ابوموسیٰ اشعری ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ان لوگوں کا کیا حال ہے جو اللہ کے حدود سے کھیل کرتے ہیں، ان میں سے ایک اپنی بیوی سے کہتا ہے: میں نے تجھے طلاق دے دی پھر تجھ سے رجعت کرلی، پھر تجھے طلاق دے دی ۔
It was narrated from Abu Musa that the Messenger of Allah ﷺ said: What is wrong with people who play with the limits imposed by Allah, and one of them says: “I divorce you, I take you back, I divorce you?” (Da’if)
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٩١٢٠، ومصباح الزجاجة: ٧١٦) (ضعیف) (سند میں مؤمل بن اسماعیل مختلف فیہ راوی ہیں )
عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: حلال چیزوں میں اللہ کے نزدیک سب سے زیادہ ناپسندیدہ اور مبغوض چیز طلاق ہے ۔
It was narrated from Abdullah bin Umar that the Messenger of Allah ﷺ said: "The most hated of permissible things to Allah is divorce." (Sahih)
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الطلاق ٣ (١٢٧٧، ١٢٧٨)، (تحفة الأشراف: ٧٤١١) (ضعیف) (سند میں عبید اللہ بن الولید ضعیف راوی ہیں، صواب اس حدیث کا مرسل ہونا ہے اور ثقات نے اسے مرسلاً ہی روایت کیا ہے )
عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ میں نے اپنی بیوی کو حیض کی حالت میں طلاق دے دی، عمر ؓ نے رسول اللہ ﷺ سے اس کا ذکر کیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: انہیں حکم دو کہ اپنی بیوی سے رجوع کرلیں یہاں تک کہ وہ عورت حیض سے پاک ہوجائے پھر اسے حیض آئے، اور اس سے بھی پاک ہوجائے، پھر ابن عمر اگر چاہیں تو جماع سے پہلے اسے طلاق دے دیں، اور اگر چاہیں تو روکے رکھیں یہی عورتوں کی عدت ہے جس کا اللہ نے حکم دیا ہے ١ ؎۔
It was narrated that Ibn Umar said: "I dlvorced my wife when she was menstruating. Umar mentioned that to the Messenger of Allah ﷺ and he said: Tell him to take her back until she becomes pure (i.e., her period ends), then she has her period (again), then she becomes pure (again), then if he wishes he may divorce her before having sexual relations with her, and if he wishes he may keep her. This is the waiting period that Allah has enjoined:" (Sahih)
Notes · وضاحت
١ ؎: اس سے مراد یہ آیت کریمہ ہے: يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ إِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَاء فَطَلِّقُوهُنَّ لِعِدَّتِهِنَّ وَأَحْصُوا الْعِدَّةَ (سورة الطلاق: 1) یعنی طلاق دو عورتوں کو ان کی عدت کے یعنی طہر کی حالت میں۔
عبداللہ بن مسعود ؓ کہتے ہیں کہ طلاق سنی یہ ہے کہ عورت کو اس طہر میں ایک طلاق دے جس میں اس سے جماع نہ کیا ہو ١ ؎۔
It was narrated that ‘Abdullâh said: “Divorce according to the Sunnah means divorcing her when she is pure, (i.e., not menstruating) and without having had intercourse with her (during that cycle).”
