تیمم کا بیان

Sunan Ibne-Majah · Chapter 3 · 102 hadiths · Page 1 of 6

565Sunan Ibne-Majah

تمیم کا بیان۔

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ، أَنَّهُ قَالَ: سَقَطَ عِقْدُ عَائِشَةَ فَتَخَلَّفَتْ لِالْتِمَاسِهِ، فَانْطَلَقَ أَبُو بَكْرٍ إِلَى عَائِشَةَ، فَتَغَيَّظَ عَلَيْهَا فِي حَبْسِهَا النَّاسَ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ الرُّخْصَةَ فِي التَّيَمُّمِ، قَالَ: فَمَسَحْنَا يَوْمَئِذٍ إِلَى الْمَنَاكِبِ، قَالَ: فَانْطَلَقَ أَبُو بَكْرٍ إِلَى عَائِشَةَ، فَقَالَ: مَا عَلِمْتُ إِنَّكِ لَمُبَارَكَةٌ.

عمار بن یاسر ؓ کہتے ہیں کہ ام المؤمنین عائشہ ؓ کا ہار ٹوٹ کر گرگیا، وہ اس کی تلاش میں پیچھے رہ گئیں، ابوبکر ؓ عائشہ ؓ کے پاس گئے، اور ان پہ ناراض ہوئے، کیونکہ ان کی وجہ سے لوگوں کو رکنا پڑا، تو اللہ تبارک و تعالیٰ نے تیمم کی اجازت والی آیت نازل فرمائی، عمار بن یاسر ؓ کہتے ہیں کہ ہم نے اس وقت مونڈھوں تک مسح کیا، اور ابوبکر ؓ عائشہ ؓ کے پاس آئے، اور کہنے لگے: مجھے معلوم نہ تھا کہ تم اتنی بابرکت ہو ١ ؎۔

It was narrated that Ammar bin Yasir said: " Aisha (RA) dropped a necklace and she stayed behind to look for it. Abu Bakr (RA) went to Aisha (RA) and got angry with her for keeping the people waiting. Then Allah revealed the concession allowing dry ablution, so we wiped our arms up to the shoulders Abu Bakr (RA) went to Aisha (RA) and said: I did not know that you are blessed.”

Notes · وضاحت
١ ؎: اس حدیث سے ام المؤمنین عائشہ ؓ کی فضیلت ثابت ہوئی، اسی طرح اس حدیث سے اور اس کی بعد کی احادیث سے مونڈھوں تک کا مسح ثابت ہوتا ہے، لیکن یہ منسوخ ہے، اب حکم صرف منہ اور پہنچوں تک مسح کرنے کا ہے، جیسا کہ آگے آنے والی احادیث سے ثابت ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الطہارة ١٢٣ (٣١٨، ٣١٩)، (تحفة الأشراف: ١٠٣٦٣)، وقد أخرجہ: سنن النسائی/الطہارة ١٩٦ (٣١٣)، مسند احمد (٤/٢٦٣، ٢٦٤، ٣٢٠، ٣٢١) (صحیح )
566Sunan Ibne-Majah

تمیم کا بیان۔

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عُمَرَ الْعَدَنِيُّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَمْرٍو، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ، قَالَ: تَيَمَّمْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْمَنَاكِبِ.

عمار بن یاسر ؓ کہتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ مونڈھوں تک تیمم کیا۔

It was narrated that Ammar [bin Yasir] said: "We did dry ablution with the Messenger of Allah, (wiping our arms) up to our shoulders."

Takhrij · تخریج
سنن النسائی/الطہارة ١٩٨ (٣١٦)، (تحفة الأشراف: ١٠٣٥٨)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الطہارة ١٢٣ (٣١٨) (صحیح )
567Sunan Ibne-Majah

تمیم کا بیان۔

حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ حُمَيْدِ بْنِ كَاسِبٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي حَازِمٍ . ح وحَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاق الْهَرَوِيُّ، حَدَّثَنَاإِسْمَاعِيل بْنُ جَعْفَرٍ جَمِيعًا، عَنِ الْعَلَاءِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: جُعِلَتْ لِي الْأَرْضُ مَسْجِدًا وَطَهُورًا.

ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: زمین میرے لیے نماز کی جگہ اور پاک کرنے والی بنائی گئی ہے ١ ؎۔

It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Messenger of Allah ﷺ said: "The earth has been made for me a place of worship and a means of purification.

Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی ساری زمین پر نماز کی ادائیگی صحیح ہے، اور پاک کرنے والی کا مطلب یہ ہے کہ ہر ایک قسم کی زمین پر تیمم صحیح ہے، اور نبی اکرم ﷺ سے دیوار پر تیمم کرنا ثابت ہے، لیکن شافعی اور احمد اور ابوداؤد کے یہاں زمین سے مٹی مراد ہے، اور مالک، ابوحنیفہ، عطاء، اوزاعی اور ثوری کا قول ہے کہ تیمم زمین پر اور زمین کی ہر چیز پر درست ہے، مگر امام مسلم کی ایک روایت میں تربت کا لفظ ہے، اور ابن خزیمہ کی روایت میں تراب کا، اور امام احمد اور بیہقی نے باسناد حسن علی ؓ سے روایت کی ہے: و جعل التراب لي طهوراً یعنی مٹی میرے لئے پاک کرنے والی کی گئی، اس سے ان لوگوں کی تائید ہوئی ہے، جو تیمم کو مٹی سے خاص کرتے ہیں، اور زمین کے باقی اجزاء سے تیمم کو جائز نہیں کہتے، اور قرآن میں جو صعید کا لفظ ہے اس سے بھی بعضوں نے مٹی مراد لی ہے، اور لغت والوں کا اس میں اختلاف ہے، بعضوں نے کہا: صعید روئے زمین کو کہتے ہیں، پس وہ زمین کے سارے اجزاء کو عام ہوگا، ایسی حالت میں احتیاط یہ ہے کہ تیمم پاک مٹی ہی سے کیا جائے، تاکہ سب لوگوں کے نزدیک درست ہو، واللہ اعلم۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/المساجد ١ (٥٢٣)، سنن الترمذی/السیر ٥ (١٥٥٣)، (تحفة الأشراف: ١٤٠٣٧، ١٣٩٧٧)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/٤١١) (صحیح )
568Sunan Ibne-Majah

