رافع بن عمرو مزنی ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: عجوہ کھجور اور صخرہ یعنی بیت المقدس کا پتھر جنت کی چیزیں ہیں ۔ عبدالرحمٰن بن مہدی کہتے ہیں: لفظ صخرہ میں نے ان کے منہ سے سن کر یاد کیا ہے۔
Amr Al-Muzani said: "I heard the Messenger of Allah ﷺ say: "Ajwah and the rock are from Paradise." (Sahih) (One of the narrators) "Abdur-Rahman said: "I memorized (the word) rock from his mouth."
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٣٥٩٨، ومصباح الزجاجة: ١٢٠٣)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/٤٢٦، ٥/٣١، ٦٥) (ضعیف) (مشعمل نے کبھی الصخرة کہا اور کبھی الشجرہ اس اضطراب کی وجہ سے یہ ضعیف ہے )
ابو ابی بن ام حرام ؓ (وہ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ دونوں قبلوں کی طرف نماز پڑھ چکے ہیں) کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا: تمسنا اور سنوت ١ ؎ کا استعمال لازم کرلو، اس لیے کہ سام کے سوا ان میں ہر مرض کے لیے شفاء ہے عرض کیا گیا: اللہ کے رسول! سام کیا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: موت ۔ عمرو کہتے ہیں کہ ابن ابی عبلہ نے کہا: سنوت: سویے کو کہتے ہیں، بعض دوسرے لوگوں نے کہا ہے کہ وہ شہد ہے جو گھی کی مشکوں میں ہوتا ہے، شاعر کا یہ شعر اسی معنی میں وارد ہے۔ هم السمن بالسنوت لا ألس فيهم وهم يمنعون جارهم أن يقردا وہ لوگ ملے ہوئے گھی اور شہد کی طرح ہیں ان میں خیانت نہیں، اور وہ لوگ تو اپنے پڑوسی کو بھی دھوکا دینے سے منع کرتے ہیں۔
Ibrahim bin Abu Ablah said: "I heard Abu Ubayy bin Urom Haram, who had prayed with the Messenger of Allah ﷺ facing both the Qiblah, saying: I heard the Messenger of Allah ﷺ say: "You should use senna and the Sannut, for in them there is healing for every disease, except the Sam." It was said: "O Messenger of Allah, what is the Sam?" He said: "Death." (One of the narrators) Amr said: "Ibn Abu Ablah said: theSannut is dill." Others said: "Rather, it is honey that is kept in a skin (i.e., receptacle) used for ghee."(Hasan)
Notes · وضاحت
١ ؎: سنا: ایک مسہل (دست لانے والی) دو ا کا نام ہے، اور سنوت: سویا یا بعض لوگوں کے بقول شہد کو کہتے ہیں۔
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ایک بار دوپہر کو چلے، میں بھی چلا، تو میں نے نماز پڑھی پھر بیٹھ گیا، اتنے میں نبی اکرم ﷺ ہماری طرف متوجہ ہوئے تو آپ نے فرمایا: اشکمت درد کیا پیٹ میں درد ہے ؟ میں نے کہا: ہاں، اللہ کے رسول! آپ ﷺ نے فرمایا: اٹھو اور نماز پڑھو، اس لیے کہ نماز میں شفاء ہے ۔
It was narrated that Abu Hurairah (RA) said: "The Prophet ﷺ set out in the early morning and I did likewise. I prayed, then I sat. The Prophet ﷺ turned to me and said: Do you have a stomach problem? I said: Yes, O Messenger of Allah: He said: Get up and pray, for in prayer there is healing:" (Daif) Another chain with similar wording. Abu Abdullah said: A man narrated it to his people, then they were stirred up against him.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٤٣٥١، ومصباح الزجاجة: ١٢٠٥)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/٣٩٠، ٤٠٣) (ضعیف) (سند میں ذوّاد بن علبہ اور لیث بن ابی سلیم دونوں ضعیف ہیں )