Notes · وضاحت
١ ؎: تاکہ عورت کو عدت کے حساب میں آسانی ہو، اور اسی طہر سے عدت شروع ہوجائے، تین طہر کے بعد وہ مطلقہ بائنہ ہوجائے گی، عدت ختم ہونے کے بعد وہ دوسرے سے شادی کرسکتی ہے، طلاق سنت یہ ہے کہ عورت کو ایسے طہر میں طلاق دے جس میں جماع نہ کیا ہو، اور شرط یہ ہے کہ اس طہر سے پہلے جو حیض تھا اس میں طلاق نہ دی ہو، یا حمل کی حالت میں جب حمل ظاہر ہوگیا ہو اور اس کے سوا دوسری طرح طلاق دینا (مثلاً حیض کی حالت میں یا طہر کی حالت میں جب جماع کرچکا ہو یا حمل کی حالت میں جب وہ ظاہر نہ ہوا ہو، لیکن شبہ ہو، اسی طرح تین طلاق ایک بار دینا حرام ہے اور اس کا ذکر آگے آئے گا) اور حدیث میں جو ابن عمر ؓ کو حکم ہوا کہ اس طہر کے بعد دوسرے طہر میں طلاق دیں، تو اس میں یہ حکمت تھی کہ طلاق سے رجعت کا علم نہ ہو تو ایک طہر تک عورت کو رہنے دے، اور بعضوں نے کہا کہ یہ سزا ان کے ناجائز فعل کی دی، اور بعضوں نے کہا یہ طہر اسی حیض سے متعلق تھا جس میں طلاق دی گئی تھی اس لئے دوسرے طہر کا انتظار کرے۔
عبداللہ بن مسعود ؓ کہتے ہیں طلاق سنی یہ ہے کہ عورت کو ہر طہر میں ایک طلاق دے، جب تیسری بار پاک ہو تو آخری طلاق دیدے، اور اس کے بعد عدت ایک حیض ہوگی ١ ؎۔
It was narrated that Abdullah said: "Divorce according to the Sunnah means divorcing her with one divorce in each cycle when she is pure, then when she becomes pure the third time, then he pronounces divorce again, and after that she must wait· one more menstrual cycle." (Hasan)
Notes · وضاحت
١ ؎: اس لئے کہ پہلی اور دوسری طلاق کے بعد دو حیض پہلے گزر چکے ہیں، یہ صورت اس وقت ہے، جب کہ عورت کو تین طلاق دینی ہو، اور بہتر یہ ہے کہ جب عورت حیض سے پاک ہو تو ایک ہی طلاق پر قناعت کرے، تین حیض یا تین طہر گزر جانے کے بعد وہ مطلقہ بائنہ ہوجائے گی۔ اس میں یہ فائدہ ہے کہ اگر مرد عدت گزر جانے کے بعد بھی چاہے تو اس عورت سے نکاح کرسکتا ہے، لیکن تین طلاق دینے کے بعد وہ اس سے اس وقت تک شادی نہیں کرسکتا، جب تک کہ وہ عورت کسی دوسرے سے شادی نہ کرلے، پھر وہ اسے طلاق دے دے۔
ابو غلاب یونس بن جبیر کہتے ہیں کہ میں نے ابن عمر ؓ سے اس شخص کے بارے میں پوچھا جس نے اپنی بیوی کو حیض کی حالت میں طلاق دے دی تو انہوں نے کہا: کیا تم عبداللہ بن عمر ؓ کو پہچانتے ہو؟ انہوں نے اپنی بیوی کو حیض کی حالت میں طلاق دے دی تھی تو عمر ؓ نبی اکرم ﷺ کے پاس آئے تو آپ ﷺ نے انہیں حکم دیا تھا کہ ابن عمر رجوع کرلیں، میں نے پوچھا: کیا اس طلاق کا شمار ہوگا؟ انہوں نے کہا: تم کیا سمجھتے ہو، اگر وہ عاجز ہوجائے یا دیوانہ ہوجائے (تو کیا وہ شمار نہ ہوگی یعنی ضرور ہوگی) ۔
It was narrated that Yunus bin Zubair, Abu Ghallab, said: "I asked Ibn Umar about a man who divorced his wife when she was menstruating. He said: Do you know Abdullah bin Umar? He divorced his wife when she was menstruating then Umar came to the Prophet ﷺ (and told him what had happened). He ordered him to take her back. I said: Will that be counted (as a divorce)? He said: Do you think he was helpless and behaving foolishly? [i.e., yes, it counts (as a divorce). (Sahih)
عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے اپنی بیوی کو حیض کی حالت میں طلاق دے دی، تو عمر ؓ نے نبی اکرم ﷺ سے اس کا ذکر کیا، تو آپ ﷺ نے فرمایا: انہیں حکم دو کہ رجوع کرلیں، پھر طہر کی یا حمل کی حالت میں طلاق دیں ١ ؎۔
It was narrated from Ibn Umar that he divorced his wifen then she was menstruating, and Umar mentioned that to the Prophet ﷺ . He said: "Tell him to take her back then divorce her when she is pure (not menstruating) or pregnant" (Sahih)
Notes · وضاحت
١ ؎: کیونکہ اس میں عدت کی آسانی ہے اگر طہر میں طلاق دے اور حاملہ نہ ہو تو تین طہر یا حیض کے بعد مدت گزر جائے گی، اگر حاملہ ہو تو وضع حمل ہوتے ہی عدت ختم جائے گی، عدت کا مقصد یہ ہے کہ حمل کی حالت میں عورت دوسرے شوہر سے جماع نہ کرائے ورنہ بچہ میں دوسرے مرد کا پانی بھی شریک ہوگا، اور یہ معیوب ہے، اس وہم کو دور کرنے کے لئے یہ طریقہ ٹھہرا کہ جس طہر میں جماع نہ کیا جائے اس میں طلاق دے، اور تین حیض تک انتظار اس لئے ہوا کہ کبھی حمل کی حالت میں بھی ایک آدھ بار تھوڑا سا حیض آجاتا ہے، لیکن جب تک تین حیض برابر آئے تو یقین ہوا کہ وہ حاملہ نہیں ہے، اب دوسرے مرد سے نکاح کرے، یا اگر حاملہ ہو تو وضع حمل ہوتے ہی نکاح کرسکتی ہے اگرچہ طلاق یا شوہر کی موت سے متصل ہی وضع حمل ہو۔
عامر شعبی کہتے ہیں کہ میں نے فاطمہ بنت قیس ؓ سے کہا: آپ مجھ سے اپنی طلاق کے بارے میں بیان کریں، تو انہوں نے کہا: میرے شوہر نے یمن کے سفر پر نکلتے وقت مجھے تین طلاق دی تو رسول اللہ ﷺ نے اس کو جائز رکھا ١ ؎۔
It was narrated that ‘Amir sha’bi said: “I said to Fatimah bint Qais: ‘TeJI me about your vorce.’ She said: ‘My husband vorced me three times when he as leaving for Yemen, and the Messenger of Allah ﷺ allowed that” (Da’if)
Notes · وضاحت
١ ؎: اس حدیث سے جمہور علماء و فقہاء نے دلیل لی ہے کہ اگر کوئی ایک ہی مجلس میں تین طلاقیں دے دے تو تینوں پڑجائیں گی، اس مسئلہ میں تین مذہب اور ہیں، ایک یہ کہ کچھ نہیں پڑے گا، نہ ایک نہ تین، کیونکہ اس طرح طلاق دینا بدعت اور حرام ہے، اس مذہب کو ابن حزم نے امام احمد سے بھی نقل کیا ہے، اور کہا کہ روافض کا بھی یہی مذہب ہے، واضح رہے کہ تابعین کی ایک جماعت کا یہی مذہب ہے۔ اور اہل بیت سے امام باقر، امام صادق اور ناصر کا بھی یہی مذہب ہے، اور ابوعبید اور بعض ظاہریہ بھی اسی کے قائل ہیں، کیونکہ یہ لوگ کہتے ہیں کہ طلاق بدعی نہیں پڑتی اور یہ بھی بدعی ہے۔ دوسرے یہ کہ اگر عورت مدخولہ ہے تو تینوں پڑجائیں گی اور مدخولہ نہیں ہے تو ایک پڑے گی، ایک جماعت کا یہ قول ہے جیسے ابن عباس اور اسحاق بن راہویہ وغیرہ۔ تیسرے یہ کہ ایک طلاق رجعی پڑے گی خواہ عورت مدخولہ ہو یا نہ ہو، اور ابن عباس ؓ کا صحیح ترین مذہب یہی ہے، اور ابن اسحاق، عطاء، عکرمہ اور اکثر اہل بیت اسی کے قائل ہیں، سارے مذاہب میں یہ صحیح ہے، امام شوکانی نے اس مسئلے پر ایک مستقل رسالہ لکھا ہے، اور چاروں مذاہب کے دلائل بیان کر کے اخیر قول کو ترجیح دی ہے، اور اس دور میں اس مسئلہ کو اختلافی قرار دیا ہے۔ علامہ ابن القیم (رح) فرماتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ سے یہ صحیح اور ثابت ہے کہ تین طلاق ایک ہی بار دینے سے ایک ہی طلاق پڑتی تھی عہد نبوت میں، اور ابوبکر ؓ کے عہد میں، اور شروع خلافت عمر ؓ میں، اور عمر ؓ نے لوگوں کو سزا دینے کے لئے یہ فتوی دیا کہ تینوں طلاقیں پڑجائیں گی، اور یہ ان کا اجتہاد ہے، جو اوروں پر حجت نہیں ہوسکتا، خصوصاً نبی کریم ﷺ اور ابوبکر صدیق ؓ کا فتوی ان کے اجتہاد سے رد نہیں ہوسکتا، اور ابن القیم نے اغاثۃ اللہ فان میں اس مسئلہ میں طویل کلام کیا ہے، اور ثابت کیا ہے کہ اس صورت میں ایک ہی طلاق پڑے گی، امام شوکانی کہتے ہیں: ابوموسی اشعری، ابن عباس، طاؤس، عطاء، جابر بن زید، احمد بن عیسی، عبد اللہ بن موسی، علی اور زید بن علی سے ایسا ہی منقول ہے، اور شیخ الاسلام ابن تیمیہ اور امام ابن القیم دونوں اسی طرف گئے ہیں، اور ابن مغیث نے کتاب الوثائق میں علی، ابن مسعود، عبدالرحمن بن عوف اور زبیر ؓ اور مشائخ قرطبہ کی جماعت سے ایسا ہی نقل کیا ہے، اور ابن منذر نے اصحاب ابن عباس ؓ سے ایسا ہی روایت کیا ہے کہ اس باب میں جو حدیثیں آئی ہیں ان سب میں ابن عباس ؓ کی یہ حدیث زیادہ صحیح ہے، جو صحیح مسلم میں ہے کہ تین طلاقیں نبی کریم ﷺ اور ابوبکر ؓ کی خلافت اور شروع عمر ؓ کی خلافت میں ایک طلاق شمار ہوتی تھیں، جب عمر ؓ کا زمانہ آیا اور لوگوں نے پے در پے طلاق دینا شروع کی تو عمر ؓ نے تینوں طلاق کو ان پر نافذ کردیا۔ علامہ ابن القیم نے اس مسئلہ کی تحقیق میں کتاب و سنت اور لغت اور صحابہ کے عمل سے دلیل لی، پھر کہا کہ اللہ کی کتاب اور سنت رسول اللہ اور لغت اور عرف اسی پر دلالت کرتے ہیں، نبی کریم ﷺ کے خلیفہ اور صحابہ اور عمر ؓ کی خلافت میں بھی تین برس تک لوگ اسی پر چلتے رہے، اگر کوئی ان کا شمار کرے تو ہزار سے زیادہ ان کی تعداد ہوگی، کسی نے اقرار کیا، کسی نے سکوت اختیار کیا، اور بعضوں نے جو کہا کہ عمر ؓ کے زمانہ سے پھر لوگوں نے انہی کے فتوی پر اجماع کرلیا، تو یہ ثابت نہیں، ہر زمانہ میں علماء اسی عہد اول کے فتوی پر فتوی دیتے رہے، امت کے عالم عبداللہ بن عباس ؓ نے مروی حدیث کے مطابق فتوی دیا، اس کو حماد بن زید نے ایوب سے، انہوں نے عکرمہ سے، انہوں نے ابن عباس ؓ سے نقل کیا کہ جب کسی نے ایک ہی دفعہ میں کہا: تجھ کو تین طلاق ہیں، تو ایک ہی طلاق پڑے گی، اور زبیر بن عوام، عبدالرحمن بن عوف ؓ نے بھی ایسا ہی فتوی دیا، یہ ابن وضاح نے نقل کیا ہے، اور تابعین میں سے عکرمہ، طاؤس نے ایسا ہی فتوی دیا اور تبع تابعین میں سے محمد بن اسحاق اور خلاس بن عمرو الہجری نے ایسا ہی فتوی دیا اور اتباع تبع تابعین میں داود بن علی اور ان کے اکثر اصحاب نے ایسا ہی فتوی دیا ہے، غرض یہ کہ ہر زمانہ میں علماء اور ائمہ اس قول کے موافق فتویٰ دیتے رہے، اور یہ قول بالاجماع متروک نہیں ہوا، اور کیونکر ہوسکتا ہے جب کتاب و سنت اور قیاس اور اجماع قدیم سے یہی ثابت ہے، اور اس کے بعد کسی اجماع نے اس کو باطل نہیں کیا، لیکن عمر ؓ نے ایک مصلحت سے اس کے خلاف رائے تجویز کی اور ان کا یہ فیصلہ کسی دوسرے پر حجت نہیں ہوسکتا، ہر مسلمان کی ذمہ داری ہے کہ جب صحیح حدیث مل جائے تو اس پر عمل کرے اور اس کے خلاف کسی کے فتوی اور کسی کا قیاس قبول نہ کرے، خواہ وہ کوئی ہو، اور اس مسئلہ کی مزید تفصیل کے لیے إعلام الموقعين، إغاثة اللهفان، رسالہ شوکانی، نیل الاوطار، مسک الختام، سنن ابن ماجہ مع حاشیہ مولانا وحیدالزمان حیدرآبادی کی طرف رجوع کیجئے، نیز تسمية المفتين کے نام سے ایک رسالہ اردو میں ترجمہ کر کے شائع کیا ہے جس میں قدیم و جدید علماء کی ایک بڑی تعداد کا ذکر ہے جو تین طلاقوں کو ایک قرار دیتی ہے۔ (فریوائی )
