حج کا بیان

Sunan Ibne-Majah · Chapter 27 · 238 hadiths · Page 1 of 12

2882Sunan Ibne-Majah

حج کیلئے سفر کرنا۔

حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، وَأَبُو مُصْعَبٍ الزُّهْرِيُّ، وَسُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ، قَالُوا: حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنْ سُمَيٍّ مَوْلَى أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ السَّمَّانِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: السَّفَرُ قِطْعَةٌ مِنَ الْعَذَابِ يَمْنَعُ أَحَدَكُمْ نَوْمَهُ وَطَعَامَهُ وَشَرَابَهُ، فَإِذَا قَضَى أَحَدُكُمْ نَهْمَتَهُ مِنْ سَفَرِهِ فَلْيُعَجِّلِ الرُّجُوعَ إِلَى أَهْلِهِ. حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ حُمَيْدِ بْنِ كَاسِبٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ سُهَيْلٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِنَحْوِهِ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: سفر عذاب کا ایک ٹکڑا ہے، وہ تمہارے سونے، اور کھانے پینے (کی سہولتوں) میں رکاوٹ بنتا ہے، لہٰذا تم میں سے کوئی جب اپنے سفر کی ضرورت پوری کرلے، تو جلد سے جلد اپنے گھر لوٹ آئے ۔

It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Messenger of Allah ﷺ said: "Traveling is a kind of torment, it keeps anyone of you from his sleep, food and drink. When anyone of you has fulfilled the purpose for which he traveled, let him hasten to return to his family." (Sahih) Another chain from Abu Hurairah (RA) h, from the Prophet ﷺ with similar wording. (Sahih)

Notes · وضاحت
١ ؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ بلا ضرورت سفر میں رہنا اور تکلیفیں اٹھانا صحیح نہیں ہے، یہ بھی معلوم ہوا کہ سفر گرچہ حج یا جہاد کے لیے ہو تب بھی کام پورا ہونے کے بعد جلدی گھر لوٹنا بہتر ہے، اس میں خود اس شخص کو بھی آرام ہے اور اس کے گھر والوں کو بھی جو جدائی سے پریشان رہتے ہیں، اور مدت دراز تک شوہر کا اپنی بیوی سے علاحدہ رہنا بھی مناسب نہیں ہے، حاجت بشری اور خواہش انسانی ساتھ لگی ہوئی ہے مبادا گناہ میں گرفتاری ہو، اللہ بچائے۔ اس سند سے بھی ابوہریرہ ؓ سے اسی طرح مروی ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/العمرة ١٩ (١٨٠٤)، الجہاد ١٣٦ (٣٠٠١)، الأطعمة ٣٠ (٥٤٢٩)، صحیح مسلم/الإمارة ٥٥ (١٩٢٧)، (تحفة الأشراف: ١٢٥٧٢)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الاستئذان ١٥ (٣٩)، مسند احمد (٢/٢٣٦، ٤٤٥)، سنن الدارمی/الاستئذان ٤٠ (٢٧١٢) (صحیح )
2883Sunan Ibne-Majah

حج کیلئے سفر کرنا۔

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، وَعَمْرُو بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل أَبُو إِسْرَائِيلَ، عَنْ فُضَيْلِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ الْفَضْلِ، أَوْ أَحَدِهِمَا عَنِ الْآخَرِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ أَرَادَ الْحَجَّ فَلْيَتَعَجَّلْ، فَإِنَّهُ قَدْ يَمْرَضُ الْمَرِيضُ، وَتَضِلُّ الضَّالَّةُ، وَتَعْرِضُ الْحَاجَةُ.

عبداللہ بن عباس، فضل ؓ سے روایت کرتے ہیں یا ان میں ایک دوسرے سے روایت کرتے ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو شخص حج کا قصد کرے تو اسے جلدی سے انجام دے لے، اس لیے کہ کبھی آدمی بیمار پڑجاتا ہے یا کبھی کوئی چیز گم ہوجاتی ہے، (جیسے سواری وغیرہ) یا کبھی کوئی ضرورت پیش آجاتی ہے ١ ؎۔

It was narrated from Ibn ‘Abbâs that Fadl said — or vice versa: “The Messenger of Allah ﷺ said: ‘Whoever intends to perform Hajj, let him hasten to do so, for he may fall sick, lose his mount, or be faced with some need.” (Hasan)

Notes · وضاحت
١ ؎: تاخیر کی صورت میں اس قسم کے حالات سے دو چار ہوسکتا ہے، اور آدمی ایک فرض کا تارک ہوسکتا ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١١٠٤٧، ومصباح الزجاجة: ١٠١٥)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/المناسک ٦ (١٧٣٢)، مسند احمد (١/٢٢٥، ٣٢٣، ٣٥٥)، سنن الدارمی/الحج ١ (١٨٢٥) (حسن) (سند میں اسماعیل بن خلیفہ ضعیف ہیں، لیکن متابعات و شواہد کی وجہ سے یہ حسن ہے، ملاحظہ ہو: الإرواء: ٩٩٠ )
2884Sunan Ibne-Majah

فرضیت حج۔

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، وَعَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا مَنْصُورُ بْنُ وَرْدَانَ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي الْبَخْتَرِيِّ، عَنْ عَلِيٍّ، قَالَ: لَمَّا نَزَلَتْ وَلِلَّهِ عَلَى النَّاسِ حِجُّ الْبَيْتِ مَنِ اسْتَطَاعَ إِلَيْهِ سَبِيلا سورة آل عمران آية 97، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، الْحَجُّ فِي كُلِّ عَامٍ؟، فَسَكَتَ، ثُمَّ قَالُوا: أَفِي كُلِّ عَامٍ؟، فَقَالَ: لَا، وَلَوْ قُلْتُ: نَعَمْ، لَوَجَبَتْ، فَنَزَلَتْ يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لا تَسْأَلُوا عَنْ أَشْيَاءَ إِنْ تُبْدَ لَكُمْ تَسُؤْكُمْ سورة المائدة آية 101.

