Allah ﷺ said: "Allah does not send down any disease, but He also sends down the cure."(Sahih)

Notes · وضاحت
١ ؎: صحیح مسلم میں جابر ؓ سے مروی ہے کہ ہر بیماری کی دوا ہے پھر جب وہ دوا جسم میں پہنچتی ہے تو بیمار اللہ تعالیٰ کے حکم سے اچھا ہوجاتا ہے، یہ کہنا کہ دوا کی تاثیر سے صحت ہوئی شرک ہے، اور اگر یہ سمجھ کر دوا کھائے کہ اللہ تعالیٰ کے حکم سے یہ موثر ہوتی ہے تو شرک نہیں ہے، اسی طرح ہر چیز کے بارے میں اعتقاد رکھنا چاہیے کہ اس کا نفع اور نقصان اللہ تعالیٰ کے حکم سے ہے، اور جو کوئی نفع و نقصان کے بارے میں یہ اعتقاد رکھ کر کہے کہ فلاں چیز سے نفع ہوا یعنی اللہ کے حکم سے تو وہ شرک نہ ہوگا، اور جب اس چیز کو مستقل نفع بخش سمجھے گا تو وہ شرک ہوجائے گا، مشرکین یہ سمجھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے بعض اپنے مقبول بندوں کو اختیار دے دیا ہے کہ وہ جو چاہیں کریں، اب وہ جس کو چاہیں اپنے اختیار سے نفع پہنچاتے ہیں، اور اللہ تعالیٰ کا حکم ہر معاملہ میں نہیں لیتے یہ اعتقاد شرک ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الطب ١ (٥٦٧٨)، (تحفة الأشراف: ١٤١٩٧) (صحیح )
3440Sunan Ibne-Majah

بیمار کی طبیعت کسی چیز کو چاہے تو (حتی المقدور) مہیا کردینی چاہیے

حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْخَلَّالُ، حَدَّثَنَا صَفْوَانُ بْنُ هُبَيْرَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو مَكِينٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَادَ رَجُلًا، فَقَالَ لَهُ: مَا تَشْتَهِي؟، فَقَالَ: أَشْتَهِي خُبْز بُرٍّ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ كَانَ عِنْدَهُ خُبْزُ بُرٍّ، فَلْيَبْعَثْ إِلَى أَخِيهِ، ثُمَّ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِذَا اشْتَهَى مَرِيضُ أَحَدِكُمْ شَيْئًا فَلْيُطْعِمْهُ.

عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے ایک شخص کی عیادت فرمائی، اور اس سے پوچھا: تمہارا کیا کھانے کا جی چاہتا ہے ؟ تو اس نے جواب دیا کہ گیہوں کی روٹی، آپ ﷺ نے فرمایا: تم میں سے جس کے پاس گیہوں کی روٹی ہو، وہ اپنے بھائی کے پاس بھیجے ، پھر آپ ﷺ نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی مریض کسی چیز کی خواہش کرے تو وہ اسے کھلائے ۔

It was narrated from Ibn ‘Abbâs that the Prophet ﷺ visited a man (who was sick) and said to him: “What do you desire?” He said: “I want wheat bread.” The Prophet ﷺ said: “Whoever has wheat bread, let him send it to his brother.” Then the Prophet ﷺ said: “When a sick person among you desires something, give it to him.” (Da’if)

Takhrij · تخریج
أنظر حدیث رقم: ١٤٣٩، (تحفة الأشراف: ٦٢٢٤، ومصباح الزجاجة: ١١٩٢) (ضعیف) (سند میں صفوان بن ھبیرہ لین الحدیث راوی ہیں )
3441Sunan Ibne-Majah

بیمار کی طبیعت کسی چیز کو چاہے تو (حتی المقدور) مہیا کردینی چاہیے

حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ وَكِيعٍ، حَدَّثَنَا أَبُو يَحْيَى الْحِمَّانِيُّ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ يَزِيدَ الرَّقَاشِيِّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: دَخَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى مَرِيضٍ يَعُودُهُ، قَالَ: أَتَشْتَهِي شَيْئًا؟، قَالَ: أَشْتَهِي كَعْكًا، قَالَ: نَعَمْ، فَطَلَبُوا لَهُ.

انس بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ ایک مریض کی عیادت کے لیے تشریف لے گئے، اور اس سے پوچھا: کیا تمہارا جی کسی چیز کی خواہش رکھتا ہے ؟ جواب دیا: میرا جی کیک (کھانے کو) چاہتا ہے، آپ ﷺ نے فرمایا: ٹھیک ہے، پھر صحابہ نے اس کے لیے کیک منگوایا ۔

It was narrated that Anas bin Mâlik said: “The Prophet ﷺ went to visit a sick person, and said: ‘Do you want anything? Do you want cake?’ He said: ‘Yes.’ So they looked for some for him.”

Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ١٤٤٠ (مصباح الزجاجة: ١١٩٣) (ضعیف) (سند میں یزید الرقاشی ضعیف راوی ہیں )
3442Sunan Ibne-Majah

پرہیز کا بیان

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا فُلَيْحُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ أَيُّوبَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي صَعْصَعَةَ . ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ، وَأَبُو دَاوُدَ، قَالَا: حَدَّثَنَا فُلَيْحُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ أَيُّوبَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ يَعْقُوبَ بْنِ أَبِي يَعْقُوبَ، عَنْ أُمِّ الْمُنْذِرِ بِنْتِ قَيْسٍ الْأَنْصَارِيَّةِ، قَالَتْ: دَخَلَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَمَعَهُ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ، وَعَلِيٌّ نَاقِهٌ مِنْ مَرَضٍ وَلَنَا دَوَالِي مُعَلَّقَةٌ، وَكَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْكُلُ مِنْهَا، فَتَنَاوَلَ عَلِيٌّ لِيَأْكُلَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،مَهْ يَا عَلِيُّ إِنَّكَ نَاقِهٌ، قَالَتْ: فَصَنَعْتُ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سِلْقًا وَشَعِيرًا، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَا عَلِيُّ مِنْ هَذَا فَأَصِبْ، فَإِنَّهُ أَنْفَعُ لَكَ.

ام المنذر بنت قیس انصاریہ ؓ کہتی ہیں کہ ہمارے یہاں رسول اللہ ﷺ تشریف لائے، آپ کے ساتھ علی بن ابی طالب ؓ بھی تھے، وہ اس وقت ایک بیماری کی وجہ سے کمزور ہوگئے تھے، ہمارے پاس کھجور کے خوشے لٹکے ہوئے تھے، نبی اکرم ﷺ اس میں سے کھا رہے تھے، تو علی ؓ نے بھی اس میں سے کھانے کے لیے لیا، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: علی ٹھہرو! تم بیماری سے کمزور ہوگئے ہو، ام منذر ؓ کہتی ہیں کہ میں نے نبی اکرم ﷺ کے لیے چقندر اور جو پکائے، تو آپ نے فرمایا: علی! اس میں سے کھاؤ، یہ تمہارے لیے مفید ہے ١ ؎۔

It was narrated that Umm Mundhir bint Qais Ansariyyah said: "The Messenger of Allah ﷺ entered upon us, and with him was Ali bin Abu Talib, who had reacently recovered from an illness. We had bunches of unripe dates hanging up, and the Prophet ﷺ was eating from them, Ali reached out to eat some, and the Prophet ﷺ said to Ali (RA) : Stop, O ,Ali! You have just recovered from an illness. I made some greens and barley for the Prophet ﷺ , and the Prophet ﷺ said to Ali (RA) : O Ali, eat some of this, for it is better for you. (Hasan)

Notes · وضاحت
١ ؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ پرہیز کرنا چاہیے، ایک دوسرے حدیث میں پرہیز و احتیاط کو ہر علاج کا راز بتایا گیا ہے، اور حقیقت بھی یہی ہے کہ پرہیزی سے اللہ کے حکم سے دوا کی تاثیر میں اضافہ ہوتا ہے، جب کہ بدپرہیزی دواؤں کی تاثیر کو معطل کر کے جسم میں دوسری خرابیاں پیدا کردیتی ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الطب ٢ (٣٨٥٦)، سنن الترمذی/الطب ١ (٢٠٣٧)، (تحفة الأشراف: ١٨٣٦٢)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٦/٣٦٣، ٣٦٤) (حسن) (سند میں فلیح بن سلیمان ضعیف راوی ہیں، لیکن شاہد کی بناء پر یہ حسن ہے، ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الصحیحة، للالبانی: ٥٩ )
3443Sunan Ibne-Majah

پرہیز کا بیان

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيل، حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ صَيْفِيٍّ مِنْ وَلَدِ صُهَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ صُهَيْبٍ، قَالَ: قَدِمْتُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَبَيْنَ يَدَيْهِ خُبْزٌ وَتَمْرٌ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ادْنُ فَكُلْ، فَأَخَذْتُ آكُلُ مِنَ التَّمْرِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: تَأْكُلُ تَمْرًا وَبِكَ رَمَدٌ؟، قَالَ: فَقُلْتُ إِنِّي أَمْضُغُ مِنْ نَاحِيَةٍ أُخْرَى، فَتَبَسَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.

