Sunan Ibne-Majah 2034

طلاق کا بیان

2034Sunan Ibne-Majah

دوران عدت خاتون گھر سے باہر جاسکتی ہے یا نہیں ؟

حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ وَكِيعٍ، حَدَّثَنَا رَوْحٌ . ح وحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ، حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ جَمِيعًا، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: طُلِّقَتْ خَالَتِي، فَأَرَادَتْ أَنْ تَجُدَّ نَخْلَهَا فَزَجَرَهَا رَجُلٌ، أَنْ تَخْرُجَ إِلَيْهِ، فَأَتَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: بَلَى، فَجُدِّي نَخْلَكِ، فَإِنَّكِ عَسَى أَنْ تَصَدَّقِي، أَوْ تَفْعَلِي مَعْرُوفًا.

جابر بن عبداللہ ؓ کہتے ہیں کہ میری خالہ کو طلاق دے دی گئی، پھر انہوں نے اپنی کھجوریں توڑنے کا ارادہ کیا، تو ایک شخص نے انہیں گھر سے نکل کر باغ جانے پر ڈانٹا تو وہ نبی اکرم ﷺ کے پاس آئیں، آپ ﷺ نے فرمایا: ٹھیک ہے، تم اپنی کھجوریں توڑو، ممکن ہے تم صدقہ کرو یا کوئی کار خیر انجام دو ١ ؎۔

It was narrated that Jâbir bin ‘AbduIlâh said: “My maternal aunt was divorced, and she wanted to collect the harvest from her date-palm trees. A man rebuked her for going out to the trees. She went to the Prophet ﷺ , who said: ‘No, go and collect the harvest from your trees, for perhaps you will give some in charity or do a good deed with it.’” (Sahih)

Notes · وضاحت
١ ؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ جو عورت طلاق کی عدت میں ہو اس کا گھر سے نکلنا جائز ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الطلاق ٧ (١٤٨١)، سنن ابی داود/الطلاق ٤١ (٢٢٩٧)، سنن النسائی/الطلاق ٧١ (٣٥٨٠)، (تحفة الأشراف: ٢٧٩٩)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/٣٢١)، سنن الدارمی/الطلاق ١٤ (٢٣٣٤) (صحیح )