ابو الدرداء ؓ کہتے ہیں کہ میرے خلیل (جگری دوست) رسول اللہ ﷺ نے مجھے وصیت فرمائی: شراب مت پیو، اس لیے کہ یہ تمام برائیوں کی کنجی ہے ١ ؎۔
It was narrated that Abu Darda said: "My close friend advised me: Do not drink wine, for it is the key to all evils. (Hasan)
Notes · وضاحت
١ ؎: آدمی ہر ایک برائی سے عقل کی وجہ سے بچتا ہے جب عقل ہوتی ہے تو اللہ کا خوف ہوتا ہے، شراب پینے سے عقل ہی میں فتور آجاتا ہے، پھر خوف کہاں رہا شرابی سے سینکڑوں گناہ سرزد ہوتے ہیں، اس لئے اس کو ام الخبائث کہتے ہیں، یعنی سب برائیوں کی جڑ۔
خباب بن ارت ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: شراب سے بچو، اس لیے کہ اس کے گناہ سے دوسرے بہت سے گناہ پھوٹتے ہیں جس طرح ایک درخت ہوتا ہے اور اس سے بہت سی شاخیں پھوٹتی ہیں ۔
‘Ubâdah bin Sâmit said: “I heard Khabbâb bin narrating that the Messenger of Allah ﷺ said: ‘Beware of wine! For its sins overwhelm other sins, Just as the grapevine overwhelms other trees” (Da`if)
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٣٥١٥، ومصباح الزجاجة: ١١٦٩) (ضعیف) (منیر بن زبیر الشامی ضعیف ہے )
عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو شخص دنیا میں شراب پئے گا، وہ آخرت میں نہیں پی سکے گا مگر یہ کہ وہ توبہ کرلے ۔
It was narrated from Ibn Umar that the Messenger of Allah ﷺ said: "Whoever drinks wine in this world, he will not drink it in the Hereafter, unless he repents." (Sahih)
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: شراب کا عادی ایسے ہی ہے جیسے بتوں کا پجاری ١ ؎۔
It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Messenger of Allah ﷺ said: "The one who is addicted to wine is like one who worships idols." (Hasan)
Notes · وضاحت
١ ؎: حالانکہ بت پوجنا شرک ہے اور شرک گناہوں میں سب سے بڑا ہے، مگر شراب بھی ایسا گناہ ہے کہ ہمیشہ کرنے سے وہ شرک کے مثل ہوجاتا ہے جیسے صغیرہ گناہ ہمیشہ کرنے سے کبیرہ ہوجاتا ہے، اس میں ڈر ہے شرابیوں کے لئے ایسا نہ ہو ان کا خاتمہ برا ہو۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٢٧٤٨، ومصباح الزجاجة: ١١٧١) (حسن) (سند میں محمد بن سلیمان ضعیف ہے، لیکن شواہد کی وجہ سے یہ حسن ہے، ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الصحیحة، للالبانی: ٦٧٧ )
عبداللہ بن عمرو ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو شراب پی کر مست ہوجائے (نشہ ہوجائے) اس کی نماز چالیس روز تک قبول نہیں ہوتی، اور اگر وہ اس دوران مرجائے تو وہ جہنم میں جائے گا، لیکن اگر وہ توبہ کرلے تو اللہ تعالیٰ اس کی توبہ قبول فرمائے گا، پھر اگر وہ توبہ سے پھر جائے اور شراب پئے، اور اسے نشہ آجائے تو چالیس روز تک اس کی نماز قبول نہیں ہوگی، اگر وہ اس دوران مرگیا تو جہنم میں جائے گا، لیکن اگر وہ پھر توبہ کرلے تو اللہ تعالیٰ اس کی توبہ قبول فرمائے گا، اگر وہ پھر پی کر بدمست ہوجائے تو پھر اس کی نماز چالیس روز تک قبول نہیں ہوگی، اور وہ اسی حالت میں مرگیا تو جہنم میں جائے گا، اور اگر اس نے پھر توبہ کرلی تو اللہ تعالیٰ اس کی توبہ قبول کرلے گا، اب اگر وہ (اس کے بعد بھی) پئے تو اللہ تعالیٰ کے لیے حق ہوگا کہ اسے قیامت کے دن ردغ ۃ الخبال پلائے، لوگوں نے سوال کیا: اللہ کے رسول! یہ ردغ ۃ الخبال کیا ہے؟ فرمایا: جہنمیوں کا پیپ ۔