ایک روایت میں ہے کہ آپ نے فارسی میں فرمایا اشکمت درد کیا تیرے پیٹ میں درد ہے ؟ امام ابن ماجہ (رح) نے فرمایا: ایک آدمی نے یہ حدیث اپنے خاندان والوں کو سنائی تو انہوں نے (قاضی سے) اس کی شکایت کردی۔ (حدیث کے ضعیف ہونے کی طرف اشارہ ہے) ۔
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ناپاک (یا حرام) دوا سے منع فرمایا، یعنی زہر سے ١ ؎۔
It was narrated that Abu Hurairah (RA) said: "The Messenger of Allah ﷺ forbade treating illness with foul things (Khabith),meaning poison." (Sahih)
Notes · وضاحت
١ ؎: دوسری روایت میں ہے کہ حرام سے دوا مت کرو، اور زہر سب حرام ہے اس مقدار میں جس سے مرنے کا اندیشہ ہو، بیہقی نے کہا: اگر یہ دونوں حدیثیں صحیح ہوں، تو مراد خبیث حرام سے مسکر ہے، یعنی جس چیز میں نشہ ہو۔
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس نے زہر پی کر اپنے آپ کو مار ڈالا، تو وہ اسے جہنم میں بھی پیتا رہے گا جہاں وہ ہمیشہ ہمیش رہے گا ۔
It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Messenger of Allah ﷺ said: "Whoever drinks poison and kills himself, will be sipping it in the fire of Hell for ever and ever:" (Sahih)
اسماء بنت عمیس ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھ سے پوچھا: تم مسہل کس چیز کا لیتی تھی ؟ میں نے عرض کیا: شبرم سے، آپ ﷺ نے فرمایا: وہ تو بہت گرم ہے ، پھر میں سنا کا مسہل لینے لگی، تو آپ ﷺ نے فرمایا: اگر کوئی چیز موت سے نجات دے سکتی تو وہ سنا ہوتی، سنا ہر قسم کی جان لیوا امراض سے شفاء دیتی ہے ۔
It was narrated that Asrna bint Umais said: "The Messenger of Allah ﷺ said to me: What do you use as a laxative? I said: The Shubrum (spurge Euphorb). He said: (It is) hot and powerful: Then I used senna as a laxative and he said: If anything were to cute death, it would be senna. Senna is a cure for death:" (Daif)
Notes · وضاحت
١ ؎: ایک گرم اور سخت قسم کا چنے کے برابر دانہ ہوتا ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الطب ٣٠ (٢٠٨١)، (تحفة الأشراف: ١٥٧٥٩)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٦/٣٦٩) (ضعیف) (زرعہ بن عبد الرحمن مجہول اور مولی معمر مبہم راوی ہیں )
ام قیس بنت محصن ؓ کہتی ہیں کہ میں اپنے بچے کو لے کر نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئی، اور اس سے پہلے میں نے عذرہ ١ ؎ (ورم حلق) کی شکایت سے اس کا حلق دبایا تھا، آپ ﷺ نے پوچھا: آخر کیوں تم لوگ اپنے بچوں کے حلق دباتی ہو؟ تم یہ عود ہندی اپنے لیے لازم کرلو، اس لیے کہ اس میں سات بیماریوں کا علاج ہے، اگر عذرہ ١ ؎ (ورم حلق) کی شکایت ہو تو اس کو ناک ٹپکایا جائے، اور اگر ذات الجنب ٢ ؎ (نمونیہ) کی شکایت ہو تو اسے منہ سے پلایا جائے ۔
It was narrated that Umm Qais bint Mihsan said: "I brought a son of mine to the Prophet ﷺ and I had pressed on an area of his throat due to tonsillitis. He said: Why do you poke your children with this pressing? You should use this aloeswood, for in it there are seven cures. It should be inhaled for pustules in the throat. and given in the side of the mouth for pleurisy."(Sahih) (Another chain) from Umm Qais bint Mihsan, from the Prophet ﷺ with similar wording.