تمیم کا بیان۔

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّهَا اسْتَعَارَتْ مِنْ أَسْمَاءَ قِلَادَةً فَهَلَكَتْ، فَأَرْسَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُنَاسًا فِي طَلَبِهَا، فَأَدْرَكَتْهُمُ الصَّلَاةُ فَصَلَّوْا بِغَيْرِ وُضُوءٍ، فَلَمَّا أَتَوْا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَكَوْا ذَلِكَ إِلَيْهِ، فَنَزَلَتْ آيَةُ التَّيَمُّمِ، فَقَالَ أُسَيْدُ بْنُ حُضَيْرٍ: جَزَاكِ اللَّهُ خَيْرًا، فَوَاللَّهِ مَا نَزَلَ بِكِ أَمْرٌ قَطُّ إِلَّا جَعَلَ اللَّهُ لَكِ مِنْهُ مَخْرَجًا، وَجَعَلَ لِلْمُسْلِمِينَ فِيهِ بَرَكَةً.

ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ انہوں نے اسماء ؓ سے ایک ہار عاریۃً لیا، اور وہ کھو گیا، نبی اکرم ﷺ نے اسے ڈھونڈنے کے لیے کچھ لوگوں کو بھیجا، اتنے میں نماز کا وقت ہوگیا، لوگوں نے بغیر وضو کے نماز پڑھی، جب لوگ نبی اکرم ﷺ کے پاس واپس آئے تو آپ سے اس کی شکایت کی، تو اس وقت تیمم کی آیت نازل ہوئی، اسید بن حضیر ؓ نے عائشہ ؓ سے کہا: اللہ تعالیٰ آپ کو جزائے خیر دے، اللہ کی قسم! جب بھی آپ کو کوئی مشکل پیش آئی، اللہ تعالیٰ نے آپ کے لیے اس سے نجات کا راستہ پیدا فرما دیا، اور مسلمانوں کے لیے اس میں برکت رکھ دی ١ ؎۔

It was narrated from Aisha (RA) that she borrowed a necklace from Asma, and she lost it. The Prophet ﷺ sent some people to look for it and the time for prayer came so they prayed without ablution. When they came to the Prophet ﷺ they complained to him about that, then the Verse of dry ablution was revealed. Usaid bin Hudair said: "May Allah reward you with good, for by Allah, nothing ever happens to you but Allah grants you a way out and blesses the Muslims thereby."

Notes · وضاحت
١ ؎: جیسے ام المؤمنین عائشہ ؓ پر الزام تراشی اور بہتان کا نازیبا واقعہ پیش آیا تھا تو اس میں بھی اللہ تعالیٰ نے آپ کی عفت و پاکدامنی ظاہر کردی، اور مومنات کے لئے احکام معلوم ہوئے، اسید ؓ کا مقصد کلام یہ تھا کہ ام المؤمنین عائشہ ؓ پر اللہ تعالیٰ کی عنایت ہمیشہ ہی رہی ہے، اور ہر تکلیف و آزمائش میں ایک برکت پیدا ہوتی ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/التیمم ٢ (٣٣٦)، فضائل الصحابة ٣٠ (٣٧٧٣)، النکاح ٦٦ (٥١٦٤)، صحیح مسلم/التیمم ٢٨ (٣٦٧)، (تحفة الأشراف: ١٦٨٠٢)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الطہا رة ١٢٣ (٣١٧)، سنن النسائی/الطہارة ١٩٧ (٣١٥)، موطا امام مالک/الطہارة ٢٣ (٨٩)، مسند احمد (٦ /٥٧)، سنن الدارمی/الطہارة ٦٥ (٧٧١) (صحیح )
569Sunan Ibne-Majah

تمیم میں ایک مرتبہ ہاتھ مارنا

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ الْحَكَمِ، عَنْ ذَرٍّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَى، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رَجُلًا أَتَى عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، فَقَالَ: إِنِّي أَجْنَبْتُ فَلَمْ أَجِدِ الْمَاءَ، فَقَالَ عُمَرُ: لَا تُصَلِّ، فَقَالَعَمَّارُ بْنُ يَاسِرٍ: أَمَا تَذْكُرُ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَإِذْ أَنَا وَأَنْتَ فِي سَرِيَّةٍ فَأَجْنَبْنَا فَلَمْ نَجِدِ الْمَاءَ، فَأَمَّا أَنْتَ فَلَمْ تُصَلِّ، وَأَمَّا أَنَا فَتَمَعَّكْتُ فِي التُّرَابِ فَصَلَّيْتُ، فَلَمَّا أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ، فَقَالَ: إِنَّمَا كَانَ يَكْفِيكَ وَضَرَبَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدَيْهِ إِلَى الْأَرْضِ، ثُمَّ نَفَخَ فِيهِمَا وَمَسَحَ بِهِمَا وَجْهَهُ وَكَفَّيْهِ.