مطرف بن عبداللہ بن شخیر سے روایت ہے کہ عمران بن حصین ؓ سے اس شخص کے بارے میں پوچھا گیا جو اپنی بیوی کو طلاق دیدے پھر اس سے جماع کرے، اور اپنی طلاق اور رجعت پہ کسی کو گواہ نہ بنائے؟ تو عمران ؓ نے کہا: تم نے سنت کے خلاف طلاق دی، اور سنت کے خلاف رجعت کی، اپنی طلاق اور رجعت پہ گواہ بناؤ ١ ؎۔
Imran bin Husain was asked about a man who divorced his wife then had intercourse with her, and there were no witnesses to his divorcing her or his taking her back. Imran said: "You have divorced (her) in a manner that is not according to the Sunnah, and you have taken her back in a manner that is not according to the Sunnah. Bring people to witness your divorcing her and taking her back." (Sahih)
Notes · وضاحت
١ ؎: گواہی ان دونوں کے لئے شرط نہیں، ہاں مسنون ہے۔
زبیر بن عوام ؓ سے روایت ہے کہ ان کی زوجیت میں ام کلثوم بنت عقبہ تھیں، انہوں نے حمل کی حالت میں زبیر ؓ سے کہا: مجھے ایک طلاق دے کر میرا دل خوش کر دو، لہٰذا انہوں نے ایک طلاق دے دی، پھر وہ نماز کے لیے نکلے جب واپس آئے تو وہ بچہ جن چکی تھیں تو زبیر ؓ نے کہا: اسے کیا ہوگیا؟ اس نے مجھ سے مکر کیا ہے، اللہ اس سے مکر کرے، پھر وہ نبی اکرم ﷺ کے پاس آئے تو آپ ﷺ نے فرمایا: کتاب کی میعاد گزر گئی (اب رجوع کا اختیار نہیں رہا) لیکن اسے نکاح کا پیغام دے دو ١ ؎۔
It was narrated from Zubair bin Awwam that he was married to Umm Kulthum bint Uqbah, and she said to him when she was pregnant: "I will accept one divorce." So he divorced her once. Then he went out for prayer, and when he came back she had given birth. He said: "What is wrong with her? She misled me, may Allah mislead her!" Then he came to the Prophet ﷺ who said: "Her waiting period is over (and she is divorced); propose marriage anew to her." (Daif)
Notes · وضاحت
١ ؎: اگر وہ منظور کرے تو نیا نکاح ہوسکتا ہے، اس حدیث سے معلوم ہوا کہ حاملہ کی عدت طلاق میں بھی وضع حمل ہے، جیسے شوہر کے انتقال کے بعد بھی حاملہ کی عدت وضع حمل ہے، جیسا کہ قرآن کریم میں ہے: وَأُوْلاتُ الأَحْمَالِ أَجَلُهُنَّ (الطلاق: 4 )
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٣٦٤٥، ومصباح الزجاجة: ٧١٧) (صحیح) (حدیث کے شواہد ہیں، ملاحظہ ہو: الإرواء: ٢١١٧ )
ابوسنابل کہتے ہیں کہ سبیعہ اسلمیہ بنت حارث ؓ نے اپنے شوہر کی وفات کے بیس سے کچھ زائد دنوں بعد بچہ جنا، جب وہ نفاس سے پاک ہوگئیں تو شادی کی خواہشمند ہوئیں، تو یہ معیوب سمجھا گیا، اور اس کی خبر نبی اکرم ﷺ کو دی گئی تو آپ ﷺ نے فرمایا: اگر چاہے تو وہ ایسا کرسکتی ہے کیونکہ اس کی عدت گزر گئی ہے ۔
It was narrated that Abu Senabil said: "Subaiah Aslamiyyah bint Harith gave birth twenty-odd days after her husband died. When her postnatal bleeding ended, she adorned herself, and was criticized for doing that. Her case Was mentioned to the Prophet ﷺ and he said: If she does that, then her waiting period is over. (Hasan)