Notes · وضاحت
١ ؎: عذرہ: ایک ورم ہے حلق میں بچوں کو اکثر ہوجاتا ہے، عورتیں دبا کر انگلی سے اس کا علاج کرتی ہیں۔ ٢ ؎: ذات الجنب: ایک بیماری ہے جسے نمونیہ کہا جاتا ہے۔
اس سند سے بھی ام قیس ؓ سے اسی طرح روایت مرفوعاً وارد ہے، یونس کہتے ہیں: أعلقت کے معنی ہیں غمزت یعنی میں نے دبایا۔
انس بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا: عرق النسا ١ ؎ کا علاج یہ ہے کہ جنگلی بکری کی (چربی) کی چکتی لی جائے اور اسے پگھلایا جائے، پھر اس کے تین حصے کئے جائیں، اور ہر حصے کو روزانہ نہار منہ پیا جائے ۔
Anas bin Malik (RA) said: "I heard the Messenger of Allah ﷺ saying: The cure for sciatica is the fat from the tail of a Bedouin sheep (or wild sheep). Which should be melted and divided into three parts, one part to be taken each day on an empty stomach.· (Sahih)
Notes · وضاحت
١ ؎: عرق النسا ایک قسم کا درد ہے جو پیر کی ایک رگ میں ہوتا ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٢٣٩، ومصباح الزجاجة: ١٢٠٧)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/٢١٩) (صحیح )
سہل بن سعد ساعدی ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ غزوہ احد کے دن زخمی ہوگئے، آپ کے سامنے کا ایک دانت ٹوٹ گیا، اور خود ٹوٹ کر آپ کے سر میں گھس گیا تو فاطمہ ؓ آپ کا خون دھو رہی تھیں اور علی ؓ ڈھال سے پانی لا لا کر ڈال رہے تھے، جب فاطمہ ؓ نے دیکھا کہ پانی کی وجہ سے خون بجائے رکنے کے بڑھتا ہی جاتا ہے تو چٹائی کا ایک ٹکڑا لے کر جلایا، جب وہ راکھ ہوگیا تو اسے زخم میں بھر دیا، اور اس طرح خون رک گیا۔
It was narrated that Sahl bin Sad As-Saidi said: "The Messenger of Allah ﷺ was wounded on the Day of Uhud. His molar was broken and his helmet was crushed on his head. Fatimah was washing the blood from him and All was pouring water on him from a shield. When Fatimah realized that the water was orily making the bleeding worse, she took a piece of a mat and burnt it, and when it had turned to ashes, she applied it to the wound to stop the bleeding. (Sahih)
سہل بن سعد ساعدی ؓ کہتے ہیں کہ مجھے معلوم ہے کہ غزوہ احد کے دن کس نے رسول اللہ ﷺ کے چہرہ مبارک کو زخمی کیا تھا؟ اور کون آپ ﷺ کے چہرہ مبارک سے زخموں کو دھو رہا تھا، اور ان کا علاج کر رہا تھا؟ کون تھا جو ڈھال میں پانی بھر کر لا رہا تھا؟ اور کس چیز کے ذریعے آپ کے زخم کا علاج کیا گیا، یہاں تک کہ خون تھما، ڈھال میں پانی بھر کر لانے والے علی ؓ تھے، زخموں کا علاج کرنے والی فاطمہ ؓ تھیں، جب خون نہیں رکا تو انہوں نے پرانی چٹائی کا ایک ٹکڑا جلایا، اور اس کی راکھ زخم پر لگا دی، اس طرح زخم سے خون کا بہنا بند ہوا۔
It was narrated from Abdul-Muhaimin bin Abbas bin Sahl bin Sad As-Saidj, from his father, that his grandfather said: "On the Day of Uhud , I recognized the one who wounded the face of the Messenger of Allah ﷺ , the one who was washing the blood from the face of the Messenger of Allah ﷺ and treating him, and the one who was treated until the bleeding stopped. The one who was carrying the water in the shield was ‘Ali. The one who was treating the wound was Fatimah. When the bleeding would not stop, she burned a piece of a worn out mat and applied the ashes to it (the wound), then the bleeding stopped. (Sahih)