عبدالرحمٰن بن ابزی ؓ فرماتے ہیں کہ ایک آدمی عمر بن خطاب ؓ کے پاس آیا، اور کہا کہ میں جنبی ہوگیا اور پانی نہیں پایا، تو عمر ؓ نے کہا: نماز نہ پڑھو، اس پر عمار بن یاسر ؓ نے کہا: امیر المؤمنین! کیا آپ کو یاد نہیں کہ جب میں اور آپ ایک لشکر میں تھے، ہم جنبی ہوگئے، اور ہمیں پانی نہ مل سکا تو آپ نے نماز نہیں پڑھی، اور میں مٹی میں لوٹا، اور نماز پڑھ لی، جب میں نبی اکرم ﷺ کے پاس آیا، اور آپ سے اس کا ذکر کیا، تو آپ نے فرمایا: تمہارے لیے بس اتنا کافی تھا ، اور نبی اکرم ﷺ نے اپنے دونوں ہاتھ زمین پر مارے، پھر ان دونوں میں پھونک ماری، اور اپنے چہرے اور دونوں پہنچوں پر اسے مل لیا ١ ؎۔

It was narrated from Saeed bin Abdur-Rahman bin Abza from his father, that a man came to Umar bin Khauab and said: "I became impure following sexual emission and cannot find any water." Umar said to him: "Do not pray." But Ammar bin Yasir said, "Do you not remember, O Commander of the Believers, when you and I were on a military expedition and we became sexually impure and could not find water? As for you, you did not pray, but I rolled in the dust and then prayed. When I came to the Prophet ﷺ and told him what had happened, he said: It would have been enough for you (to do this). (Then demonstrating) the Prophet ﷺ struck the ground with his hands, then blew on them, and wiped his face and palms with them."

Notes · وضاحت
١ ؎: تیمم یہی ہے کہ زمین پر ایک بار ہاتھ مار کر منہ اور دونوں پہنچوں پر مسح کرے، اور جنابت سے پاکی کا طریقہ حدث کے تیمم کی طرح ہے، اور عمر ؓ کو باوصف اتنے علم کے اس مسئلہ کی خبر نہ تھی، اسی طرح عبد اللہ بن مسعود ؓ کو، یہ دونوں جلیل القدر صحابہ جنبی کے لئے تیمم جائز نہیں سمجھتے تھے، اس سے یہ بھی پتہ چلا کہ کبھی بڑے عالم دین پر معمولی مسائل پوشیدہ رہ جاتے ہیں، ان دونوں کے تبحر علمی اور جلالت شان میں کسی کو کلام نہیں ہے، لیکن حدیث اور قرآن کے خلاف ان کا قول بھی ناقابل قبول ہے، پھر کتاب و سنت کے دلائل کے سامنے دوسرے علماء کے اقوال کی کیا حیثیت ہے، اس قصہ سے معلوم ہوا کہ ہمیں صرف رسول اکرم ﷺ کے اسوہ سے مطلب ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/التیمم ٤ (٣٣٨)، ٥ (٣٣٩)، صحیح مسلم/الحیض ٢٨ (٣٦٨)، سنن ابی داود/الطہارة ١٢٣ (٣٢٢، ٣٢٣)، سنن الترمذی/الطہارة ١١٠ (١٤٤)، سنن النسائی/الطہارة ١٩٦ (٣١٣)، ١٩٩ (٣١٧)، ٢٠٠ (٣١٨)، ٢٠١ (٣١٩)، ٢٠٢ (٣٢٠)، (تحفة الأشراف: ١٠٣٦٢)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/٢٦٣، ٢٦٥، ٣١٩، ٣٢٠، سنن الدارمی/الطہارة ٦٦ (٧٧٢) (صحیح )
570Sunan Ibne-Majah

تمیم میں ایک مرتبہ ہاتھ مارنا

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنِ الْحَكَمِ، وَسَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، أَنَّهُمَا سَأَلا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي أَوْفَى عَنِ التَّيَمُّمِ؟ فَقَالَ: أَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَمَّارًا أَنْ يَفْعَلَ هَكَذَا وَضَرَبَ بِيَدَيْهِ إِلَى الْأَرْضِ، ثُمَّ نَفَضَهُمَا وَمَسَحَ عَلَى وَجْهِهِ، قَالَ الْحَكَمُ: وَيَدَيْهِ، وَقَالَ سَلَمَةُ: وَمِرْفَقَيْهِ.

حکم اور سلمہ بن کہیل نے عبداللہ بن ابی اوفی ؓ سے تیمم کے بارے میں پوچھا، تو انہوں نے کہا نبی اکرم ﷺ نے عمار ؓ کو اس طرح کرنے کا حکم دیا، پھر عبداللہ بن ابی اوفی ؓ نے اپنے ہاتھ زمین پر مارے، اور انہیں جھاڑ کر اپنے چہرے پر مل لیا۔ حکم کی روایت میں يديه اور سلمہ کی روایت میں مرفقيه کا لفظ ہے ١ ؎۔

It was narrated from Hakam and Salamah bin Kuhail that they asked Abdullah bin Abi Awfa about dry ablution. He said: "The Prophet ﷺ commanded Ammar to do like this;" and he struck the ground with his palms, shook the dust off and wiped his face. Hakam said, "and his hands." Salamah said, "and his elbows."