مسروق اور عمرو بن عتبہ سے روایت ہے کہ ان دونوں نے سبیعہ بنت حارث ؓ کو خط لکھا، وہ ان سے پوچھ رہے تھے کہ ان کا کیا معاملہ تھا؟ سبیعہ ؓ نے ان کو جواب لکھا کہ ان کے شوہر کی وفات کے پچیس دن بعد ان کے یہاں بچہ پیدا ہوا، پھر وہ خیر یعنی شوہر کی تلاش میں متحرک ہوئیں، تو ان کے پاس ابوسنابل بن بعکک گزرے تو انہوں نے کہا کہ تم نے جلدی کردی، دونوں میعادوں میں سے آخری میعاد چار ماہ دس دن عدت گزارو، یہ سن کر میں نبی اکرم ﷺ کے پاس آئی، اور عرض کیا: اللہ کے رسول! میرے لیے دعائے مغفرت کر دیجئیے، آپ ﷺ نے فرمایا: یہ کس لیے ؟ میں نے صورت حال بتائی تو آپ ﷺ نے فرمایا: اگر کوئی نیک اور دیندار شوہر ملے تو شادی کرلو ۔
It was narrated that Masruq and Amr bin Utbah wrote to Subai ah bint Harith, asking about her case. She wrote to them saying that she gave birth twenty-five days after her husband died. Then she prepared herself, seeking to remarry. Abu Sanabil bin Bakak passed by her and said: "You are in a hurry; observe waiting period for the longer period, four months and ten days." "SO I went to the Prophet ﷺ and said: O Messenger of Allah, pray for forgiveness for me, He said: Why is that? I told him (what had happened). He said: If you find a righteous husband then marry him. (Sahih)
مسور بن مخرمہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے سبیعہ ؓ کو حکم دیا کہ نفاس سے پاک ہونے کے بعد شادی کرلیں ١ ؎۔
It was narrated from Miswar bin Makhramah that the Prophet ﷺ told Subai’ah to get married, when her postnatal bleeding ended. (Sahih)
Notes · وضاحت
١ ؎: یہی حدیث صحیح بخاری و صحیح مسلم میں ام سلمہ ؓ سے مروی ہے، جس میں شوہر کے موت کے دس دن بعد بچہ جننے کا ذکر ہے، اور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: وہ نکاح کرے اور احمد اور دارقطنی نے ابن مسعود ؓ سے روایت کی کہ میں نے کہا: اللہ کے رسول! آیت کریمہ: وَأُوْلاتُ الأَحْمَالِ أَجَلُهُنَّ أَن يَضَعْنَ حَمْلَهُنَّ (سورة الطلاق: 4) کا حکم مطلقہ اور جس کا شوہر مرجائے دونوں کے لیے ہے؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا: دونوں کے لیے ہے، اس کو ابویعلی نے مسند میں، ضیاء مقدسی نے مختارہ میں اور ابن مردویہ نے تفسیر میں روایت کیا ہے، اس کی سند میں مثنی بن صباح کو ابن مردویہ نے ثقہ کہا ہے، اور ابن معین نے بھی ثقہ کہا جب کہ اکثر نے ان کو ضعیف کہا ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الطلاق ٣٩ (٥٣٢٠)، سنن النسائی/الطلاق ٥٦ (٣٥٣٦)، (تحفة الأشراف: ١١٢٧٢)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الطلاق ٣٠ (٨٥)، مسند احمد (٤/٣٢٧) (صحیح )
عبداللہ بن مسعود ؓ کہتے ہیں کہ اللہ کی قسم! جو کوئی چاہے ہم اس سے لعان کرلیں کہ چھوٹی سورة نساء (سورۃ الطلاق) اس آیت کے بعد اتری ہے جس میں چار ماہ دس دن کی عدت کا حکم ہے ١ ؎۔
It was narrated that ‘Abdulldh bin Mas’ud said: “By Allah, for those who would like to go through the process of praying for Allah’s curse to be upon the one who is wrong, the shorter Surah concerning women was revealed after (the Verses21 which speak of the waiting period o four months and ten (days).”
