حاملہ عورت کا طلاق دینے کا طریقہ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَعَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ مَوْلَى آلِ طَلْحَةَ، عَنْ سَالِمٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّهُ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ وَهِيَ حَائِضٌ، فَذَكَرَ ذَلِكَ عُمَرُ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: مُرْهُ فَلْيُرَاجِعْهَا، ثُمَّ يُطَلِّقْهَا وَهِيَ طَاهِرٌ، أَوْ حَامِلٌ.
عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے اپنی بیوی کو حیض کی حالت میں طلاق دے دی، تو عمر ؓ نے نبی اکرم ﷺ سے اس کا ذکر کیا، تو آپ ﷺ نے فرمایا: انہیں حکم دو کہ رجوع کرلیں، پھر طہر کی یا حمل کی حالت میں طلاق دیں ١ ؎۔
It was narrated from Ibn Umar that he divorced his wifen then she was menstruating, and Umar mentioned that to the Prophet ﷺ . He said: "Tell him to take her back then divorce her when she is pure (not menstruating) or pregnant" (Sahih)