Notes · وضاحت
١ ؎: يديه یعنی دونوں ہاتھوں پر مل لیا، اور سلمہ بن کہیل کی روایت میں مرفقيه یعنی کہنیوں تک مل لیا کا لفظ ہے، جو منکر اور ضعیف ہے، جیسا کہ تخریج سے پتہ چلا مرفقيه کا لفظ منکر ہے، لہذا اس سے استدلال درست نہیں، اور یہ کہنا بھی صحیح نہیں کہ کہنیوں تک مسح کرنے میں احتیاط ہے بلکہ احتیاط اسی میں ہے جو صحیح حدیث میں آیا ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٥١٦٠، ومصباح الزجاجة: ٢٣٠) (صحیح) (سند میں محمد بن عبدالرحمن بن أبی لیلیٰ ضعیف الحفظ ہیں، اصل حدیث شواہد و طرق سے ثابت ہے لیکن مرفقیہ کا لفظ منکر ہے )
571Sunan Ibne-Majah

تمیم میں دو مرتبہ ہاتھ مارنا

حَدَّثَنَا أَبُو الطَّاهِرِ أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ السَّرْحِ الْمِصْرِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، قَالَ: أَنْبَأَنَا يُونُسُ بْنُ يَزِيدَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ حِينَ تَيَمَّمُوا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَمَرَ الْمُسْلِمِينَ فَضَرَبُوا بِأَكُفِّهِمُ التُّرَابَ، وَلَمْ يَقْبِضُوا مِنَ التُّرَابِ شَيْئًا، فَمَسَحُوا بِوُجُوهِهِمْ مَسْحَةً وَاحِدَةً، ثُمَّ عَادُوا فَضَرَبُوا بِأَكُفِّهِمُ الصَّعِيدَ مَرَّةً أُخْرَى، فَمَسَحُوا بِأَيْدِيهِمْ.

عمار بن یاسر ؓ سے روایت ہے کہ جب لوگوں نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تیمم کیا، تو آپ نے مسلمانوں کو حکم دیا، تو انہوں نے اپنی ہتھیلیاں مٹی پر ماریں اور ہاتھ میں کچھ بھی مٹی نہ لی، پھر اپنے چہروں پر ایک بار مل لیا، پھر دوبارہ اپنی ہتھیلیوں کو مٹی پر مارا، اور اپنے ہاتھوں پر مل لیا ١ ؎۔

It was narrated from ‘Ammar bin Yassir that they did dry ablution with the Messenger of Allah, he commanded the muslims to strike the dust with the palms of their hands, and they did not pick up any dust. Then they wiped their faces once, then they struck the dust with their palms once again and wiped their hands.

Notes · وضاحت
١ ؎: بعض علماء نے اس حدیث سے دلیل لی ہے، اور تیمم میں دو بار ہتھیلی کو مٹی پر مار کر چہرے اور ہاتھوں پر ملنے کی بات کہی ہے، لیکن صحیحین میں اس کے خلاف مروی ہے، اور ایک ہی بار منقول ہے، اور امام احمد نے باسناد صحیح عمار ؓ سے روایت کی ہے کہ رسول اکرم ﷺ نے فرمایا: تیمم ایک بار ہے چہرہ کے لئے اور دونوں ہتھیلیوں کے لئے۔ اور شاید صحابہ کرام ؓ نے پہلی بار میں ہاتھ میں مٹی نہ لگنے کی وجہ سے دوبارہ مٹی پر ہاتھ مارا، ورنہ عمار بن یاسر کی ایک ضربہ والی واضح حدیث کی بنا پر جمہور علماء اور عام اہل حدیث کا مذہب ایک ضربہ ہی ہے، جیسا کہ اوپر کی حدیث میں گزرا۔ (نیز ملاحظہ ہو: نیل الأوطار ١ /٣٣٢ )
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الطہارة ١٢٣ (٣١٨، ٣١٩)، (تحفة الأشراف: ١٠٣٦٣)، وقد أخرجہ: سنن النسائی/الطہارة ١٩٦ (٣١٣)، مسند احمد (٤/٣٢٠، ٣٢١) (صحیح )
572Sunan Ibne-Majah

زخمی جنبی ہوجائے اور نہانے میں جان کا اند یشہ ہو۔

حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ حَبِيبِ بْنِ أَبِي الْعِشْرِينِ، حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ يُخْبِرُ، أَنَّ رَجُلًا أَصَابَهُ جُرْحٌ فِي رَأْسِهِ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ أَصَابَهُ احْتِلَامٌ، فَأُمِرَ بِالِاغْتِسَالِ فَاغْتَسَلَ فَكُزَّ فَمَاتَ، فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: قَتَلُوهُ قَتَلَهُمُ اللَّهُ أَفَلَمْ يَكُنْ شِفَاءَ الْعِيِّ السُّؤَالُ، قَالَ عَطَاءٌ: وَبَلَغَنَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: لَوْ غَسَلَ جَسَدَهُ وَتَرَكَ رَأْسَهُ حَيْثُ أَصَابَهُ الْجِرَاحُ.