Notes · وضاحت
١ ؎: اور سورة طلاق میں یہ آیت وَأُوْلاتُ الأَحْمَالِ أَجَلُهُنَّ أَن يَضَعْنَ حَمْلَهُنَّ (سورة الطلاق: 4) حاملہ عورتوں کے باب میں ناسخ ہوگی پہلی آیت کی البتہ غیر حاملہ وفات کی عدت چار مہنیے دس دن گزارے۔
زینب بنت کعب بن عجرہ ؓ جو ابو سعید خدری ؓ کے نکاح میں تھیں سے روایت ہے کہ ابو سعید خدری ؓ کی بہن فریعہ بنت مالک ؓ نے کہا: میرے شوہر اپنے کچھ غلاموں کی تلاش میں نکلے اور ان کو قدوم کے کنارے پا لیا، ان غلاموں نے انہیں مار ڈالا، میرے شوہر کے انتقال کی خبر آئی تو اس وقت میں انصار کے ایک گھر میں تھی، جو میرے کنبہ والوں کے گھر سے دور تھا، میں نبی اکرم ﷺ کے پاس آئی اور میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میرے شوہر کی موت کی خبر آئی ہے اور میں اپنے کنبہ والوں اور بھائیوں کے گھروں سے دور ایک گھر میں ہوں، اور میرے شوہر نے کوئی مال نہیں چھوڑا جسے میں خرچ کروں یا میں اس کی وارث ہوں، اور نہ اپنا ذاتی کوئی گھر چھوڑا جس کے وہ مالک ہوتے، اب اگر آپ اجازت دیں تو میں اپنے خاندان کے گھر اور بھائیوں کے گھر میں آ جاؤں؟ یہ مجھے زیادہ پسند ہے، اس میں میرے بعض کام زیادہ چل جائیں گے، آپ ﷺ نے فرمایا: اگر تم چاہتی ہو تو ایسا کرلو ۔ فریعہ ؓ نے کہا کہ میں یہ سن کر ٹھنڈی آنکھوں کے ساتھ خوش خوش نکلی کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول ﷺ کی زبان پہ مجھے حکم دیا تھا، یہاں تک کہ میں ابھی مسجد میں یا حجرہ ہی میں تھی کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھے بلایا اور فرمایا: کیا کہتی ہو ؟ میں نے سارا قصہ پھر بیان کیا، تو آپ ﷺ نے فرمایا: اسی گھر میں جہاں تمہارے شوہر کے انتقال کی خبر آئی ہے ٹھہری رہو یہاں تک کہ کتاب (قرآن) میں لکھی ہوئی عدت (چار ماہ دس دن) پوری ہوجائے، فریعہ ؓ کہتی ہیں: پھر میں نے اسی گھر میں چار ماہ دس دن عدت کے گزارے ۔
It was narrated from Zainab bint Kab bin Ujrah, who was married to Abu Sa eed Al-Khudri, that his sister Furaiah bint Malik said: "My husband went out to pursue some slaves of his. He caught up with them at the edge of Qadum and they killed him. News of his death reached me when I was in one of the houses of the Ansar, far away from the house of my family and my brothers. I went to the Prophet ﷺ and said: O Messenger of Allah, there has come to me news of my husbands death and I am in a house far away from the house of my people and the house of my brothers. He did not leave any money that could be spent on me, or any inheritance, or any house I may take possession of. If you think that you could give me permission to join my family and my brothers, then that is what I prefer and is better for me ill some ways. He said: Do that if you wish. Then I went out, feeling happy with the ruling of Allah given upon the lips of the Messenger of Allah ﷺ , until, when I was in the Masjid, or, in one of the apartments, he called me and said: What did you say? I told him the story, and he said: Stay in the house in which the news of your husbands death came to you, until your waiting period is over." She said: "So I observed the waiting period there for four months and ten (days)." (Sahih)
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الطلاق ٤٤ (٢٣٠٠)، سنن الترمذی/الطلاق ٢٣ (١٢٠٤)، سنن النسائی/الطلاق ٦٠ (٣٥٥٨)، (تحفة الأشراف: ١٨٠٤٥)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الطلاق ٣١ (٨٧)، مسند احمد (٦/٣٧٠، ٤٢١) (صحیح )
عروہ کہتے ہیں کہ میں نے مروان کے پاس جا کر کہا کہ آپ کے خاندان کی ایک عورت کو طلاق دے دی گئی، میرا اس کے پاس سے گزر ہوا تو دیکھا کہ وہ گھر سے منتقل ہو رہی ہے، اور کہتی ہے: فاطمہ بنت قیس ؓ نے ہمیں حکم دیا ہے اور ہمیں بتایا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے انہیں گھر بدلنے کا حکم دیا تھا، مروان نے کہا: اسی نے اسے حکم دیا ہے۔ عروہ کہتے ہیں کہ تو میں نے کہا: اللہ کی قسم، عائشہ ؓ نے اس چیز کو ناپسند کیا ہے، اور کہا ہے کہ فاطمہ ؓ ایک خالی ویران مکان میں تھیں جس کی وجہ سے ان کے بارے میں ڈر پیدا ہوا، اسی لیے رسول اللہ ﷺ نے ان کو مکان بدلنے کی اجازت دی ١ ؎۔