علی ؓ کہتے ہیں کہ جب آیت کریمہ: ولله على الناس حج البيت من استطاع إليه سبيلا اللہ کے لیے ان لوگوں پر بیت اللہ کا حج کرنا فرض ہے، جو وہاں تک پہنچنے کی قدرت رکھتے ہوں (سورۃ آل عمران: ٩٧ ) نازل ہوئی تو لوگوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا حج ہر سال فرض ہے ١ ؎؟ آپ ﷺ خاموش رہے، لوگوں نے پھر سوال کیا: کیا ہر سال حج فرض ہے؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا: نہیں، اور اگر میں، ہاں، کہہ دیتا تو (ہر سال) واجب ہوجاتا ، اس پر آیت کریمہ: يا أيها الذين آمنوا لا تسألوا عن أشياء إن تبد لکم تسؤكم اے ایمان والو! تم ان چیزوں کے بارے میں سوال نہ کرو اگر وہ تم پر ظاہر کردی جائیں تو تمہارے لیے بار خاطر ہوں گی (سورۃ المائدہ: ١٠١ ) نازل ہوئی ٢ ؎۔

It was narrated that Ali said: "When the following was revealed: "And Hajj (pilgrimage to Makkah) to the House (Ka’bahh) is a duty that mankind owes to Allah, for whoever can bear the way." They asked: O Messenger of Allah, is Hajj every Year? He remained silent. They asked: Is it every year? He said: No. I had said yes, It wouId have become obligatory. Then the following was revealed: "O you who believe! Ask not about things which, if made plain to you, may cause you trouble. (Hasan)

Notes · وضاحت
١ ؎: حج اسلام کا پانچواں بنیادی رکن ہے جو ٥ ھ یا ٦ ھ میں فرض ہوا، بعض لوگوں کے نزدیک ٩ ھ یا ١٠ ھ میں فرض ہوا ہے زادالمعاد میں حافظ ابن القیم کا رجحان اسی طرف ہے۔ ٢ ؎: بلا ضرورت سوال کرنا منع ہے، کیونکہ سوال سے ہر چیز کھول کر بیان کی جاتی ہے اور جو سوال نہ ہو تو مجمل رہتی ہے اور مجمل میں بڑی گنجائش رہتی ہے، اسی حج کی آیت میں دیکھیں کہ اس میں تفصیل نہیں تھی کہ ہر سال حج فرض ہے یا زندگی میں ایک بار، پس اگر زندگی میں ایک بار بھی حج کرلیا تو آیت پر عمل ہوگیا، اور یہ کافی تھا پوچھنے کی حاجت نہ تھی، لیکن صحابہ کرام ؓ نے پوچھا، اگر رسول اکرم ﷺ ہاں فرما دیتے تو ہر سال حج فرض ہوجاتا اور امت کو بڑی تکلیف ہوتی خصوصاً دور دراز ملک والوں کو وہ ہر سال حج کے لیے کیونکر جاسکتے ہیں، مگر آپ ﷺ نے اپنی امت پر رحم فرمایا، اور خاموش رہے جب انہوں نے پھر سوال کیا تو انکار میں جواب دیا یعنی ہر سال فرض نہیں، اور آئندہ کے لیے ان کو بلاضرورت سوال کرنے سے منع فرمایا۔
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الحج ٥ (٨١٤)، (تحفة الأشراف: ١٠١١١)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/١١٣) (ضعیف) (سند میں عبدالاعلی ضعیف راوی ہیں، لیکن متن حدیث نزول آیت کے علاوہ صحیح و ثابت ہے، ملاحظہ ہو: آگے حدیث نمبر ٢٨٨٥ )
2885Sunan Ibne-Majah

فرضیت حج۔

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عُبَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ، عَنْأَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، الْحَجُّ فِي كُلِّ عَامٍ؟، قَالَ: لَوْ قُلْتُ: نَعَمْ، لَوَجَبَتْ، وَلَوْ وَجَبَتْ، لَمْ تَقُومُوا بِهَا، وَلَوْ لَمْ تَقُومُوا بِهَا عُذِّبْتُمْ.