صہیب ؓ کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا، آپ کے سامنے روٹی اور کھجور رکھی تھی، آپ ﷺ نے فرمایا: قریب آؤ اور کھاؤ، میں کھجوریں کھانے لگا تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: تم کھجور کھا رہے ہو حالانکہ تمہاری آنکھ آئی ہوئی ہے ، میں نے عرض کیا: میں دوسری جانب سے چبا رہا ہوں تو رسول اللہ ﷺ مسکرا دیے۔

It was narrated that Suhaib said: "I came to the Prophet ﷺ and in front of him there were some bread and dates. The Prophet ﷺ said: Come and eat. So i started to eat some of the dates. Then the Prophet ﷺ said: Are you eating dates when you have an inflammation in your eye? i said: I am chewing from the other side. And the Messenger of Allah ﷺ smiled." (Hasan)

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٤٩٦٤، ومصباح الزجاجة: ١١٩٤)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/٦١) (حسن )
3444Sunan Ibne-Majah

مریض کو کھانے پر مجبور نہ کرو

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ يُونُسَ بْنِ بُكَيْرٍ، عَنْ مُوسَى بْنِ عَلِيِّ بْنِ رَبَاحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ الْجُهَنِيِّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا تُكْرِهُوا مَرْضَاكُمْ عَلَى الطَّعَامِ وَالشَّرَابِ، فَإِنَّ اللَّهَ يُطْعِمُهُمْ وَيَسْقِيهِمْ.

عقبہ بن عامر جہنی ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تم اپنے مریضوں کو کھانے اور پینے پر مجبور نہ کرو، اس لیے کہ اللہ تعالیٰ انہیں کھلاتا اور پلاتا ہے ۔

It was narrated from Uqbah bin Amir Al-Juhani that the Messenger of Allah ﷺ said: "Do not force your sick ones to eat or drink. Allah will feed them and give them to drink." (Daif)

Notes · وضاحت
١ ؎: کھانے پینے کا مقصد یہی ہے کہ روح کا تعلق جسم سے باقی رہے، اور آدمی کو تسلی اور سکون حاصل ہو، چونکہ اللہ تعالیٰ سب کا محافظ اور سب کا رازق ہے، اس لیے وہ بیماروں کی دوسری طرح خبر گیری کرتا ہے کہ ان کو غذا کی ضرورت نہیں پڑتی، بس جب وہ اپنی خوشی سے کھانا چاہیں ان کو کھلاؤ زبردستی مت کرو، اور جو غذا زبردستی سے کھائی جائے، اس سے فائدہ کے بجائے نقصان ہوجاتا ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الطب ٤ (٢٠٤٠)، (تحفة الأشراف: ٩٩٤٣، ومصباح الزجاجة: ١١٩٥) (حسن) (سند میں بکر بن یونس ضعیف راوی ہیں، لیکن شواہد کی وجہ سے یہ حسن ہے، ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الصحیحة، للالبانی: ٧٢٧ )
3445Sunan Ibne-Majah

ہریرہ کا بیان

حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعِيدٍ الْجَوْهَرِيُّ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ عُلَيَّةَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ السَّائِبِ بْنِ بَرَكَةَ، عَنْ أُمِّهِ، عَنْعَائِشَةَ، قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَخَذَ أَهْلَهُ الْوَعْكُ أَمَرَ بِالْحَسَاءِ، قَالَتْ: وَكَانَ يَقُولُ: إِنَّهُ لَيَرْتُو فُؤَادَ الْحَزِينِ، وَيَسْرُو عَنْ فُؤَادِ السَّقِيمِ، كَمَا تَسْرُو إِحْدَاكُنَّ الْوَسَخَ عَنْ وَجْهِهَا بِالْمَاءِ.

ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے گھر والوں کو جب بخار آتا تو آپ حریرہ کھانے کا حکم دیتے، اور فرماتے: یہ غمگین کے دل کو سنبھالتا ہے، اور بیمار کے دل سے اسی طرح رنج و غم دور کردیتا ہے جس طرح کہ تم میں سے کوئی عورت اپنے چہرے سے میل کو پانی سے دور کردیتی ہے ١ ؎۔

It was narrated that Aisha (RA) said: "If any of his family members became ill, the Messenger of Allah ﷺ would order that some broth be made. And he would say: It consoles the grieving heart and cleanses the ailing heart, as anyone of you cleanses her face of dirt with water. (Hasan)

