وفات پا جانے والے شخص کی حاملہ بیوی کی عدت بچہ جنتے ساتھ ہی پوری ہوجائیگی۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ مُسْلِمٍ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ: وَاللَّهِ لَمَنْ شَاءَ لَاعَنَّاهُ لَأُنْزِلَتْ سُورَةُ النِّسَاءِ الْقُصْرَى بَعْدَ أَرْبَعَةِ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا.
عبداللہ بن مسعود ؓ کہتے ہیں کہ اللہ کی قسم! جو کوئی چاہے ہم اس سے لعان کرلیں کہ چھوٹی سورة نساء (سورۃ الطلاق) اس آیت کے بعد اتری ہے جس میں چار ماہ دس دن کی عدت کا حکم ہے ١ ؎۔
It was narrated that ‘Abdulldh bin Mas’ud said: “By Allah, for those who would like to go through the process of praying for Allah’s curse to be upon the one who is wrong, the shorter Surah concerning women was revealed after (the Verses21 which speak of the waiting period o four months and ten (days).”