It was narrated from Abdullah bin Amr that the Messenger of Allah ﷺ said: Whoever drinks wine and gets drunk, his prayer will not be accepted for forty days, and if he dies he will enter Hell, but if he repents, Allah will accept his repentance, If he drinks wine again and gets drunk his prayer dwiIll not be accepted for forty ays, and if he dies he will enter Hell, but if he repents Allah will accept his repentance. if he drinks tne again and gets drunk, his prayer will not be accepted for forty days, and if he dies he will enter Hell, but if he repents Allah will accept his repentance. But if he does it again, then Allah will most certainly make him drink of the mire of the puss or sweat on the Day of Resurrection." They said: "O Messenger of Allah, what is the mire of the puss or sweat? He said: "The drippings of the people of Hell." (Sahih)
Notes · وضاحت
١ ؎: معاذ اللہ، شراب پینی، اور اتنی کہ آدمی مست ہوجائے، اور ہوش کھو دے، کتنا بڑا سخت گناہ ہے، توراۃ، اور انجیل میں بھی اس کی بہت برائی آئی ہے، اور حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ تیسری بار اگر شراب پئے تو توبہ قبول نہ ہوگی، اور ضرور عذاب ہوگا۔
نعمان بن بشیر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: شراب کئی چیزوں سے بنائی جاتی ہے، گیہوں سے، جو سے، منقیٰ سے، کھجور سے اور شہد سے ۔
It was narrated from , an bin Bashir that the Messanger of Allah ﷺ said: "From wheat comes wme, barley comes wine, from raisins comes wine, from dates comes wine and from honey comes wm. e. " (Hasan)
عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: شراب دس طرح سے ملعون ہے، یہ لعنت خود اس پر ہے، اس کے نچوڑنے والے پر، نچڑوانے والے پر، اس کے بیچنے والے پر، اس کے خریدنے والے پر، اس کو اٹھا کرلے جانے والے پر، اس شخص پر جس کے پاس اٹھا کرلے جائی جائے، اس کی قیمت کھانے والے پر، اس کے پینے والے پر اور اس کے پلانے والے پر ۔
It was narrated from Ibn Umar that the Messenger of Allah ﷺ said: "Wine is cursed from ten angles: The wine itself, the one who squeezes (the grapes etc). the one for whom it is squeezed, the one who sells it, the one who buys it, the one who Carries it, the one to whom it is Carried, the one who consumes its Price, the one who drinks it and the one who pours it." (Hasan)
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٧٢٩٦، ومصباح الزجاجة: ١١٧٣)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الأشربة ٢ (٣٦٧٤)، مسند احمد (٢/٢٥، ٧١)، دون قولہ: أکل ثمنہا (صحیح )
انس بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے دس قسم کے لوگوں پر شراب کی وجہ سے لعنت فرمائی: اس کے نچوڑنے والے پر، نچڑوانے والے پر، اور اس پر جس کے لیے نچوڑی جائے، اسے لے جانے والے پر، اس شخص پر جس کے لیے لے جائی جائے، بیچنے والے پر، اس پر جس کو بیچی جائے، پلانے والے پر اور اس پر جس کو پلائی جائے ، یہاں تک کہ دسوں کو آپ نے گن کر اس طرح بتایا۔
Anas said: "The Messenger of Allah ﷺ of Allah cursed ten with regard to wine: The one who squeezes (the grapes etc.), the one who asks for it to be squeezed, the one for whom it is squeezed, the one who carries it, the one to whom it is carried, the one who sells it, the one for whom it is bought, the one who pours it, the one for whom it is poured, until he counted ten like this.” (Hasan)
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/البیوع ٥٩ (١٢٩٥)، (تحفة الأشراف: ٩٠٠)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/٣١٦، ٢/٩٧) (صحیح )
ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ جب سود کے سلسلے میں سورة البقرہ کی آخری آیات نازل ہوئیں تو رسول اللہ ﷺ باہر تشریف لائے، اور شراب کی تجارت کو حرام قرار دے دیا۔
It was narrated that Aisha (RA) said: "When the Verses at the end of Sural Al-Baqarah concerning usury were revealed, the Messenger of Allah ﷺ went out and forbade dealing in wine." (Sahih)
عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ عمر ؓ کو خبر ملی کہ سمرہ ؓ نے شراب بیچی ہے تو کہا: اللہ تعالیٰ سمرہ کو تباہ کرے، کیا اسے نہیں معلوم کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے کہ یہود پر اللہ کی لعنت ہو، اس لیے کہ ان پر چربی حرام کی گئی تھی، تو انہوں نے اسے پگھلایا اور بیچ دیا ١ ؎۔
It was narrated that Ibn Abbas said: Umar heard that Samurah had sold some wine, and he said: "May Allah ruin Samurah! Does he not know that the Messenger of Allah ﷺ said: May Allah curse the jews. For animal fa, was forbidden to them, so they melted it down and sold it. (Sahih)
Notes · وضاحت
١ ؎: اور بیچ کر اس کی قیمت کھالی، معلوم ہوا کہ جیسے شراب حرام ہے، ویسے ہی اس کی قیمت لینا اور تجارت کرنا بھی حرام ہے، افسوس ہے کہ ہمارے زمانے میں بعض مسلمان تاجر اپنی دکانوں میں شراب بھی رکھتے ہیں، اور خیال رکھتے ہیں کہ شراب کے بیچنے میں اتنا گناہ نہیں ہے جتنا اس کے پینے میں، حالانکہ حدیث کی رو سے یہ سب برابر ہیں اور سب پر لعنت آتی ہے، اور شراب کا پیشہ حرام ہے، اس کا پینا اور پیلانا دونوں جائز نہیں، اسی طرح سود کا پیشہ اور جو تاجر شراب اور سود کی تجارت کرتا ہو اس کی دعوت میں جاتا تقوی اور دین داری کے خلاف ہے۔
ابوامامہ باہلی ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: رات اور دن یعنی زمانہ ختم نہیں ہوگا یہاں تک کہ میری امت کی ایک جماعت اس میں شراب پئے گی، وہ شراب کا نام بدل دے گی ١ ؎۔
It was narrated from Abu Umâmah Al-Bâhuli that the Messenger of Allah ﷺ said: “Night and day will not cease until a group among my nation drinks wine, calling it by some other name.” (Hasan)
Notes · وضاحت
١ ؎: جیسے کوئی شربت مفرح کہے گا کوئی عرق النشاط کوئی شراب الصالحین نام بدلنے سے کیا ہوتا ہے، جو چیز حرام ہے، وہ ہر طرح حرام ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٤٨٥٨، ومصباح الزجاجة: ١١٧٤) (صحیح) (عبدالسلام ضعیف ہے، لیکن شواہد کی بناء پر حدیث صحیح ہے، ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الصحیحة، للالبانی: ١/١٣٧ و ١٣٨ )
عبادہ بن صامت ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: میری امت کے بعض لوگ شراب کا دوسرا نام رکھ کر پئیں گے ۔
It was narrated from "Ubadahh bin Samit that the Messenger of Allah ﷺ said: "People among my nation will drink wine, under some other name that they will give it." (Hasan)
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٥٠٧٢)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٥/٣١٨) (صحیح )
عبداللہ بن مسعود ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ہر نشہ آور چیز حرام ہے ۔ ابن ماجہ کہتے ہیں: یہ اہل مصر کی حدیث ہے۔
It was narrated from Ibn Masud that the Messenger of Allah ﷺ said: "Every intoxicant is unlawful." (Sahih) Ibn Majah said: "This is a narration of the Egyptians."
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٩٥٦٣، ومصباح الزجاجة: ١١٧٥) (صحیح) (سند میں ایوب بن ہانی ضعیف راوی ہیں، لیکن اگلی حدیثوں سے تقویت پاکر صحیح ہے )
معاویہ ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا: ہر نشہ لانے والی چیز ہر مومن پر حرام ہے ۔ یہ اہل رقہ کی حدیث ہے۔
Muawivah said: "I heard the Messenger of Allah ﷺ say: Every intoxicant is unlawful for every believer:" (Hasan) This is a narration of the Raqqiyyin.
Notes · وضاحت
١ ؎: رقہ: بغداد کے قریب ایک شہر ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١١٤٥١، ومصباح الزجاجة: ١١٧٦) (ضعیف) (سند میں سلیمان بن عبد اللہ لین الحدیث ہے، لیکن حدیث كل مسکر حرام کا جملہ صحیح ہے، کما تقدم )