انس ؓ کہتے ہیں کہ لوگوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا حج ہر سال واجب ہے؟ آپ ﷺ نے جواب دیا: اگر میں ہاں کہہ دوں تو وہ (ہر سال) واجب ہوجائے گا، اور اگر (ہر سال) واجب ہوگیا تو تم اسے انجام نہ دے سکو گے، اور اگر انجام نہ دے سکے تو تمہیں عذاب دیا جائے گا ۔

It was narrated that Anas bin Malik (RA) said: "They said: O Messenger of Allah, is Hajj (required) every year? He said: I were to say yes, it would have become obligatory, and if it were to become obligatory, you would not (be able to) do it, and if you did not do it you would be Punished. (Sahih)

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٩٢٧، ومصباح الزجاجة: ١٠١٦)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/٣٨٧) (صحیح )
2886Sunan Ibne-Majah

فرضیت حج۔

حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَنْبَأَنَا سُفْيَانُ بْنُ حُسَيْنٍ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي سِنَانٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ: أَنَّ الْأَقْرَعَ بْنَ حَابِسٍ، سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، الْحَجُّ فِي كُلِّ سَنَةٍ أَوْ مَرَّةً وَاحِدَةً؟، قَالَ: بَلْ مَرَّةً وَاحِدَةً فَمَنِ اسْتَطَاعَ فَتَطَوَّعَ.

عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ اقرع بن حابس ؓ نے نبی اکرم ﷺ سے سوال کیا اور کہا: اللہ کے رسول! کیا حج ہر سال فرض ہے، یا صرف ایک بار؟ آپ ﷺ نے فرمایا: نہیں، صرف ایک مرتبہ فرض ہے، البتہ جو (مزید کی) استطاعت رکھتا ہو تو وہ اسے بطور نفل کرے ۔

It was narrated from Ibn Abbas that Aqre bin Habis asked the Prophet ﷺ "O Messenger of Allah, is Hajj (required) every year, or just once?" He said: "Rather it is just once. And whoever can perform Hajj voluntarily, let him do so." (Sahih)

Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الحج ١ (١٧٢١)، سنن النسائی/الحج ١ (٢٦٢١)، (تحفة الأشراف: ٦٥٥٦، ومصباح الزجاجة: ١٠١٧)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/٢٥٥، ٢٩٠، ٣٠١، ٣٠٣، ٣٢٣، ٣٢٥، ٣٥٢، ٣٧٠، ٣٧١)، سنن الدارمی/الحج ٤ (١٨٢٩) (صحیح )
2887Sunan Ibne-Majah

حج اور عمرہ کی فضیلت۔

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَامِرٍ، عَنْعُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: تَابِعُوا بَيْنَ الْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ، فَإِنَّ الْمُتَابَعَةَ بَيْنَهُمَا تَنْفِي الْفَقْرَ وَالذُّنُوبَ، كَمَا يَنْفِي الْكِيرُ خَبَثَ الْحَدِيدِ. حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ.

عمر ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: حج اور عمرہ کو یکے بعد دیگرے ادا کرو، اس لیے کہ انہیں باربار کرنا فقر اور گناہوں کو ایسے ہی دور کردیتا ہے جیسے بھٹی لوہے کے میل کو ۔

It was narrated from Umar that the Prophet ﷺ said: "Perform Hajj and Ummh, one after the other, for performing them one after the other removes poverty and sin as the bellows removes impurity from iron." (Sahih) Another chain with similar wording.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٠٤٧٧، ومصباح الزجاجة: ١٠١٨) (صحیح) (سند میں عاصم بن عبید اللہ ضعیف راوی ہیں، لیکن اصل حدیث ابن مسعود ؓ وغیرہ سے ثابت ہے، ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الصحیحة، للالبانی: ١٢٠٠ ) اس سند سے بھی عمر بن خطاب ؓ سے اسی جیسی حدیث مروی ہے۔
2888Sunan Ibne-Majah

حج اور عمرہ کی فضیلت۔

حَدَّثَنَا أَبُو مُصْعَبٍ، حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنْ سُمَيٍّ مَوْلَى أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ السَّمَّانِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: الْعُمْرَةُ إِلَى الْعُمْرَةِ كَفَّارَةُ مَا بَيْنَهُمَا، وَالْحَجُّ الْمَبْرُورُ لَيْسَ لَهُ جَزَاءٌ إِلَّا الْجَنَّةُ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: ایک عمرے سے دوسرے عمرے تک جتنے گناہ ہوں ان سب کا کفارہ یہ عمرہ ہوتا ہے، اور حج مبرور (مقبول) کا بدلہ سوائے جنت کے کچھ اور نہیں ١ ؎۔

It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Prophet ﷺ said: "From one Umrah to another is an expiation for the sins that came in between them, and Hajj Mabrur (an accepted Hajj) brings no less a reward than Paradise." (Sahih)

Notes · وضاحت
١ ؎: حج مبرور: حج مقبول کو کہتے ہیں اور بعض کے نزدیک مبرور وہ حج ہے جس میں کوئی گناہ سرزد نہ ہو، نیز ایک قول یہ بھی ہے کہ حج مبرور وہ حج ہے جس میں حج کے تمام شرائط اور آداب کی پابندی کی گئی ہو، اور بعضوں نے کہا کہ حج مبرور کی نشانی یہ ہے کہ اس کے بعد حاجی کا حال بدل جائے یعنی توجہ الی اللہ اور عبادت میں مصروف رہے، اور جن گناہوں کو حج سے پہلے کیا کرتا تھا ان سے باز رہے۔ واللہ اعلم۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/العمرة ١ (١٧٧٣)، صحیح مسلم/الحج ٧٩ (١٣٤٩)، سنن النسائی/الحج ٥ (٢٦٣٠)، (تحفة الأشراف: ١٢٥٧٣)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الحج ٩٠ (٩٣٣)، موطا امام مالک/الحج ٢١ (٦٥)، مسند احمد (٢/٢٤٦، ٤٦١، ٤٦٢)، سنن الدارمی/الحج ٧ (١٨٣٦) (صحیح )
2889Sunan Ibne-Majah