Notes · وضاحت
١ ؎: حسا یعنی حریرہ آٹا، پانی، گھی یا تیل وغیرہ سے بنایا جاتا ہے، اس میں کبھی میٹھا بھی ڈالتے ہیں، اور کبھی شہد اور کبھی آٹے کے بدلے میں آٹے کا چھان ڈالتے ہیں، اس کو تلبینہ کہتے ہیں، اردو میں حریرہ مشہور ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الطب ٣ (٢٠٣٩)، (تحفة الأشراف: ١٧٩٩٠)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٦/٣٢) (ضعیف) (سند میں ام محمد بن سائب ضعیف ہیں )
3446Sunan Ibne-Majah

ہریرہ کا بیان

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ أَبِي الْخَصِيبِ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ أَيْمَنَ بْنِ نَابِلٍ، عَنْ امْرَأَةٍ مِنْ قُرَيْشٍ، يُقَالَ لَهَا كُلْثُمٌ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: عَلَيْكُمْ بِالْبَغِيضِ النَّافِعِ التَّلْبِينَةِ، يَعْنِي: الْحَسَاءَ، قَالَتْ: وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا اشْتَكَى أَحَدٌ مِنْ أَهْلِهِ، لَمْ تَزَلِ الْبُرْمَةُ عَلَى النَّارِ، حَتَّى يَنْتَهِيَ أَحَدُ طَرَفَيْهِ، يَعْنِي: يَبْرَأُ أَوْ يَمُوتُ.

ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: تم ایک ایسی چیز کو لازماً کھاؤ جس کو دل نہیں چاہتا، لیکن وہ نفع بخش ہے یعنی حریرہ چناچہ جب آپ ﷺ کے گھر والوں میں سے کوئی بیمار ہوتا تو ہانڈی برابر چولھے پر چڑھی رہتی یعنی حریرہ تیار رہتا یہاں تک کہ دو میں سے کوئی ایک بات ہوتی یعنی یا تو وہ شفاء یاب ہوجاتا یا انتقال کرجاتا ۔

It was narrated from Aisha (RA) that the Prophet ﷺ said: "You should eat the beneficial thing that is unpleasant to eat: Talbinah," meaning broth. If any member of the family of the Messenger of Allah ﷺ was sick, the cooking pot would remain on the fire until one of two things happened, either the person recovered or died. (Hasan)

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٧٩٨٧، ومصباح الزجاجة: ١١٩٦)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٦/٧٩، ١٣٨، ١٥٢، ٢٤٢) (ضعیف) (سند میں ام کلثم غیر معروف راوی ہیں )
3447Sunan Ibne-Majah

کلونجی کا بیان

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْحَارِثِ الْمِصْرِيَّانِ، قَالَا: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، أَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، وَسَعِيدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ أَخْبَرَهُمَا، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: إِنَّ فِي الْحَبَّةِ السَّوْدَاءِ شِفَاءً مِنْ كُلِّ دَاءٍ، إِلَّا السَّامَ، وَالسَّامُ الْمَوْتُ، وَالْحَبَّةُ السَّوْدَاءُ الشُّونِيزُ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا: کلونجی میں ہر مرض کا علاج ہے، سوائے سام کے، اور سام موت ہے، اور کالا دانہ شونیز یعنی کلونجی ہے ۔

Abu Hurairah (RA) narrated that he heard the Messenger of Allah ﷺ say: "In black seed there is healing for every disease, except the Sam." "Sam means death. And black seed is Shuwniz."Sahih)

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الطب ٧ (٥٦٨٨)، صحیح مسلم/السلام ٢٩ (٢٢١٥)، (تحفة الأشراف: ١٣٢١٠)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الطب ٥ (٢٠٤١)، مسند احمد (٢/٤٢٣، ٦/١٤٦) (صحیح )
3448Sunan Ibne-Majah

کلونجی کا بیان

حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ يَحْيَى بْنُ خَلَفٍ، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَبْدِ الْمَلِكِ، قَالَ: سَمِعْتُ سَالِمَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِيُحَدِّثُ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ ّرَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: عَلَيْكُمْ بِهَذِهِ الْحَبَّةِ السَّوْدَاءِ، فَإِنَّ فِيهَا شِفَاءً مِنْ كُلِّ دَاءٍ، إِلَّا السَّامَ.

عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تم اس کالے دانے کا استعمال پابندی سے کرو اس لیے کہ اس میں سوائے موت کے ہر مرض کا علاج ہے ۔

It was narrated that Uthman bin Abdul-Malik said: "I heard Salim bin Abdullah narrating from his father that the Messenger of Allah ﷺ said: You should eat this black seed, for in it there is healing from every disease, except the Sam (death).": (Sahih)

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٦٧٧٢، ومصباح الزجاجة: ١١٩٧) (صحیح )
3449Sunan Ibne-Majah

کلونجی کا بیان

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ، أَنْبَأَنَا إِسْرَائِيلُ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ خَالِدِ بْنِ سَعْدٍ، قَالَ: خَرَجْنَا وَمَعَنَا غَالِبُ بْنُ أَبْجَرَ فَمَرِضَ فِي الطَّرِيقِ، فَقَدِمْنَا الْمَدِينَةَ وَهُوَ مَرِيضٌ، فَعَادَهُ ابْنُ أَبِي عَتِيقٍ، وَقَالَ لَنَا: عَلَيْكُمْ بِهَذِهِ الْحَبَّةِ السَّوْدَاءِ، فَخُذُوا مِنْهَا خَمْسًا أَوْ سَبْعًا فَاسْحَقُوهَا، ثُمَّ اقْطُرُوهَا فِي أَنْفِهِ بِقَطَرَاتِ زَيْتٍ فِي هَذَا الْجَانِبِ، وَفِي هَذَا الْجَانِبِ، فَإِنَّ عَائِشَةَ حَدَّثَتْهُمْ، أَنَّهَا سَمِعَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: إِنَّ هَذِهِ الْحَبَّةَ السَّوْدَاءَ شِفَاءٌ مِنْ كُلِّ دَاءٍ، إِلَّا أَنْ يَكُونَ السَّامُ، قُلْتُ: وَمَا السَّامُ؟ قَالَ: الْمَوْتُ.

خالد بن سعد ؓ کہتے ہیں کہ ہم سفر پر نکلے، ہمارے ساتھ غالب بن ابجر بھی تھے، وہ راستے میں بیمار پڑگئے، پھر ہم مدینہ آئے، ابھی وہ بیمار ہی تھے، تو ان کی عیادت کے لیے ابن ابی عتیق آئے، اور ہم سے کہا: تم اس کالے دانے کا استعمال اپنے اوپر لازم کرلو، تم اس کے پانچ یا سات دانے لو، انہیں پیس لو پھر زیتون کے تیل میں ملا کر چند قطرے ان کی ناک میں ڈالو، اس نتھنے میں بھی اور اس نتھنے میں بھی، اس لیے کہ ام المؤمنین عائشہ ؓ نے ان سے حدیث بیان کی کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اس کالے دانے یعنی کلونجی میں ہر مرض کا علاج ہے، سوائے اس کے کہ وہ سام ہو ، میں نے عرض کیا کہ سام کیا ہے؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا: موت ۔

It was narrated that Khilid bin Sad said: "We went out and with us was Ghalib bin Abjar. He fell sick along the way, and when we came to Al-Madinah he was sick. Ibn Abu Atiq came to visit him said to us: ‘You should use this black seed. Take five or seven (seeds) and grind them to a powder, then drop them into his hose with drops of olive oil, on this side and on this side. For ‘ Aisha (RA) narrated to them that she heard the Messenger of Allah ﷺ say: “This black seed is a heaiing for every disease, except the sam.” I said: “What is the Sam?” He said: “Death.” (Sahih)

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الطب ٧ (٥٦٨٧)، (تحفة الأشراف: ١٦٢٦٨)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٦/١٣٨) (صحیح )
3450Sunan Ibne-Majah

شہد کا بیان۔

حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ خِدَاشٍ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ زَكَرِيَّاءَ الْقُرَشِيُّ، حَدَّثَنَا الزُّبَيْرُ بْنُ سَعِيدٍ الْهَاشِمِيُّ، عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ سَالِمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ لَعِقَ الْعَسَلَ ثَلَاثَ غَدَوَاتٍ كُلَّ شَهْرٍ، لَمْ يُصِبْهُ عَظِيمٌ مِنَ الْبَلَاءِ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو شخص ہر ماہ تین روز صبح کے وقت شہد چاٹ لیا کرے، وہ کسی بڑی آفت بیماری سے دو چار نہ ہوگا ۔

It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Messenger of Allah ﷺ said: "Whoever eats honey three mornings each month, will not suffer any serious calamity." (Daif)

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٣٥٨٨، ومصباح الزجاجة: ١١٩٨) (ضعیف) (سند میں عبد الحمید اور ابوہریرہ ؓ کے مابین انقطاع ہے، عبد الحمید مجہول بھی ہیں، اور سند میں زبیر ہاشمی بھی لین الحدیث ہیں )
3451Sunan Ibne-Majah

شہد کا بیان۔

حَدَّثَنَا أَبُو بِشْرٍ بَكْرُ بْنُ خَلَفٍ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ سَهْلٍ، حَدَّثَنَا أَبُو حَمْزَةَ الْعَطَّارُ، عَنْ الْحَسَنِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: أُهْدِيَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَسَلٌ، فَقَسَمَ بَيْنَنَا لُعْقَةً لُعْقَةً فَأَخَذْتُ لُعْقَتِي، ثُمَّ قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَزْدَادُ أُخْرَى، قَالَ: نَعَمْ.

