Sunan Ibne-Majah 3466

طب کا بیان

3466Sunan Ibne-Majah

جو طب سے ناوافق ہو اور علاج کرے۔

حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، وَرَاشِدُ بْنُ سَعِيدٍ الرَّمْلِيُّ، قَالَا: حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ: قَال رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ تَطَبَّبَ، وَلَمْ يُعْلَمْ مِنْهُ طِبٌّ قَبْلَ ذَلِكَ، فَهُوَ ضَامِنٌ.

عبداللہ بن عمرو بن العاص ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو شخص علاج کرنے لگے حالانکہ اس سے پہلے اس کے طبیب ہونے کا کسی کو علم نہیں تھا، تو وہ ضامن (ذمہ دار) ہوگا ١ ؎۔

It was narrated from ‘Amr bin Shu’aib, from his father, that his grandfather said: “The Messenger of Allah ﷺ said: ‘Whoever gives medical treatment, with no prior knowledge of medicine, is responsible (for any harm done).” (Da’if)

Notes · وضاحت
١ ؎: اگر جان جاتی رہی تو اس کو آدھی دیت دینی ہوگی، اور جو کوئی عضو بیکار ہوجائے اس کی بھی دیت دینا ہوگی۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الدیات ٢٥ (٤٥٨٦)، سنن النسائی/القسامة ٣٤ (٤٨٣٤)، (تحفة الأشراف: ٨٧٤٦) (حسن) (سند میں ابن جریج مدلس راوی ہیں، اور عنعنہ سے روایت کی ہے، لیکن شاہد کی وجہ سے یہ حسن ہے )