حج اور عمرہ کی فضیلت۔

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ مِسْعَرٍ، وَسُفْيَانُ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ حَجَّ هَذَا الْبَيْتَ فَلَمْ يَرْفُثْ وَلَمْ يَفْسُقْ، رَجَعَ كَمَا وَلَدَتْهُ أُمُّهُ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس نے اس گھر (کعبہ) کا حج کیا، اور نہ (ایام حج میں) جماع کیا، اور نہ گناہ کے کام کئے، تو وہ اس طرح واپس آئے گا جیسے اس کی ماں نے اسے جنم دیا ہے ۔

It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Messenger of Allah ﷺ said: "Whoever performs Hajj to this House, and does not have sexual relations nor commit any disobedience, will go back like the day his mother bore him." (Sahih)

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الإیمان ١٨ (٢٦)، الحج ٤ (١٥١٩ و ١٥٢١)، المحصر ٩ (١٨١٩)، ١٠ (١٨٢٠)، صحیح مسلم/الحج ٧٨ (١٣٥٠)، سنن الترمذی/الحج ٢ (٨١١)، سنن النسائی/الحج ٤ (٢٦٢٨)، (تحفة الأشراف: ١٣٤٣١)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/٢٢٩، ٢٤٨، ٤١٠، ٤٨٤، ٤٩٤)، سنن الدارمی/الحج ٧ (١٨٣٦) (صحیح) (تراجع الألبانی: رقم: ٣٤٢ )
2890Sunan Ibne-Majah

کجاوہ پر سوار ہو کر حج کرنا۔

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ الرَّبِيعِ بْنِ صَبِيحٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبَانَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: حَجَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى رَحْلٍ رَثٍّ، وَقَطِيفَةٍ تُسَاوِي أَرْبَعَةَ دَرَاهِمَ أَوْ لَا تُسَاوِي، ثُمَّ قَالَ: اللَّهُمَّ حَجَّةٌ لَا رِيَاءَ فِيهَا، وَلَا سُمْعَةَ.

انس بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے ایک پرانے کجاوے پر سوار ہو کر ایک ایسی چادر میں حج کیا جس کی قیمت چار درہم کے برابر رہی ہوگی، یا اتنی بھی نہیں، پھر فرمایا: اے اللہ! یہ ایسا حج ہے جس میں نہ ریا کاری ہے اور نہ شہرت ١ ؎۔

It was narrated that Anas bin Malik (RA) said: "The Prophet ﷺ performed Hajj on an old saddle, wearing a cloak that was worth four Dirham or less. Then he said: O Allah, a Hajj in which there is no showing off nor reputation sought." (Hasan)

Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی خالص تیری رضا مندی اور ثواب کے لیے حج کرتا ہوں، نہ نمائش اور فخر و مباہات کے لیے، اس حدیث سے معلوم ہوا کہ حج میں زیادہ زیب و زینت کرنا اور زیادہ عمدہ سواری یا عمدہ لباس رکھنا خلاف سنت ہے، حج میں بندہ اپنے مالک کے حضور میں جاتا ہے تو جس قدر عاجزی کے ساتھ جائے پھٹے پرانے حال سے اتنا ہی بہتر ہے تاکہ مالک کی رحمت جوش میں آئے، اور یہی وجہ ہے کہ حج میں سلے ہوئے کپڑے پہننے سے اور خوشبو لگانے سے منع کیا گیا ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٦٧٢، ومصباح الزجاجة: ١٠١٩)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الحج ٣ (١٥١٧)، عن ثمامة بن عبد اللہ بن أنس قال: حج أنس علی رحل ولم یکن شحیحاً وحدث أن رسول اللہ ﷺ حج علی رحل وکانت زاعلتہ (صحیح) (الربیع بن صبیح و یزید بن ابان دونوں ضعیف ہیں، لیکن حدیث متابعت اور شواہد کی بناء پر صحیح ہے، ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الصحیحة، للالبانی: ٢٦١٧ ، و مختصر الشمائل: ٢٨٨ ، فتح الباری: ٣؍ ٣٨٧ )
2891Sunan Ibne-Majah

کجاوہ پر سوار ہو کر حج کرنا۔

حَدَّثَنَا أَبُو بِشْرٍ بَكْرُ بْنُ خَلَفٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدٍ، عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ مَكَّةَ وَالْمَدِينَةِ فَمَرَرْنَا بِوَادٍ، فَقَالَ: أَيُّ وَادٍ هَذَا؟، قَالُوا: وَادِي الْأَزْرَقِ، قَالَ: كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى مُوسَى عَلَيْهِ السَّلام فَذَكَرَ مِنْ طُولِ شَعَرِهِ شَيْئًا لَا يَحْفَظُهُ دَاوُدُ وَاضِعًا إِصْبَعَيْهِ فِي أُذُنَيْهِ، لَهُ جُؤَارٌ إِلَى اللَّهِ بِالتَّلْبِيَةِ مَارًّا بِهَذَا الْوَادِي، قَالَ: ثُمَّ سِرْنَا حَتَّى أَتَيْنَا عَلَى ثَنِيَّةٍ، فَقَالَ: أَيُّ ثَنِيَّةٍ هَذِهِ؟، قَالُوا: ثَنِيَّةُ هَرْشَى أَوْ لَفْتٍ، قَالَ: كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى يُونُسَ عَلَى نَاقَةٍ حَمْرَاءَ عَلَيْهِ جُبَّةُ صُوفٍ، وَخِطَامُ نَاقَتِهِ خُلْبَةٌ مَارًّا بِهَذَا الْوَادِي مُلَبِّيًا.

عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ ہم لوگ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ مکہ اور مدینہ کے درمیان تھے، ہمارا گزر ایک وادی سے ہوا، آپ ﷺ نے پوچھا: یہ کون سی وادی ہے؟ لوگوں نے عرض کیا: وادی ازرق ہے، آپ ﷺ نے فرمایا: گویا میں موسیٰ (علیہ السلام) کو دیکھ رہا ہوں، پھر آپ ﷺ نے موسیٰ (علیہ السلام) کے بالوں کی لمبائی کا تذکرہ کیا (جو راوی داود کو یاد نہیں رہا) اپنی دو انگلیاں اپنے دونوں کانوں میں ڈالے ہوئے بلند آواز سے، لبیک کہتے ہوئے، اللہ سے فریاد کرتے ہوئے اس وادی سے گزرے ۔ عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ ہم چلے یہاں تک کہ ہم ایک وادی میں پہنچے تو آپ ﷺ نے پوچھا: یہ کون سی وادی ہے ؟ لوگوں نے عرض کیا: هرشى أو لفت کی وادی ہے، آپ ﷺ نے فرمایا: گویا میں یونس (علیہ السلام) کو دیکھ رہا ہوں جو بالوں کا جبہ پہنے ہوئے، سرخ اونٹنی پر سوار ہیں، ان کی اونٹنی کی نکیل کھجور کے پتوں کی رسی کی ہے، اور وہ اس وادی سے لبیک کہتے ہوئے گزر رہے ہیں ١ ؎۔

It was narrated that Ibn Abbas (RA) said: "We were with the Messenger of Allah ﷺ between Makkah and Al-Madinah, and we passed through a valley. He said: What valley is this? They said: Azraq Valley. He said: It is as if I can see Musa - and he mentioned something about the length of his hair, which Dawud (one of the narrators) did not remember - putting his fingers in his ears and raising his voice to Allah r e ci t ing the Talbiyah, we traveled on until we came to a narrow pass, and he said: What pass is this? They said: Thaniyyat Harsha or Laft. He said: It is as if I can see Yunus, on a red she-camel, wearing a woolen cloak and holding the reins of his she-camel, woven from palm fibers, passing through this valley, reciting the Talbiyah." (Sahih)

Notes · وضاحت
١ ؎: هرشى أو لفت دونوں ٹیلوں کے نام ہیں۔ ٢ ؎: احتمال ہے کہ عالم ارواح میں موسیٰ اور یونس (علیہما السلام) آپ ﷺ کے سامنے اس وقت اسی طرح سے گزرے ہوں، یا یہ واقعہ ان کے زمانہ کا ہے، اللہ تبارک وتعالی نے آپ ﷺ کو پھر دکھلا دیا، یا یہ تشبیہ ہے کمال علم اور یقین کی جیسے اس بات کو دیکھ رہے ہیں۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الإیمان ٧٤ (١٦٦)، (تحفة الأشراف: ٥٤٢٤)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الحج ٣٠ (١٥٥٥) (صحیح )
2892Sunan Ibne-Majah

حاجی کی دعا کی فضیلت۔

حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ الْحِزَامِيُّ، حَدَّثَنَا صَالِحُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ صَالِحٍ مَوْلَى بَنِي عَامِرٍ، حَدَّثَنِي يَعْقُوبُ بْنُ يَحْيَى بْنِ عَبَّادِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ السَّمَّانِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: الْحُجَّاجُ وَالْعُمَّارُ وَفْدُ اللَّهِ، إِنْ دَعَوْهُ أَجَابَهُمْ، وَإِنِ اسْتَغْفَرُوهُ غَفَرَ لَهُمْ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: حجاج اور معتمرین (حج اور عمرہ کرنے والے) اللہ کے وفد (مہمان) ہیں، اگر وہ اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے ہیں تو وہ ان کی دعاؤں کو قبول کرتا ہے، اور اگر وہ اس سے مغفرت طلب کرتے ہیں تو وہ انہیں معاف کردیتا ہے ۔

If was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Messenger of Allah ﷺ said: "The pilgrims performing Hajj and Umrah are a delegafion to Allah. If they call upon Him, He will answer them; and if they ask for His forgiveness, He will forgive them." (Hasan)

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٢٨٨٨، ومصباح الزجاجة: ١٠٢٠) (ضعیف) (سند میں صالح بن عبد اللہ منکر الحدیث راوی ہے )
2893Sunan Ibne-Majah

حاجی کی دعا کی فضیلت۔

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ طَرِيفٍ، حَدَّثَنَا عِمْرَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: الْغَازِي فِي سَبِيلِ اللَّهِ، وَالْحَاجُّ وَالْمُعْتَمِرُ وَفْدُ اللَّهِ، دَعَاهُمْ فَأَجَابُوهُ، وَسَأَلُوهُ فَأَعْطَاهُمْ.

عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والا، حج کرنے والا اور عمرہ کرنے والا اللہ تعالیٰ کا مہمان ہے، اللہ تعالیٰ نے ان کو بلایا تو انہوں نے حاضری دی، اور انہوں نے اللہ تعالیٰ سے مانگا تو اس نے انہیں عطا کیا ۔

It was narrated from Ibn Unar that the Prophet ﷺ said "The one who fights in the cause of Allah, and the pilgrim performing Hajj and Umrah are a delegation to Allah.He invited them, so they responded to Him,and they ask Him and He gives to them."(Hasan)

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٧٤٠٦، ومصباح الزجاجة: ١٠٢١) (حسن )
2894Sunan Ibne-Majah

حاجی کی دعا کی فضیلت۔

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، عَنْ عُمَرَ أَنَّهُ اسْتَأْذَنَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْعُمْرَةِ، فَأَذِنَ لَهُ، وَقَالَ: يَا أُخَيَّ، أَشْرِكْنَا فِي شَيْءٍ مِنْ دُعَائِكَ وَلَا تَنْسَنَا.

عمر ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی اکرم ﷺ سے عمرہ کی اجازت طلب کی تو آپ ﷺ نے اجازت عطا فرمائی، اور ان سے فرمایا: اے میرے بھائی! ہمیں بھی دعاؤں میں شریک رکھنا، اور ہمیں نہ بھولنا ١ ؎۔

It was narrated from Ibn Umar (from Umar) that he asked the Prophet ﷺ for permission to perform Umrah, and he gave him permission and said to him: "O younger brother, give us a share of your supplication, and do not forget us." (Daif)

Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الصلاة ٣٥٨ (١٤٩٨)، سنن الترمذی/الدعوات ١١٠ (٣٥٦٢)، (تحفة الأشراف: ١٠٥٢٢)، وقد أٰخرجہ: مسند احمد (/٢٩) (ضعیف) (سند میں عاصم بن عبید اللہ ضعیف راوی ہیں )
2895Sunan Ibne-Majah

حاجی کی دعا کی فضیلت۔

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي سُلَيْمَانَ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْصَفْوَانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ صَفْوَانَ، قَالَ: وَكَانَتْ تَحْتَهُ ابْنَةُ أَبِي الدَّرْدَاءِ، فَأَتَاهَا فَوَجَدَ أُمَّ الدَّرْدَاءِ، وَلَمْ يَجِدْ أَبَا الدَّرْدَاءِ، فَقَالَتْ لَهُ: تُرِيدُ الْحَجَّ الْعَامَ؟، قَالَ: نَعَمْ، قَالَتْ: فَادْعُ اللَّهَ لَنَا بِخَيْرٍ، فَإِنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ: دَعْوَةُ الْمَرْءِ مُسْتَجَابَةٌ لِأَخِيهِ بِظَهْرِ الْغَيْبِ، عِنْدَ رَأْسِهِ مَلَكٌ يُؤَمِّنُ عَلَى دُعَائِهِ كُلَّمَا دَعَا لَهُ بِخَيْرٍ، قَالَ: آمِينَ، وَلَكَ بِمِثْلِهِ، قَالَ: ثُمَّ خَرَجْتُ إِلَى السُّوقِ، فَلَقِيتُ أَبَا الدَّرْدَاءِ فَحَدَّثَنِي عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِ ذَلِكَ.

صفوان بن عبداللہ ؓ کہتے ہیں کہ ان کی زوجیت میں ابوالدرداء ؓ کی صاحبزادی تھیں، وہ ان کے پاس گئے، وہاں ام الدرداء یعنی ساس کو پایا، ابو الدرداء کو نہیں، ام الدرداء نے ان سے پوچھا: کیا تمہارا امسال حج کا ارادہ ہے؟ انہوں نے جواب دیا: ہاں، تو انہوں نے کہا: ہمارے لیے اللہ تعالیٰ سے خیر کی دعا کرنا، اس لیے کہ نبی اکرم ﷺ فرماتے تھے: آدمی کی وہ دعا جو وہ اپنے بھائی کے لیے اس کے غائبانے میں کرتا ہے قبول کی جاتی ہے، اس کے سر کے پاس ایک فرشتہ ہوتا ہے، جو اس کی دعا پر آمین کہتا ہے، جب وہ اس کے لیے خیر کی دعا کرتا ہے تو وہ آمین کہتا ہے، اور کہتا ہے: تیرے لیے بھی ایسا ہی ہو ۔ صفوان ؓ کہتے ہیں کہ پھر میں بازار کی طرف چلا گیا، تو میری ملاقات ابو الدرداء ؓ سے ہوئی تو انہوں نے بھی مجھ سے اسی کے مثل نبی اکرم ﷺ سے بیان کیا۔

It was narrated from Safwan bin Abdullah bin Safwan said that he was married to a daughter of Abu Darda. He came to her and found Umm Darda there, but he did not find Abu Darda. She said to him: "Do you intend to perform Hajj this year?" He said: "Yes." She said: "Pray to Allah for us to grant us goodness, for the Prophet ﷺ used to say: The supplication of a man for his brother in his absence will be answered. By his head there is an angel who says Amin to his supplication, and every time he prays for his brother, he says:" Amin and the same for you . He said: "Then I went out to the marketplace where I met Abu Darda, and he told me something similar from the Prophet ﷺ ."(Sahih)

Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الذکر والدعاء ٢٣ (٢٧٣٢)، (تحفة الأشراف: ١٠٩٣٩) (صحیح )
2896Sunan Ibne-Majah