جابر بن عبداللہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں شہد ہدیہ میں آیا تو آپ نے تھوڑا تھوڑا ہم سب کے درمیان تقسیم فرمایا، مجھے اپنا حصہ ملا تو میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا میں مزید لے سکتا ہوں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ہاں ۔

It was narrated that Jabir bin Abdullah said: "Some honey was given as a gift to the Prophet ﷺ and he shared among us spoonful by spoonful. I took my spoonful then I said: O Messenger of Allah, can I have another? He said: Yes:" (Daif)

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٢٢٢٨، ومصباح الزجاجة: ١١٩٩) (ضعیف) (سند میں ابوحمزہ، عمر بن سہل ضعیف ہیں، اور حسن بصری کا جابر ؓ سے سماع نہیں ہے )
3452Sunan Ibne-Majah

شہد کا بیان۔

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ سَلَمَةَ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: عَلَيْكُمْ بِالشِّفَاءَيْنِ: الْعَسَلِ وَالْقُرْآنِ.

عبداللہ بن مسعود ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تم دو شفاوؤں یعنی شہد اور قرآن کو لازم پکڑو ۔

It was narrated from Abdullah that the Messenger of Allah ﷺ said: "You should take the two that bring healing: Honey and the Quran," (Daif)

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٩٥٢٦، ومصباح الزجاجة: ١٢٠٠) (ضعیف) (سند میں زید بن الحباب ہیں، جو سفیان ثوری کی احادیث میں غلطیاں کرتے ہیں، اور عبداللہ بن مسعود ؓ سے یہ موقوفاً ثابت ہے )
3453Sunan Ibne-Majah

کھنبی اور عجوہ کھجور کا بیان۔

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا أَسْبَاطُ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ إِيَاسٍ، عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، وَجَابِرٍ، قَالَا: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: الْكَمْأَةُ مِنَ الْمَنِّ، وَمَاؤُهَا شِفَاءٌ لِلْعَيْنِ، وَالْعَجْوَةُ مِنَ الْجَنَّةِ، وَهِيَ شِفَاءٌ مِنَ الْجِنَّةِ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مَيْمُونٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الرَّقِّيَّانِ، قَالَا: حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَسْلَمَةَ بْنِ هِشَامٍ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ إِيَاسٍ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مِثْلَهُ.

ابو سعید خدری اور جابر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: کھمبی منّ میں سے ہے، اور اس کے پانی میں آنکھوں کا علاج، اور عجوہ (کھجور) جنت کا میوہ ہے اور اس میں پاگل پن اور دیوانگی کا علاج ہے ۔

It was narrated from Abu Saeed and [a b ir that the Messenger of Allah ﷺ said: "Truffles are a type of manna, and their water is a healing for ane (diseases). And the Ajwail are feYomParadise, and they are healing for possession, (Hasan) Another chain from Abu Saeed from the Prophet ﷺ with similar wording.