Notes · وضاحت
١ ؎: مشہور یہ ہے کہ عبد اللہ بن قمیہ نے آپ ﷺ کو زخمی کیا، اور بعضوں نے کہا کہ چار ملعون کافروں (یعنی عبداللہ بن قمیہ اور عتبہ بن ابی وقاص اور عبد اللہ بن شہاب زہری، اور ابی بن خلف) نے آپ ﷺ کے قتل کا عہد کیا تھا، امام نووی تہذیب الأسماء واللغات میں کہتے ہیں کہ عتبہ بن ابی وقاص وہی ہے جس نے رسول اکرم ﷺ کا چہرہ مبارک زخمی کیا، اور احد کے دن آپ کا دانت توڑا میں نہیں جانتا کہ وہ مسلمان ہوا ہو، اور نہ آگے اس کو صحابہ میں ذکر کیا، اور بعضوں نے کہا وہ کافر مرا۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٤٨٠٣) (صحیح) (سند میں عبدالمہیمن ضعیف ہیں، لیکن سابقہ حدیث سے تقویت پاکر یہ صحیح ہے )
عبداللہ بن عمرو بن العاص ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو شخص علاج کرنے لگے حالانکہ اس سے پہلے اس کے طبیب ہونے کا کسی کو علم نہیں تھا، تو وہ ضامن (ذمہ دار) ہوگا ١ ؎۔
It was narrated from ‘Amr bin Shu’aib, from his father, that his grandfather said: “The Messenger of Allah ﷺ said: ‘Whoever gives medical treatment, with no prior knowledge of medicine, is responsible (for any harm done).” (Da’if)
Notes · وضاحت
١ ؎: اگر جان جاتی رہی تو اس کو آدھی دیت دینی ہوگی، اور جو کوئی عضو بیکار ہوجائے اس کی بھی دیت دینا ہوگی۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الدیات ٢٥ (٤٥٨٦)، سنن النسائی/القسامة ٣٤ (٤٨٣٤)، (تحفة الأشراف: ٨٧٤٦) (حسن) (سند میں ابن جریج مدلس راوی ہیں، اور عنعنہ سے روایت کی ہے، لیکن شاہد کی وجہ سے یہ حسن ہے )
زید بن ارقم ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ذات الجنب کے علاج کے لیے یہ نسخہ بتایا کہ ورس اور قسط (عود ہندی) کو زیتون کے تیل میں ملا کر منہ میں ڈال دیا جائے ١ ؎۔
It was narrated that Zaid bin Arqam said: "The Messenger of Allah ﷺ prescribed Wars (memecyclon tinctorium), Indian aloes wood and olive oil for pleurisy, to be administered through the side of the mouth." (Daif)
Notes · وضاحت
١ ؎: ذات الجنب: یعنی الوہ ایک ورم ہے جو پسلی میں ہوتا ہے، اور یہ مرض بہت سخت ہے جس سے اکثر موت ہوجاتی ہے۔ ورس: ایک زرد رنگ کی خوشبو دار گھاس، ان تینوں دواؤں کو ملا کر منہ میں ایک طرف ڈال دئیے جائیں، لدود اس دوا کو کہتے ہیں، جو بیمار کے منہ میں لگائی جائے تاکہ پیٹ میں چلی جائے۔
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الطب ٢٨ (٢٠٧٨، ٢٠٧٩)، (تحفة الأشراف: ٣٦٨٤)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/٣٦٩، ٣٧٢)، (ضعیف) (عبدالرحمن بن میمون اور ان کے والد میمون دونوں ضعیف راوی ہیں )
ام قیس بنت محصن ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تمہارے لیے عود ہندی کا استعمال لازمی ہے کست کا اس لیے کہ اس میں سات بیماریوں سے شفاء ہے، ان میں ایک ذات الجنب بھی ہے ۔ ابن سمعان کے الفاظ اس حدیث میں یہ ہیں: فإن فيه شفاء من سبعة أدواء منها ذات الجنب اس میں سات امراض کا علاج ہے، ان میں سے ایک مرض ذات الجنب ہے ۔
Umm Qais bint Mihsan said: "The Messenger of Allah ﷺ said: You should use Indian aloeswood for it contains seven cures, including (a cure for)pleurisy. (Sahih) (One of narrators.) Ibn Saman said in this narration: "For it contains a cure for seven diseases, including pleurisy."
