Sunan Ibne-Majah 3467

طب کا بیان

3467Sunan Ibne-Majah

ذات الجنب کی دوا۔

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِسْحَاق، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَيْمُونٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ، قَالَ: نَعَتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ ذَاتِ الْجَنْبِ، وَرْسًا، وَقُسْطًا، وَزَيْتًا يُلَدُّ بِهِ.

زید بن ارقم ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ذات الجنب کے علاج کے لیے یہ نسخہ بتایا کہ ورس اور قسط (عود ہندی) کو زیتون کے تیل میں ملا کر منہ میں ڈال دیا جائے ١ ؎۔

It was narrated that Zaid bin Arqam said: "The Messenger of Allah ﷺ prescribed Wars (memecyclon tinctorium), Indian aloes wood and olive oil for pleurisy, to be administered through the side of the mouth." (Daif)

Notes · وضاحت
١ ؎: ذات الجنب: یعنی الوہ ایک ورم ہے جو پسلی میں ہوتا ہے، اور یہ مرض بہت سخت ہے جس سے اکثر موت ہوجاتی ہے۔ ورس: ایک زرد رنگ کی خوشبو دار گھاس، ان تینوں دواؤں کو ملا کر منہ میں ایک طرف ڈال دئیے جائیں، لدود اس دوا کو کہتے ہیں، جو بیمار کے منہ میں لگائی جائے تاکہ پیٹ میں چلی جائے۔
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الطب ٢٨ (٢٠٧٨، ٢٠٧٩)، (تحفة الأشراف: ٣٦٨٤)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/٣٦٩، ٣٧٢)، (ضعیف) (عبدالرحمن بن میمون اور ان کے والد میمون دونوں ضعیف راوی ہیں )