کونسی چیز حج واجب کردیتی ہے؟

حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ، ح وحَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، وَعَمْرُو بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَا: حَدَّثَنَاوَكِيعٌ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ يَزِيدَ الْمَكِّيُّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبَّادِ بْنِ جَعْفَرٍ الْمَخْزُومِيِّ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: قَامَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا يُوجِبُ الْحَجَّ؟، قَالَ: الزَّادُ وَالرَّاحِلَةُ، قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَمَا الْحَاجُّ؟، قَالَ: الشَّعِثُ التَّفِلُ، وَقَامَ آخَرُ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، ومَا الْحَجُّ؟، قَالَ: الْعَجُّ وَالثَّجُّ، قَالَ وَكِيعٌ: يَعْنِي بِالْعَجِّ الْعَجِيجَ: بِالتَّلْبِيَةِ، وَالثَّجُّ: نَحْرُ الْبُدْنِ.

عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ ایک شخص نبی اکرم ﷺ کے پاس کھڑا ہوا، اور عرض کیا: اللہ کے رسول! کون سی چیز حج کو واجب کردیتی ہے،؟ آپ ﷺ نے جواب دیا: زاد سفر اور سواری (کا انتظام) اس نے پوچھا: اللہ کے رسول! حاجی کیسا ہوتا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: پراگندہ سر اور خوشبو سے عاری ایک دوسرا شخص اٹھا، اور اس نے عرض کیا: اللہ کے رسول! حج کیا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: عج اور ثج۔ وکیع کہتے ہیں کہ عج کا مطلب ہے لبیک پکارنا، اور ثج کا مطلب ہے خون بہانا یعنی قربانی کرنا۔

It was narrated that Ibn Umar said: "A man stood up and said to the Prophet ﷺ : O Messenger of Allah ﷺ What makes Hajj obligatory? He said: Provision and a mount. He said: O Messenger of Allah, what is the (real) Hajj? He said: The one with disheveled hair and no perfume. Another (man) stood up and said: O Messenger of Allah, what is the (real) Hajj? He said: Raising ones voice and slaughtering the sacrificial animal." (Daif) Waki’ said: “The me of Al-Hajj is raising the voice with the Talbiyah and Ath-Thajj is performing the Nahr (sacrifice) on the camel."

Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الحج ٤ (٨١٣)، (تحفة الأشراف: ٧٤٤٠) (ضعیف جدا) (ابراہیم بن یزید مکی متروک الحدیث راوی ہے، لیکن العج و الثج کا جملہ دوسری حدیث سے ثابت ہے، جو ٢٩٢٤ نمبر پر آئے گا، نیز ملاحظہ ہو: الإرواء: ٩٨٨ )
2897Sunan Ibne-Majah

کونسی چیز حج واجب کردیتی ہے؟

حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْقُرَشِيُّ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ: وَأَخْبَرَنِيهِ أَيْضًا عَنْ ابْنِ عَطَاءٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: الزَّادُ وَالرَّاحِلَةُيَعْنِي قَوْلَهُ: مَنِ اسْتَطَاعَ إِلَيْهِ سَبِيلا سورة آل عمران آية 97.

عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اللہ کے فرمان: من استطاع إليه سبيلا کا مطلب زاد سفر اور سواری ہے ١ ؎۔

It was narrated from Ibn Abbas that the Messenger of Allah ﷺ said: "Provision and a mount," meaning, about Allahs saying: "Whoever can bear the way. (Daif)

Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی قرآن میں جو آیا ہے کہ جو حج کے راہ کی طاقت رکھے اس سے مراد یہ ہے کہ کھانا اور سواری کا خرچ اس کے پاس ہوجائے تو حج فرض ہوگیا۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٦١٥٢، ٦١٦٣، ومصباح الزجاجة: ١٠٢٢) (ضعیف جدا) (سوید بن سعید متکلم فیہ اور عمر بن عطاء ضعیف راوی ہیں، نیز ملاحظہ ہو: الإرواء: ٩٨٨ )
2898Sunan Ibne-Majah

عورت کا بغیر ولی کے حج کرنا۔

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا تُسَافِرُ الْمَرْأَةُ سَفَرًا ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ فَصَاعِدًا، إِلَّا مَعَ أَبِيهَا أَوْ أَخِيهَا أَوِ ابْنِهَا أَوْ زَوْجِهَا، أَوْ ذِي مَحْرَمٍ.

ابو سعید خدری ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: عورت تین یا اس سے زیادہ دنوں کا سفر باپ یا بھائی یا بیٹے یا شوہر یا کسی محرم کے بغیر نہ کرے ١ ؎۔

It was narrated from Abu Sa eed that the Messenger of Allah ﷺ said: "No woman should travel the distance of three days or more, unless she is with her father, brother, son, husband or a Mailrmn." (Sahih)