عطاء بن ابی رباح کہتے ہیں کہ میں نے ابن عباس ؓ سے سنا وہ بتا رہے تھے کہ رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں ایک شخص کے سر میں زخم ہوگیا، پھر اسے احتلام ہوا، تو لوگوں نے اسے غسل کا حکم دیا، اس نے غسل کرلیا جس سے اسے ٹھنڈ کی بیماری ہوگئی، اور وہ مرگیا، یہ خبر نبی اکرم ﷺ کو پہنچی تو آپ نے فرمایا: ان لوگوں نے اسے مار ڈالا، اللہ انہیں ہلاک کرے، کیا عاجزی (لاعلمی کا علاج مسئلہ) پوچھ لینا نہ تھا ۔ عطاء نے کہا کہ ہمیں یہ خبر پہنچی کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: کاش وہ اپنا جسم دھو لیتا اور اپنے سر کا زخم والا حصہ چھوڑ دیتا ۔

It was narrated that ‘Atâ’ bin Abu Rabâh said: “I heard Ibn ‘Abbâs saying that a man was injured in the head at the time of the Messenger of Allah ﷺ then he had a wet dream. He was told to have a bath, so he took the bath, became rigid and stiff, and died. News of that reached the Messenger of Allah ﷺ and he said: ‘They have killed him, may Allah kill them! Is not the cure for a lack of knowledge to ask questions?” ‘Atâ’ said: “We heard that the Messenger of Allah ﷺ ( said: ‘If oy he had washed his body and left his head alone where the wound was.” (Sahih)

Notes · وضاحت
١ ؎: مصباح الزجاجۃ (ط۔ مصریہ) میں آخر متن میں لأجزه ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٥٩٠٤، ومصباح الزجاجة: ٢٣١)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الطہارة ١٢٧ (٣٣٧)، سنن الدارمی/الطہارة ٧٠ (٧٧٩) (حسن) (عطاء کا قول: وبلغنا أن النبي صلى الله عليه وسلم ضعیف ہے کیونکہ انہوں نے واسطہ نہیں ذکر کیا ہے، ملاحظہ ہو: صحیح أبی داود: ٣٦٤ )
573Sunan Ibne-Majah

غسل جنابت

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَعَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، عَنْكُرَيْبٍ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ عَبَّاسٍ، عَنْ خَالَتِهِ مَيْمُونَةَ، قَالَتْ: وَضَعْتُ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غُسْلًا فَاغْتَسَلَ مِنَ الْجَنَابَةِ، فَأَكْفَأَ الْإِنَاءَ بِشِمَالِهِ عَلَى يَمِينِهِ فَغَسَلَ كَفَّيْهِ ثَلَاثًا، ثُمَّ أَفَاضَ عَلَى فَرْجِهِ، ثُمَّ دَلَكَ يَدَهُ فِي الأَرْضِ، ثُمَّ مَضْمَضَ وَاسْتَنْشَقَ، وَغَسَلَ وَجْهَهُ ثَلَاثًا، وَذِرَاعَيْهِ ثَلَاثًا، ثُمَّ أَفَاضَ الْمَاءَ عَلَى سَائِرِ جَسَدِهِ، ثُمَّ تَنَحَّى فَغَسَلَ رِجْلَيْهِ.

ام المؤمنین میمونہ ؓ کہتی ہیں کہ میں نے نبی اکرم ﷺ کے لیے غسل کا پانی رکھا، آپ نے غسل جنابت کیا اور برتن کو اپنے بائیں ہاتھ سے دائیں ہاتھ پر انڈیلا، اور دونوں ہتھیلی کو تین مرتبہ دھویا، پھر اپنی شرمگاہ پہ پانی بہایا، پھر اپنا ہاتھ زمین پر رگڑا، پھر کلی کی، ناک میں پانی ڈالا، اور اپنا چہرہ اور بازو تین تین بار دھویا، پھر پورے جسم پر پانی بہایا، پھر غسل کی جگہ سے ہٹ کر اپنے پاؤں دھوئے۔

Ibn Abbas narrated that his maternal aunt Maimunah said: "I put out some water for the Prophet ﷺ to take a bath, and he bathe to cleanse himself from impurity following sexual activity. He tilted the vessel with his left hand, pouring water into his right, and washed his hands three times. Then he poured water over his private parts, then he rubbed his hands on the ground. Then he rinsed his mouth and nose, and washed his face three times and his forearms three times. Then he poured water over the rest of his body, then he moved aside and washed his feet."

Notes · وضاحت
١ ؎: یہ غسل کا مسنون طریقہ ہے، اور اس کی روشنی میں ضروری ہے کہ سارے بدن پر پانی پہنچائے، یا پانی میں ڈوب جائے، کلی کرنی اور ناک میں پانی ڈالنا بھی ضروری ہے، اور جس قدر ممکن ہو بدن کا ملنا بھی ضروری ہے، باقی امور آداب اور سنن سے متعلق ہیں۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الغسل ١ (٢٤٩)، ٥ (٢٥٧)، ٧ (٢٥٩)، ٨ (٢٦٠)، ١٠ (٢٦٥)، ١١ (٢٦٦)، ١٦ (٢٧٤)، ١٨ (٢٧٦)، ٢١ (٢٨١)، صحیح مسلم/الحیض ٩ (٣١٧)، سنن ابی داود/الطہارة ٩٨ (٢٤٥)، سنن الترمذی/الطہارة ٧٦ (١٠٣)، سنن النسائی/الطہارة ١٦١ (٢٥٤)، الغسل ١٤ (٤٠٨)، ١٥ (٤١٨، ٤١٩)، (تحفة الأشراف: ١٨٠٦٤)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٦/٢٣٠، ٣٣٥، ٣٣٦)، سنن الدارمی/الطہارة ٤٠ (٧٣٩)، ٦٧ (٧٧٤) (صحیح )
574Sunan Ibne-Majah