Notes · وضاحت
١ ؎: كَمْأَةُ: جمع ہے، اس کی واحد كمئٌ ہے، ابن اثیر نے اس کے بارے میں کہا کہ یہ معروف چیز ہے، لیکن اردو زبان میں اس کا ترجمہ کھمبی، ککرمتا سے کیا جاتا ہے، صاحب فیروز اللغات لکھتے ہیں: یہ ایک قسم کی سفید نباتات جو اکثر برسات میں ازخود پیدا ہوجاتی ہے، اور اسے تل کر کھاتے ہیں، سانپ کی چھتری، جمع: کھمبیاں، کھمبیوں (١١٢١)، مصباح اللغات میں كمئٌ کا ترجمہ یہ ہے : سانپ کی چھتری اور اس کو شحم الأرض کہتے ہیں، جمع : أكمؤٌ و كَمْأَةُ (٧٥٠-٧٥١) لسان العرب میں كمء کی تعریف یوں ہے : یہ ایسی نبات ہے جو زمین کو پھاڑ کر ویسے ہی نکلتی ہے جیسے کہ فُطر یعنی زمین سے اگنے والی نبات اور مزید فرمایا : یہ بھی کہا گیا ہے کہ كمء مٹ میلی اور کالی سرخی مائل چیز اور سفید فَقْعَه ہے، اور اس کے بعد یہی حدیث ذکر فرمائی۔ اور فُطر نامی نبات کو مشروم بھی کہتے ہیں، ملاحظہ ہو: قاموس الغذاء والتداوی بالنبات لاحمدقدامہ : صفحہ ٤٨٩ حدیث میں وارد كمء سے مراد وہ پھل ہے جو زمین کے اندر آلو کی شکل میں اور اسی کی طرح پیدا ہوتا ہے، اور اس کو سعودی عرب میں فَقْعَه کہتے ہیں، جاڑے میں بارش کے بعد یہ پیدا ہوتا ہے، صحراء کے لوگ اس کی جائے پیدائش سے واقف ہوتے ہیں، اور اسے زمین سے نکال کرلے آتے ہیں، یہ بازار میں بھی بھاری قیمت سے فروخت ہوتا ہے، جس کی قیمت تین سو ریال فی کلو تک پہنچ جاتی ہے، یہ آلو کی شکل کا ہوتا ہے، اس کی لذت پکا کر کھانے میں بالکل گوشت کی طرح ہوتی ہے، اس لیے اس کو زمین کے اندر اگنے والا مَن کہا جائے تو بیجانہ ہوگا، حدیث میں اس کو مَن میں شمار کیا گیا ہے، اور اس کے عرق کو آنکھ کا علاج بتایا گیا ہے، اور اس کا ذکر عجوہ کھجور کے ساتھ آیا ہے، صحیح یہی ہے کہ کمئَہ سے مراد سعودی عرب میں مشہور فَقْعَه نامی پھل ہے، جو آلو کے ہم شکل اور اسی کی طرح زمین میں پیدا ہوتا ہے۔ حافظ ابن حجر نے فتح الباری میں اس کی تعریف یوں کی ہے : کمئہ ایسی نبات ہے جو تنا (ڈنٹھل) اور پتوں کے بغیر ہوتی ہے، اور یہ زمین میں بغیر بوئے پائی جاتی ہے، اور یہ عرب علاقوں میں بہت پائی جاتی ہے اور مصر و شام میں بھی پائی جاتی ہے، حافظ ابن حجرنے جو تفصیلی بتائی ہے اس کے مطابق بھی یہ وہی فَقْعَه ہے جس کی تشریح اوپر گزری۔ (ملاحظہ ہو: فتح الباری حدیث نمبر: ٥٧٠٨) حکیم مظفر حسین اعوان نے کھمبی کی تعریف یوں کی ہے : اردو: کھمب، ہندی: کھم، سندھی: کھنبہی، انگریزی : مشروم : یہ بغیر تنا اور بغیر پتوں کے خود رو پودا ہے جو گرمی کے موسم میں بارش کے بعد پیدا ہوتا ہے، اس میں جوہر ارضی زیادہ اور جوہر مائی کم ہوتا ہے، لیکن جب یہ خشک ہوجاتی ہے تو اس کی مائیت زائل ہوجاتی ہے، اور صرف ارضیت کے باقی رہنے سے غلظت بڑھ جاتی ہے ... قابض و نفاخ ہے، بلغم اور سودا پیدا کرتی ہے، یہی وجہ ہے کہ امراض سوداوی اور بلغمی میں مضر ہے ... کھمب کا بڑا وصف صرف یہ ہے کہ یہ بہت لذیذ ہوتی ہے اس لیے لوگ اسے پکا کر کھاتے ہیں (کتاب المفردات : صفحہ ٣٨٦) احمد قدامہ نے لفظ كَمْأَةُ کے تحت جو تفاصیل ذکر کی ہیں وہ سابقہ خود رو زیر زمین آلو کی مانند پھل کی ہے، مولف نے آنکھ کے علاج سے متعلق طبی فوائد کا بھی ذکر کیا ہے، اور جدید تحقیقات کی روشنی میں اس کے اندر پائی جانے والی چیزوں کی تفصیلی بتائی ہے، اور آخر میں لکھا ہے کہ زمین میں اگنے والی ساری خود رو نباتات میں قوت باہ کو زیادہ کرنے میں یہ سب سے فائق ہے، اس میں کاربن، اکسیجن اور ہیڈروجن کے ساتھ ساتھ نائٹروجین کی بھی ایک مقدار پائی جاتی ہے، اس لیے یہ اپنی ترکیب میں گوشت کی مانند ہے، اور پکانے کے بعد اس کا مزہ بکری کے گردے کی طرح ہوتا ہے۔ (قاموس الغذاء : ٦٠٢-٦٠٤)، نیز ملاحظہ ہو: المعجم الوسیط : مادہ الکمأ۔ ککرمتا جسے سانپ کی چھتری بھی کہتے ہیں اور کھمبی سے بھی یہ جانا جاتا ہے، جس کی تفصیل اوپر گزری یہ ایک دوسرا خود رو چھوٹا پودا ہے جو برصغیر کے مرطوب علاقوں میں گرمی کے موسم میں بارش کے بعد اگتا ہے، خاص کر ان علاقوں میں جہاں سرکنڈا ( جسے سینٹھا، نرسل، نرکل اور نئے بھی کہتے ہیں) ہوتا ہے، اور یہ زمین پر خود بخود اگتا ہے، اس کا تعلق حدیث میں وارد کھمبی سے نہیں ہے واللہ اعلم۔ ٢ ؎: عجوہ کھجور سے دیوانگی اور پاگل پن کے علاج کا لفظ حدیث میں صحیح نہیں ہے، صحیح حدیث میں زہر کا علاج آیا ہے۔ (ملاحظہ ہو: حدیث نمبر ٣٤٥٥)۔ ابو سعید خدری ؓ سے اس سند سے بھی اسی کے مثل مرفوعاً مروی ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٢٢٨١، ٢٢٨٢، ٤٠٧٤، ٤٠٧٥، ومصباح الزجاجة: ١٢٠١)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/٤٨) (صحیح) (شفاء من السم کے لفظ سے صحیح ہے، من الجنة کے لفظ سے منکر ہے، ملاحظہ ہو: سنن ابن ماجہ ب تحقیق مشہور حسن، نیز ملا حظہ ہو: آگے والی حدیث ٣٤٥٥ ) تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٤٣٠٨، ومصباح الزجاجة: ١٢٠٢) (صحیح )
3454Sunan Ibne-Majah