Notes · وضاحت
١ ؎: محرم: شوہر یا وہ شخص جس سے ہمیشہ کے لیے نکاح حرام ہو مثلاً باپ دادا، نانا، بیٹا، بھائی، چچا، ماموں، بھتیجا، داماد وغیرہ یا رضاعت سے ثابت ہونے والے رشتہ دار۔ محرم سے مراد وہ شخص ہے جس سے نکاح حرام ہو، تو دیور یا جیٹھ کے ساتھ عورت کا سفر کرنا جائز نہیں، اسی طرح بہنوئی، چچا زاد یا خالہ زاد یا ماموں زاد بھائی کے ساتھ کیونکہ یہ لوگ محرم نہیں ہیں، محرم سے مراد وہ شخص ہے جس سے ہمیشہ کے لیے نکاح حرام ہو۔ اور اس حدیث میں تین دن کی قید اتفاقی ہے، اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ تین دن سے کم سفر غیر محرم کے ساتھ جائز ہے اور اس کی دلیل یہ ہے کہ ابوہریرہ ؓ کی حدیث میں ایک دن کا ذکر ہے۔ اور اہل حدیث کے نزدیک سفر کی کوئی حد مقرر نہیں جس کو لوگ عرف عام میں سفر کہیں وہ عورت کو بغیر محرم کے جائز نہیں، البتہ جس کو سفر نہ کہیں وہاں عورت بغیر محرم کے جاسکتی ہے جیسے شہر میں ایک محلہ سے دوسرے محلہ میں، یا نزدیک کے گاؤں میں جس کی مسافت ایک دن کی راہ سے بھی کم ہو۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الحج ٧٤ (١٣٤٠)، سنن ابی داود/الحج ٢ (١٧٢٦)، سنن الترمذی/الرضاع ١٥ (١١٦٩)، (تحفة الأشراف: ٤٠٠٤)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/جزء الصید ٢٦ (١٨٦٤ مختصراً )، مسند احمد (٣/ ٥٤)، سنن الدارمی/الاستئذان ٤٦ (٢٧٢٠) (صحیح )
2899Sunan Ibne-Majah

عورت کا بغیر ولی کے حج کرنا۔

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا شَبَابَةُ، عَنْ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: لَا يَحِلُّ لِامْرَأَةٍ تُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ أَنْ تُسَافِرَ مَسِيرَةَ يَوْمٍ وَاحِدٍ، لَيْسَ لَهَا ذُو حُرْمَةٍ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: کسی عورت کے لیے جو اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتی ہو، یہ درست نہیں ہے کہ وہ ایک دن کی مسافت کا سفر کرے، اور اس کے ساتھ کوئی محرم نہ ہو ۔

It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Prophet ﷺ said: "It is not permissible for a woman who believes in Allah and the Last Day to travel for more than one days distance without a Mahram." (Sahih)

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٣٠٣٥)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/تقصیر الصلاة ٤ (١٠٨٨)، صحیح مسلم/الحج ٧٤ (١٣٣٩)، سنن ابی داود/الحج ٢ (١٧٢٣)، سنن الترمذی/الرضاع ١٥ (١٦٦٩)، موطا امام مالک/الإستئتذان ١٤ (٣٧)، مسند احمد (٢/٢٣٦، ٣٤٠، ٣٤٧، ٤٢٣، ٤٣٧، ٤٤٥، ٤٩٣) (صحیح )
2900Sunan Ibne-Majah

عورت کا بغیر ولی کے حج کرنا۔

حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا شُعَيْبُ بْنُ إِسْحَاق، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا مَعْبَدٍمَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: جَاءَ أَعْرَابِيٌّ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: إِنِّي اكْتُتِبْتُ فِي غَزْوَةِ كَذَا وَكَذَا، وَامْرَأَتِي حَاجَّةٌ، قَالَ: فَارْجِعْ مَعَهَا.

عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ ایک اعرابی نبی اکرم ﷺ کے پاس آیا اور کہنے لگا: میرا نام فلاں فلاں غزوہ میں جانے کے لیے درج کرلیا گیا ہے، اور میری بیوی حج کرنے جا رہی ہے، تو آپ ﷺ نے اس سے فرمایا: جاؤ اس کے ساتھ حج کرو ۔

It was narrated that Ibn Abbas said: "A Bedouin came to the Prophet ﷺ and said: I have enlisted for such and such a military campaign and my wife is going for Hajj. He said: Go back with her. (Sahih)

Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الحج ٧٤ (١٣٤١)، الجہاد ١٨١ (٣٠٦١)، (تحفة الأشراف: ٦٥١٥)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/جزاء الصید ٢٦ (٣٠٦١)، مسند احمد (١/٣٤٦) (صحیح )
2901Sunan Ibne-Majah

حج کرناعورتوں کیلئے جہاد ہے۔

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي عَمْرَةَ، عَنْ عَائِشَةَ بِنْتِ طَلْحَةَ، عَنْعَائِشَةَ، قَالَتْ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، عَلَى النِّسَاءِ جِهَادٌ؟، قَالَ: نَعَمْ، عَلَيْهِنَّ جِهَادٌ لَا قِتَالَ فِيهِ، الْحَجُّ وَالْعُمْرَةُ.

ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا عورتوں پر بھی جہاد ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ہاں، لیکن ان پر ایسا جہاد ہے جس میں لڑائی نہیں ہے اور وہ حج اور عمرہ ہے ۔

It was narrated that Aisha (RA) said: O Messenger of Allah, is Jihad obligatory for women? He said: "Yes: Upon them is a Jihad in which there is no fighting: AI-Hajj and AI-Umrah." (Sahih)

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الحج ٤ (١٥٢٠)، الجہاد ٦٢ (٢٧٨٤، ٢٨٧٦) سنن النسائی/الحج ٤ (٢٦٢٩)، (تحفة الأشراف: ١٧٨٧١)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٦/٧١، ٧٦، ٧٩ ١٦٥) (صحیح )