It was narrated from Hisham bin Urwah that his father said: "I entered upon Marwan and said to him: A woman from your family has been divorced. I passed by her and she was moving. She said: Fatimah bint Qais told us to do that, and she told us that the Messenger of Allah ﷺ told her to move. Marwan said: She told them to do that." Urwah said: "I said: By Allah, Aisha (RA) did not like that, and said: "Fatimah was living in a deserted house and it was feared for her (safety and well being), so the Messenger of Allah ﷺ granted a concession to her." (Hasan)
Notes · وضاحت
١ ؎: دوسری روایت میں ہے کہ زبان درازی کی وجہ سے آپ ﷺ نے ان کو اجازت دی تاکہ لڑائی نہ ہو، مروان نے کہا: اس بیوی اور شوہر میں بھی ایسی لڑائی ہے، لہٰذا اس کا ہٹا دینا بجا ہے، غرض مروان نے یہ قیاس کیا۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الطلاق ١٤ (٥٣٢١، ٥٣٢٦، تعلیقاً )، سنن ابی داود/الطلاق ٤٠ (٢٢٩٢)، (تحفة الأشراف: ١٧٠١٨) (حسن) (سند میں عبد العزیز بن عبد اللہ اور عبد الرحمن بن ابی الزناد ضعیف ہیں، لیکن شواہد کی بناء پر یہ حدیث حسن ہے، نیز ملاحظہ ہو: صحیح ابی داود: ١٩٨٤ و فتح الباری: ٩ /٤٢٩- ٤٨٠ )
ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ فاطمہ بنت قیس ؓ نے کہا: اللہ کے رسول! میں ڈرتی ہوں کہ کوئی میرے پاس گھس آئے، تو آپ نے انہیں وہاں سے منتقل ہوجانے کا حکم دیا۔
It was narrated that Aisha (RA) said: "Fatimah bint Qais said: O Messenger of Allah. I am afraid that someone may enter upon me by force. So he told her to move." (Sahih)
جابر بن عبداللہ ؓ کہتے ہیں کہ میری خالہ کو طلاق دے دی گئی، پھر انہوں نے اپنی کھجوریں توڑنے کا ارادہ کیا، تو ایک شخص نے انہیں گھر سے نکل کر باغ جانے پر ڈانٹا تو وہ نبی اکرم ﷺ کے پاس آئیں، آپ ﷺ نے فرمایا: ٹھیک ہے، تم اپنی کھجوریں توڑو، ممکن ہے تم صدقہ کرو یا کوئی کار خیر انجام دو ١ ؎۔
It was narrated that Jâbir bin ‘AbduIlâh said: “My maternal aunt was divorced, and she wanted to collect the harvest from her date-palm trees. A man rebuked her for going out to the trees. She went to the Prophet ﷺ , who said: ‘No, go and collect the harvest from your trees, for perhaps you will give some in charity or do a good deed with it.’” (Sahih)
Notes · وضاحت
١ ؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ جو عورت طلاق کی عدت میں ہو اس کا گھر سے نکلنا جائز ہے۔
ابوبکر بن ابی جہم بن صخیر عدوی کہتے ہیں کہ میں نے فاطمہ بنت قیس ؓ کو کہتے سنا کہ ان کے شوہر نے انہیں تین طلاقیں دے دیں، تو رسول اللہ ﷺ نے انہیں سکنیٰ (جائے رہائش) اور نفقہ کا حقدار نہیں قرار دیا ١ ؎۔
It was narrated that Abu Bakr (RA) bin Abu Jahm bin Sukhair Al-Adawi said: "I heard Fatimah bint Qais say that her husband divorced her three times. and the Messenger of Allah ﷺ did not say that she was entitled to accommodation and maintenance." (Sahih)
Notes · وضاحت
١ ؎: اہلحدیث کے نزدیک طلاق رجعی والی عورت کا نفقہ (خرچ) اور سکنی (رہائش) شوہر پر واجب ہے، اور جس کو طلاق بائنہ یعنی تین طلاق دی جائیں اس کے لئے نہ نفقہ ہے نہ سکنی، امام احمد، اسحاق، ابو ثور، ابو داود اور ان کے اتباع کا یہی مذہب ہے، اور بحر میں ابن عباس ؓ، حسن بصری، عطاء، شعبی، ابن ابی لیلیٰ، اوزاعی اور امامیہ کا قول بھی یہی نقل کیا گیا ہے، اسی طرح جس عورت کا شوہر وفات پا گیا ہو اس کے لئے بھی عدت میں نفقہ اور سکنی نہیں ہے، اہلحدیث کے نزدیک البتہ حاملہ ہو تو وضع حمل تک نفقہ اور سکنی واجب ہے خواہ وفات پائے ہوئے شوہر والی ہو یا طلاق بائن والی کیونکہ قرآن میں ہے: وَإِن كُنَّ أُولاتِ حَمْلٍ فَأَنفِقُوا عَلَيْهِنَّ حَتَّى يَضَعْنَ حَمْلَهُنَّ (سورة الطلاق: 6)۔