کھنبی اور عجوہ کھجور کا بیان۔

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ، أَنْبَأَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، سَمِعَ عَمْرَو بْنَ حُرَيْثٍ، يَقُولُ: سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ زَيْدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ نُفَيْلٍ يُحَدِّثُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَنَّ الْكَمْأَةَ مِنَ الْمَنِّ الَّذِي أَنْزَلَ اللَّهُ عَلَى بَنِي إِسْرَائِيلَ، وَمَاؤُهَا شِفَاءُ الْعَيْنِ.

سعید بن زید ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: کھمبی من میں سے ہے جسے اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل پر نازل فرمایا تھا، اور اس کے پانی میں آنکھوں کا علاج ہے ١ ؎۔

Amr bin Huraith said: I heard Saeed bin Zaid bin bin Nufail narrating from the Prophet ﷺ that: Truffles are a type of manna that Allah sent down to the Children of Israel and their water is a healing for eye (diseases).": (Sahih)

Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی کھمبی اس من کے ہم مثل ہے جو بلا محنت و مشقت آسمان سے بنی اسرائیل کے لیے نازل ہوتا تھا، کھمبی ایک چھوٹا سا پودا ہے جو زمین سے نکلتا ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الطب ٢٠ (٥٧٠٨)، صحیح مسلم/الأشربة ٢٨ (٢٠٤٩)، سنن الترمذی/الطب ٢٢ (٢٠٦٧)، (تحفة الأشراف: ٤٤٦٥)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/١٨٧، ١٨٨) (صحیح )
3455Sunan Ibne-Majah

کھنبی اور عجوہ کھجور کا بیان۔

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ الصَّمَدِ، حَدَّثَنَا مَطَرٌ الْوَرَّاقُ، عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: كُنَّا نَتَحَدَّثُ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرْنَا الْكَمْأَةَ، فَقَالُوا: هُوَ جُدَرِيُّ الْأَرْضِ، فَنُمِيَ الْحَدِيثُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: الْكَمْأَةُ مِنَ الْمَنِّ، وَالْعَجْوَةُ مِنَ الْجَنَّةِ، وَهِيَ شِفَاءٌ مِنَ السَّمِّ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ ہم لوگ رسول اللہ ﷺ کے پاس گفتگو کر رہے تھے کہ کھمبی کا ذکر آگیا، تو لوگوں نے کہا: وہ تو زمین کی چیچک ہے، یہ بات رسول اللہ ﷺ تک پہنچی تو آپ ﷺ نے فرمایا: کھمبی منّ میں سے ہے، اور عجوہ کھجور جنت کا پھل ہے، اور اس میں زہر سے شفاء ہے ۔

It was narrated that Abu Hurairah (RA) said: “We used to narrate from the Messenger of Allah ﷺ and mention truffles, and they said: ‘(It is) the smallpox of the earth.’ When the Messenger of Allah ﷺ was told of what they were saying: he said: ‘Truffles are a type of manna, and the ‘Ajwah are from Paradise, and they are a healing from poison.” (Hasan)

Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الطب ٢٢ (٢٠٦٨)، (تحفة الأشراف: ١٣٤٩٦)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/٣٠١، ٣٠٥، ٣٥٦، ٣٥٧، ٤٢١، ٤٨٨، ٤٩٠، ٥١١)، سنن الدارمی/الرقاق ١١٥ (٢٨٨٢) (صحیح )