Sunan Ibne-Majah 2028

طلاق کا بیان

2028Sunan Ibne-Majah

وفات پا جانے والے شخص کی حاملہ بیوی کی عدت بچہ جنتے ساتھ ہی پوری ہوجائیگی۔

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدٍ، عَنْ الشَّعْبِيِّ، عَنْ مَسْرُوقٍ، وَعَمْرِو بْنِ عُتْبَةَ، أنهما كتبا إلى سبيعة بنت الحارث يسألانها عَنْ أَمْرِهَا، فَكَتَبَتْ إِلَيْهِمَا إِنَّهَا وَضَعَتْ بَعْدَ وَفَاةِ زَوْجِهَا بِخَمْسَةٍ وَعِشْرِينَ، فَتَهَيَّأَتْ تَطْلُبُ الْخَيْرَ، فَمَرَّ بِهَا أَبُو السَّنَابِلِ بْنُ بَعْكَكٍ، فَقَالَ: قَدْ أَسْرَعْتِ اعْتَدِّي آخِرَ الْأَجَلَيْنِ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا، فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، اسْتَغْفِرْ لِي، قَالَ: وَفِيمَ ذَاكَ، فَأَخْبَرْتُهُ، فَقَالَ: إِنْ وَجَدْتِ زَوْجًا صَالِحًا، فَتَزَوَّجِي.

مسروق اور عمرو بن عتبہ سے روایت ہے کہ ان دونوں نے سبیعہ بنت حارث ؓ کو خط لکھا، وہ ان سے پوچھ رہے تھے کہ ان کا کیا معاملہ تھا؟ سبیعہ ؓ نے ان کو جواب لکھا کہ ان کے شوہر کی وفات کے پچیس دن بعد ان کے یہاں بچہ پیدا ہوا، پھر وہ خیر یعنی شوہر کی تلاش میں متحرک ہوئیں، تو ان کے پاس ابوسنابل بن بعکک گزرے تو انہوں نے کہا کہ تم نے جلدی کردی، دونوں میعادوں میں سے آخری میعاد چار ماہ دس دن عدت گزارو، یہ سن کر میں نبی اکرم ﷺ کے پاس آئی، اور عرض کیا: اللہ کے رسول! میرے لیے دعائے مغفرت کر دیجئیے، آپ ﷺ نے فرمایا: یہ کس لیے ؟ میں نے صورت حال بتائی تو آپ ﷺ نے فرمایا: اگر کوئی نیک اور دیندار شوہر ملے تو شادی کرلو ۔

It was narrated that Masruq and Amr bin Utbah wrote to Subai ah bint Harith, asking about her case. She wrote to them saying that she gave birth twenty-five days after her husband died. Then she prepared herself, seeking to remarry. Abu Sanabil bin Bakak passed by her and said: "You are in a hurry; observe waiting period for the longer period, four months and ten days." "SO I went to the Prophet ﷺ and said: O Messenger of Allah, pray for forgiveness for me, He said: Why is that? I told him (what had happened). He said: If you find a righteous husband then marry him. (Sahih)

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/المغازي ١٠ تعلیقاً (٣٩٩١)، الطلاق ٣٩ (٥٣١٩)، صحیح مسلم/الطلاق ٨ (١٤٨٤)، سنن ابی داود/الطلاق ٤٧ (٢٣٠٦)، سنن النسائی/الطلاق ٥٦ (٣٥٤٨)، (تحفة الأشراف: ١٥٨٩٠)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٦/٤٣٢) (صحیح )