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے پاس بخار کا ذکر آیا تو ایک شخص نے بخار کو گالی دی (برا بھلا کہا) ، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: اسے گالی نہ دو (برا بھلا نہ کہو) اس لیے کہ اس سے گناہ اس طرح ختم ہوجاتے ہیں جیسے آگ سے لوہے کا کچرا صاف ہوجاتا ہے ۔
It was narrated that Abu Hurairah (RA) said: "Mention of fever was made in the presence of the Messenger of Allah ﷺ , and a man cursed it. The Prophet ﷺ said: Do not curse it, for it erases sin as fire removes the filth from iron." (Sahih)
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے بخار کے ایک مریض کی عیادت کی، آپ کے ساتھ ابوہریرہ ؓ بھی تھے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: خوش ہوجاؤ، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: یہ میری آگ ہے، میں اسے اپنے مومن بندے پر اس دنیا میں اس لیے مسلط کرتا ہوں تاکہ وہ آخرت کی آگ کا بدل بن جائے ۔
It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Prophet ﷺ visited a sick person, due to an illness that he was suffering from and Abu Hurairah (RA) was with him. The Messenger of Allah ﷺ said: "Be of good cheer, for Allah says: It is My fire which I have caused to overwhelm My believing slave in this world, to be his share of the Fire in the Hereafter." (Hasan)
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٥٤٣٩، ومصباح الزجاجة: ١٢٠٩)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/٤٤٠) (صحیح )
ام المؤمنین عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: بخار جہنم کی بھاپ ہے، لہٰذا اسے پانی سے ٹھنڈا کرو ١ ؎۔
It was narrated from Aisha (RA) tha the Prophet ﷺ said: "Fever is from the heat of the Hell-fire, so cool it down with water." (Sahih)
Notes · وضاحت
١ ؎: خود حدیث دلالت کرتی ہے کہ یہاں وہ بخار مراد ہے جو گرمی سے ہو، کیونکہ پانی سے وہی ٹھنڈا ہوگا، اور جو بخار سردی سے ہوگا اس میں تو آگ سے گرم کرنا مفید ہوگا، اور بخار جہنم کی آگ سے ہے، اس میں کوئی اشکال نہیں کیونکہ دوسری حدیث میں ہے کہ گرمی اور سردی دونوں جہنم کی سانس سے ہوتی ہیں، گرمی تو اس حصہ جہنم کی بھاپ سے ہوتی ہیں جو گرم انگار ہے، اور سردی اس حصے کی بھاپ سے ہے جو زمہریر ہے، اور بخار ہمیشہ یا گرمی کی وجہ سے ہوتا ہے یا سردی سے پس یہ کہنا بالکل صحیح ہوا کہ بخار جہنم کی بھاپ سے ہے کیونکہ سبب کا ایک سبب ہوتا ہے، اور علت کی علت خود علت ہوتی ہے۔
رافع بن خدیج ؓ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم ﷺ کو فرماتے سنا: بخار جہنم کی بھاپ ہے، لہٰذا اسے پانی سے ٹھنڈا کرو ، پھر آپ ﷺ عمار کے ایک لڑکے کے پاس تشریف لے گئے (وہ بیمار تھا) اور یوں دعا فرمائی: اكشف الباس رب الناس إله الناس لوگوں کے رب، لوگوں کے معبود! (اے اللہ) تو اس بیماری کو دور فرما ۔
It was narrated that Rafi bin Khadij said: "I heard the Prophet ﷺ say: Fever is from the heat of the Hell-fire, so cool it down with water. He entered upon a son of Ammar and said: Take away the harm, a Lord of mankind , a God of mankind."
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/ بدء الخلق ١٠ (٣٢٦٢)، صحیح مسلم/السلام ٢٦ (٢٢١٢)، سنن الترمذی/الطب ٢٥ (٢٠٧٣)، (تحفة الأشراف: ٣٥٦٢)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/٤٦٣، ٤/١٤١)، سنن الدارمی/الرقاق ٥٥ (٢٨١١) (صحیح )
اسماء بنت ابی بکر ؓ سے روایت ہے کہ ان کے پاس بخار کی مریضہ ایک عورت لائی جاتی تھی، تو وہ پانی منگواتیں، پھر اسے اس کے گریبان میں ڈالتیں، اور کہتیں کہ نبی اکرم ﷺ کا ارشاد ہے کہ اسے پانی سے ٹھنڈا کرو نیز آپ ﷺ کا ارشاد ہے کہ یہ جہنم کی بھاپ ہے ۔
It was narrated from Asma bint Abu Bakr (RA) that a woman suffering from fever would be brought to her, and she would call for water and pour It onto the neck of her garment. She said: The prophet said: "Cool it down with water," and he said: "It is from the heat of Hell-fire." (Sahih)
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الطب ٢٨ (٥٧٢٤)، صحیح مسلم/السلام ٢٦ (٢٢١١)، سنن الترمذی/الطب ٢٥ (٢٠٧٤)، (تحفة الأشراف: ١٥٧٤٤) وقد أخرجہ: موطا امام مالک/العین ٦ (١٥)، مسند احمد (٦/٣٤٦) (صحیح )
ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: بخار جہنم کی بھٹیوں میں سے ایک بھٹی ہے لہٰذا اسے ٹھنڈے پانی سے دور کرو ۔
It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Messenger of Allah ﷺ said: "Fever is one of the bellows of Hell, so avert it from yourselves with cold water." (Hasan)