Sunan Ibne-Majah 2030

طلاق کا بیان

2030Sunan Ibne-Majah

وفات پا جانے والے شخص کی حاملہ بیوی کی عدت بچہ جنتے ساتھ ہی پوری ہوجائیگی۔

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ مُسْلِمٍ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ: وَاللَّهِ لَمَنْ شَاءَ لَاعَنَّاهُ لَأُنْزِلَتْ سُورَةُ النِّسَاءِ الْقُصْرَى بَعْدَ أَرْبَعَةِ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا.

عبداللہ بن مسعود ؓ کہتے ہیں کہ اللہ کی قسم! جو کوئی چاہے ہم اس سے لعان کرلیں کہ چھوٹی سورة نساء (سورۃ الطلاق) اس آیت کے بعد اتری ہے جس میں چار ماہ دس دن کی عدت کا حکم ہے ١ ؎۔

It was narrated that ‘Abdulldh bin Mas’ud said: “By Allah, for those who would like to go through the process of praying for Allah’s curse to be upon the one who is wrong, the shorter Surah concerning women was revealed after (the Verses21 which speak of the waiting period o four months and ten (days).”

Notes · وضاحت
١ ؎: اور سورة طلاق میں یہ آیت وَأُوْلاتُ الأَحْمَالِ أَجَلُهُنَّ أَن يَضَعْنَ حَمْلَهُنَّ (سورة الطلاق: 4) حاملہ عورتوں کے باب میں ناسخ ہوگی پہلی آیت کی البتہ غیر حاملہ وفات کی عدت چار مہنیے دس دن گزارے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الطلاق ٤٧ (٢٣٠٧)، سنن النسائی/الطلاق ٥٦ (٣٥٥٢)، (تحفة الأشراف: ٩٥٧٨)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/تفسیر سورة الطلاق ٢ (٤٩٠٩) (صحیح )