غسل جنابت

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي الشَّوَارِبِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ، حَدَّثَنَا صَدَقَةُ بْنُ سَعِيدٍ الْحَنَفِيُّ، حَدَّثَنَا جُمَيْعُ بْنُ عُمَيْرٍ التَّيْمِيُّ، قَالَ: انْطَلَقْتُ مَعَ عَمَّتِي وَخَالَتِي، فَدَخَلْنَا عَلَى عَائِشَةَ فَسَأَلْنَاهَا كَيْفَكَانَ يَصْنَعُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدَ غُسْلِهِ مِنَ الْجَنَابَةِ؟ قَالَتْ: كَانَ يُفِيضُ عَلَى كَفَّيْهِ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، ثُمَّ يُدْخِلُهَا فِي الْإِنَاءِ، ثُمَّ يَغْسِلُ رَأْسَهُ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، ثُمَّ يُفِيضُ عَلَى جَسَدِهِ، ثُمَّ يَقُومُ إِلَى الصَّلَاةِ، وَأَمَّا نَحْنُ فَإِنَّا نَغْسِلُ رُؤْسَنَا خَمْسَ مِرَارٍ مِنْ أَجْلِ الضَّفْرِ.

جمیع بن عمیر تیمی کہتے ہیں کہ میں اپنی پھوپھی اور خالہ کے ساتھ ام المؤمنین عائشہ ؓ کے پاس گیا، ہم نے ان سے پوچھا کہ رسول اللہ ﷺ غسل جنابت کیسے کرتے تھے؟ انہوں نے کہا: آپ ﷺ اپنے دونوں ہاتھ پر تین مرتبہ پانی ڈالتے، پھر انہیں برتن میں داخل کرتے، پھر اپنا سر تین مرتبہ دھوتے، پھر اپنے سارے بدن پر پانی بہاتے، پھر نماز کے لیے کھڑے ہوتے، لیکن ہم عورتیں تو اپنے سر کو چوٹیوں کی وجہ سے پانچ بار دھوتی تھیں۔

Jumai bin Umair At-Taimi said: "I went out with my paternal aunt and maternal aunt and we entered upon Aisha (RA) . We asked her: What did the Messenger of Allah ﷺ do when he had the bath to cleanse himself from sexual impurity? She said: He used to pour water on his hands three times, then he would put them in the vessel and wash his face three times, then he would pour water over his body then he would get up and perform prayer. As for us, we would wash our heads five times because of our braided hair."

Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الطہارة ٩٨ (٢٤١)، (تحفةالأشراف: ١٦٠٥٣)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الطہارة ١٧ (٦٧)، مسند احمد (٦/٢٧٣)، سنن الدارمی/الطہارة ٦٧ (٧٧٥) (ضعیف جدا) (سند میں جمیع بن عمیر رافضی اور واضع حدیث ہے، نیز صدقہ بن سعید کے یہاں عجائب وغرائب ہیں )
575Sunan Ibne-Majah

غسل جنابت کا بیان

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ صُرَدٍ، عَنْ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ، قَالَ: تَمَارَوْا فِي الْغُسْلِ مِنَ الْجَنَابَةِ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَمَّا أَنَا فَأُفِيضُ عَلَى رَأْسِي ثَلَاثَ أَكُفٍّ.

جبیر بن مطعم ؓ کہتے ہیں کہ صحابہ کرام ؓ نے رسول اللہ ﷺ کے پاس غسل جنابت کے بارے میں بحث و مباحثہ کیا، تو آپ ﷺ نے فرمایا: میں تو اپنے سر پہ تین چلو پانی ڈالتا ہوں ۔

It was narrated that Jubairbin Mutim said: "(The Companions) disputed in the presence of the Messenger of Allah ﷺ about having a bath to cleanse oneself from sexual impurity. The Messenger of Allah ﷺ said: As for me, I pour three handfuls of water on my head."

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الغسل ٤ (٢٥٤)، صحیح مسلم/الحیض ١١ (٣٢٧)، سنن ابی داود/الطہارة ٩٨ (٢٣٩)، سنن النسائی/الطہارة ٢٥١ (٢٥٠)، الغسل ٢٠ (٤٢٥)، (تحفة الأشراف: ٣١٨٦) (صحیح )
576Sunan Ibne-Majah

غسل جنابت کا بیان

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَعَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ . ح وحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍجَمِيعًا، عَنْ فُضَيْلِ بْنِ مَرْزُوقٍ، عَنْ عَطِيَّةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، أَنَّ رَجُلًا سَأَلَهُ عَنِ الْغُسْلِ مِنَ الْجَنَابَةِ؟ فَقَالَ: ثَلَاثًا، فَقَالَ الرَّجُلُ: إِنْ شَعْرِي كَثِيرٌ، فَقَالَ: رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ أَكْثَرَ شَعْرًا مِنْكَ وَأَطْيَبَ.

ابو سعید خدری ؓ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے ان سے غسل جنابت کے بارے میں پوچھا، تو انہوں نے کہا: تین بار (سارے جسم پر پانی بہائیں) تو وہ کہنے لگا: میرے بال زیادہ ہیں، اس پر انہوں نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ تم سے زیادہ بال والے تھے، اور تم سے زیادہ پاک و صاف رہتے تھے۔

It was narrated from Abu Saeed that a man asked him about having a bath to cleanse oneself from sexual impurity. He said to pour water three times. The man said: "But I have a lot of hair." He said: "The Messenger of Allah ﷺ had more hair than you and he was cleaner."

