وفات پا جانے والے شخص کی حاملہ بیوی کی عدت بچہ جنتے ساتھ ہی پوری ہوجائیگی۔
حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دَاوُدَ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْالْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَأَمَرَ سُبَيْعَةَ أَنْ تَنْكِحَ إِذَا تَعَلَّتْ مِنْ نِفَاسِهَا.
مسور بن مخرمہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے سبیعہ ؓ کو حکم دیا کہ نفاس سے پاک ہونے کے بعد شادی کرلیں ١ ؎۔
It was narrated from Miswar bin Makhramah that the Prophet ﷺ told Subai’ah to get married, when her postnatal bleeding ended. (Sahih)
Notes · وضاحت
١ ؎: یہی حدیث صحیح بخاری و صحیح مسلم میں ام سلمہ ؓ سے مروی ہے، جس میں شوہر کے موت کے دس دن بعد بچہ جننے کا ذکر ہے، اور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: وہ نکاح کرے اور احمد اور دارقطنی نے ابن مسعود ؓ سے روایت کی کہ میں نے کہا: اللہ کے رسول! آیت کریمہ: وَأُوْلاتُ الأَحْمَالِ أَجَلُهُنَّ أَن يَضَعْنَ حَمْلَهُنَّ (سورة الطلاق: 4) کا حکم مطلقہ اور جس کا شوہر مرجائے دونوں کے لیے ہے؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا: دونوں کے لیے ہے، اس کو ابویعلی نے مسند میں، ضیاء مقدسی نے مختارہ میں اور ابن مردویہ نے تفسیر میں روایت کیا ہے، اس کی سند میں مثنی بن صباح کو ابن مردویہ نے ثقہ کہا ہے، اور ابن معین نے بھی ثقہ کہا جب کہ اکثر نے ان کو ضعیف کہا ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الطلاق ٣٩ (٥٣٢٠)، سنن النسائی/الطلاق ٥٦ (٣٥٣٦)، (تحفة الأشراف: ١١٢٧٢)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الطلاق ٣٠ (٨٥)، مسند احمد (٤/٣٢٧) (صحیح )