Takhrij · تخریج
(تفرد بہ ابن ماجہ) (صحیح) (اس سند میں عطیہ ضعیف راوی ہیں، لیکن ابوہریرہ کی اگلی حدیث سے تقویت پاکر یہ صحیح ہے، یہ حدیث تحفة الاشراف میں فضيل بن مرزوق عن عطية عن أبي سعيد کے زیر عنوان موجود نہیں ہے، اور نہ ہی ابن حجر نے النکت الظراف میں اس پر کوئی استدراک کیا ہے، اور نہ ہی یہ مصباح الزجاجة میں موجود ہے لیکن غاية المقصد في زوائد المسند (ق 37) میں موجود ہے، ان شواہد سے پتہ چلتا ہے کہ ابن ماجہ کے قدیم نسخوں میں یہ حدیث موجود نہیں ہے )
577Sunan Ibne-Majah

غسل جنابت کا بیان

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَنَا فِي أَرْضٍ بَارِدَةٍ فَكَيْفَ الْغُسْلُ مِنَ الْجَنَابَةِ؟ فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَمَّا أَنَا فَأَحْثُو عَلَى رَأْسِي ثَلَاثًا.

جابر ؓ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں سرد علاقہ میں رہتا ہوں، غسل جنابت کیسے کروں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: میں تو اپنے سر پر تین چلو پانی ڈالتا ہوں ۔

It was narrated that Jabir said: "I said: O Messenger of Allah! ﷺ I live in a cold land, so how should I have a bath to cleanse myself from sexual impurity? He said: As for me, I pour three handfuls of water over my head.

Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الحیض ١١ (٣٢٩)، (تحفة الأشراف: ٢٦٠٣)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الغسل ٣ (٢٥٢)، مسند احمد (٣/ ٣١٩، ٣٤٨، ٣٧٩) (صحیح )
578Sunan Ibne-Majah

غسل جنابت کا بیان

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بِنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ، عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، سَأَلَهُ رَجُلٌ كَمْ أُفِيضُ عَلَى رَأْسِي وَأَنَا جُنُبٌ؟ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَيَحْثُو عَلَى رَأْسِهِ ثَلَاثَ حَثَيَاتٍ، قَالَ الرَّجُلُ: إِنَّ شَعْرِي طَوِيلٌ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَكْثَرَ شَعْرًا مِنْكَ وَأَطْيَبَ.

ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ کسی شخص نے ان سے پوچھا: جب میں غسل جنابت کروں تو اپنے سر پر کتنا پانی ڈالوں؟ کہا: رسول اللہ ﷺ اپنے سر پر تین پانی چلو ڈالتے تھے، اس پر اس شخص نے کہا: میرے بال لمبے ہیں، تو انہوں نے کہا کہ رسول ﷺ تم سے زیادہ بال والے، اور زیادہ پاک و صاف رہنے والے تھے ١ ؎۔

It was narrated from Abu Hurairah (RA) that a man asked him: "How much water should I pour over my head when I am sexually impure?" He said: "The Messenger of Allah ﷺ used to pour three handfuls of water over his head." The man said: "My hair is long." He said: "The Messenger of Allah ﷺ had more hair than you and he was cleaner."

Notes · وضاحت
١ ؎: اس حدیث میں واضح طور پر یہ بات موجود ہے کہ نبی اکرم ﷺ کو سر پر ڈالنے کے لیے تین لپ پانی کافی ہوتا تھا، حقیقت یہ ہے کہ تین لپ میں سارا سر بخوبی تر ہوجاتا ہے، اور وہ غسل میں کافی ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٣٠٦٣)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/٢٥١) (حسن صحیح )
579Sunan Ibne-Majah

غسل کے بعد وضو۔

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَامِرِ بْنِ زُرَارَةَ، وَإِسْمَاعِيل بْنُ مُوسَى السُّدِّيُّ، قَالُوا: حَدَّثَنَاشَرِيكٌ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنِ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَلَا يَتَوَضَّأُ بَعْدَ الْغُسْلِ مِنَ الْجَنَابَةِ.

ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ غسل جنابت کے بعد وضو نہیں کرتے تھے ١ ؎۔

It was narrated that Aisha (RA) said: "The Messenger of Allah ﷺ would not perform ablution after the bath to cleanse himself from sexual impurity."

Notes · وضاحت
١ ؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ رسول اللہ ﷺ غسل جنابت سے پہلے وضو کرلیتے تھے، پھر غسل کے بعد آپ نیا وضو نہ فرماتے۔
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الطہارة ٧٩ (١٠٧)، سنن النسائی/الطہارة ١٦٠ (٢٥٣)، (تحفة الأشراف: ١٦٠١٩، ١٦٠٢٥)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الطہارة ٩٩ (٢٥٠)، مسند احمد (٦/٦٨، ١١٩، ١٥٤، ١٩٢، ٢٥٣، ٢٥٨) (صحیح )
580Sunan Ibne-Majah

جنبی غسل کر کے اپنی بیوی سے گرمی حاصل کرسکتا ہے اسکے غسل کرنے سے قبل

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ، عَنْ حُرَيْثٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَيَغْتَسِلُ مِنَ الْجَنَابَةِ، ثُمَّ يَسْتَدْفِئُ بِي قَبْلَ أَنْ أَغْتَسِلَ.

ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ غسل جنابت فرماتے، پھر میرے غسل کرنے سے پہلے مجھ سے گرمی حاصل کرتے ١ ؎۔

It was narrated that Aisha (RA) said: "The Messenger of Allah ﷺ used to have a bath to cleanse himself from sexual impurity, then he would warm himself with me before I had the bath."

Notes · وضاحت
١ ؎: اس سے معلوم ہوا کہ جنابت حکمی نجاست ہے، اور اگر اس پر اور کوئی نجاست نہ لگی ہو تو جنبی کا بدن پاک ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الطہارة ٩١ (١٢٣)، (تحفة الأشراف: ١٧٦٢٠) (ضعیف) (اس حدیث کی سند میں راوی حریث ضعیف ہیں )
581Sunan Ibne-Majah

جنبی اس حالت میں سو سکتا ہے پانی کو ہاتھ لگائے بغیر

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنِ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَيُجْنِبُ، ثُمَّ يَنَامُ، وَلَا يَمَسُّ مَاءً حَتَّى يَقُومَ بَعْدَ ذَلِكَ، فَيَغْتَسِلَ.

ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جنبی ہوتے، اور پانی چھوے بغیر سو جاتے، پھر اس کے بعد اٹھتے اور غسل فرماتے۔

It was narrated that Aisha (RA) said: "The Messenger of Allah ﷺ would become sexually impure and then sleep without touching water until he got up later on and taken a bath."

Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الطہارة ٨٧ (١١٨)، (تحفة الأشراف: ١٦٠٢٤)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الطہارة ٩٠ (٢٢٨)، مسند احمد (٦/٤٣) (صحیح) (اس سند میں ابو اسحاق مدلس ہیں، اور روایت عنعنہ سے کی ہے، لیکن شواہد کی بناء پر یہ صحیح ہے )
582Sunan Ibne-Majah

جنبی اس حالت میں سو سکتا ہے پانی کو ہاتھ لگائے بغیر

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنِ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَإِنْ كَانَتْ لَهُ إِلَى أَهْلِهِ حَاجَةٌ قَضَاهَا، ثُمَّ يَنَامُ كَهَيْئَتِهِ لَا يَمَسُّ مَاءً.

ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کو اگر اپنی بیوی سے کوئی حاجت ہوتی تو اسے پوری فرماتے، پھر پانی چھوئے بغیر اسی حالت میں سو جاتے ١ ؎۔

It was narrated that Aisha (RA) said: "The Messenger of Allah, if he needed any of his wives, would satisfy his need, then he would sleep as he was, without touching water."

Notes · وضاحت
١ ؎: جنبی اگر بغیر غسل کے سونے کا ارادہ کرے تو مستحب یہ ہے کہ وہ وضو کرلے، اور اگر نہ کرے تو بھی جائز ہے جیسا کہ اس حدیث اور اس سے پہلے کی حدیث میں مذکور ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٦٠٣٨) (صحیح )
583Sunan Ibne-Majah

جنبی اس حالت میں سو سکتا ہے پانی کو ہاتھ لگائے بغیر

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنِ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَيُجْنِبُ، ثُمَّ يَنَامُ كَهَيْئَتِهِ لَا يَمَسُّ مَاءً، قَالَ سُفْيَانُ: فَذَكَرْتُ الْحَدِيثَ يَوْمًا، فَقَالَ لِي إِسْمَاعِيل: يَا فَتَى يُشَدُّ هَذَا الْحَدِيثُ بِشَيْءٍ.

ام المؤمنین عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جنبی ہوتے، پھر پانی چھوئے بغیر اسی حالت میں سو جاتے۔ سفیان ثوری کہتے ہیں کہ میں نے ایک روز یہ حدیث بیان کی تو مجھ سے اسماعیل نے کہا: اے نوجوان! اس حدیث کو کسی دوسری حدیث سے تقویت دی جانی چاہیئے ١ ؎۔

It was narrated from Aisha (RA) that the Messenger of Allah ﷺ would become sexually impure then sleep as he was, without touching water. Sufyan said: "I mentioned this Hadith one day, and Ismail said to me: O young man, you should support this Hadith with something else. "

Notes · وضاحت
١ ؎: کیوں کہ اس کے راوی ابواسحاق ہیں، اگرچہ وہ ثقہ ہیں، لیکن اخیر عمر میں ان کا حافظہ بگڑ گیا تھا، پس حدیث میں غلطی کا شبہ ہوتا ہے، خصوصاً جب اس کے خلاف دوسری صحیح روایتیں وارد ہوں جو آگے مذکور ہوں گی۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الطہارة ٩٠ (٢٢٨)، سنن الترمذی/الطہارة ٨٧ (١١٩)، (تحفة الأشراف: ١٦٠٢٣)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٦/ ١٠٦) (صحیح )
584Sunan Ibne-Majah

اس بیان میں کہ جنبی نماز کی طرح وضو کئے بغیر نہ سوئے۔

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ الْمِصْرِيُّ، نَبَّأَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَرَادَ أَنْ يَنَامَ وَهُوَ جُنُبٌ تَوَضَّأَ وُضُوءَهُ لِلصَّلَاةِ.

ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جب سونے کا ارادہ کرتے، اور جنبی ہوتے تو نماز جیسا وضو کرتے۔

It was narrated that Aisha (RA) said: "When the Messenger of Allah ﷺ wanted to sleep and he was sexually impure, he would perform ablution as for prayer."

Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الحیض ٦ (٣٠٥)، سنن ابی داود/الطہارة ٨٩ (٢٢٢، ٢٢٣)، سنن النسائی/الطہارة ١٦٤ (٢٥٧)، ١٦٥ (٢٥٨)، ١٦٦ (٢٥٩)، (تحفة الأشراف: ١٧٧٦٩)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الغسل ٢٥ (٢٨٦)، مسند احمد (٦/٨٥)، سنن الدارمی/الطہارة ٧٣ (٧٨٤) (یہ حدیث مکرر ہے، دیکھئے: ٥٩١، ٥٩٣) (صحیح )